پنجاب میں کانگریس کی واپسی بد انتظامی کے خلاف عوام کی جیت

damiآخر اقتدار مخالف لہر نے اپنا کام کر ہی دیا۔ لیکن ان سب کے درمیان مہینوں سے چل رہے اندازے اور تخمینے بھی ختم ہوگئے۔ یہ اندازہ تھا عام آدمی پارٹی کو لے کر۔ کہا جارہا تھا کہ یہ پارٹی بہتر کارکردگی کر سکتی ہے۔ اسے اکثریت مل سکتی ہے یا کم سے کم سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھر سکتی ہے۔ لیکن انتخابی نتائج نے ان اندازوں کو غلط ثابت کردیا ۔ ایک سال پہلے تک یہاں سرکار بنانے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی عام آدمی پارٹی کو اپوزیشن میںبیٹھنے پر ہی اکتفا کرنا ہوگا۔ کانگریس پارٹی نے اکالی دل -بی جے پی اتحاد سے اقتدار چھین لیا۔ پنجاب کی 117 سیٹوں والی اسمبلی کے لئے 4فروری کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ تقریباً 77فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ ریاست کے 1.98 کروڑ ووٹروں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی اور کانگریس دونوں سرکار بنانے کا دعویٰ کررہی تھی۔
پنجاب الیکشن اس لئے بھی دلچسپ تھا کہ یہاں اب تک دو رخی مقابلہ ہوتا رہا ہے ،لیکن اس مرتبہ معاملہ سہ رخی ہو گیا۔ عام آدمی پارٹی نے اکالی دل اور کانگریس کے لئے ایک چیلنج پیش کیا تھا۔حالانکہ اس چیلنج کو کانگریس نے ختم کر دیا ۔ یقینی طور پر اکالی دل کے خلاف اینٹی انکمبنسی فیکٹر نے کام کیا۔ بی جے پی کے پاس یہاں کچھ خاص کرنے کو تھا نہیں، ویسے تو اس انتخاب میں آپ اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ ہونے کے امکانات زیادہ تھے اور یہ مانا جارہا تھا کہ اکالی بری طرح سے ہارے گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اکالی دل نے اتنی سیٹیں تو اپنے نام کر ہی لی، جس سے کہ وہ ریاست کی سیاست میں متعلقہ بنی رہے ۔سوال ہے کہ ایسا کیا ہوا جس سے پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا اور کانگریس کو اقتدار مل گیا۔ جب پنجاب انتخابات کا بگل بجا، تبھی تمام پارٹیوں نے کئی وعدے کئے۔ ڈرگس کو لے کر عام آدمی پارٹی نے کہا کہ ہم اقتدار میں آئیں گے تو اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ۔
ایمس کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 10 ضلعوں کی کل 1.23 کروڑ نوجوان آبادی نشے کی گرفت میں ہے ۔ پنجاب میں نشے سے متعلق تقریباً 15 ہزار ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ دلچسپ طریقے سے نشے کے اس کاروبار کے لئے برسراقتدار پارٹی شیرومنی اکالی دل کے کچھ لیڈروں پر ہی الزامات تھے۔ ایسے میں اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس اور زبردست جارحانہ طریقے سے عام آدمی پارٹی نے نشے کے ایشو کو اپنا انتخابی ہتھیار بنالیا تھا ۔تو سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے نوجوانوں نے ڈرگس کے ایشو پر آپ کا ساتھ نہیں دیا؟کیوں اکالی دل کے قدآور لیڈر بکرم جیت سنگھ مجیٹھیا ، جن پر ڈرگس کاروبار کا الزام لگا، وہ بھاری ووٹوں سے مجیٹھا اسمبلی حلقے سے انتخاب جیت گئے۔ ظاہر ہے پنجاب کے عوام اور خاص طور پر نوجوان طبقے نے اس ایشو کو انتخابی ایشو ماننے سے انکار کردیا۔
یہ جاننا بھی دلچسپ ہوگا کہ آخر وہ کیا وجوہات رہی ہیں جس نے عام آدمی پارٹی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا؟ اس میں سب سے پہلے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پارٹی کی طرف سے مقامی لیڈروں کے اوپر دہلی سے بھیجے گئے لیڈروں کا اثر زیادہ تھا۔ یعنی مقامی لیڈروں کے پاس فیصلے لینے کے اختیارات تک نہیں تھے۔ دہلی سے پنجاب کی سیاست طے کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی میں مقامی سطح پر اختلافات بڑھتے چلے گئے۔پنجاب میں عام آدمی پارٹی کا اہم چہرہ رہے سُچا سنگھ چھوٹے پور کو بے عزت کر کے پارٹی سے باہر نکالا گیا۔ اس سے زمینی سطح کے کارکنوں میں اندر ہی اندر غصہ پیدا ہوا۔ سُچا سنگھ کو زمینی لیڈر مانا جاتا تھا۔ انہوں نے بھی بغاوت کرکے الگ پارٹی بنا لی اور انتخاب لڑے۔ وہ خود انتخاب ہار گئے لیکن ساتھ ہی تنظیمی صلاحیتوں کی وجہ سے وہ عاپ کا بھی نقصان کر گئے۔ ایک اور متنازع حادثہ تب ہوا جب پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں انتخابی نشان جھاڑو کو گولڈن ٹیمپل کے ساتھ شائع کیا تھا۔ ایسا مانا جاتاہے کہ اس کا بھی ایک منفی اثر ووٹروں پر پڑا۔ ایسا کہا گیا تھا کہ اس سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ٹکٹ تقسیم کو لے کر بھی کافی سوال اٹھے۔ ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض لوگوں نے الزام لگایا کہ پیسے والے امیدواروں کو زمینی کارکنوں پر ترجیح دی گئی۔
ایسا مانا جارہا تھا کہ اینٹی انکمبنسی ووٹ عام آدمی پارٹی کو ملے گا لیکن یہ یقینی طور پر کانگریس کے کھاتے میں چلا گیا۔ نوجوت سنگھ سدھو کا کانگریس میں آنا بھی کانگریس کے لئے فائدہ من ثابت ہوا۔ سدھو ایک مقبول لیڈر اور تجربہ کار اسپیکر ہیں۔ ان کی پنجاب کے ووٹروں پر پکڑ بھی ہے۔ پہلے عام آدمی پارٹی میں ان کے آنے کے لئے ،ان کے اور کجریوال کے بیچ بات چیت ہوئی لیکن جس طریقے سے بات چیت ہوئی اس سے سدھو ناراض ہو گئے اور پھر سیدھے کانگریس میں چلے گئے۔ کانگریس اور شیرومنی اکالی دل نے کہیں نہ کہیں یہ پیغام بھی پنجاب کے عوام کو دینے کی کوشش کی کہ کجریوال یا ان کی پارٹی باہری پارٹی ہے۔ وہ لوگ پنجاب اور پنجابیت کو نہیں سمجھتے۔ اسے ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کارکن ٹوپی کی جگہ پگڑی پہنتے نظر آئے۔ باوجود اس کے یہ لگتا ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے انہیں اپنا ماننے سے انکار کردیا۔ اس بات کو ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے ایک ریلی میں یہاں بولے کہ لوگ عام آدمی پارٹی کو یہی مان کر ووٹ دیں کہ وہ اروند کجریوال کو ووٹ دے رہے ہیں اور کجریوال نے بھی یقین دہانی کرائی اور یہ صاف کیا کہ وہ دہلی چھوڑ کر نہیں جارہے ہیں ۔حالانکہ سسودیا نے آگے یہ بھی کہا تھا کہ جو بھی وزیر اعلیٰ بنے، اروند کجریوال کی ذمہ داری ہوگی کہ جو وعدے کئے جارہے ہیں، انہیں پورا کیا جائے۔ بہر حال پنجاب کے عوام نے اس بار عام آدمی پارٹی کو اپوزیشن میں رہنے کی ذمہ داری دی ہے۔ دیکھنا ہے کہ وہ ایک کامیاب اپوزیشن کا کردار نبھاتی ہے یا نہیں؟
باکس
کس کو کتنی سیٹیں ملیں
پارٹی سیٹ
عام آدمی پارٹی
20
کانگریس
77
شیرومنی اکالی دل
15
بی جے پی
3
لوک انصاف پارٹی
2
کس کو کتنے ووٹ ملے

عام آدمی پارٹی
24فیصد
کانگریس
39فیصد
شیرومنی اکالی دل
25فیصد
بی جے پی
5.4فیصد
لوک انصاف پارٹی
1.2فیصد
اہم چہرے : جیت یا ہار
جیتنے والے چہرے:
کیپٹن امرندر سنگھ : پٹیالہ (کانگریس )
نو جوت سنگھ سدھو : امرتسر مغرب (کانگریس)
سکھبیر سنگھ بادل:جلال آباد (شیرومنی اکالی دل)
پرکاش سنگھ بادل: لامبی ( شیرومنی اکالی دل)
بکرم سنگھ مجیٹھیا: مجیٹھا(شیرومنی اکالی دل)
منپریت سنگھ بادل : بھٹنڈا شہری (کانگریس )

ہارنے والے چہرے
بھگونت مان : جلال آباد ( عاپ)
جرنیل سنگھ : لامبی ( عاپ)
سُچا سنگھ چھوٹے پور: گرداس پور ( اپنا پنجاب پارٹی )
کوٹ:
1 پنجاب کے لوگوں نے بڑی حمایت دی ہے۔ ہماری ترجیحات پنجاب سے نشہ خوری ختم کرنے کی ہوگی۔ میںنے چار ہفتہ میں ڈرگس کاروبار کو اکھاڑ پھینکنے کا عندیہ دیاہے۔(کیپٹن امریندر سنگھ ،کانگریس)
2۔ یہ کانگریس کی نئی زندگی ہے ۔یہ تو بس ابتدا ہے۔ کانگریس یہیں سے آگے بڑھے گی (نوجوت سنگھ سدھو ، کانگریس )
3۔ عوام کا فیصلہ سر آنکھوں پر۔ سبھی کارکنوں نے بہت محنت کی۔ لڑائی جاری رہے گی(اروند کجریوال، چیف عام آدمی پارٹی )
4۔ ہم ہار کا جائزہ لیں گے۔لیکن ایک بات یہ ہے کہ جب بھی کانگریس کی سرکار آئی ہے تب ریاست میں کرپشن بڑھا ہے ( پرکاش سنگھ بادل، شیرومنی اکالی دل)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *