یو پی سے سماج وادی پارٹی، کانگریس اور بہو جن سماج پارٹی کا صفایا مودی کے نام جیت کی تاریخ

damiاتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔ انتخابی نتائج کو لے کر اب قسم قسم کے تجزیات پیش ہوں گے اور طرح طرح کے الزامات لگیں گے لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش اور اس سے ہی بنے اترا کھنڈ کے لوگوں نے بد عنوانی اور بد نظمی کی سیاست کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔ 2017 کا انتخابی نتیجہ سیاسی پارٹیوں کے لئے سبق لینے والے پیغام کی طرح سامنے آیا ہے۔یہ ایک واضح اشارہ ہے ۔ اس میں مذہب اور ذات برادری کی تفریق نہیں ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی ملک کو یہ سمجھانے میں پوری طرح کامیاب ہو چکے ہیں کہ وہ بد عنوانی اور بد نظمی کے خلاف کھڑے ہیں۔ عوام کے دماغ میں اس سوچ کے قائم ہونے کی وجہ سے ہی تمام پرچاروں اور پروپیگنڈوں کے باوجود نوٹ بندی کہیں کوئی ایشو نہیں بنا اور بد نظمی کے پس منظر میں بیٹھی سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس جیسی پارٹیوں کی اس بار کوئی دال نہیں گلی۔ بی جے پی کے حق میں ووٹوں کا اوسط بتاتا ہے کہ اسے سماج کے ہر طبقے کا ووٹ ملا ۔ مسلمانوں کا بھی ووٹ ملا، اس میں مسلم عورتوں نے بی جے پی کا زیادہ ساتھ دیا۔
بی جے پی کی ایسی تاریخی جیت سے سماج وادی پارٹی ، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس بوکھلا گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان راجندر چودھری نے یہاں تک کہہ دیا کہ بی جے پی نے عوام کے ساتھ دھوکہ دھڑی کی، لوگوں کو بانٹا اور ورغلایا۔اس پر سماج وادی پارٹی کے ہی سینئر لیڈر شیو پال یادو نے کہا کہ یہ ہار سماج وادی کے لوگوں کی نہیں، مغروروں کی ہار ہے۔ وہیں بہو جن سماج پارٹی لیڈر مایاوتی نے الزام لگا یا کہ بی جے پی نے الکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور اپنے من مطابق نتائج نکلوا لیا۔ حالانکہ اس الزام کی تصدیق کرنے کے لئے مایاوتی نے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی کہ بی جے پی کے ذریعہ ایک بھی مسلم امیدوار نہیں دیئے جانے کے باوجود مسلم اکثریتی حلقے میں بی جے پی کو بھاری ووٹ کیسے ملے۔مایاوتی نے کہا کہ ووٹنگ مشین میں سیٹنگ کی وجہ سے بہو جن سماج پارٹی ہار گئی۔ مایاوتی بولیں کہ 2014 میں بھی ایسی ہی گڑبڑی کے امکان ظاہر کئے گئے تھے اور حال میں مہاراشٹر میں ہوئے میونسپل انتخابات میں بھی ای وی ایم میں ’مینی پولیشن‘ کی شکایت سامنے آئی ہے۔ اکھلیش یادو نے بھی ای وی ایم مینی پولیشن کی طرف اشارہ کیا اور یہ بھی کہا کہ عوام کا فیصلہ انہیں منظور ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی سرکار بہتر کام کرے گی۔ اکھلیش نے کہا کہ نئی سرکار کی تشکیل کے بعد پہلی کابینہ میٹنگ میں جو فیصلے آئیںگے، اس کا ہم سب کو انتظار رہے گا۔ کسانوں کا قرض معاف ہوا تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔
اتر پردیش اور اترا کھنڈ کے عوام نے سماج وادی پارٹی، کانگریس اتحاد تکنیک اور بہو جن سماج پارٹی کی نئی مذہبی انجینئرنگ کو ان کیخو لوں میں سمیٹ کر رکھ دیا۔ میدان سے لے کر پہاڑ تک بی جے پی کا دبدبہ قائم ہو گیا۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ رہی کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کو جیت ملی۔ سماج وادی پارٹی ، کانگریس اتحاد نمبر دو اور بہو جن سماج پارٹی نمبر تین پر مقام بنا پائی۔ پہلے اور دوسرے کے درمیان اعداد کی کھائی بہت زیادہ گہری ہے۔ اترا کھنڈ میں تو بہو جن سماج پارٹی صفرمیں ہی رہ گئی۔ ملک کی پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں لوگوں کا سب سے زیادہ دھیان اتر پردیش اسمبلی انتخاب پر ہی لگا تھا۔ یو پی کی 403 سیٹوں پر پورے ملک کی سیاست کی حرارت بدلتی ہے۔ یہاں سات مختلف مرحلوں میں انتخابات ہوئے ۔پہلے مرحلہ میں 11فروری کو 15ضلعوں کی 73 اسمبلی سیٹوں پر ووٹ ڈالے گئے۔دوسرے مرحلے میں 15فروری کو 11ضلعوں کی 67 سیٹوں کے لئے انتخاب ہوئے۔ تیسرے مرحلے میں 69 سیٹوں پر 19فروری کو الیکشن ہوا۔چوتھے مرحلے میں53 سیٹوں پر 23فروری کو ووٹنگ ہوئی۔ پانچویں مرحلے میں 52 سیٹوں کے لئے 27فروری کو اور چھٹے مرحلے میں 49 سیٹوں پر 4مارچ کو انتخاب ہوئے۔ ساتویں مرحلے میں 40سیٹوں پر 8 مارچ کو ہوئی ووٹنگ کے بعد انتخاب کا عمل ختم ہوا۔
2017 کے اسمبلی انتخابات کی خاصیت یہ رہی کہ اس نے رام مندر آندولن کے دور میں بی جے پی کو ملی عوامی حمایت کو بھی پیچھے دھکیل دیا ۔اس وقت بی جے پی کو 221سیٹیں ، یعنی تقریبا 32فیصد ووٹ ملے تھے۔ گزشتہ 2007) انتخابی نتائج کا تجزیہ کریں تو پائیں گے کہ 28فیصد سے زیادہ ووٹ پانے والی پارٹی بہو جن سماج پارٹی کی سرکار بنی تھی۔ 2007 میں بہو جن سماج پارٹی نے 206 سیٹیں جیت کر مکمل اکثریت حاصل کی تھی۔ 2012 میں سماج وادی پارٹی کو 224 سیٹوں کے ساتھ 29.13 فیصد ووٹ ملے تھے اور وہ اقتدار پر قابض ہوئی تھی۔ 2012 کے انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کو 25.91 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2007 میں سماج وادی پارٹی کو 25.5 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی کو ان دونوں انتخابات میں محض 17فیصد کے آس پاس ووٹ ملے تھے۔ لیکن 2014 کے لوک سبھاانتخاب میں بی جے پی کی قسمت پلٹی اور اسے 42.3 فیصد ووٹ کے ساتھ 73 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ ٹھیک وہی حال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ہوا، جس میں بی جے پی کو تین چوتھائی سے بھی زیادہ سیٹیں حاصل ہوئیں۔ بی جے پی کو 403 سیٹوں میں اکیلے 312 سیٹیں ملیں۔ بی ج ے پی کے اتحادی اپنا دل کو 9 سیٹیں ملیں جبکہ دوسری اتحادی بھارتیہ سماج پارٹی کوبھی چار سیٹیں ملی ہیں۔ یعنی 2017 کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی اتحاد کو کل 325 سیٹیں حاصل ہوئیں ۔ سماج وادی پارٹی ، کانگریس اتحاد کو محض 54 سیٹیں حاصل ہوئیں ۔اس میں 47 سیٹیں سماج وادی پارٹی کو اور سات سیٹیں کانگریس کو ملی ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی کا حال سب سے خراب رہا۔ اسے محض 19 سیٹون پر اکتفا کرنا پڑا ۔پھر سے یاد دلاتے چلیں کہ 2012 کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو 224 سیٹیں ملی تھیں اور کانگریس 28 سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی۔ بی جے پی کی جیت کے اوسط کے نظریئے سے دیکھیں تو پائیںگے کہ سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ اتراکھنڈ میں بھی بی جے پی کو 69 میں سے 56 سیٹیں ملیں اور تین چوتھائی اکثریت حاصل ہوئی ۔ کانگریس کو محض 11 سیٹیں ملیں۔ وزیر اعلیٰ ہریش راوت دو سیٹوں سے انتخاب لڑے تھے، دونوں جگہ سے ہار گئے۔ خبر لکھے جانے تک اترا کھنڈ کی ایک سیٹ پر نتیجہ آنا باقی تھا۔ اتراکھنڈ میں اسمبلی کی کل سیٹیں 70 ہیں۔
یو پی میں انتخابی نتائج آنے کے بعد سماج وادی پارٹی کے لیڈر بھی کہنے لگے ہیں کہ ملائم پریوار کا جھگڑا نہ ہوا ہوتا تو نہ پارٹی ٹوٹتی،نہ کانگریس سے اتحاد ہوتا اور نہ اتنے برے دن دیکھنے پڑتے۔ سماج وادی پارٹی راجیہ سبھا ممبر امر سنگھ نے کہا بھی، گھر کو لگی آگ، گھر کے چراغ سے، امر سنگھ نے کہا کہ ملائم پریوار کا تنازع اور اکھلیش کا غرور پارٹی کو لے ڈوبا ۔انہیں سبھی عمر دراز لیڈروں کا احترام کرنا چاہئے تھا۔ اوپر سے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرکے 105 سیٹیں اور بیکار کر دیں۔ امر سنگھ نے کہا کہ اگر ملائم نے پہلے ہی اققتدار کی کمان سنبھال لی ہوتی تو ہار کا فرق اتنا بڑا نہیں ہوتا۔ سماج وادی پارٹی کو کم سے کم 120 سے 130 سیٹیں تو مل ہی جاتیں۔ اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلے کے دن ہی ملائم کی دوسری بیوی سادھنا گپتا نے اکھلیش کے ذریعہ اپنے والد ملائم کی توہین کرنے کی بات کہہ کر آخری کیل ٹھونک دی۔ سادھنا گپتا نے یہ بھی کہا کہ شیوپال یاد وکا کوئی قصور نہیں ہے، سب رام گوپال کا کیا دھارا ہے۔ سادھنا گپتا نے کہا کہ ان کی بہت توہین ہوئی۔ وہ اب اور برداشت نہیں کریںگی۔ انہوں نے شیو پال کا ساتھ دیا اور کہا انہیں غلط ڈھنگ سے پارٹی سے کنارے کیا گیا۔ انتخابی نتائج کے بعد پروفیسر رام گوپال یادو منظر سے غائب ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ نریندر مودی کی لہر کے بارے میں سماج وادی پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی کو اندازہ نہیں لگ پایا ۔خود بی جے پی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اندر اندر اتنی بڑی سونامی شکل لے رہی ہے۔ لیکن اتنی قابل رحم صورت حال پر پارٹی کو لا کھڑا کرنے کے لئے اکھلیش ہی نہیں ، ملائم بھی اتنے ہی قصوروار ہیں ۔پروفیسر رام گوپال بھی اتنے ہی قصوروار ہیں۔ پریوار کے اندرونی تنازع کوعوامی اسٹیج پر لاکر ملائم نے اسے زیادہ الجھایا۔ گھر کا جھگڑا سڑک تک لا دیا۔ یہ جھگڑا بھی لگاتار چلتا رہااور گہراتا رہا۔ ملائم اور ان کے بیٹے کے درمیان یا چچا شیو پال اور بھتیجے اکھلیش کے درمیان سیاسی تسلط کا جھگڑا تھا تو اسے سڑک پر لانے کی کیا ضرورت تھی؟اسے گھر میں نمٹانے کے بجائے اسے پارٹی کے عوامی اسٹیجوں پر نمٹایا جانے لگا۔ اسے پوری دنیا نے دیکھا۔ اسے اتر پردیش کے عوام نے دیکھا۔ عام لوگوں کی طرف سے یہ سوال اٹھے کہ ریاست کے عوام نے 2012 میں سماج وادی پارٹی کو حمایت کیا پریوار کا جھگڑا دیکھنے کے لئے دیا تھا؟عوام نے اندر اندر یہ طے کر لیا تھا کہ اس تنازع کا ایوارڈ سماج وادی پارٹی کو کیسے دینا ہے۔باپ کو جبراً پارٹی سے بے دخل کر کے خود کو راشٹریہ صدر ہونے کا اعلان کرنے والے اکھلیش یادو کے سپہ سالا بھی انہیں ڈوبانے کے لئے آمادہ تھے۔ کانگریس سے اتحاد کرنے کی صلاح دینے والے ان کے مشیر سیاسی نقطہ نظر کے حساب سے پورے معذور ہی ثابت ہوئے۔ وزیر اعلیٰ اور خود ساختہ راشٹریہ صدر اکھلیش یادو اتنے اقتدار کے خواہش مند تھے کہ کانگریس سے اتحاد کو لے کر کسی سینئر لیڈر سے کوئی مشورہ لینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ سارے سینئر وں کو وہ الگ کرچکے تھے تو صلاح کس سے لیتے۔ حالانکہ نظر انداز کئے جانے کے باوجود ملائم نے کانگریس سے اتحاد کو سماج وادی پارٹی کے لئے خودکشی بتایا تھا لیکن ملائم کی سن کون رہا تھا۔ خوشامد پسندوں کی بھیڑ کے علاوہ اکھلیش کے پاس کوئی دوسرا کارکن پھٹک بھی نہیں پا رہا تھا۔ لیکن ایسے مراحل سے کارکنوں میں منفی پیغام تو جاہی رہا تھا۔ راہل تو اپنی کھاٹ کھڑی کرنے پر آمادہ تھے ہی، انہوں نے اکھلیش کے ماتھے پر بھی ٹوٹی کھاٹ پٹخ دی۔
لوگ کہتے ہیں کہ لاء اینڈ آرڈر اکھلیش کے لئے بڑا ایشو بنا۔لیکن اصلیت یہ ہے کہ خراب لاء اینڈ آرڈر سب سے زیادہ خراب مانا گیا تھا ۔اکھلیش کے ذریعہ یادو سنگھ جیسے بدعنوان افسروں اور گائتری پرجا پتی جیسے بد عنوان وزیروں کو تحفظ دیا جانا۔ اس غیر اخلاقی تحفظ کی وجہ سے اکھلیش عوام کے سامنے بری طرح ایکسپوز ہوئے، لیکن ان پر جیسے اس سے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔ لیکن عوام کے درمیان اکھلیش کا یہ رویہ زبردست طریقے سے ناپسند کیا جارہا تھا۔ مظفر نگر کے فساد سے لے کر ماں بیٹی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے شرمناک سانحہ نے اکھلیش کا بڑا نقصان کیا۔ نوٹ بندی پر سماج وادی پارٹی، کانگریس اور بہو جن سماج پارٹی کی گروہ بندی نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ عوام کو اکسانے کی ان کی کوششیں ناکام رہیں اور انتخاب میں لوگوں نے ان تکڑموں کا حساب کتاب برابر کردیا۔ بی جے پی ممبر پارلیمنٹ اور پارٹی کے شیڈولڈ کاسٹ ، شیڈولڈ ٹرائبس سیل کے صدر کوشل کیشور کہتے ہیں کہ اکھلیش کے نعرے’ کام بولتا ہے ‘نے سماج وادی پارٹی کا کام لگا دیا۔کیونکہ عوام کو یہ سفید جھوٹ پسند نہیںآیا۔ بہو جن سماج پارٹی لیڈر مایاوتی کے بارے میں کوشل کہتے ہیں کہ مایاوتی نے بابا صاحب امبیڈکر کے اصولوں کو طاق پر رکھ دیا توسماج نے مایاوتی اور ان کی پارٹی کو ہی طاق پر رکھ دیا۔
یو پی کے 20 سی ایم ،عہدہ پر کوئی دو بار لگاتار فائز نہیں ہوا
اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتیجے تاریخی کامیابیوں کے ساتھ بی جے پی کے حق میں آئے، لیکن اترپردیش کی روایت ایک بار ایک وزیر اعلیٰ کو کرسی دینے کی رہی ہے۔ یعنی کوئی وزیر اعلیٰ آج تک اپنی کرسی پر دو بار لگاتار فائز نہیں ہوپایا ہے۔گووند ولبھ پنت سے لے کر اکھلیش یادو تک کوئی بھی آدمی مسلسل دوبارہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر نہیں بیٹھ پایا۔
اتر پردیش میں اب تک 20وزیرا علیٰ ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ تین بار وزیر اعلیٰ بھی ہوئے ہیں، جن کا دور حکومت چھوٹا رہا ہے ۔2017 میں موجودہ وزیر اعلیٰ ہوئے اکھلیش یادو15 مارچ 2012 کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر براجمان ہوئے تھے۔اتر پردیش کی پہلی اسمبلی کو 1952-57 تک گووند ولبھ پنت کی شکل میں وزیر اعلیٰ ملا۔ دوسری اسمبلی 1952-62 تک چلی۔ جس میں سمپورنا نند وزیر اعلیٰ بنے۔ اس کے بعد چندر بھانو گپت ، سوچیتا کرپلانی ، چندر بھانو گپت، چرن سنگھ، چندر بھانو گپت، چرن سنگھ، تری بھوون نارائن سنگھ، کملا پتی ترپاٹھی، ہیم وتی نندن بہو گنا۔ نارائن دت تیواری، رام نریش یادو، بنارسی دس، وشو ناتھ پرتاپ سنگھ، شری پتی مشر، نارائن دت تیواری، ویر بہادر سنگھ، نارائن دت تیواری، ملائم سنگھ یادو، کلیان سنگھ، ملائم سنگھ یادو، مایاوتی ، صدرراج، مایاوتی، کلیان سنگھ، رام پرکاش گپت، راجناتھ سنگھ، مایاوتی، ملائم سنگھ یادو، مایاوتی اور اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ بنے،ان میں سے کئی لیڈر دو بار تو وزیر اعلیٰ بنے لیکن کوئی بھی لیڈر وزیر اعلیٰ کی کرسی پر ایک سے دوسرے دور میںمسلسل نہیں ہوا۔
پہاڑ پر بھی کانگریس ’ بھک کاٹا
مودی لہر کااثر پڑوسی ریاست اترا کھنڈ میں بھی دیکھائی پڑا جہاں سے کانگریس کا بھک کاٹا ہو گیا۔ ہریش راوت سرکار میں کابینی وزیر رہے لیڈر تو انتخاب ہارے ہی، خود وزیر اعلیٰ ہریش راوت بھی ہری دوار دیہات اور کِچھا سیٹ سے انتخاب ہار گئے۔ اتر کھنڈ کی 69 سیٹوں میں سے بی جے پی کو 57 اور کانگریس کو 11سیٹیں ہی ملی۔حالانکہ اس جیت کے باوجود بی جے پی کے ریاستی صدر اجے بھٹ انتخاب ہار گئے۔ گڑھوال کے ممبر پارلیمنٹ اور اترا کھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ بھون چندر کھنڈوری نے اترا کھنڈ میں بی جے پی کی جیت کو مودی کے طریقہ کار کی جیت بتایا۔
انتخابات میں بی جے پی کے پرفارمینس کو لے کر تمام تشویشات ظاہر کی جارہی تھی۔ کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوئے لیڈروں کو ٹکٹ دیئے جانے سے لے کر تمام باہریوں کو ٹکٹ دیئے جانے سے بی جے پی کے پرانے لیڈروں اور کارکنوں میں ناراضگی تھی۔ کئی سینئر بی جے پی لیڈر باغی امیدوار کے بطور انتخابی میدان میں بھی آڈتے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ عدم اطمینان اور باغیوں کی وجہ سے بی جے پی کو غیر متوقع کامیابی حاصل نہ کرپائے۔لیکن یہ تشویشات وھم ثابت ہوئی۔ ٹکٹ نہیںدیئے جانے سے ناراض بی جے پی مہیلا مورچہ کی سابق ریاستی میڈیا انچارج لکشمی اگروال سہس پور سے آزاد کھڑی ہو گئی تھیں۔ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں آئے یشپال آریہ اور ان کے بیٹے سنجیو آریہ دونوں کو ٹکٹ دیئے جانے سے وہ ناراض تھیں۔ بی جے پی نے اس بار ایک درجن سے زیادہ ان لیڈروں کو ٹکٹ دیئے جو کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں آئے تھے۔ کانگریس سے بی جے پی میں آئے ستیہ پال مہاراج چوبٹا کھال سے لڑ رہے تھے۔ ان کے لئے بی جے پی نے تیرتھ سنگھ راوت کا ٹکٹ کاٹ دیا۔ راوت انتخاب نہیں لڑ رہے تھے لیکن ان کے ایک قریبی ستیہ پال مہاراج کے مقابلے کھڑے تھے۔ بی جے پی نے نریدنر نگر سیٹ پر کانگریس سے آئے سبودھ انیال کو ٹکٹ دیا۔ اس سے ناراض اوم گوپال راوت باغی امیدوار کے بطور کھڑے ہو گئے تھے۔ کانگریسی سے بی جے پی کے خیمے میں گئے ہرک سنگھ راوت کی وجہ سے ہی بی جے پی کے شیلندر راوت کو استعفیٰ دینا پڑا ۔ ہرک سنگھ راوت کو بی جے پی نے کوٹ دوار سے ٹکٹ دیا جہاں سے شیلندر انتخاب لڑنا چاہتے تھے۔شیلندر بعد میں کانگریس میں چلے گئے اور کانگریس نے انہیں گڑھوال کی یمکشور سیٹ سے ٹکٹ دے دیا تھا۔
70 سیٹوں والے اترا کھنڈ کی آدھے سے زیادہ سیٹوں پر باغی کھیل بگاڑنے میں لگے تھے۔یہ اکیلے بی جے پی کے ساتھ نہیں تھا۔ کانگریس بھی باغیوں سے پریشان تھی۔ بغاوت نے کانگریس کا تو کھیل بگاڑا ،لیکن بی جے پی کا کچھ نہیں بگڑا۔ کانگریس کے آریدر شرما کا سہسپور سیٹ سے انتخاب لڑنا طے تھا،لیکن عین موقع پر ان کا پتہ کٹ گیا پھر وہ آزاد ہی کھڑے ہو گئے تھے۔ وہیں سے کانگریس کے ریاستی صدر کیشور اپادھیائے میدان میں تھے، جو ا ن وجہوں سے انتخاب ہار گئے۔ حالیہ وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے اپادھیائے کو ان کی روایتی ٹہری سیٹ سے نہیں لڑوایا۔ اس سے اپادھیاے ناراض بھی تھے۔ حالانکہ ہریش راوت بھی انتخاب میں شکست خوردہ ہی رہے۔ کانگریس کے سامنے کئی دقتیں تھیں۔ ہردی دوار کی جوالہ پور سیٹ پر کانگریس امیدوار ایس پی سنگھ کے خلاف باغی برج رانی کھڑی تھیں تو کمائوں کی بھیم تال سیٹ پر کانگریس امیدوار دان سنگھ بھڈاری کے خلاف رام سنگھ کیڑا باغی امیدوار کے طور پر کھڑے تھے۔ کومائون کی ہی دوارا ہاٹ سیٹ پر کانگریس کے مدن بسٹ کے خلاف کوبیر کٹھایت کھڑے تھے۔ دلچسپ یہ ہے کہ بی جے پی نے کانگریس چھوڑ کر آئے 13 لیڈروں کو ٹکٹ دیا تو کانگریس بی جے پی سے کانگریس میں آئے 7 لیڈروں کو ٹکٹ دیا تھا۔
سیاسی کتربیونت اور تکڑم بازی میں اتراکھنڈ کے بنیادی ایشو حاشئے پر ہی رہے۔ راجدھانی گیر سین لے جانے کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت ، پینے کا پانی، نقل و حمل اور روزگار جیسے مسئلے کنارے رہ گئے۔ ریاست کے پہاڑی ضلعوں میں ڈاکٹروں کاسخت فقدان ہے۔ ریاست میں کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیوں کی سرکاریں رہی ہیں۔ لیکن کسی نے بھی صحت کے شعبے کے سنگین مسائل کے حل کے لئے کچھ نہیں کیا۔ پیاڑ کے گائوں سے نقل مکانی کی صورت حال اتنی بھیانک ہو چکی ہے کہ تین ہزار ایسے ہیں جہاں آج ایک بھی ووٹر نہیں بچا ہے۔ اترا کھنڈ کے 16ہزار 793 گائوں کے 2لاکھ 57 ہزار 8سو 75گھروں میں نقل مکانی کی وجہ سے تالے لٹک چکے ہیں۔ اس ریاست کے چین سے لگے سرحدی علاقے کو سنگین اسٹریٹجک خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ لوگوں کا نقل مکانی روکنے کے لئے ریاست اور مرکزی سرکار کی طرف سے کوئی پہل نہیں کی گئی ۔ پہاری ریاست کے مسائل جوں کے توں سامنے کھڑے ہیں۔ ریاست میں رہنے والے بنگالی، پوربیا،پنجابی، میدانی دلتوں کو نظر انداز کرنے کی بات خوب ہوتی ہے،لیکن پہاڑ ، پہاڑی دلتوں، پہاڑ کی کمائونی بگڑوالی زبان اورسنسکرت کے ختم ہونے کی کوئی لیڈر چرچا نہیں کرتا۔ عورتوں کی پریشانیوں کی بات کسی سیاسی پارٹی نے نہیں کیا۔ پہاڑ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلی بار کسی اسمبلی انتخاب میں لگا ہی نہیں کہ یہ اتراکھنڈ کا انتخاب ہے۔ لگا کہ جیسے یہ انتخاب اتر پردیش میں ہی رہا ہے۔ صرف ریاست کا نام بدلا ہے اور کچھ نہیں ۔قابل ذکر ہے کہ اترا کھنڈ ایک ریاست کے طورپر 9 نومبر 2000 کو اتر پردیش سے الگ ہوا تھا۔ اترپردیش کے 13ضلعوں ہری دوار، دہرادون ، ٹہری گڑھوال، اترا کاشی، چمولی ، پوڑی ڑفھوال، رودرپریاگ، الموڑا، باگیشور، پتھورا گڑھ، چمپاوت، نینی تال اور اودھم سنگھ نگر کو ملا کر اترا کھنڈ بان تھا۔ یہاں صر ف اسمبلی ہے۔لیجسلیٹیو کونسل نہیں۔ اترا کھنڈ کی پہلی عبوری سرکار کے وزیر اعلیٰ بی جے پی نتیا نند سوامی بنے تھے، جواس کے پہلے اتر پردیش لیجسلیٹیو کونسل کے اسپیکر تھے۔ اکتوبر 2001 میں بھگت سنگھ کوشیاری وزیر اعلیٰ بنائے گئے۔ اترا کھنڈ کے چوتھے اسمبلی انتخابات کے تحت 15فروری 2017 کو 70 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی۔
اترا کھنڈ کے سات وزراء اعلیٰ ، لیکن کوئی دو بار لگاتار فائز نہیں ہوئے۔
اترا کھنڈ ریاست کی تشکیل سے لے کر اب تک سات وزراء ہو چکے ہیں ۔پہاڑی ریاست کے اول وزیر اعلیٰ کے بطور نتیا نند سوامی کا نام درج ہو چکاہے ۔ سوامی 9نومبر 2000 سے لے کر 29اکتوبر 2001 تووزیر اعلیٰ رہے۔ سوامی کے بعد 30اکتوبر 2001 سے 01 مارچ 2002 تک بھگت سنگھ کوشیاری اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ رہے۔ کوشیاری کے بعد ریاست میں کانگریس کا دور آیا اور سینئر کانگریس لیڈر نارائن دت تیواری اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ بنے۔ این ڈی 02 مارچ 2002 سے 07 مارچ 2007 تک ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے۔ این ڈی کے بعد پھر بی جے پی کے بھون چندر کھنڈوری وزیر اعلیٰ بنے۔ کھنڈوری 08مارچ 2007 سے 23جون 2009 تک وزیر اعلیٰ رہے۔ کھنڈوری کے بعد 24 جون 2009 سے لے کر 10 ستمبر 2011 تک رمیش پوکھریال نشنک اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ رہے ۔ بھون چندر کھنجوری دوبارہ وزیر اعلیٰ بنے اور 11 ستمبر 2011 سے 13مارچ 2012 تک سی ایم کی کرسی پر قابض رہے۔ اس کے بعد پھر کانگریس کا دور آیا جب وجے بہو گنا ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے۔ بہو گنا 13مارچ 2012 سے 31 جنوری 2014 تک ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے۔ اس کے بعد ہی کانگریس کے ہریش راوت وزیر اعلیٰ بنے۔ راوت 01فروری 2014 سے اب تک ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے۔ اترا کھنڈ میں بھی کوئی وزیراعلیٰ لگاتار دوسری بار فائز نہیں ہوا۔
سرمایہ داروں اور جرائم پیشوں کا پارٹیوں پر دبدبہ
اترپردیش اور اترا کھنڈ کا اسمبلی انتخاب کئی قسم کے ریکارڈ قائم کرنے والاانتخاب بھی ثابت ہوا۔ اسمبلی انتخابات میں اترا کھنڈ کا ہر تیسر امیدوار عصمت دری، قتل اور اغوا جیسے سنگین جرائم کا ملزم تھا۔اتر پردیش میں اس بار کلامیدواروں میں سے 30فیصد کروڑ پتی امیدوار تھے۔ اتراکھنڈ بھی پیچھے نہیں رہا۔
اتر پردیش اسمبلی کے لئے کل 4,853 امیدواروں نے انتخاب لڑا ۔ان میں سے 4,823 امیدواروں کے حلف ناموں کی بنیاد پر859 امیدواروں ،یعنی قریب 18 فیصد امیدواروں نے خود ہی یہ بتایا ہے کہ ان کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ 15فیصد امیدواروں یعنی 704 امیدواروں نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنا حلف نامہ بھی ٹھیک سے نہیں بھرا اور الیکشن کمیشن نے بھی اسے غیر اطمینان بخش مانا ۔اس کے باوجود ان ا میدواروں نے باقاعدہ انتخاب لڑا اور کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان میں بہو جن سماج پارٹی کے نوکول دوبے سمیت کئی امیدوار شمال ہیں۔ بہر حال یہ بھی صاف ہوا کہ اس بار کے انتخابات میں تقریبا 1457 امیدوار ایسے تھے جو کروڑ پتی اور ارب پتی ہیں۔ آپ اسی سے سمجھیں کہ امیدواروں کی اوسط جائیداد ہی 1.91کروڑ روپے کا اندازہ کیا گیاہے۔
جرائم پیشوں کو انتخاب لڑوانے میں سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد پہلے نمبر پررہا۔ سماج وادی پارٹی ، کانگریس ملا کر انکے 69 امیدوار وں پر مجرمانہ معاملے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے 37 امیدوار اور کانگریس کے 32 فیصد امیدوارو کے خلاف مجرامانہ معاملے درج ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی دوسرے نمبر پر رہی، جس کے 40 فیصد امیدوار مجرمانہ شبیہ کے تھے۔بہو جن سماج پارٹی کے400امیدواروں میں سے 150 امیدوار مجرمانہ شبیہ کے تھے۔ بی جے پی کے36 فیصد امیدواروں پر مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ اس کے علاوہ بہو جن سماج پارٹی کے31، سماج وادی پارٹی کے 29 ، بی جے پی کے 26 اور کانگریس کے 22 فیصد امیدواروں کے خلاف سنگین جرائم کے معاملے درج ہیں۔اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب کا کوئی بھی ایسا مرحلہ نہیں رہا جس میں مجرمانہ شبیہ یا انتہائی مالدار امیدواروں کی خاصی تعداد نہیں تھی۔ 11فروری کو ہوئے پہلے مرحلہ کے انتخاب میں 302 کروڑ پتی امیدواروں نے انتخاب لڑا۔ پہلے مرحلہ میں انتخاب لڑنے والے 168 امیدوار مجرمانہ پس منظر کے تھے۔ پہلے مرحلہ میں کل 836 امیدوار میدان میں تھے، جن میں بہو جن سماج پارٹی کے 73 میں سے 66 ، بی جے پی کے 73 میں سے 61، سماج وادی پارٹی کے 51 میں سے 40 ، کانگریس کے 24 میں سے 18، راشٹریہ لوک دل کے 57 میں سے 41 اور 293 آزاد امیدواروں میں سے43 امیدوار کروڑ پتی تھے۔ پہلے مرحلہ کے انتخاب میں اترے امیدواروں کی اوسط جائیداد 2.81 کروڑ روپے ہے۔ پہلے مرحلہ میں انتخاب لڑنے والے مجرمانہ شبیہ کے 168 امیدواروں میں سے 143 امیدواروں پر قتل، قتل کی کوشش، اغوا ،عورتوں کے خلاف جرائم سمیت کئی سنگین جرائم کے معاملے درج ہیں۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس مرحلے میں انتخاب لڑنے والے 186 امیدواروں نے الیکشن کمیشن کے سامنے پین کا بیورو بھی پیش نہیں کیا تھا۔
دوسرے مرحلے کے انتخاب میں کئی دلچسپ اور حیرت انگیز حقائق سامنے آئے ۔دوسرے مرحلے کا انتخاب لڑنے والے بہو جن سماج پارٹی کے67 امیدواروں میں سے25(37فیصد) کے خلاف مجرامنہ معاملے درج ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے 51 امیدواروں میں سے 21 فیصد ) کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ بی جے پی کے 67 امیدواروں میں 16(24فیصد) اور کانگریس کے 18 امیدواروں میں سے 6(33فیصد) کے خلاف مجر مانہ معاملے درج ہیں۔ دوسرے مرحلے میںانتخابی میدان میں اترے 206 آزادامیدواروں میں سے 13(6فیصد) امیدواروں کے خلاف مجرمانہ معاملے ہیں ۔دوسرے مرحلے کے 107 مجرمانہ شبیہ کے امیدواروں میں سے66 امیدواروں پر قتل، قتل کی کوشش، اغوا، عورتوں کے خلاف جرائم جیسے سنگین الزامات درج ہیں۔ ان 66 امیدواروں میں بہو جن سماج پارٹی کے 17 امیدوار (25فیصد) ،بی جے پی کے 10امیدوار (15) سماج وادی پارٹی کے 17امیدوار (33فیصد)، کانگریس کے چار امیدوار(22فیصد) رالود کے 52 میں سے 6 امیدوار (12 فیصد) ، اور 12 آزاد امیدوار (6فیصد) شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسرے مرحلہ کے انتخابی میدان میں اترے 277 یعنی 39فیصد امیدوار پانچویں سے 12 کلاس پاس تھے۔ 310 امیدوار گریجویشن تھے۔11امیدوار تو بالکل ناخواندہ تھے۔ انتخاب کے تیسرے مرحلے میں 250 کروڑ پتی امیدوار میدان میں تھے۔ تیسرے دور میں 110 امیدوار ایسے تھے جن کے خلاف مجرمانہ معاملے چل رہے ہیں۔250 کروڑ پتی امیدواروں میں بہو جن سماج پارٹی کے 56 ، بی جے پی کے 61 سماج وادی پارٹی کے51، کانگریس کے 7، رالود کے 13 اور 24 آزاد امیدوار شامل تھے۔ تیسرے مرحلے کے 208 امیدواروں نے اپنے پین کا بیورا ہی نہیں دیا۔ مجرمانہ پس منظر کے 110 امیدواروں میں سے 82 کے خلاف قتل، قتل کی کوشش، اغوا، عورتوں کے خلاف جرائم جیسے سنگین الزمات چل رہے ہیں۔ 110 امیدواروں میں 21 بی جے پی کے، 21 بہو جن سماج پارٹی کے، پانچ رالود کے ، 13 سماج وادی پارٹی کے ، پانچ کانگریس کے اور 13 آزاد امیدوار ہیں۔ چوتھے مرحلہ میں 189 کروڑ پتی امیدوار میدان میں تھے۔ 116 امیدوار مجرمانہ پس منظر والے تھے۔ 189 کروڑ پتی میں بہو جن سماج پارٹی کے 45، بی جے پی کے 36، سماج وادی پارٹی کے 26، کانگریس کے 17، رالود کے 6 اور 25 آزاد امیدوار ہیں۔ مجرامہ شبیہ کے 116 امیدواروں میں سے بی جے پی کے 19، بہو جن سماج پارٹی کے 12، رالود کے 9، سماج وادی کے 13، کانگریس کے 8 اور آزاد امیدوار شامل ہیں۔ پانچویں مرحلہ کے انتخابی میدان میں اترے 612 امیدواروں میں سے 117 یعنی 19فیصد مجرمانہ شبیہ والے تھے۔ 168 یعنی 27فیصد امیدوار کروڑ پتی تھے۔ مجرمانہ شبیہ والے 117 میں سے بہو جن سماج پارٹی کے 23، بی جے پی کے 21، رالود کے 8 ، سماج وادی پارٹی کے 17، کانگریس کے 3اور 19 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ اسی طرح چھٹے مرحلے میں اترے 635امیدواروں میں سے20 فیصد یعنی 126 پر مجرمانہ معاملے درج تھے۔ آخری ساتویں مرحلہ میں بھی سیاسی پارٹیوں کے مجرمانہ شبیہ ، داغدار اور کروڑ پتی امیدواروں کی کمی نہیںتھی۔ آخری مرحلے میں 115 امیدوار داغدار اور مجرمانہ شبیہ والے تھے۔ وہیں 535 میں سے 132 امیدوار کروڑ پتی کی حیثیت والے تھے۔
اترا کھنڈ کا بھی یہی رہا حال: پہاڑی ریاست میں ہوئے انتخاب میں بھی 200 سے زیادہ کروڑ پتی امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔ اسمبلی انتخابات میں ڈتے 637 امیدواروں میں سے 91 امیدواروں کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ ان میں 54 امیدواروں پر سنگین مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ پانچ امیدوار ایسے ہیں جن کے خلاف قتل کا معاملہ درج ہے۔ پانچ امیدواروں پر قتل کی کوشش اور پانچ پر عورتوں کے خلاف جرائم کے معاملے درج ہیں۔ اترا کھنڈ میں بی جے پی کے 70 امیدواروں میں سے19 پر مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ کانگریس کے سات امیدواروں پر مجرمانہ کیس ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی کے چار امیدواروں پر مجرمانہ معاملے ہیں۔ 200 کروڑ پتی امیدواروں میں کانگریس کے 52، بی جے پی کے 48 اور بہو جن سماج پارٹی کے 19امیدوار شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *