بڑے مائونواز لیڈروں سے تھا ڈی یو کے پروفیسر کا رابطہ

DU-Professorنئی دہلی: مائونواز سرگرمیوں کے لئے سزا پانے والے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر جی این سائیں بابا سینئر مائونواز لیڈروں کے ساتھ راست طور پر رابطہ میں تھا۔ انٹرنیٹ پر ایک کلوج گروپ کے ذریعہ سائیں بابا ابوجماڑ کے گھنے جنگلوں میں چھپے انڈرگرائونڈ مائونواز لیڈروں اور پورے ملک و دنیا میں پھیلے سرگرم اوورگرائونڈ کارکنان کے درمیان کی کڑی کا کردار نبھاتا تھا۔ یہی نہیں انڈرگرائونڈ نکسلی لیڈروں کی ہدایت پر سائیں بابا بینڈ تھائوٹس ڈاٹ نیٹ نام کی ایک ویب سائٹ پر مضامین بھی لکھتا تھا۔ اس کے لیپ ٹاپ کی فارینسک جانچ سے ملے ثبوتوں کی اسے سزا دلانے میں اہم کردار رہا ہے۔

سائیں بابا کے مائونواز سرگرمیوں کی شناخت کر کے اسے گرفتار کرنے میں مرکزی کردار نبھانے والے سیکورٹی ایجنسی سے جڑے ایک سینئر افسر نے کہا کہ مائونواز ترجمان ابھے کے نام سے جاری کئی بیان خود سائیں بابا نے لکھ کر ویب سائٹ پر ڈالا تھا۔ یہی نہیں، وہ انٹرنیٹ پر ایک ایسے کلوج گروپ میں سرگرم تھا، جس کے  بارے میں  بہت کم لوگوں کو پتہ ہے اور اس کا سرور امریکہ میں ہے۔ اس گروپ کے ذریعہ وہ پرکاش و دیگر فرضی ناموں سے سرفہرست مائونواز لیڈروں سے آن لائن بات چیت بھی کرتا تھا اور ان کے پیغام ملک اور دنیا بھر میں اوورگرائونڈ کارکنان تک پہنچاتا تھا۔

سائیں بابا کی سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسیوں کو شک کافی وقت سے تھا، لیکن اس کا ثبوت گڑھ چرولی پولس کے ہاتھوں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا ہم مشرا کی گرفتاری کے بعد ہوا۔ ہیم مشرا ایک چپ میں لکھے گئے خفیہ پیغام لے کر گڑھ چرولی میں مائونواز لیڈروں کو دینے جا رہا تھا۔ اس سے پوچھ تاچھ سے پتہ چلا کہ یہ چپ سائیں بابا نے دیا تھا۔

چپ میں لکھے گئے خفیہ پیغام کو پڑھنے میں کامیاب ملنے کے بعد گڑھ چرولی پولس نے سائیں بابا کے لیپ ٹاپ کی فاریسنک جانچ کرائی۔ انھوں نے کہا کہ تمام ثبوت ملنے کے بعد ہی سائیں  بابا کو 9 مئی 2014 کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی گرفتاری کے بعد مائونوازوں کو ملک و دنیا کے اوور گرائونڈ کارکنان کے ساتھ رابطہ پوری طرح منقطع ہو گیا تھا۔ گرفتاری کے پہلے جی این سائیں بابا ریوولیوشنری ڈیموکریٹک فرنٹ نام کا ایک این جی او چلاتا تھا اور اس کا جوائنٹ سکریٹری تھا ۔ ایجنسیوں کے مطابق یہ مائونوازوں کی فرنٹ تنظیم ہے۔ اس این جی او کے بینتر تلے سائیں بابا مائونوازوں کے خلاف حفاظتی دستوں کی کارروائی کی سخت مخالفت کرتا تھا اور گرفتار مائونوازوں کو قانونی و دیگر مدد مہیا کارا تھا لیکن دہلی یونیورسٹی کا پروفیسر ہونے کی وجہ سے سیکورٹی ایجنسیوں اس کے خلاف کارروائی کی جرأت نہیں کر پا رہی تھیں۔

سائیں بابا کے خلاف پہلی ب ار اہم ثبوت سینٹرل کمیٹی کے رکن مہیش سیکیا کے اپریل 2013 کو آسام میں گرفتاری کے بعد ملا تھا۔ سیکیا نے سیکورٹی ایجنسیوں کو بتایا کہ سائیں بابا کو اسٹیٹ کمیٹی کے ممبر کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں سائیں بابا کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے لگیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *