ہار کے بعد مایاوتی کا بحران اور گہرایا ،دلت مفاد کی واپسی کا مطالبہ اب مسلمان بول رہا ہے

damiاتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس کا شیرازہ بکھر گیا۔ کانگریس تو پہلے سے ہی بے زمین تھی۔ بہو جن سماج پارٹی نے بھی اس انتخاب میں اپنی زمین گنوا دی۔ لوک سبھا انتخابات میں صفر پر آئوٹ ہونے والی بہو جن سماج پارٹی کے لئے سیاسی تجزیہ کاروں کا اندازہ تھا کہ اسمبلی انتخابات میں مایاوتی اپنی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت واپس لا سکتی ہیں لیکن ایسانہیں ہوا۔ بہو جن سماج پارٹی کو 19 سیٹوں پر قناعت کرنا پڑا۔حالانکہ 1991 میں بہو جن سماج پارٹی کو صرف 12 سیٹیں ملی تھیں۔ لہٰذا، خود احتسابی اور سدھار کے ذریعہ بہو جن سماج پارٹی پھر سے زندہ ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے دلت مفاد کی ترجیحات کو واپس لانے کی مانگ ہو رہی ہے۔ کانشی رام کے اصولوں کو مکمل طور پر لاگو کرنے کی مانگ ہورہی ہے۔ لیکن بہو جن سماج پارٹی کی سوچ میں سدھار کے اشارے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ مایاوتی کی پوری توجہ ای وی ایم کے ارد گرد گھوم کر ختم ہو رہی ہے۔ اب تو مایاوتی کے ہی سیاسی مستقبل پر سوال کھڑا ہو گیا ہے۔
سماج وادی پارٹی کی ہار بھی اس کے لئے سبق ہے۔ اگر اس ہار سے وہ سبق لے تو پارٹی میں پھر سے جان پھونکی جاسکتی ہے اور اگر سبق نہیں لیا اور اختلاف کے نئے نئے بخئے ادھیڑتے رہے تو 2017 کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو 47سیٹیں ملیں، جو اب تک کی سب سے کم سیٹیں ہیں۔ 2007 کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو 97 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں، کانگریس پر تو چرچا بھی بیکار ہے۔ وہ نہ صرف اتر پردیش بلکہ پورے ملک میں غیر متعلقہ ہو گئی ہے۔
بہو جن سماج پارٹی کو 2012 کے اسمبلی انتخابات میں 87 سیٹیں ملی تھیں،اس کے ذریعہ مایاوتی راجیہ سبھا تک پہنچ گئی تھیں۔ اس بار وہ بھی مشکل میں پھنس گئی ہیں۔اگلے سال اپریل کے مہینے میں مایاوتی کے راجیہ سبھا کی مدت ختم ہونے والی ہے۔ اب بہو جن سماج پارٹی کے پاس اتنے ایم ایل ایز نہیں ہیں جن کے بل بوتے وہ دوبارہ راجیہ سبھا کے لئے نامزد ہو سکیں۔ سماج وادی پارٹی کے بھی راجیہ سبھا میں 18 ممبروں کی تعداد کم ہونے والی ہے۔ ابھی بہو جن سماج پارٹی پر بات ہو رہی ہے۔
بہو جن سماج پارٹی کو لگاتار تین بار سے ہار کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کے ہاتھ سے اقتدار گیا اور وہ 87 سیٹوں پر آکر رک گئی۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کو 19 سیٹیں حاصل ہو پائیں۔ لوک سبھا انتخاب میں صفر پر رہنے کے بعد مایاوتی نے اپنی سوشل انجینئرنگ میں پھیر بدل کا فارمولہ بدل کر اقتدار پانے کی پالیسی بنائی۔ برہمن – دلت اتحاد کے ذریعہ 2007 کے انتخاب میں مایاوتی کو بھاری کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ تب اسے مایاوتی کی سوشل انجینئرنگ کا نام دیا گیا تھا۔ اس وقت اس فارمولے کے پیچھے ستیش چندر مشر کا کردار بھی سرخیوں میں آیا تھا۔ یہ سوشل انجینئرنگ2012 اسمبلی انتخابات میں نہیں چلی اور 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں مودی آندھی میں اڑ گئی۔
بہو جن سماج پارٹی کے تھینک ٹینک نے 2017 کے اسمبلی انتخابات کے لئے سوشل انجینئرنگ کے فارمولے میں ردو بدل کیا۔ اسے سوشل ریلی جیئس انجینئرنگ میں تبدیل کرنے کی پالیسی تیار کی گئی۔ بہو جن سماج پارٹی کے پالیسی ساز کو یہ لگا کہ مسلم -دلت اتحاد قائم کرکے وہ مسلمانوں کو سماج وادی پارٹی سے کھینچ کر اپنی طرف لا پائے گی اور یہ بی جے پی کے ہندو پولرائزیشن کو بھی روک پائے گی۔ اس فارمولے کی کامیابی کو لے کر مایاوتی اتنی پُر یقین ہو گئیں کہ ان کا پورا دھیان زیادہ سے زیادہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے اور سماج وادی پارٹی سے مسلم ووٹ کے کھسکانے کا خوف پیدا کرنے میں ہی لگ گیا۔ لیکن وہ یہ دھیان نہیں دے پائیں کہ ان کی اپنی ہی ذات اور دیگر دلت برادریاں بھی بی جے پی کی طرف تیزی سے کھسک رہی ہیں۔ غیر یادو پسماندہ ذاتیاں پہلے سے ہی سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی دونوں سے بدک کر بی جے پی کی طرف جا چکی تھیں۔
اس بار کے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی نے خوب ریلیاں کیں اور خوب بھاشن دیئے۔ انہوں نے سبھی ذات اور دھرم کی تو بات کی، لیکن مسلم ایجنڈا ان کے ہر اجلاس میں مرکز میں رہا۔ لیکن دلت- مسلم ووٹ بٹورنے کا ان کا فارمولہ پوری طرح فیل ثابت ہوا ۔ اس اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کی جگاڑ سے مختلف مسلم تنظیموں اور مذہبی پیشوائوں کے ذریعہ بہو جن سماج پارٹی کو حمایت دینے کے اعلان سے بھی دیگر ووٹر بہو جن سماج پارٹی سے بدک گئے۔ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری، شیعہ مذہبی پیشوا اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے سینئر ممبر مولانا کلب جواد اور پوروانچل کے کچھ علاقوں میں اثر دار مانی جانے والی راشٹریہ علماء کونسل سمیت کئی مسلم تنظیموں اور مذہبی پیشوائوں نے بہو جن سماج پارٹی کو حمایت دینے کا اعلان کیا تھا اور بہو جن سماج پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کی مسلمانوں سے اپیل کی تھی۔ مایاوتی کا یہ کارڈ بری طرح فلاپ ہو گیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رام پور، سہارن پور، مراد آباد ، امروہا، بریلی، اعظم گڑھ، مئو، شاہ جہان پور، شاملی، مظفر نگر ،میرٹھ اور علی گڑھ جیسے مسلم اکثریتی ضلعوں سے بھی بہو جن سماج پارٹی صاف ہو گئی۔ ان مسلم اکثریتی ضلعوں کی 77 سیٹوں میں سے بہو جن سماج پارٹی کو صرف چار سیٹیں ہی ملیں۔ رام پور میں مسلم آبادی 52 فیصد ہے،لیکن یہاں کی پانچ میں سے ایک بھی سیٹ بہو جن سماج پارٹی کو نہیں ملی۔ سہارن پور اور مراد آباد میں بھی بہو جن سماج پارٹی کا یہی حال ہوا۔ سہارن پور کی سات اور مراد آباد کی سبھی 9 سیٹوں پر بہو جن سماج پارٹی بالکل صاف ہو گئی۔ دیو بند جیسی خالص مسلم اکثریتی اسمبلی سیٹ پر بھی مولانائوں کی اپیل کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہاں بھی بہو جن سماج پارٹی ہار گئی۔ مرادآباد میں زیادہ تر سیٹوں پر بہو جن سماج پارٹی تیسرے نمبر پر رہی۔ امروہا میں بھی بہو جن سماج پارٹی چار میں سے ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ بریلی کی 9 سیٹوں میں سب پر بہو جن سماج پارٹی بری طرح ہاری۔ شاہ جہان پور کی سبھی چھ سیٹوں پر بہو جن سماج پارٹی ہاری اور تیسرے مقام پر رہی۔ اعظم گڑھ کی 10سیٹوں میں سے صرف تین سیٹیں بہو جن سماج پارٹی کو ملیں۔ بہو جن سماج پارٹی اعظم گڑھ میں سگڑی، لال گنج اور دیدار گنج سیٹ پر جیتی۔ مئو کی صدر سیٹ کو چھوڑ کر وہاں بھی باقی تینوں سیٹوں پر بہو جن سماج پارٹی ہار گئی۔ مافیا سرغنہ مختار انصاری بہو جن سماج پارٹی امیدوار کے بطور مئو اسمبلی سیٹ سے انتخاب جیتے۔ لیکن مختار کے بیٹے عباس انصاری گھوسی سیٹ سے اور مختار کے بھائی صبغت اللہ انصاری محمد آباد (یوسف پور ) سیٹ سے انتخاب ہار گئے۔ میرٹھ کی سات سیٹوں اور علی گڑھ کی سات سیٹوں پر بھی بہو جن سماج پارٹی کی بری ہار ہوئی۔ اپنی سوشل ریلی جیئس انجینئرنگ کے پھیر میں بہو جن سماج پارٹی گڈھے میں چلی گئی۔
اب مایاوتی کس طرح کی انجینئرنگ سے ڈوبی ہوئی پارٹی کو ابھاریںگی، وہ وقت ہی بتائے گا۔ اب تو 2019 کا لوک سبھا الیکشن بھی دروازہ کھٹکھٹانے لگا ہے۔ اگر بہو جن سماج پارٹی کی سیاسی سمت ایسی ہی رہی تو اس کا قومی پارٹی ہونے کا درجہ بھی جاتا رہے گا۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد مایاوتی نے بوکھلاہٹ میں ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کا مسئلہ تو اٹھایا ، لیکن وہ بھی یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی پارٹی اپنی عوامی مقبولیت لگاتار کھوتی جاررہی ہے۔
یہ صورت حال بہو جن سماج پارٹی کے لئے تشویشناک ہے۔حال کے برسوں میں بہو جن سماج پارٹی کا ووٹ فیصد جس تیزی سے گرا ہے، وہ بہو جن سماج پارٹی کی زمین کے کھسکتے چلے جانے کی ہی سند ہے۔ 2007 کے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کو 30.43 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس بار بہو جن سماج پارٹی اتر پردیش کے اقتدار پر قابض ہوئی تھی لیکن 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کا ووٹ فی صد 27.42 رہ گیا۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں 25.91 فیصد ووٹ پاکر بہو جن سماج پارٹی اقتدار سے باہر ہو گئی۔
2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کا ووٹ فیصد کم ہوکر 19.6 فیصد رہ گیا، پھر بھی اسے ایک سیٹ نہیں ملی۔ اس بار کے انتخاب میں بہو جن سماج پارٹی کا ووٹ فیصد تھوڑا بڑھ کر 22.2 پر آیا،لیکن اس کی سیٹیں 19 پر آکر ٹک گئیں۔ سماج وادی پارٹی کو اس بار کے انتخاب میں 21.8 فیصد ووٹ ملے۔جبکہ اسے 47سیٹیں حاصل ہوئیں۔سماج وادی پارٹی بہو جن سماج پارٹی کا ووٹ فیصد ملا دیں تو 44فیصد ووٹ دونوں پارٹیوں کو ملا کر 66 سیٹیں ہی دلا پایا، جبکہ بی جے پی نے 39.7 فیصد ووٹ پاکر 312 اسمبلی سیٹیں سمیٹ لیں۔ 2012 کے انتخابات میں کانگریس کو 11.5 فیصد ووٹ اور 28سیٹیں ملی تھیں،لیکن اس بار وہ 6.2 فیصد ووٹ اور سات سیٹوں پر سمٹ گئی۔
اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں دلتوں کے لئے ریزرو 84سیٹوں کے نتیجے بھی مایاوتی کے دلت اثر کا پردہ فاش کرتے ہیں۔ دلتوں کے لئے ریزرو سیٹ 84اسمبلی سیٹوں میں سے بہو جن سماج پارٹی محض دو سیٹوں پر جیتی ۔کئی جگہوں پر بہو جن سماج پارٹی نے اپنی پرانی پکڑ بھی کھو دی۔ آگرہ میں 9میں سے ایک بھی سیٹ بہو جن سماج پارٹی کو حاصل نہیں ہوئی۔ آگرہ دلت اکثریتی اور خاص طور پر چمار اکثریتی علاقہ مانا جاتاہے۔ آگرہ میں بہو جن سماج پارٹی بہتر کارکردگی کرتی رہی ہے۔ 2012 میں یہاں بہو جن سماج پارٹی نے چھ سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ آگرہ کے علاوہ سیتا پور کو بھی دلتوں کا بڑا گڑھ مانا جاتا ہے لیکن یہاں بھی بہو جن سماج پارٹی کو محض تین سیٹیں ہی حاصل ہوئیں جن میں سے اکبر پور شامل ہے، جہاں سے بہو جن سماج پارٹی کے ریاستی صدر رام اچل راجبھر امیدوار تھے۔ دلتوں کی بڑی آبادی والے ضلع انائو، سیتا پور، سون بھدر، ہردوئی، اعظم گڑھ، اوریا، بارہ بنکی، چیتر کوٹ، چندولی، فتح پور، جالون، جھانسی ، کوشامبی، کھیری، للت پور ، مہوبہ، مرزا پور، رائے بریلی میں بہو جن سماج پارٹی کا برا نتیجہ ہوا۔ کوشامبی کی سبھی تین سیٹوںپر بہو جن سماج پارٹی ہار گئی۔ جہاں 36فیصد دلت آبادی ہے۔یہاں دلتوں کا ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں گیا۔ چار بار بہو جن سماج پارٹی کے ایم ایل اے رہے اندرجیت سروج بھی مانجھا پور سے اپنی سیٹ بچا نہیں سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *