کالے دھن سے وابستہ معلومات چاہئے تو رازداری برتے ہندوستان: سویٹزرلینڈ

Swiss-Bankنئی دہلی: بیرون ممالک میں ہندوستانیوں کے ذریعہ جمع کرائے گئے کالے دھن کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی مہم کو سویٹزرلینڈ کی شرائط سے جھٹکا لگ سکتا ہے۔ سویٹزرلینڈ کھاتوں کی جانکاری دینے کو لے کر اب شرط رکھ سکتا ہے۔ اس سے ہندوستان سمیت دیگر ممالک کے لئے بلیک منی کے کھاتوں کی جانکاری پانا آسان نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں کالے دھن کو ہندوستان لانے کی کوششوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

سویٹزرلینڈ نے کہا کہ اگر رازداری کی شرط کو نہیں مانا گیا تو وہ جانکاری دینے کے آٹومیٹک پروسیس کو کبھی بھی ختم کر سکتا ہے۔ سویٹزرلینڈ کے بین الاقوامی مالی امور کے محکمہ نے ایک بیان میں کہا کہ گھریلو مالی ادارے پہلی بار اس سال اعداد و شمار جمع کر رہے ہیں۔ سویٹزرلینڈ کے ٹیکس افسر شریک کار ممالک کے ساتھ اطلاع کی فراہمی 2018 میں کریں گے۔

ایس آئی ایف نے اپنی نیوز میگزین میں لکھا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ اطلاعات غلط ہاتھوں میں نہ پڑیں یا ان کا بیجا استعمال نہ ہو۔ محکمہ نے کہا کہ سویٹزرلینڈ ان تمام ممالک اور علاقوں کے ساتھ ٹیکس سے متعلق اطلاعات کا لین دین کرنے کو اصلی طور پر تیار ہے جو متعلقہ شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ اس نظریہ سے بین الاقوامی نظام میں اطلاعات کی رازداری اور حفاظت اہم بات ہے۔

غور طلب ہے کہ ایک معاہدہ کے تحت سویٹزرلینڈ سویس بینکوں میں جمع کالے دھن کی اطلاع دیگر ممالک کو آئندہ سال سے دینے کی آٹومیٹک پروسیس کے لئے تیار ہے۔ سویس کھاتوں کی جانکاری شیئر کرنے والے اس معاہدہ میں ہندوستان اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ کالے دھن کے خطرات سے نممٹنے کی ایک بین الاقوامی پابندی کے تحت سویٹزرلینڈ نے 1 جنوری 2017 سے اطلاعات کے آٹومیٹک لین دین کے ضوابط کو مؤثر بنا دیا ہے۔ اس کے تحت اطلاعات کا لین دین کچھ ممالک کے ساتھ آئندہ سال کیا جائے گا، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *