ہار کے بعد اکھلیش کا بحران اور گہرایا ، ملائم دور کی واپسی کامطالبہ اب کام بول رہا ہے

damiاسمبلی انتخابات میں ہار کے بعد سماج وادی پارٹی کی مشکلوں کا دور اور گہرا ہو گیا ہے۔ پارٹی میں پرانے دن واپس لانے اور ملائم کو پھر سے قیادت سونپنے کا دبائو بڑھتا جارہا ہے۔ ہار کا ٹھیکرا اکھلیش یادو کے سر پر پھوڑا جانے لگا ہے۔ حالانکہ ملائم سنگھ یادو ہار کے لئے اکھلیش کو اکیلے ذمہ دار بتائے جانے سے بچا رہے ہیں۔ جبکہ ملائم یہ کہہ چکے ہیں کہ گٹھ بندھن نہیں ہوتا تو یو پی میں سماج وادی پارٹی کی سرکار بنتی۔ دوسری طرف ’گھمنڈ کی وجہ سے سماج وادی پارٹی ہاری‘‘یہ بیان سماج وادی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کے درمیان مرکزی جملہ بن گیا ہے۔شکست کے فوراً بعدہی سماج وادی پارٹی لیڈر شیو پال سنگھ یادو نے کہا تھا کہ ’’سماج وادی پارٹی کی ہار گھمنڈ کی وجہ سے ہوئی ہے‘‘۔
شیو پال کا اشارہ صاف تھا کہ اقتدار کے ہوس کی وجہ سے ہی پریوار میں تنازع بڑھا، جھگڑا عوامی ہوا اور پارٹی کی بربادی کا سبب بنا۔ ہار کے تجزیہ کے نام پر سماج وادی پارٹی کی میٹنگیں بھی ہورہی ہیں اور نظریاتی جدو جہد کی خبریں بھی میڈیا تک پہنچائی جارہی ہیں، لیکن انتخابی نتائج کے بعد گہراتے تنائو کی خبریں پہلے پہنچ جارہی ہیں۔سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی سوتیلی ماں سادھنا گپتا کا گزشتہ دنوں میڈیا کے سامنے آکر خاندانی جھگڑے کاذکر کرنا، ملائم ،شیو پال اور ان کی تذلیل کے لئے اکھلیش کو قصوروار ٹھہرانا اور اپنے بیٹے پرتیک یادو کے سیاست میں داخلے کی خواہش ظاہر کرنا سماج وادی پارٹی اور ملائم خاندان کی تقسیم کا صاف طور پر اعلان تھا۔ سادھنا گپتا نے صاف صاف کہا تھا کہ وہ اب مزید توہین برداشت نہیں کریں گی۔
سماج وادی پارٹی کی شکست کی جڑ میں ملائم خاندان کے اختلاف کا عوامی ہونا ہے۔کانگریس کے ساتھ اتحاد کے فیصلے کو بھی آج اکھلیش کو ٹھکانے لگانے کے تناظر میں استعمال کیا جارہا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری سی پی رائے نے کھلے طور پر پارٹی میں کھلی جنگ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ریاست میں ہار کے لئے اکھلیش یادو ذمہ دار ہیں۔ اس بیان کے باوجود رائے پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جن لوگوںکو شیو پال نے ٹکٹ دیئے تھے یا جو ملائم خیمے کے امیدوار تھے ،وہ جیت گئے۔ لیکن اکھلیش ٹیم کے خود ساختہ جانباز انتخاب میں پسپا ہوئے ۔شیو پال خیمے کی شکایت بھی رہی ہے کہ اکھلیش نے شیو پال اور ملائم کے قریبی لوگوں کے ٹکٹ کاٹ دیے۔ ان میں ملائم کے سالے پرمود گپتا اور ممبر پارلیمنٹ تیج پرتاپ یادو کے نانا رام پرکاش یادو عرف نہرو، امبیکا چودھری، وشو بھر نشاد، نارد رائے، رگھو راج سنگھ شاکیہ جیسے درجن سے زیادہ لوگ شامل ہیں۔
سی پی رائے نے سیدھا الزام لگایا کہ یہ سارے ٹکٹ رام گوپال یادو کے کہنے پر کاٹے گئے۔ اکھلیش لکھنو کینٹ سے کھڑی اپرنا یادو کی انتخابی تشہیر میں نہیں گئے،لیکن پاس ہی سروجنی نگر سے کھڑے انوراگ یادو کے لئے لگاتار انتخابی تشہیر میں جاتے رہے۔ حالانکہ یہ دونوں سیٹیں سماج وادی پارٹی ہار گئی۔ سی پی رائے بولے کہ اسمبلی انتخاب جیتنے والے سماج وادی پارٹی امیدواروں میں زیادہ تر وہ ہیں جنہیں ملائم اور شیو پال نے ٹکٹ دیے تھے۔ رائے نے کہا کہ تمام رکاوٹیں کھڑی کئے جانے کے باوجود شیو پال انتخاب جیتے۔ جونپور میں بھی ملائم کی ریلی نے پارس ناتھ یادو کو مشکل حالات سے نکال کر انتخاب جتایا۔ رائے نے سماج وادی پارٹی پریوار کے جھگڑے میں اکھلیش کا ساتھ دینے والے رام گوپال یادو کو بھی ہار کا ذمہ دار بتایا اور کہا کہ رام گوپال یا تو اپنی غلطیاں قبول کریں یا پارٹی کو ان پر وہی کارروائی کرنی چاہئے جو وہ دوسروں پر کرتے رہے ہیں۔ رائے نے صاف صاف کہا کہ رام گوپال پر بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کا الزام لگتا تھا۔ انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد یہ شک اور پختہ ہوگیا ہے۔
بہر حال اسمبلی انتخابات میں ہار کے بعد سماج وادی پارٹی میں ملائم کو قیادت واپس دینے کی مانگ تیز ہونے لگی ہے۔ خاص طور پر ملائم اور ان کے بھائی شیو پال سنگھ یادو کے قریبی لیڈر چاہتے ہیں کہ انتخاب کے بعد پارٹی کی باگ ڈور ملائم کے ہاتھوں میں سونپنے کا اکھلیش اپنا وعدہ پورا کریں۔ سماج وادی پارٹی کے ایک لیڈر نے کہا کہ اکھلیش نے اسمبلی انتخابات تک سماج وادی پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کی بات کہی تھی۔ اب انہیں پارٹی کی باگ ڈور نیتا جی کو سونپ دینی چاہئے۔ اکھلیش کے قریبی رہے سابق وزیر مدھوکر جیٹلی نے بھی کہا کہ ملائم سنگھ یادو کا وقار واپس لوٹایا جانا چاہئے۔ ان مانگوں کا اثر پارٹی میں دکھائی بھی دینے لگا ہے۔
اسمبلی انتخاب میں ہار کے وجوہات کا تجزیہ کرنے کے لئے شروع ہوئی میٹنگ میں ملائم سنگھ یادو بھی شریک ہوئے۔ حالانکہ شیو پال ان میٹنگوں سے اب بھی بے دخل ہیں۔ تجزیاتی میٹنگ میں ٹکٹ تقسیم سے لے کر ذات برادری کے اتحاد تک کے مسئلوں کو سامنے رکھ کر چرچا ہوا اورہار کی وجوہات پر غور و فکر کیا گیا۔ لیکن کسی بھی لیڈر نے خاندانی اختلاف کی اہم وجہ کو زبان تک آنے نہیں دیا۔’’گھمنڈ کے سبب سماج وادی پارٹی ہاری‘‘ والے شیو پال کے بیان کو بھی تجزیہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ ایسے میں تجزیہ کیا ہوگا اور وہ کتنا ایماندارانہ ہوگا، اسے سمجھا جاسکتا ہے۔
تجزیہ کے لئے پہلی میٹنگ لکھنو کے جنیشور مشر ٹرسٹ میں بلائی گئی تھی جس میں ملائم اور شیو پال کے حامیوں کے آنے پر پابندی تھی۔ میٹنگ میں ملائم آئے۔ پارٹی کے لوگ ہی کہتے ہیں کہ اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کی ہار کی بنیادی وجہ متنازعہ تقسیم رہی۔ ریاست کے متوسط طبقہ اور درج فہرست ووٹروں کو اکھلیش کے ذریعہ جبراً پارٹی پر قبضہ اور باپ ملائم کی توہین آمیز رخصتی کی کارروائی پسند نہیں آئی۔ اکھلیش کے اس رویے کو باپ و بیٹے کے باوقار رشتوں کی روایت پر حملہ مانا گیا، جبکہ اکھلیش کے سپہ سالاروں نے انہیں اس کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ پارٹی کے کارکنوں سے لے کر عوام تک اس کا غلط پیغام پہنچا جو کہ انتخابی نتائج پر دکھائی دیا۔
یہ بھی صحیح ہے کہ انتخاب کے دوران سماج وادی پارٹی کی انتخابی مہم میں تنظیم کہیں نہیں دکھائی دی۔ اکھلیش اپنے بل بوتے پر انتخاب کو کامیابی سے نکال لے جانے کا کھوکھلا خیال پالے رہے۔ ہر جگہ پارٹی کی تشہیر کے لئے اکھلیش اور ڈمپل کا ہی چہرہ دکھائی دیتا رہا۔ فطری طور سے لوگوں کو ملائم سنگھ یادو، شیو پال ،امر سنگھ جیسے لیڈروں کو دیکھنے کی عادت بھی تھی اور مانگ بھی تھی۔ امر سنگھ کو باہر دھکیل دیا گیا، شیو پال کو اپنے دائرے میں سمٹے رہنے کے لئے مجبور کر دیا گیا اور ملائم کو کہیں باہر نکلنے نہیں دیا گیا۔ ایک دو جگہوں پر جانے کے بعد ملائم کو کہیں بھی جانے نہیں دیا گیا۔
سماج وادی پارٹی کے لیڈر کہتے ہیں کہ اکھلیش نے کانگریس سے اتحاد کے بارے میں بھی کسی سے صلاح و مشورہ نہیں کیا۔ یہ اتحاد سماج وادی پارٹی کی ہار کا بڑا سبب ثابت ہوا۔ اتحاد کی وجہ سے سماج وادی پارٹی نے 298 اور کانگریس نے 105 سیٹوں پر انتخاب لڑا۔ اگر سماج وادی پارٹی تمام 403 سیٹوں پر انتخاب لڑتی تو اس کے کھاتے میں آئی تعداد کچھ اور ہی ہوتی۔ ملائم سنگھ نے اس اتحاد کو لے کرناپسندگی کا اظہار کیا تھا لیکن اکھلیش نے اپنے والد کو غیر متعلقہ تو پہلے ہی بنا دیا تھا۔ریاست کے لوگوں میں سماج وادی پارٹی کے خاندانی اختلاف کے ساتھ ساتھ یو پی کی بد حال لاء اینڈ آرڈر کو لے کربھی گہری ناراضگی تھی۔لوگوں کا کہنا تھا کہ خاندانی جھگڑے کی وجہ سے اکھلیش نے گزشتہ لمبے عرصے سے لاء اینڈ آرڈر پر دھیان دینا بند کر دیا تھا۔ نتیجتاً ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بد تر ہوتی چلی گئی۔ فرقہ وارانہ فساد کے ساتھ ساتھ عصمت دری، قتل، رہزنی اور لوٹ پاٹ جیسی وارداتوں میں زبردست اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ عورتوں کے ساتھ چھیڑ خانی اور چھڑ خانی کی مخالفت کرنے پر لڑکی کے رشتہ داروں کا قتل کرنے جیسے حادثوں میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔ صحافیوں اور کاروباریوں کے ظالمانہ قتل نے راجدھانی لکھنو سے لے کر پوری ریاست کے عوام کو حیران کردیا تھا ۔اس کا سنگین اثر انتخابی نتائج پر پڑا۔اکھلیش کی قیادت والی سماج وادی پارٹی اپنے روایتی ووٹ بینک کو بھی اپنے پاس محفوظ نہیں رکھ پائی۔
مسلم ووٹ ملائم کے ساتھ حتمی طور سے جڑا تھا،لیکن اکھلیش کے دور میں یہ ووٹ بینک کھسکا۔ریاست میں سینکڑوں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔مظفر نگر کا فساد سماج وادی پارٹی کے لئے تباہ کن ثابت ہوا۔ بی جے پی نے سماج وادی پارٹی کے پسماندہ ووٹ بینک کو بھی اپنی طرف کیا، کیشو پرساد موریہ کے ہاتھ میں ریاستی بی جے پی کی کمان ، سہیل دیو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد، سوامی پرساد موریہ اور اوما بھارتی جیسے لیڈروں کو ترجیح دینے جیسی بے شمار چالوں کو اکھلیش اور ان کے خوشامد پسند صلاح کار سمجھ نہیں پائے اور غیر یادو پسماندہ طبقہ بڑے پیمانے پر سماج وادی پارٹی سے کھسک کر بی جے پی میں چلا گیا۔
اکھلیش نے ریاست کی ترقی کا ایشو بنایا اور ’’ کام بولتا ہے ‘ کا نعرہ دیا۔ لیکن یہ نعرہ ریاست کے گائوں اور قصبوں میں جاکر پھنس گیا۔ لوگوں نے پوچھنا شروع کیا کہ قرض میں دبا کسان میٹرو ٹرین کھائے گا یا ایکسپریس ہائی وے؟ریاست کا بے روزگار لیپ ٹاپ کھائے یا موبائل فون؟ریاست کا عام آدمی جرائم پیشوں کی گولی جھیلے یا کھوکھلے کام کی بولی ؟بی جے پی نے اس حقیقت کو سمجھا اور بڑی چالاکی سے اکھلیش کے نعرے ’کام بولتا ہے ‘ کو کارنامہ بولتا ہے ‘ میں تبدیل کرکے اس کا سیاسی فائدہ اٹھا لیا۔ اسے ہی بھانپ کر مودی نے اپنی ریلی میں یہ اعلان کیا کہ ریاست میں سرکار بنتے ہی پہلی ہی کابینی میٹنگ میں کسانوں کا قرض معاف کرنے کا فیصلہ لیا جائے گا۔
بی جے پی کو اس کا بھی فائدہ مل گیا۔ سماج وادی پارٹی کے نعروں کے دائرے میں گھس کر بی جے پی کے پالیسی سازوں نے دھائیں دھائیں سیاسی فائرنگ کی اور اکھلیش وادی، سماج وادی اسے سمجھ نہیں پائے یا اس کی کاٹ نہیں تلاش پائے۔ کسی صلاح کار نے گجرات کا گدھا کا مسئلہ اٹھانے کا سجھائو دے دیا اور اس سجھائو پر عمل کرکے اکھلیش نے اپنی مٹی پلید کروا لی۔ گجرات کے لوگوں کی تو چھوڑیئے، یو پی کے لوگوں نے بھی وزیر اعلیٰ اکھلیش کے اس غیر مناسب ریمارکس کو پسند نہیں کیا۔ ادھر بی جے پی نے اکھلیش کے ہی اس جملے کو اٹھا کر اس کا سیاسی فائدہ اٹھا لیا۔
اپنی ہی پالیسی، اپنا ہی بیان اور اپنا ہی جھگڑا پارٹی پر اتنا بھاری پڑ گیا کہ سماج وادی پارٹی اپنے گڑھ میں بھی عزت بچانے میں ناکام رہی۔ سماج وادی پارٹی کے گڑھ میں بی جے پی نے اپنا پرچم لہرا دیا اور وہاں سماج وادی پارٹی بری طرح سے شکست کھائی ۔ سماج وادی پارٹی اپنے گڑھ اٹاوہ میں پانچ میں سے چار سیٹیں ہار گئی۔ بدایون کی چھ میں سے پانچ سیٹوں پر سماج وادی پارٹی ہاری، فیروز آباد کی پانچ میں سے چار سیٹوں پر سماج وادی پارٹی ہاری،اٹاوہ میں بھی سماج وادی پارٹی تین میں سے دو اور قنوج میں تین میں سے دو سیٹوں پر ہار گئی۔ سماج وادی پارٹی غازی آباد میں محض ایک سیٹ جیت پائی۔ جبکہ 2012 کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی غازی آباد کی سات میں سے چھ سیٹوںپر جیتی تھی۔ جون پور میں سماج وادی پارٹی چھ میں سے محض تین سیٹیں جیت پائی۔ 2012 کے انتخاب مین سماج وادی پارٹی اعظم گڑھ میں 9 سیٹیں جیتی تھیں،اس بار وہاں سے سماج وادی پارٹی کو پانچ سیٹیں ملیں۔ اکھلیش سرکار کے زیادہ تر وزیر بھی اپنی سیٹ نہیں بچا پائے۔ اکھلیش کابینہ کے 25وزیروں میں سے صرف 10 وزراء کی ہی سیٹ بچ سکی۔ ہارنے والوں میں سوانام دھنے گائتری پرجاپتی، اروند سنگھ گوپ، کمال اختر، روی داس مہروترا، ابھیشیک مشرا جیسے کئی نام ہیں۔ سماج وادی پارٹی کی ہار نے بڑے بڑے لیڈروں کی ہوا اکھاڑ دیں کہ اعظم خان جیسے قد آور لیڈر بھرے مجمع میں رو پڑے۔ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اعظم خاں نے کہاکہ ’’ بے روزگار نوجوان ہمیں معاف کریں،ہم آپ کی خواہش پوری نہیں کر پائیںگے‘‘۔ اس پر بھیڑ میں سے آواز آئی کہ پانچ سال تک تو اقتدار میں تھے، تب نوجوانوں کے لئے کیا کر دیا؟
خود اکھلیش کا وجود خطرے میں
اسمبلی میں اپوزیشن کا لیڈر چنے جانے کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا خود اکھلیش کے لئے شخصیت کا بحران پیدا ہونے والا ہے۔ اکھلیش ایم ایل اے نہیں ہیں، وہ لیجسلیٹیو کونسل کے ممبر ہیں۔ اب موجودہ صورت حال میں اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر کی کرسی پر اکھلیش نہیں بیٹھ پائیںگے۔ انہیں لیجسلیٹیو کونسل میں ہی بیٹھنا پڑے گا۔ اگر شیو پال یادو اپوزیشن کے لیڈر چنے جاتے ہیں تو اکھلیش کے لئے کیا کیا بحران اور چیلنجز سامنے آئیں گے۔ اسے سمجھا جاسکتا ہے۔ اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر کی کرسی پر بیٹھنے کے لئے اکھلیش کو ااسمبلی انتخابات لڑ کر ار جیت کر آنا ہوگا۔ اس کے لئے کوئی ایم ایل اے ان کے لئے قربانی دے اور اس کی سیٹ سے اکھلیش انتخاب لڑیں۔ موجودہ حالت میں اکھلیش کا جیتنا مشکل ہی لگتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر ہی کہتے ہیں کہ اکھلیش کے پاس ایک ہی متبادل بچا ہے کہ وہ راجیہ سبھا چلے جائیں۔ لیکن راجیہ سبھا میںاکھلیش کو امر سنگھ کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔
گائتری سے خراب ہوئی اکھلیش کی شبیہ
شبیہ صاف رکھنے کی اکھلیش کی کوشش بد عنوان وزیر گائتری پرجاپتی اور بد عنوان انجینئر یادو سنگھ کو ننگا سپورٹ دینے سے بے معنی اور فرضی ہی ثابت ہوئی۔ اکھلیش کے اس منفی رویے کو ریاست کے لوگوں نے صحیح نہیں مانا ۔پورے الیکشن کے درمیان جب تک اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ رہے، بدعنوان وزیر اور اجتماعی عصمت دری کے ملزم گائتری پرساد پرجاپتی کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا۔اکھلیش سے وزیر اعلیٰ کا عہدہ جاتے ہی گائتری راجدھانی لکھنو سے ہی گرفتار کر لئے گئے۔ اس سے اکھلیش کی شبیہ خراب ہوئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *