کون بنے گا آئندہ صدر جمہوریہ؟

damiاس سال جولائی کے مہینے میں صدر جمہوریہ ہند کا انتخاب ہوگا۔ صدر جمہوریہ پرنب مکھر جی کی غیر متنازعہ مدت کار ختم ہونے جارہی ہے۔ وہ ایک شاندار صدر کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔ آزادی کے بعدابتدائی دور میں صدر کاکوئی سیاسی عہدہ نہیں مانا گیا۔ ڈاکٹر راجندر پرساد، سرو پلی رادھا کرشنن اور ذاکر حسین جیسے عظیم لوگوں نے صدر کے عہدے کی زینت بڑھائی۔ لیکن سماج اور سیاست کی گرتی سطح کے ساتھ صدر کا عہدہ بھی سیاست زدہ ہوا۔ ہندوستان میںاب نہ تو وہ سیاسی تہذیب بچی ہے اور نہ ہی ایسے سیاستداں ہیںجوصدر جیسے اعلیٰ ترین عہدے کا وقار بچانے کے لیے کوئی چھوٹی سی بھی پہل کریں۔ تنگ سیاسی تہذیب کے دور میںڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ایک استثنا تھے۔ وہ اتفاق رائے سے چنے ہوئے صدر تھے۔ اچھا تو یہ ہوتا کہ اس بار بھی کوئی کنسینس یعنی اتفاق رائے سے امیدوار چنا جاتا، لیکن موجودہ سیاست کا مزاج ایسا ہے جس میں ا س کا تصور کرنا بھی مضحکہ خیز ہے۔ امکان اس بات کا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے پس منظر کے کسی شخص کوامیدوار بناکر پالیٹکل پولرائزیشن کو آگے بڑھایا جائے گا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی حکومت کے لیے صدر کا انتخاب نہ صرف اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس انتخاب سے ان کا وقار بھی جڑا ہوا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے یہ انتخاب اہمیت کا حامل اس لیے ہے کیونکہ ملک کا سیاسی ماحول پولرائزیشن کی جانب گامزن ہے۔ ایسے میںبھارتیہ جنتا پارٹی کسی ایسے شخص کو صدر کے روپ میں قبول نہیں کرسکتی ہے ،جو اس کی آئیڈیا لوجی میں اعتماد کرنے والانہیں ہو یا جو حکومت کے خلاف عوامی طور پر اپنی ناپسندیدگی یا عدم اطمینان کا اظہار کردے۔ اس لیے یہ امیدکرنی چاہیے کہ اندرا گاندھی کے بعد کی کانگریس سے سبق لیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ایک ایسے امیدوار کو صدر بنانا چاہے گی جو واقعی میںمحض برائے نام ہو۔ اس لیے اب بس سوال یہی بچا ہے کہ کیاصدر کا امیدوار بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہوگا؟ کیا وہ شخص راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے پس منظر کا ہوگا؟یا پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کسی غیر سیاسی پیشہ ور شخص کو سامنے لائے گی؟
بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر صدر کو لے کر کافی غوروخوض ہورہا ہے۔ کئی لوگ لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور سشما سوراج کے نام کو ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جو لوگ نریندر مودی اور امت شاہ کے طریقہ کار سے واقف ہیں، انھیں یہ معلوم ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی بھی ایسے سینئر سیاستداں کو صدر کی کرسی تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا، جس کے سیاسی رشتے وزیر اعظم کے ساتھ اچھے نہیں ہیں۔ لال کرشن اڈوانی کی عمر اورکبھی کبھی سرکار کو نصیحت دینے والے بیانوںکی وجہ سے اس عہدے کے لیے انھیں چننا شاید وزیر اعظم کو قابل قبول نہیںہوگا۔مرلی منوہر جوشی کو پدم وبھوشن سے سرفراز کرکے انھیں اس ریس سے باہر کردیاگیا ہے۔ حالانکہ انھوںنے سنگھ کے افسروںکے ساتھ مل کر بہت کوشش کی ہے اور ابھی بھی کوشش کررہے ہیں۔ قیاس یہ بھی لگایا جارہا ہے کہ سشما سوراج کے نام پر غور ہورہا ہے۔ وہ پارٹی میں نریندر مودی اور امت شاہ سے سینئر رہی ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے نام پر غور ہوسکتا ہے، اگر انتخاب کی ریاضی بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میںنہ ہو۔ سیاسی حلقوں میںیہ بھی افواہ ہے کہ پرنب مکھرجی کو پھر سے چنا جاسکتا ہے۔ دراصل، یہ افواہ ہی ہے ۔ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے دم پر الیکشن جیتنے لائق ووٹ مینج کرلیتی ہے تونریندر مودی اپنے پسندیدہ کسی غیر سیاسی پیشہ ور شخص یا پھر سنگھ کے پس منظر کے کسی دلت لیڈر کو سامنے رکھ کر صدر کا انتخاب لڑیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس اپنے دم پر صدرکا انتخاب جیتنے کی استعداد ہے؟ اس سوال کا سیدھا جواب ہے۔۔ نہیں۔ پورے ملک کی نظر فی الحال پانچ ریاستوںمیں ہور ہے اسمبلی انتخابات پر ٹکی ہے۔لیکن میڈیا کا دھیان ابھی تک اس پر نہیںگیا ہے کہ ان اسمبلی انتخابات کا صدر کے انتخاب سے کیا رشتہ ہے؟ یہاںبہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے سیاسی تجربہ کی تعریف کرنی پڑے گی۔ انھوںنے ہی سب سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس کمی کو سامنے رکھا اور اپوزیشن پارٹیوںکو متحد کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دینے کی پہل کی۔ جن پانچ ریاستوںمیںانتخابات ہورہے ہیں، ان میںمجموعی طور پر 1,03,757 ووٹ ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اترپردیش ، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میںبھارتیہ جنتا پارٹی نہ صرف اسمبلی انتخاب لڑرہی ہے بلکہ صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ بھی اکٹھے کررہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو صدرکا انتخاب جیتنے کے لیے پانچ ریاستوں میں ہورہے اسمبلی انتخابات میںبھاری تعداد میںاراکین اسمبلی جتانے ہوںگے۔خاص طور سے اترپردیش میں بہت اچھا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو بھارتیہ جنتا پارٹی کو صدارتی انتخاب میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جہاںتک بھارتیہ جنتا پارٹی کی صورت حال ہے تو اسے لوک سبھا میںاکثریت حاصل ہے، اس کے ساتھ ہی 12 ریاستوںمیںاس کی حکومتہے۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس فی الحال اتنے ووٹ نہیں ہیں، جس سے یہ اپنی مرضی کے مطابق صدر بنا سکے۔ صدر کے الیکشن کی ریاضی اتنی پیچیدہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو صدر کا انتخاب جیتنے کے لیے خاصی مشقت کرنے پڑے گی۔ صدر کے انتخاب میں کل 10.98لاکھ ووٹ پڑتے ہیں۔ اس میںسے آدھے ووٹ اراکین پارلیمنٹ کے ہیںاور آدھے ملک بھر کے اراکین اسمبلی کے ہیں۔ صدارتی انتخاب میں کل 4896 لوگ ووٹ ڈالیں گے۔ ان میں سے 776 لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پارلیمنٹ ہیں او ر باقی 4120ملک بھر کے اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ فی الحال بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس لوک سبھا میں 282 اور راجیہ سبھا میں56 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور ملک بھر میں کل 1126 اراکین اسمبلی ہیں۔ صدر کے انتخاب میںہر رکن پارلیمنٹ کے ووٹ کی ویلیو 708 ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اگر اپنے امیدوار کو جتانا ہے تو اسے 5.49 لاکھ ووٹ چاہئے ہوں گے، جو فی الحال اس کے پاس نہیں ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ان کے اتحادیوںکو بھی ملالیںیعنی اگر نیشنل ڈیموکریٹک ایلائنس (این ڈی اے) کے ووٹ کوبھی اگر ایک ساتھ رکھیں تو بھی ان کے پاس صدارتی انتخاب کے لیے پڑنے والے پورے ووٹ کے 50 فیصد ووٹ کے اعداد و شمارنہیں ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ابھی کم سے کم 75000 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اترپردیش میںبھاری اکثریت سے الیکشن جیتنا پڑے گا۔ ورنہ اترپردیش میں حکومت بنانے سے تو ہاتھ دھونے ہی پڑیںگے ،صدارتی انتخاب جیتنے میںبھی دشواری پیداہوجائے گی۔ صدارتی انتخاب کے نظریہ سے اترپردیش کا الیکشن سب سے اہم بن گیا ہے۔ صدارتی انتخاب میں پڑنے والے سب سے زیادہ ووٹ اترپردیش میں ہیں۔ اس ریاست میں ہر رکن اسمبلی کے پاس 208 ووٹ ہیں، یعنی صدارتی انتخاب کے لیے اتر پردیش میںکل 83,824 ووٹ ہیں ۔ اترپردیش کا انتخاب اتنا اہم ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا خراب مظاہرہ اس کے لیے صدارتی انتخاب میںمہنگا پڑسکتا ہے۔ ایسے حالات میں بھارتیہ جنتا پارٹی علاقائی پارٹیوںکی مدد لے سکتی ہے لیکن تب اسے امیدوار کے انتخاب میںحمایت دینے والی پارٹیوںکے ساتھ متفق ہونا پڑے گا۔ دوسری مصیبت یہ ہے کہ علاقائی پارٹیوںکے ساتھ ہم آہنگی بنانے میں بھی پریشانی ہوگی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رشتے ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس کے ساتھ اچھے نہیں ہیں۔ بائیںبازو کی پارٹیوںکا ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملے گا، اس کی امید بھی نہیںکی جانی چاہیے۔ یعنی کہ مغربی بنگال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے کوئی مدد نہیںملے گی۔ اڑیسہ کے مقامی انتخابات میںبھارتیہ جنتا پارٹی کا جس طرح کا مظاہرہ رہا ہے، اس سے نوین پٹنائک سہم چکے ہیں۔ اس لیے بی جے ڈی سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کوکوئی مدد نہیں ملنے والی ہے۔ شیو سینا سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو صدارتی انتخاب میںمدد ملے گی، اس پر صرف قیاس ہی لگایا جاسکتا ہے۔ حالانکہ تامل ناڈو سے اے آئی ڈی ایم کے کی مدد مل سکتی ہے لیکن اس کے علاوہ کسی دیگر پارٹی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو امید نہیں ہوگی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور این ڈی اے کو حمایت حاصل کرنے میںمشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی پسند کے کسی شخص کو صدر بنانے کی فی الحال اہل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپوزیشن پارٹیوں سے صدارتی انتخاب کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ نتیش نے حال ہی میں شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، بایاں محاذ او ر انڈین نیشنل لوک دل کے لیڈروں سے بات چیت کی۔ نتیش کمار نے اس تشویش کا اظہار کیاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کسی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے پس منظر والے شخص کو صدر بنا سکتی ہے، اس لیے اپوزیشن کی طرف سے ایک امیدوار کو کھڑا کرنا ضروری ہے۔ نتیش کمار ایک تجربہ کار لیڈر ہیں۔ انھوں نے صدارتی انتخاب کی اہمیت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی کمزوری کا صحیح اندازہ کرکے ایک سیاسی پہل کی ہے۔
سیاسی طور پر صدارتی انتخاب کا سب اہم پہلو یہ ہے کہ اس انتخاب میں کوئی بھی پارٹی وہپ جاری نہیں کرسکتی ہے۔ یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی بھی پارٹی کے ممبران اس پارٹی کے ذریعہ مجوزہ امیدوار کو ہی ووٹ کریںگے۔ ووٹنگ خفیہ ہوتی ہے۔ یہ پتہ نہیںچل پاتا ہے کہ کس رکن پارلیمنٹ ، رکن اسمبلی نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔ یہ پہلو بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ مانایہ جارہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی پارٹی کے طریقہ کار سے ناراض ہیں۔ نریندر مودی اور امت شاہ جس طرح سے سرکار اور پارٹی کو چلا رہے ہیں، اس سے وہ خفا ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوںکو بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس درار کے بارے میں پتہ ہے۔ اگر اپوزیشن پارٹیاں ایک مضبوط حکمت عملی اور سوجھ بوجھ کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی آپسی لڑائی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیںتو صدارتی انتخاب کے نتیجے چونکانے والے ہوسکتے ہیں۔ صدارتی انتخاب اپوزیشن کے لیے ایک موقع ہے، جب وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دے سکتی ہے۔ حالانکہ اس کے لیے اپوزیشن پارٹیوںکو متحد ہونا ہوگا اور اتفاق رائے سے اپنا ایک امیدوار طے کرنا ہوگا۔ اپوزیشن پارٹیوںمیںسے کسی ایک لیڈر یا ایک گُٹ کو لیڈر شپ لینی ہوگی، جس کے لیے نتیش کمار نے پہل کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نتیش کمار کی اس پہل کو اپوزیشن کی حمایت ملتی ہے یا پھر اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دینے کے اس موقع کو گنوا دیتا ہے۔
صدر ایسے چنا جاتا ہے
کسی بھی فیڈرل ڈیموکریٹک رپبلک میں صدر کا انتخاب عوام کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں صدر کا انتخاب بالواسطہ ووٹنگ کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ صدر کا انتخاب عوام کے ذریعہ چنے ہوئے نمائندوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اس میںدونوںایوانوں کے چنے ہوئے اراکین پارلیمنٹ اور ملک کی ہر ریاست سے چنے ہوئے اراکین اسمبلی حصہ لیتے ہیں۔ اس میںنامزد اراکین پارلیمنٹ اور قانون ساز کونسل کے اراکین حصہ نہیں لے سکتے ہیں۔ صدارتی انتخاب میںکل 10.98 لاکھ ووٹ پڑتے ہیں۔ اس میںسے آدھے ووٹ اراکین پارلیمنٹ کے ہیں اور آدھے ووٹ ملک بھر کے اراکین اسمبلی کے ہیں۔ صدارتی انتخاب میں کل 4896 لوگ ووٹ ڈالتے ہیں۔ ان میںسے 776 لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین ہیں اور باقی 4120 ملک بھر کے اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ الگ الگ ریاستوںکے اراکین اسمبلی کے پاس ایک جیسا ووٹ نہیں ہوتا۔ اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے ووٹ کی ویلیو میں بھی فرق ہوتا ہے۔
صدر کا انتخاب ایک خاص طریقے سے کیا جاتا ہے۔ صدارتی انتخاب کے رائے دہندگان کا ووٹ ایک برابرنہیںہوتا ہے۔ الگ الگ رائے دہندگان کے ووٹ کی تعداد الگ الگ ہوتی ہے۔ صدارتی انتخاب میں سارے منتخب اراکین پارلیمنٹ اور سبھی ریاستوں کے اراکین اسمبلی ووٹ دیتے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ کی ویلیو تو برابر ہوتی ہے، مگر ہر ریاست کے رکن اسمبلی کے ووٹ کی ویلیو الگ الگ ہوتی ہے۔ اراکین اسمبلی کے ووٹ کی ویلیو اس ریاست کی آبادی اور اراکین اسمبلی کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی آبادی 1.2 ارب ہے لیکن ابھی بھی ہندوستان میں انتخابات کے لیے 1971 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کو بنیاد مانا جاتا ہے۔ 2026 تک 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہی انتخاب ہوںگے۔ اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ کی ویلیو اراکین اسمبلی کے ووٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہر ریاست کے اراکین اسمبلی کے ووٹ بھی برابر نہیںہوتے ہیں۔ بڑی ریاستوں کے اراکین اسمبلی کے ووٹ کی ویلیو زیادہ ہوتی ہے۔ ایک اور بات، دونوں ایوانوں کے منتخب ہوئے اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ کی ویلیو سبھی ریاستوں کے اراکین اسمبلی کی کل ووٹ ویلیو کے برابر ہوتی ہے۔
ایک ریاست کی اسمبلی کے ووٹ کی ویلیو یعنی تعداد نکالنے کے لیے 1971 کی مردم شماری کے مطابق، ریاست کی آبادی کو وہاں کی اسمبلی کے منتخب اراکین کی تعداد سے تقسیم دی جاتی ہے۔ نتیجہ میںآئے ہوئے نمبر کو1000 سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس سے جو نمبرآتے ہیں، وہی اس ریاست کے ایک رکن اسمبلی کے ووٹ کی ویلیو ہوگی۔ اس طرح ہر ایک ریاست کے اراکین اسمبلی کے ووٹ کی ویلیو نکالی جاتی ہے۔ جیسے کہ اترپردیش کے ایک رکن اسمبلی کے ووٹ کی ویلیو 208 ہے اور بہار کے رکن اسمبلی کی ویلیو 173 ہے، وہیں میزورم اور ارونا چل پردیش کے رکن اسمبلی کی ویلیو صرف 8 ہے۔ اس طرح آبادی کی بنیاد پر ہر ایک ریاست کی حصہ داری یقینی ہوجاتی ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ کی ویلیو اراکین اسمبلی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ اراکین پارلیمنٹ پورے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ملک کی سبھی ریاستوں کے اراکین اسمبلی کے ووٹ اور اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ کو برابر مانا گیاہے۔ اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ کی ویلیو نکالنے کے لیے سب سے پہلے ملک کی ہر ریاست کے اراکین اسمبلی کے ووٹ کا گرانڈ ٹوٹل کیا جاتا ہے اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے منتخب اراکین پارلیمنٹ کی تعداد سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس سے جو نتیجہ آتا ہے،وہ ایک رکن پارلیمنٹ کے ووٹ کی ویلیو ہوتی ہے۔

عام انتخاب اور صدارتی انتخاب میںایک اور بڑا فرق ہے۔ عام انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹ پانے والا امیدوار جیت جاتا ہے، جبکہ صدارتی انتخاب کو جیتنے کے لیے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ پانا ضروری ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ 50 فیصد کے علاوہ 1 اور ووٹ امیدوار کے حق میںآنا ضروری ہے۔ صدارتی عہدے کا انتخاب ملٹی کنڈیڈیٹ الیکشن ہوتا ہے یعنی اس انتخاب میںدو سے زیادہ امیدوار کھڑے ہوسکتے ہیں۔ اس لیے زیادہ تر یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی بھی امیدوار کو الیکشن کے لیے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ مل سکیں۔ اس لیے ٹرانسفریبل ووٹ سسٹم کا پروویژن ہے۔ ملک کے چھٹے صدر جمہوریہ نیلم سنجیو ریڈی اس معاملے میں استثناء رہے ہیں۔ وہ ایسے صدر ہوئے ، جن کے خلاف کوئی دیگر امیدوار کھڑا نہیںہوا تھا اور اسی لیے وہ بلا مقابلہ یعنی اَن اپوزڈ صدر بنے تھے۔
صدارتی انتخاب میں پریفرنسیل سسٹم ووٹنگ ہوتی ہے یعنی رائے دہندگا ن کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے سیریل کے مطابق سبھی امیدواروں کو ووٹ دیں۔ مثال کے طور پر، مان لیں کہ کل چار امیدوار ہیں۔ تو رائے دہندگان کو اپنی مرضی کے مطابق پہلی ، دوسری، تیسری او رپھر چوتھی پسند کے سیریل کے مطابق وو ٹ دینے ہوںگے۔ اگر پہلی گنتی میںایک کو 30 فیصد، دوسرے کو 12، تیسرے کو 40 فیصد اور چوتھے کو 18 فیصد ووٹ ملے تو ایسی حالت میں سب سے کم ووٹ پانے والے امیدوار کو انتخابی عمل سے باہر کردیا جاتا ہے اور اس کے ووٹوں میں ملے ہوئے سیکنڈ پریفرنس کے ووٹ کو اس امیدوار کے ووٹوںمیںشامل کردیا جاتا ہے۔ ایلیمنیشن کا یہ عمل تب تک جاری رہتا ہے، جب تک کسی بھی امیدوار کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہ مل جائیں۔ حالانکہ ہندوستان میں صدارتی انتخاب کی تاریخ میںصرف ایک بار ہی دوسرے دور کی گنتی کی گئی ہے۔ سال 1969 میںسیکنڈ پریفرنس کے حساب سے وی وی گری کے منتخب ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ ایک استثنا ہے۔ اس کے علاوہ آج تک سیکنڈ پریفرنس کے ووٹوںکی گنتی کی ضرورت نہیںپڑی ہے۔ ٖٓ

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *