ہندوستانی انجینئر کا امریکہ میں قتل

damiٹرمپ کی غلط پالیسی کا نتیجہ
امریکہ میں ہندوستان کی ریاست تلنگانہ کے رہنے والے ایک انجینئر سری نواس کوچیوتوالاکے قتل پر عالم عرب کے اخبارات خوب کوریج دے رہے ہیں۔شری نواس اپنے دوست آلوک مدسان کے ساتھ ایک ریستوران میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک گورے امریکی نے ان پر گولی چلائی اور اسپتال میں ان کی موت ہو گئی۔ ایک عربی اخبار ’’ العربیہ ‘‘لکھتا ہے کہ اس قتل نے امریکی شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے غیر ملکی ملازمین کے بارے میں جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ امریکہ کو کدھر لے جارہی ہے؟ غیر ملکیوں کو بے دخل کرنے اور ان کی جگہ امریکی شہریوں کو ملازمت دینے والی ٹرمپ کی پالیسی نے ملک میں عدم رواداری کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ٹرمپ کی کچھ ممالک کے شہریوں کو ویزا نہ دینے والی پالیسی بھی اس کا محرک ہوسکتی ہے۔امریکہ ایک ایسا ملک ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ الگ الگ مقاصد کو لے کر آتے ہیں۔وہاں اس طرح کی ذہنیت خطرناک ہے۔
حکومت ہند فکر مند ہے
ایک اخبار ’’ الفجر ‘‘ لکھتا ہے کہ ہندوستانی انجینئر کے امریکہ میں قتل کئے جانے کے بعد ہندوستان کی حکومت بہت فکر مند ہے۔ اس طرح کے جرائم کو انتہائی ناپسندیدہ جرم قرار دیتے ہوئے حکومت امریکی انتظامیہ سے پوری سنجیدگی کے ساتھ امریکہ میں دیگر ہندوستانیوں کے تحفظ کے تعلق سے بات چیت جاری رکھے ہوئی ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس 32 سالہ انجینئرسری نواس کوچیوتوالا کا قاتل ایڈم پورنٹن جو کہ امریکی نیوی کا سابق اہلکار ہے نے جس وقت اس پر گولی چلائی تو یہ کہہ کر چیخ رہا تھا کہ ’’ میرے ملک سے نکل جائو‘۔اس طرح کی سوچ سے مہاجروں میں خوف کا ماحول ہے اور ہندوستان اپنے ملک کے لوگوں کے تحفظ کے لئے وزارت خارجہ کی سطح پر اس معاملے کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اب امریکی حکومت اس پر الزام طے کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔
ہندوستان میں غم کا ماحول
ایک عربی اخبار ’’ الوسط ‘‘ لکھتا ہے کہ امریکہ میں ایک 32سالہ انجینئر سری نواس کو امریکی شہری کے ذریعہ مارے جانے کی وجہ سے پورے ملک میں غم کا ماحول ہے۔اس انجینئر کے ساتھ اس کا ایک ہندوستانی ساتھی آلوک مدسانی اور ایک امریکی شہری زخمی بھی ہوئے ۔اس زخمی ہندوستانی کی عمر بھی 32 سال ہی تھی ۔ یہ واقعہ امریکہ کے ایک شہر کنساس کا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ قاتل غیر ملکیوں کو اپنے ملک امریکہ میں دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا ۔کیونکہ اس نے گولی چلانے سے پہلے یہ کہا تھا کہ ’تم میرے ملک سے نکل جائو‘۔ممکن ہے ٹرمپ کی نئی پالیسی جس میں غیر ملکیوں کو ملازمت نہ دینے کی بات ہے، سے متاثر ہوکر اس نے یہ قدم اٹھایا ہو لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس سوچ کو مضحکہ خیز کہا ہے۔اس حادثے پر وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثر فیملی کو پورا تعاون دینے اور مرنے والے کی لاش کو ہندوستان لانے کا انتظام کرنے کا وعدہ کیا۔
حادثے نے سب کو سہما دیا
عربی نیوز سائٹ ’’ بی بی سی‘‘ نے لکھا ہے کہ ہندوستانی انجینئر کا امریکہ کے ایک شہر میں قتل کیا جانا ایک بدترین جرم ہے جس پر امریکی انتظامیہ کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور دیگر ہندوستانیوں کے تحفظ کے تعلق سے موثر اقدام کرنا ہوگا۔ یہ انجینئر امریکہ کے ایک کمپنی جارمین میں کام کرتا تھا۔ یہ کمپنی مصنوعی سیارہ کے ذریعے نیویگیشن کے نظام کی تعمیر کا کام کرتی ہے۔اس کمپنی میں مختلف ممالک کے ملازمین کام کرتے ہیں۔ اس واقعہ نے سب کو دہلا دیا ہے اور اب انہیں یہ خوف ستا رہا ے کہ ہندوستانی انجینئر کے ساتھ جو صورت حال پیدا ہوئی ہے ،وہ بھی اس سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ گویا کہ اس حادثے نے سب کو سہما کر رکھ دیا ہے۔حالانکہ قاتل کو پکڑا جا چکا ہے اور اس پر قتل کا الزام بھی لگ چکا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا غیر ملکیوں میں اعتماد پیدا ہوسکے گا۔
مہاجروں کے لئے سلامتی کی دعا
ایک عربی اخبار ’’ رای الیوم ‘‘ لکھتا ہے کہ ایک ہندوستانی انجینئر کا امریکہ میں گولی مار کر قتل کیا جانا ،نہ صرف ہندوستان کے لوگوں کو بلکہ امریکہ میں رہ رہے امریکیوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔اب ان کے سامنے یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا وہ اس ملک میں محفوظ ہیں۔اس حادثے پر ٹویٹ کرنے والے بڑی تعداد میں افسوس کا اظہار کررہے ہیں۔وکاس نام کا ایک شخص اپنے ٹویٹر پر لکھتا ہے کہ کنساس کے اس واقعہ نے ذاتی طورپر مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ،مجھے اس حادثے کا شدید صدمہ لگا ہے ۔میں امریکہ اور دیگر ملکوں میں مقیم ہندوستانیوں کے لئے سلامتی کی دعا کرتا ہوں۔ اس واقعہ پر نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک احمقانہ عمل ہے اور جلد ہی اس کی تحقیق پوری ہوجائے گی۔ امریکہ میں سب کو کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کا حق ہے ۔اس کوروکنے کی اجازت کسی عام شہری کو نہیں دی جاسکتی۔ بتایا جاتا ہے کہ سری نیوس نے تکساس نیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 2014 میں اس کمپنی کو جوائن کیا تھا ۔ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سنیتا دمالا بھی ٹکنالوجی کی ایک کمپنی میںملازم تھیں۔
(وسیم احمد)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *