گووا میں کانگریس حکومت سازی کے لئے تیاری تھی، دگ وجے نے روکا: فلیرو

Digvijayنئی دہلی: گووا میں کانگریس کی حکومت نہیں بن پانے کا ٹھیکرا پارٹی کے لیڈر خود ایک دوسرے پر پھوڑ رہے ہیں۔ گووا کانگریس صدر لوئی جنھو نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ اور گووا اسکریننگ کمیٹی کے چیف کے سی وینو گوپال کی وجہ سے پارٹی گووا میں حکومت بنانے میں ناکام رہی۔

گووا میں کانگریس سی ایم امیدواروں کے درمیان جھگڑے کی بات خارج کرتے ہوئے فلیرو نے کہا کہ دگ وجے سنگھ نے گورنر مردلا سنہا کے بلاوے کا انتظار کرنے کو کہا تھا۔ فلیرو نے کہا کہ میں نے حمایت نامہ کا ڈرافٹ تیار کر لیا تھا تاکہ گورنر کے پاس اسےپیش کر سکوں لیکن دگ وجے سنگھ نے کہا کہ گورنر کے بلاوے کا انتظار کرنا چاہئے اس لئے ہم رک گئے۔

فلیرو نے دعویٰ کیا کہ 11 مارچ کو انتخابی نتائج آنے کے بعد دیر رات تک ہمارے پاس این سی پی ایم ایل اے سمیت دو آزاد ایم ایل اے کی حمایت مل چکی تھی۔ ہمیں 21 رکن اسمبلی کی حمایت مل گئی تھی لیکن دستخط نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرانا چاہتا لیکن دگ وجے اور وینو گوپال کے پاس فیصلہ لینے کا اختیار تھا۔ 11 مارچ کی رات میں ہی فیصلہ ہونا چاہئے تھا۔

گووا میں حکومت سازی کے کانگریس کے امکانات پر پانی پھیرنے پر تنقید کے شکار کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ پر حملہ بولتے ہوئے پارٹی کے سابق ممبر اسمبلی وشو جیت رانے نے کہا کہ انہیں اب سیاست چھوڑ دینی چاہئے۔ رانے نے کانگریس پارٹی چھوڑنے کے ایک دن کہا کہ دگ وجے کو سیاست سے رٹائر ہو جانا چاہئے۔ انھوں نے جس طرح سے دیگر کانگریسی لیڈروں کے ساتھ بڑی غلطی کی ہے، اسے پارٹی کو اکثریت کے باوجود (گووا میں) حکومت بننے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ دگ وجے حقیقت میں گووا میں کانگریس حکومت بنانا چاہتے تھے یا نہیں۔ ان کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ (انھوں نے کچھ کیا) رانے (45) نے گووا اسمبلی میں گزشتہ جمعرات کو طاقت آزمائی کے دوران پارٹی قانون ساز کونسل کی خلاف کرتے ہوئے کانگریس کو جھٹکا دیا اور انھوں نے خود کو غیر حاضر رکھا۔ سابق وزیر اعلیٰ پرتاپ سنگھ رانے کے بیٹے وشو جیت نے الزام لگایا کہ گووا اسمبلی انتخابات میں 17 سیٹیں جیتنے کے بعد پارٹی دفتر میں کانگریس پارٹی کی میٹنگ محض مذاق تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *