مہاراشٹر کے میونسپل کارپوریشن انتخابات ایم آئی ایم نے کھیلی شاندار اننگ

damiمہاراشٹر کے میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا نے شاندار جیت درج کرائی ،تو اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) جسے عرف عام میںایم آئی ایم کہتے ہیں، نے شاندار اننگ کھیل کر سب کو حیران کردیا، جبکہ خود کو سیکولرازم کی علمبردار کہنے والی پارٹیاں، کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) تاش کے پتوںکی طرح بکھر گئیں۔ اس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ سیکولر پارٹیوں سے عوام مایوس ہوگئے ہیں۔
بنیادی طور پر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی سیاسی پارٹی ایم آئی ایم کی کارکردگی کا ذکرکرنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ پارٹی حیدرآباد سے نکل کر دھیرے دھیرے مہاراشٹر کی سرزمین پر مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم جمارہی ہے اور دیگر ریاستوں میں بھی انٹری کی کوشش میںلگی ہوئی ہے۔ اس کے کارکنوں میں بلا کا جوش و خروش ہے۔ مسلمانوںمیںخاص طور سے مسلم نوجوانوں میں اس کی مقبولیت میںروزافزوںاضافہ ہورہا ہے۔ سچائی یہ بھی ہے کہ اویسی کی پارٹی ایم آئی ایم کو کجریوال کی عام آدمی پارٹی کی طرح کانگریس اور بی جے پی مخالف لہر نصیب نہیں ہوئی، یہ وارڈ سطح پر اپنی زمین تلاش کررہی ہے ۔ اس کے مخالفین بھی اب اعتراف کرنے لگے ہیں کہ ایم آئی ایم کو ہلکے میںنہیںلینا چاہیے۔
ایم آئی ایم نے 2012 میں پہلی بار مہاراشٹر کی سرزمین پرقدم رکھا اور نانڈیڈ میونسپل کارپوریشن کے انتخاب میںحصہ لے کر 11 سیٹیں جیت کر سب کو حیران کردیا۔ اس کے بعد ایم آئی ایم نے 2014 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میںحصہ لیا اور دو سیٹیں جیت کر مہاراشٹر کی سیاست میں تہلکہ مچادیا۔ 2015 میں ایم آئی ایم نے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں 54 امیدوارانتخابی میدان میںاتارے ، جن میںسے 26 امیدوارکامیاب ہوئے اور غیر متوقع طور پرایم آئی ایم اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں سیکنڈ لارجسٹ پارٹی بن گئی۔اس الیکشن میں ایم آئی ایم نے 15 امیدوار مسلم اکثریتی وارڈوں اور 12 امیدوار دلت اکثریتی وارڈوں میںاتارے ، جس کے نتیجے میں 21 مسلم امیدواروںکے ساتھ ساتھ پانچ دلت امیدوار بھی کارپوریٹر بن گئے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہاں سیکولرزم کا ڈھنڈورہ پیٹنے والی والی کانگریس محض 10 سیٹوں پر ہی سمٹ گئی۔اس کے 8 مسلم اور 2 دلت امیدوار ہی کامیاب ہوسکے، جبکہ این سی پی صرف 3 سیٹوں پر ہی اپنی جیت دراج کراسکی۔ اس کے علاوہ دلتوں کی نمائندگی کرنے والی رپبلیکن پارٹی آف انڈیا کا پوری طرح صفایا ہوگیا۔اس کے بعد 2015میںہی کلیان ڈومبولی میونسپل کارپوریشن کے انتخاب میںاترکر ایم آئی ایم نے 4 سیٹیں جیت کر اپنے مخالفین کی نیند اڑادی۔ ان تمام کامیابیوںسے حوصلہ پاکر ایم آئی ایم 2017 کے مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن انتخابات میں اتری اور اسے شاندار کامیابی ہاتھ لگی۔ ان انتخابات میں مجموعی طور پر ایم آئی ایم کے 26 امیدوار کامیاب ہوئے ، جن میں 22 مسلم اور 4 غیر مسلم کارپوریٹرس چنے گئے۔اس سے آسانی کے ساتھ اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ایم آئی ایم صرف مسلمانوں کی ہی نمائندگی نہیں کررہی ہے بلکہ وہ سوشل یونٹی اور امبیڈکر موومنٹ پر بھی بخوبی کام کررہی ہے، جس سے نام نہاد سیکولرپارٹیوںکا بے چین ہونا فطری ہے۔
حالیہ انتخابات میں امراوتی میونسپل کارپوریشن میں ایم آئی ایم کو حیرت انگیز کامیابی ملی۔یہاں اس نے 29 امیدوار اانتخابی میدان میں اتارے ،جن میںسے 11 امیدوار کامیاب ہوئے۔ چنے گئے کارپوریٹرس میں10 مسلم امیدواروںکے ساتھ ساتھ ایک غیر مسلم امیدوار میرا کامبلیبھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کانگریس 15 سیٹوں پر سمٹ گئی جبکہ این سی پی کا پوری طرح صفایا ہوگیا۔حالانکہ 2012 میں امراوتی کارپوریشن پر کانگریس اور این سی پی کا قبضہ تھالیکن 2017 میں یہاںکی کارپوریشن پر بی جے پی قابض ہوگئی۔ یہی صورت حال شولاپور میونسپل کارپوریشن میں سامنے آئی۔ 2012 میں شولاپور میونسپل کارپوریشن پر کانگریس کا قبضہ تھالیکن حالیہ انتخابات میںوہ محض 14 سیٹیں ہی جیتنے میںکامیاب ہو سکی اور این سی پی کو صرف 4 سیٹوں پر صبر کرنا پڑا، جبکہ شولاپور میں پہلی بار الیکشن لڑنے والی ایم آئی ایم نے صرف 23 امیدوار انتخابی میدان میں اتارے، جن میں سے 9 امیدوار کامیاب ہوگئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شولاپور میں سابق وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اور ان کی ایم ایل اے بیٹی پرینیتی شندے اپنی پوری طاقت جھونکنے کے باوجود اقتدار بچانے میں ناکام رہے۔ عوام نے انھیں تقریباً مسترد کردیا۔ ایم آئی ایم سے جیتنے والوں میں سات مسلم کے ساتھ دو غیر مسلم امیدوار نوتن گائیکواڑ اور پونم بنسووے بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایم آئی ایم نے دیگر کارپوریشنوں، بمبئی میونسپل کارپوریشن(بی ایم سی)میں 2 سیٹیں ، اکولہ کارپوریشن میں ایک سیٹ اور ایک سیٹ پونہ کارپوریشن میں جیتی۔پونہ کارپوریشن کی سیٹ ایک عیسائی امیدوار اشونی لانگڑے نے جیتی۔
ایم آئی ایم کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہے لیکن مہاراشٹر کے انتخابی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ایم آئی ایم نے مسلمانوںکے ساتھ ساتھ عیسائیوں او ر دلتوں میں بھی خاصی رسائی حاصل کرلی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیکولر ازم کا راگ الاپنے والی کانگریس اور این سی پی مہاراشٹر کے کارپوریشن انتخابات میں اپنی ہار کا ٹھیکرا ایم آئی ایم کے سر پر پھوڑ رہی ہیں ۔ لیکن وہ اپنے گریبان میں نہیں جھانک رہی ہیںکہ آخر ان کا ووٹ بینک ایک نئی نویلی پارٹی کی طرف کیوں شفٹ ہورہا ہے؟
دراصل سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوںکے مسائل میں کبھی دلچسپی نہیں لی، وہ بی جے پی اور آر ایس آیس کا خوف دکھاکر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتی رہیں اور راج کرتی رہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اپنے طویل راج پاٹھ کے دوران وہ مسلمانوںکو بنیادی سہولتیں تک فراہم نہیں کراسکیں۔ تعلیم، صحت اور روزگار جیسی بنیادی سہولتیں بھی ان کے لیے عنقا ہوگئیں، جس کے نتیجے میںمسلمانوں کی حالت دلتوںسے بھی بدتر ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اب سیکولر پارٹیوں کے جال سے نکل کر دوسری سیاسی پارٹیوں میںاپنا مستقبل تلاش کر نے لگیہیں۔
اس سلسلے میں ’چوتھی دنیا‘ نے اورنگ آباد (مہاراشٹر) سے ایم آئی ایم کے رکن اسمبلی امتیاز جلیل سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ کیا مہاراشٹر کے کارپوریشن انتخابات میں ایم آئی ایم نے سیکولر پارٹیوںکو نقصان پہنچایا اور فرقہ پرست پارٹیوںکو فائدہ ؟ تو انھوںنے جواب دیا کہ ایم آئی ایم کے انتخابات میں حصہ لینے سے کسی پارٹی کو نقصان ہوایا کسی کو فائدہ، تو اس میں ہم کیا کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے ہم کسی پارٹی کی مساج کرکے اسے سکون پہنچانے کے لیے تو الیکشن نہیں لڑے ہیں ۔ انھوںنے کہا،طویل مدت تک کانگریس اور اس کے وجود سے پیدا ہونے والی شرد پوار کی پارٹی این سی پی نے سیکولرازم کے نام پر مسلمانوںکو بے وقوف بنایااور راج کیا اور ان کے مسائل میں کبھی دلچسپی نہیں لی۔ انھوںنے مزید کہا کہ سیکولرازم کا بوجھ آخر مسلمان ہی کیوں اٹھائے ، سیکولر تو ہندو بھی ہیں۔ وہ اب سیکولرازم کا بوجھ کیوں نہیں اٹھارہے ہیںاور سیکولر پارٹیوں کو ووٹ نہیںدے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سیکولرازم کے نام پر اب سیکولر پارٹیاں عوام کو نہیں ٹھگ سکتیں۔
حقیقت میںسیکولر پارٹیوںکو ووٹوں کی تقسیم کے لیے الزام تراشیوں سے گریز کرنا چاہیے اور سنجیدگی کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ آخر انھیں ایک کے بعد ایک انتخاب میں شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟ جہاں تک سیکولر پارٹیوں کا ایم آئی ایم پر ووٹوں کی تقسیم کاالزام ہے ، وہ گلے سے نہیں اترتا کیونکہ مہاراشٹر کے کارپوریشن انتخابات میں ایم آئی ایم بہت کم سیٹوں پر لڑی ہے اور اس نے اپنے امیدوار صرف مسلم اکثریتی وارڈوں میں ہی اتارے ہیں، تو پھر بقیہ وارڈوںمیںسیکولر پارٹیوںکی کیوںہار ہوئی؟ آخر سیکولر پارٹیوں کاسیکولر ہندو اور خاص طور سے مراٹھا ووٹ بینک کہاںگیا؟ ظاہر ہے سیکولر کہلانے والی پارٹیاں آپسی انتشارکا شکار ہیں۔ عوامی مسائل کو حل کرنے میں انھیںکوئی دلچسپی نہیںہے۔ مسلمانوں کے تئیں انھوںنے ہمیشہ بے اعتنائی برتی اور انھیں محض ایک ووٹ بینک سے زیادہ اہمیت نہیں دی ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اب سیکولر پارٹیوںسے دور ہوتے جارہے ہیں۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ یہ پارٹیاں ایم آئی ایم پر ووٹوں کی تقسیم کا الزام لگانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں اور حقائق کا تجزیہ کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتی ہیں تو بہت دیر ہوجائے گی اور وقت ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور دوسری پارٹیاں ان کی جگہ لے لیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *