یو پی کے تناظر میں بدلی ہوئی قومی سیاست میں کیا کریں مسلمان؟

damiابھی جن پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوئے ہیں، ان میں یو پی کا انتخاب ایسا تھا جس پر نہ صرف ریاست بلکہ ملک کے تمام مسلمانوں کی نظریں گڑی ہوئی تھیں۔پورے ملک کے مسلمان تنائو میں تھے۔ وہ اس بات کو محسوس کررہے تھے کہ بی جے پی کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت دوسرے یا تیسرے درجے کی ہے ۔ایسے میں اگر یہ پارٹی یو پی میں جیت جاتی ہے تو ملک میں ہندوتوا کا دبدبہ مزید بڑھے گا۔ بی جے پی نے 403 سیٹوں میں سے کسی ایک پر بھی مسلم امیدوار کو نہ اتار کر اور اس کے کئی لیڈروں نے انتخاب سے پہلے یہ بیان دے کر کہ وہ مسلم علاقے میں انتخابی مہم کے لئے نہیں جائیں گے، اس سوچ کو مزید مضبوط کیا ۔بی جے پی نے 2012 کے گجرات اسمبلی انتخابات میںبھی کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیاتھا۔اس وقت گجرات کی میڈیا نے اسے امت شاہ کا سیاسی حربہ بتایا تھا۔ گجرات کے مسلمانوں نے ان دنوں شکایت کی تھی کہ بی جے پی انہیں سیاست اور سیاسی اختیار حاصل کرنے سے روک رہی ہے۔اس کے بعد 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں بھی بی جے پی نے انتخابی میدان میں 482 امیدوار اتارے تھے جن میں مسلمان صرف 7 تھے۔لیکن اتر پردیش سے کسی مسلم امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا گیا، اس کے باوجود ریاست میں بی جے پی نے 80پارلیمانی سیٹوں میں سے 71 نشستیں حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا تھا۔
دراصل بی جے پی ایک مخصوص پالیسی کے تحت چل رہی ہے ۔اس پالیسی کے تحت اگر کسی سیاسی پارٹی نے مسلمانوں کی کے لئے کسی اسکیم کا اعلان کیا تو اس کو مسلم منہ بھرائی کا نام دے کر سخت مخالفت کرتی ہے۔یوں تو مسلم منہ بھرائی کا الزام کانگریس پر آزادی کے بعد سے ہی لگتا رہا ہے۔مگر جب نیشنل مائنارٹیز کمیشن کی تشکیل ہوئی تو بی جے پی نے اس اصطلاح کو خوب ابھارا ۔البتہ مسلم منہ بھرائی کو تنظیمی شکل دینے کا الزام مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ جیوتی باسو پر لگا تھا۔کہا جاتا ہے کہ اس کے دم پر وہ بنگال کے اقتدار پر ریکارڈ وقت تک قائم رہے ۔جب لالو پرساد نے مسلم – یادو اتحاد قائم کیا اور اترپردیش میں خاص طور پر 2012 میں زبردست کامیابی کے بعد سماج وادی پارٹی نے مسلم طبقے کی ترقی کے لئے کچھ اسکیموں کا اعلان کیا تو ان پر بھی مسلم منہ بھرائی کا الزام لگا لیکن مودی نے پارلیمانی انتخابات سے کچھ پہلے ایک اسٹیج پر ٹوپی پہننے سے انکار کرکے یہ واضح کردیا کہ بی جے پی مسلم منہ بھرائی کی اس پالیسی کو مسترد کرتی ہے۔
اس کے بعد وزیر اعظم نے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں قبرستان وشمشان اور ہولی و دیوالی کی بات کرکے سماج وادی پارٹی کو جس طرح نشانے پر لیا اور اس سے پہلے بہار انتخابات کے وقت راشٹریہ جنتا دل کے مسلم یادو اتحاد کو سامنے رکھ کر پولرائز کرنے کی کوشش کی ،اس نے مسلمانوں کو بی جے پی سے مزید دور کردیا ۔اس دوری کو ریاست کی دیگر پارٹیوں نے محسوس کیا اور اپنے اپنے طور پر مسلمانوں کو اپنے ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کرنی شروع کردی۔اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں جہاں ایک طرف بی ایس پی نے 99 مسلمانوں کو میدان میں اتارا ،وہیں بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہ دے کر اپنے موقف کو سامنے رکھ دیا۔
اترپردیش میں تقریبا ً20 فیصد مسلمان ہیں۔ان کے 20 ووٹ کو حاصل کرنے کے لئے بی ایس پی، ایس پی اور کانگریس اتحاد سے لے کر چھوٹی چھوٹی کئی پارٹیوں نے بھرپور کوشش کی جبکہ بی جے پی نے اتنی بڑی آبادی کے بغیر الیکشن لڑنے کا جوا کھیلا اور وہ اس میں کامیاب رہی ۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کے ووٹ کے بغیر نہ صرف انتخابات جیت سکتی ہے ، بلکہ زبردست جیت حاصل کر کے تاریخ رقم کر سکتی ہے۔اس کامیابی کے بعد اب مسلمان اس شش و پنج میں ہیں کہ ان کا اگلا سیاسی قدم کیا ہو؟ کیا وہ آئندہ کے لئے کوئی ایسا پلیٹ فارم تیار کریں جس پر تمام مسلمان متفقہ طور پر جمع ہوکر ایک نئی سیاسی طاقت بن کر ابھریں یا پھر بی جے پی کے ساتھ سمجھوتہ کر کے اس دوری کو ختم کرلیں ۔پہلی صورت سیاسی اعتبار سے خطرناک بھی ہوسکتی ہے کیونکہ اگر مسلمان متفقہ طور پر (جو کہ ممکن نظر نہیں آتا ہے ) ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجاتے ہیں تو لازمی طور پر اکثریت پولرائز ہوگی اور ان کے ایک ووٹ کے مقابلے میں 6 ووٹ متحد ہو جائیں گے۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں کی آبادی تقریباً 80 فیصد ہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمان صرف 14.2 فیصد ہیں۔لہٰذا یہاں کبھی مسلم جماعت حکومت نہیں کرسکتی کیونکہ آبادی کے لحاظ سے اگر سارے کے سارے مسلمان کسی ایک پارٹی کے بینر تلے متحد ہو بھی ہو جائیں اور ہندو ووٹر پانچ جگہ تقسیم بھی ہو جائیں تب بھی غیر مسلم پارٹی ہی اقتدار پر براجمان ہو گی ۔ فرض کریں 14.2 فیصد مسلمان اگر متحد ہو جائیں تو ان کے صرف 14 اراکین پارلیمنٹ ہوں گے باقی 86 اراکین غیر مسلم ہوں گے۔لہٰذا مسلم اراکین کی جانب سے پیش کردہ کسی بھی بل کو اکثریتی پارٹی نامنظور کردے گی اور مسلمانوں کا یہ اتحاد دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔
جہاں تک دلتوں کو ساتھ کرکے اس پلیٹ فارم کو مضبوط کرنے کی بات ہے تو یہ بھی عملی طور پر ممکن نہیں ہے کیونکہ حالیہ انتخابات میں اسد الدین اویسی نے مسلم -دلت اتحاد کا نعرہ دیا تھا ۔مگر نتیجہ کیا ہوا؟وہ سب کے سامنے ہے۔اس نعرہ کا نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں کے ووٹ تو بٹ گئے ۔ تقریبا 6سیٹوں پر مجلس اتحاد المسلین کی وجہ سے مسلمان کا ووٹ پورے طور پر بٹا جبکہ دلتوں نے بی جے پی کو ووٹ کرکے اتحاد المسلمین کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔تو پہلی بات تو یہ کہ دلت مسلمانوں کے ساتھ آئیں یہی بہت دور کی کوڑی ہے اور بالفرض اگر وہ آبھی جائیں تو یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اقلیتی اتحاد کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ اس کی مثال ہم 2014 کے گزشتہ عام انتخابات میں دیکھچکے ہیں کہ دلتوں کے نام نہاد اتفاق کے باوجود یوپی کی 80 سیٹوں میں سے بہو جن سماج پارٹی کھاتہ بھی نہ کھول سکی ۔ یہی صورت حال اس مرتبہ بھی کم و بیش اسمبلی انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملی۔
رہی بات دوسری صورت حال کی تو یہ کسی حد تک ممکن ہے کیونکہ بی جے پی اگر چہ مسلمانوں کی منہ بھرائی نہیں کرتی ہے اور نہ خود سے ان کے ووٹ بینک کو اپنے حق میں کرنے کا نعرے دیتی ہے مگر’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کے مد نظر اگر کوئی اس کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اسے اپنے ساتھ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
ایک تیسری صورت بھی ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ وہ متفقہ طور پر کسی ایسے امیدوار کو ووٹ کریں جن کو وہ اہل سمجھتے ہیں ،چاہے اس امیدوار کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو۔اس صورت حال کو اختیار کرنے سے مسلمانوں کے ووٹ بینک میں معتبریت آئے گی اور یہ 20 فیصد ووٹر کسی بھی امیدوار کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں ۔حالانکہ حالیہ الیکشن میں بھی کہیں کہیں پر اس طرح کا رجحان دیکھنے کو ملا تھا اور مسلمانوں نے عقلمندی سے کام لیا۔ مثال کے طورپر کانپور میں عبد الحسیب کو صرف پانچ ہزار ووٹ ملے ۔انہیں مسلمانوں نے نظر انداز کیا۔لیکن عمومی طورپر مسلمانوں کے ووٹ کے بکھرائو نے ان کی پوزیشن کو کمزور کردیا جیسا کہ ڈومریاگنج جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں سماج وادی کی سیدہ خاتون محض 167 ووٹوں سے ہار گئیں ۔پیس پارٹی کے امیدوار نے 10351 ووٹ کاٹ لیا۔اگر یہ ووٹ نہ کٹتے تو سیدہ خاتون کی جیت یقینی تھی۔85 ایسے حلقے ہیں جہاں پر مسلم امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ان حلقوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ اتحادی اور بی ایس پی کے درمیان تقسیم ہوگئے تھے۔
بہر کیف مسلمان بی جے پی کی اس شاندار کامیابی کے بعد جو بھی رخ اپنائیں ،انہیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ایک طرف بی جے پی مسلمانوں کو نظر انداز کرتی ہے تو کانگریس کا طویل ترین اقتدار بھی مسلمانوں کے لئے بہت بہتر نہیں رہا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کانگریس دور حکومت میں بہت سے مسلمان وزیر بنائے گئے ۔ اگر مسلمانوں کو وزارت دینا ہی کوئی بہت بڑا احسان ہے تو یہ کام تو بی جے پی نے بھی کر دیا۔گجرات اور مظفر نگر سے پہلے تمام بھیانک ترین فسادات کانگریس دور حکومت میں ہی ہوئے ہیں جن میں پولیس نے لرزہ خیز مظالم برپا کئے۔جہاں تک بی ایس پی کی بات ہے تو اس کے دور اقتدار میں بے شمار نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں پکڑا گیا اور بی ایس پی سپریمو خاموش تماشائی بنی رہیں۔سماج وادی پارٹی کے دور میں مظفر نگر کا بھیانک فساد ہوا جس میں ہلاکت کے علاوہ سینکڑوں مسلمان بے گھر ہوئے جو آج تک آباد نہیں ہوسکے ۔مگر اس حکومت نے سوائے تسلی کے کچھ نہیںدیا ۔ تو ان تمام صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو آئندہ کے لئے کوئی سیاسی مضبوط لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔
رہی بات بی جے پی کی اس کامیابی کی تو اس نے مسلمانوں میں تشویش پیدا کرہی دیا ۔یہ تشویش اس لئے بھی بجا ہے کہ بی جے پی کے کچھ شعلہ بیاں لیڈر ابھی سے ہی مندر -مسجد کی بات کرنے لگے ہیں۔ آر ایس ایس کے مفکر ایم جی ویدیہ کہتے ہیں کہ بی جے پی کو یہ مینڈیٹ رام مندر کی تعمیر کے لئے ملا ہے۔ونے کٹیار اور اومابھارتی جیسے لیڈران بیان دے رہے ہیں کہ اب مندر بن ہی جانا چاہئے۔ یوگی آدتیہ ناتھ اس مدعا کو اٹھاتے رہے ہیں اور مندر تعمیر کی بات کرتے ہیں۔ان لیڈروں کے بیانات نے مسلمانوں کو یقینا تشویش میں ڈال دیا ہے ۔اب ایسے میں مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ بہت اہم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی طاقت منوانے کے لئے کسی حتمی نتیجے تک پہنچیں ورنہ حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے یہ اشارہ تو دے ہی دیا ہے کہ تقریبا ً 20 فیصد ہونے کے باوجود ان کے بغیر بھی جیت حاصل کی جاسکتی ہے۔
بی جے پی نے 403سیٹوں میں سے 325 پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد نے 54، بی ایس پی نے 19 پر اور دیگر نے 5 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔بی جے پی نے 325 پر کامیابی کے ساتھ 39.7فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ بی ایس پی نے 19سیٹوں پر 22.2فیصد، سماج وادی نے 47سیٹوں پر 21.5 فیصد اور کانگریس نے 7 پر 6.3فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ریاست کی مجموعی سیٹوں میں سے 24 پر مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔ جیت کا یہ فرق بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس ووٹ کی طاقت تو ہے لیکن وہ اس طاقت کا استعمال صحیح ڈھنگ سے نہیں کرپاتے ہیں۔ان کی طاقت کو بکھیر کر فائدہ تو اٹھالیا جاتا ہے اور انہیں ایک طرف کردیا جاتا ہے۔
کیا کہتے ہیں مسلم دانشوران
مشتاق احمد علیگ: ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سپریم کورٹ اور سماجی کارکن: اس وقت جو سیاسی حالات بنے ہوئے ہیں ،ان حالات میں مسلمانوں کو سرسید کی بات پر عمل کرنا چاہئے۔سرسید نے کہا تھا کہ ’’مسلمانوں کو ایک خاص مدت تک سیاست سے علاحدہ ہوکر صرف تعلیم اور معیشت کے استحکام پر مضبوطی سے کام کرنا چاہئے‘‘۔ مسلمانوں کو فی الوقت یہی کرنے کی ضرورت ہے۔آزادی کے بعد سے ہم سیاسی پارٹیوں پر بھروسہ کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ ہمیں جو بھی کام کرنا ہے، وہ ملک کے ہر فرد کے لئے کرنا ہے۔موجودہ حالات میں مسلمان اپنی تعلیم اور تجارت کو مضبوط کریں ۔ہمیں اسرائیل کی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایک دور تھا جب یہ قوم بالکل بکھری ہوئی تھی،سیاسی اعتبار سے نامکمل تھی لیکن اس نے تعلیم اور معیشت پر دھیان دیا تو آج دنیا میں برتر قوم کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہے۔موجودہ حالات سے مسلمانوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔حکومت میں کوئی آئے ،آئین کے بنیادی ڈھانچے کو بدل نہیں سکتا۔ آئین کی دفعہ 368 کی روشنی میں پارلیمنٹ کو آئین میں تبدیلی کا جو حق ہے، اس پر سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ پارلیمنٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
سید محمد عاصم ، سابق ریسرچ آفیسر ، سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن اور دانشور : موجودہ حالات میں ملک کے مسلمانوں کو جمہوری پارٹیوں کے ساتھ جڑنا چاہئے لیکن ساتھ ہی انہیں باہم تقسیم ہونے کی صورت حال سے بچنا چاہئے۔سیاسی پارٹیوں میں ایسی پارٹی کو چنیں جو بھلائی ، انسانیت اور جمہوریت کی بات کر تی ہے۔یوں تو تمام سیاسی پارٹیاں جمہوریت اور انسانیت کی بات کرتی ہیں لیکن ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ان میں سے حقیقت پسند کونسی سی ہے۔یو پی کی موجودہ صورت حال کو دیکھئے تو اکھلیش سے ریاست کے مسلمان مظفر نگر فساد کی وجہ سے نالاں تھے،یہی ان کی ہار کی وجہ ہے۔جہاں تک اویسی کی بات ہے تو ان کا یہاں آنا نقصان دہ ثابت ہوا۔یوپی اور بہار جیسی ریاستوں میں مسلم پہچان والی سیاسی پارٹی سے نقصان پہنچتا ہے ۔لہٰذا کوئی ایسی علاحدہ پارٹی نہیں ہونی چاہئے جس سے یہ پیغام جائے کہ یہ مسلمانوں کی پارٹی ہے۔البتہ دیگر ریاستوں میں جیسے حیدرآباد، مہاراشٹر یا، کیرالہ اور آسام میں یہ ممکن ہے۔
یوسف حبیب صدر مسلم مجلس یوپی، الٰہ آباد:جب ہم بی جے پی کی بات کرتے ہیں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ ماضی میں آزادی سے لے کر آج تک مسلمانوں کو کیا ملا ؟ گزشتہ صدی کی ساتویں و آٹھویں دہائی میں مسلمانوں کی سرکاری ملازمت اور نمائندگی کا اوسط 35 فیصد کے قریب تھا جو کم ہوتا ہوا ایک سے ڈیرھ فیصد تک پہنچ گیا اور اب موجودہ حکومت مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں دے گی۔تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو ،مسلمانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاہے۔ دراصل گاندھی،نہرو اور اس دور کے سیکولر رہنمائوں نے جس پودے کو لگایا تھا اور یہ خواب دیکھا تھا کہ یہ پودا بڑھتا ہوا قدآور بن جائے گااور ملک سونے کی چڑیا بنا رہے گا تو اسی وقت انگریزوں نے آر ایس ایس کی داغ بیل ڈالی جو ملک کی جڑ کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے اور اب یہی طاقت حکومت کی نگہبان ہے ۔بہر کیف مسلمانوں کو چاہئے کے ایسے حالات میں ایجوکیشن اور سوشل ریفارم پر دھیان دیں۔اسلام کی لائن سے اوپر جائیں۔ایسا کرنے سے بتدریج ان میں سیاسی ، سماجی اور معاشی ہر طرح کی قوت پیدا ہوگی اور پھر انہیں کسی سیاسی پارٹی کی مرہون منت بنے رہنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی بلکہ یہی سیاسی پارٹیوں کی ضرورت بن جائیں گے۔
پروفیسر سلیمان ،معروف مسلم رہنما ابراہیم سلیمان سیٹھ کی قائم کردہ انڈین نیشنل لیگ کے قومی صدر،کانپور:
یہ وقت بہت نازک ہے اور اس وقت مسلمانوں کو متحد ہوکر مسلم سیاسی پارٹی تشکیل کرنی چاہئے۔ یوں تو ملک میں کل 1800 میں سے تقریباً 300 مسلم پارٹیاں رجسٹر ڈ ہیں مگر یہ سب الگ الگ ہیں۔ یہ سب مل کر الائنس بنا کر انتخابی میدان میں آئیں تو ایک بڑی طاقت بن کر ابھر سکتی ہیں۔ اس کے بعد یہ طاقت کسی بھی سیکولر پارٹی سے مل کر حکومت میں اپنا دبدبہ بنا سکتی ہیں۔اس کام کے لئے سب سے پہلے ملک کے مختلف علاقوں میں غیر سیاسی معروف و مؤثر شخصیتوں اور جماعتوں سے مل کر ان سے بات کرنی ہوگی ۔ یہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اگر یہ پارٹیاں اور شخصیات یکجا ہوجاتی ہیں تو ایسی صورت میں یہ ملک کی دیگر تمام پارٹیوں پر اثر ڈال کر مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کی طرف بہتر قدم ثابت ہوگا۔حالانکہ یہ کام یکدم نہیں ہوگا۔ اس میں تھوڑا وقت لگے گا لیکن کوشش کی جائے تو اس کو عمل میں لایا جاسکتا ہے۔
محمد خالد، معروف سماجی کارکن،لکھنو : ابھی جو نیو انڈیا کا نعرہ دیا جارہا ہے، اس کا مطلب واضح نہیں ہے۔اس سے مراد کچھ بھی ہوسکتا ہے،ہندوتوا بھی ہوسکتا ہے۔موجودہ مرکزی حکومت مسلمانوں کو حذف کرکے چلنے کا پہلا تجربہ 2014 کے پارلیمانی الیکشن میں کیا تھا جو کہ کامیاب رہا۔ اس کے بعد 2017 کے اسمبلی انتخابات میں اسی تجربے پر عمل ہوا اور اسے کامیابی ملی۔ یو پی کی دوسری سیاسی پارٹیوں میں مایاوتی نے مسلمانوں سے صرف یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں تحفظ دیں گے،بقیہ کوئی اور وعدہ نہیں کیا۔ اس وقت صورت حال ایسی ہے کہ مسلمان الیکشن سے بالکل الگ تھلگ پڑ گئے ہیں۔ اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔جہاں تک ان کے متحد ہونے کی بات ہے تو یہ ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔اس وقت سب سے ہم ضرورت ہے مسلمانوں کو اپنے کردار اور اخلاق کو بلند کرنے کی۔ نریندر مودی کہتے ہیں کہ’’ جو پھلدار درخت ہوتا ہے وہ جھکا ہوا ہوتا ہے ‘‘۔یہ بات ایک غیر مسلم کہہ رہے ہیں جبکہ یہ سبق مذہب اسلام کا ہے جس کو خود مسلمانوں نے چھوڑ رکھا ہے ۔سیاست دین کا حصہ ہے مگر آج جو سیاست ہورہی ہے وہ دین سے بالکل الگ تھلگ ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ دین پر عمل پیرا ہوں اور دین میں سیاست کا جو مزاج ہے اس کو اختیار کریں۔حالات خود بخود سدھر جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *