فاروق عبد اللہ کے بیان کا مطلب؟

shujaat-bukhari1996 میں جب ہندوستانی حکومت کو جموں و کشمیر کے انتخابی عمل کو معتبریت دینے کے لئے ایک مناسب چہرے کی تلاش میں پریشانی ہورہی تھی تو ایسے میں اسے نیشنل کانفرنس (این سی ) کے سینئر لیڈر فاروق عبداللہ کے علاوہ دیگر کوئی نام نہیں نظر آیا۔ فاروق عبدا للہ اس وقت ناگزیر ہوگئے تھے جب ایک سینئر علاحدگی پسند لیڈر نے اس آگ میں اپنے ہاتھ جلانے سے انکار کر دیا تھا، حالانکہ پہلے اسے سودا پکا ہو گیا تھا۔ سرکار کا ایک دیگر متبادل بدنام کائونٹر انسرجینسی لیڈر کوکا پرے تھے جو کہ سماجی طور پر پہلے ہی سے بائیکاٹ تھے ۔لیکن مزے کی بات یہ رہی کہ جس اسمبلی انتخاب کے بعد فاروق عبدا للہ کی وزیر اعلیٰ کے طور پر واپسی ہوئی، اسی انتخاب میں وہ سوناواری حلقے سے چن کر اسمبلی پہنچے۔اپنے 1987-89 کے ان کے اتھل پتھل والے دور اقتدار میں جب مسلح بغاوت کے بعدکشمیر سے بھاگ گئے تھے،لیکن اس کے بعد بغیر کسی سیاسی رعایت کے وہ انتخابی رتھ پر سوال ہونے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ان میں سب سے بڑی مانگ مزید خود مختاری بحال کرنے کی تھی۔
فاروق کو راضی کر دیا گیا کیونکہ کشمیر میں نئی دہلی نے اپنا بھروسہ کھو دیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا رائو کا خود مختاری کے تعلق سے ’’ اسکائی از دی لمیٹ‘‘ ( یعنی معاملے میں بہت کچھ کیا جاسکتا ہے ) مشہور بیان کے بعد وہ راضی ہوئے تھے۔ ان کی پارٹی نے مئی 1996 کے لوک سبھا انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور ریاست کی سیاسی صورت حال کو بحال کرنے کے لئے یقین دہانی کئے جانے پر اڑی ہوئی تھی۔ فاروق کو مین اسٹریم کی سیاست میں بالکل اسی طرح شامل کر لیا گیا جس طرح سے ان کے والد شیخ محمد عبد اللہ کو 1975 میں اسی کانگریس پارٹی نے شامل کیا تھا۔ اس میں محض ایک فرق یہ تھا کہ شیخ عبد اللہ کو اندرا گاندھی نے سنبھالا تھا جبکہ فاروق کو راضی کرنے والے کا قد اتنا بڑا نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ کے طورپر 1996 سے 2002 کے اپنے دور اقتدار کے دوران فاروق دل سے ہندوستانی ہونے کا ایسا عہد کیا کہ وہ نہ صرف سیکورٹی ایجنسیز کے ذریعہ خاص طور پر جموں و کشمیر پولیس کی اسپیشل آپریشنز گروپ ( ایس او جی ) کی کارروائیوں کی طرف سے نظر ہٹا لی بلکہ انہوں نے کشمیر میں نارمل صورت حال کی بحالی کے نام پر یا دوسرے لفظوں میں ہندوستان کی خود مختاری کے تحفظ کے نام پر ہونے والے سبھی غلط کاموں کو بھی قبول کرلیا تھا۔
اپنے پورے دور حکومت کے دوران فاروق عبد اللہ کی دلیل تھی کہ دہشت گردی سے سختی سے نمٹو،یہاں تک کہ پاکستان پر بمباری کرو اور ان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردی صرف پاکستان سے پنپتی ہے۔یہ باتیں انہوں نے 20اکتوبر 2001 کو جموں میں کہی تھی۔فاروق نے اپنی پارٹی کے پروگرام میں صحافیوں سے کہا تھا کہ اگر 11ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ افغانستان پر حملہ کرسکتا ہے تو ہم پاکستان سے آپریٹ کی جارہی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرسکتے؟
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں چلنے والی دہشت گردی کی تنظیموں اور ان کے تربیتی کیمپوں کے خلاف فوج کارروائی کرے۔ جموں و کشمیر نے گزشتہ 12سالوں میں بہت خونریزی دیکھی ہے ،صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔ ہمارے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو گیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پوری طاقت اور جوش کے ساتھ پی او کے کے تربیتی کیمپوں کو نیست و نابود کر دینا چاہئے۔
دراصل 2002 کے اسمبلی انتخابات میں انہی بیانوں نے انہیں اقتدار سے ہٹا دیا تھا، کیونکہ لوگ ان کی پاکستان مخالف بیان بازی ہضم نہیں کر پائے تھے۔ نرسمہا رائو کے خود مختاری پر غور کرنے کے وعدے اور پھر وزیر اعظم دیو گوڑا سرکار کی یقین دہانی کے بعد وہ دوستانہ ماحول میں بھی خود مختاری کے ایشو کو اٹھانا بھول گئے۔یہ وہ موقع تھا جب اسمبلی نے اکثریت کے ساتھ یہ تجویز پیش کردیا تھا لیکن 2000 میں مرکز میں اس وقت کی اٹل بہاری باجپئی سرکار نے اسے خارج کر دیا تھا۔ 1984 میں کانگریس کے ذریعہ ان کی سرکار کے خلاف کرائی گئی بغاوت کے اعادے کو وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔انہیں اکثر یہ حوالہ دیتے ہوئے سنا گیا کہ اگر جموں و کشمیر میں اقتدار میں بنے رہنا ہے تو آپ کو مرکز کے ساتھ رہنا پڑے گا اور اس کی تعمیل یقینی طور سے سبھی وزراء اعلیٰ نے کی، جن میں ان کے بیٹے عمر عبدا للہ ،مفتی محمد سعید اور اب ان کی بیٹی محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔ غلام نبی آزاد کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ مرکز سے اور مرکز کے آدمی تھے
دلکش شخصیت، براہ راست اور بغیر جھجک اپنی بات رکھنے کی عادت ، فاروق کو پالیسی میں الگ کھڑا کرتی ہے۔چاہے ہوا کا رخ کسی طرف ہو، وہ یقینی طور سے وہ نئی دہلی کے لئے ایک آلہ کی طرح ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 2010 کی بدامنی کے باوجود اگر فاروق عبد اللہ بیماری کی وجہ سے لندن میں نہ پڑے ہوتے اور انتخابی تشہیر میں حصہ لیا ہوتا تو 2014 کے الیکشن میں نیشنل کانفرنس کی صورت حال بہتر ہوتی۔یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ان کی فطرت میں اتار چڑھائو ہوتا رہتا ہے۔وہ 1974 میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ( جے کے ایل ایف ) کے ممبر بھی میر پور میں حلف لے سکتے ہیں اور بعد میں وزیر اعلیٰ بھی بن سکتے ہیں۔لیکن ایک لمبے وقت سے انہوں نے اپنا موقف نہیں بدلا ہے اور ایل او سی کو عالمی سرحد میں بدلنے کے بارے میں لگاتار بولتے رہے ہیں۔ خاص طور پر کشمیر کے سلسلے میں کسی بھی سیاسی لیڈر اور پارٹی کا نظریہ اقتدار میں رہنے یا اقتدار سے باہر رہنے کے سلسلے میں طے ہوتے ہیں۔ ’’ اسٹیٹ ٹیریرزم ‘‘ کے شکار لوگوں کے ساتھ ہمدردی دکھانا اور کشمیر سے متعلق تجاویز کے بارے میں بات کرنا اقتدار سے باہر کے لوگوں کا پسندیدہ کام ہے۔ لیکن فاروق عبدا للہ کے تازہ ترین بیان صرف انتخاب کے لئے ہی نہیں ہے۔ دسمبر 2016 میں حریت کانفرنس کی حمایت میں ان کا بیان اور یہ بتانا کہ ملی ٹینٹ آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں، کا نیچر سنگین ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *