دہشت گردی اور تشدد سے فاقہ کشی جنم لیتی ہے

Untitled-1دنیا بھر میں سورش کا اثر اب فاقہ کشی کے شکل میں تبدیل ہونے لگا ہے۔فاقہ کشی کی نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بچے اور بڑے بھوک کی وجہ سے موت کی آغوش میں جانے لگے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ یہ فاقہ کشی آسمانی آفت کی وجہ سے ہے بلکہ دہشت گردوں کے ظالم ہاتھوں کے ذریعہ بے گھر ہوئے لاکھوں افراد، نقل مکانی، کاروبار میں تباہی اور سرمائے کا نقصان ہونا، اس کے پیچھے کا بنیادی سبب بتایا جاتا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ داعش کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے اور دنیا کو دہشت گردی سے پاک کردیں گے ،مگر کیا ان کا دعویٰ صحیح ہے؟ یقینا جواب نہ میں ہے کیونکہ داعش ایک جگہ کو خالی کرتا ہے تووہ اپنے لئے نئی زمین تلاش کرلیتا ہے ۔عراق و شام میں اس کے لئے زمین تنگ ہورہی ہے تو اس نے اب طالبان اور پاکستان کے تشدد پسند گروپ سے الائنس کرنا شروع کردیا ہے ۔یہ باتیں جنرل نکلسن نے امریکی فوجی ادارے کومبیٹنگ ٹیرر ازم سینٹر میں اپنے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ جو ایک پرتشدد تنظیم ہے، طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے اور طالبان حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور القاعدہ کی بھی مدد کرتے ہیں۔ ان تنظیموں کا ایک غیر رسمی اتحاد ہے اور یہ ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ دولتِ اسلامیہ، ازبکستان اسلامی موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان نے بھی ایک غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے۔ ان تنظیموں نے بھی غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے مقاصد کسی ملک تک محدود نہیں ہیں۔ بہت سی تنظیمیں پاکستان میں موجود ہیں اور کچھ افغانستان میں کارروائیاں کرتی ہیں۔ جیش محمد اور لشکر طیبہ کے جنگجو افغانستان میں سرگرم عمل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان اس لیے اہم ہے کہ امریکہ کی جانب سے 98 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور ان دہشت گرد تنظیموں میں سے 20 تنظیمیں اس خطے میں موجود ہیں۔ ایسا دنیا کے کسی خطے میں نہیں ہے۔ظاہر ہے ان دہشت گرد تنظیموں کے پائوں جوں جوں مضبوط ہوتے ہیں دنیا میں نہ صرف افرا تفری پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات معاشیات پر پڑتے ہیں اور پھر نوبت فاقہ کشی تک پہنچ جاتی ہے۔
یمن میں گزشتہ دو سال سے جاری شورش کے نتیجے میں چارلاکھ 62 ہزار بچوں کو خوراک کی قلت سے دوچار ہیں۔ 2014 کے بعد یمن میں بچوں میں خوراک کی قلت میں 200 فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔نائیجیریا بالخصوص ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں ساڑھے چار لاکھ بچے بھوک کا شکار ہیں۔یوبی، اداماؤ اور برونو نائیجیریا کے بھوک سے متاثر ہونے والے سب سے خطرناک علاقے قرار دیتے جاتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی سوڈان میں ڈھائی لاکھ بچے فاقہ کشی کی زندگی گذاررہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے غربت زدہ افریقی ملک سوڈان میں ڈھائی لاکھ بچوں کی فاقہ کشی کی زندگی گذارنے کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے اور عطیہ دہندگان پر زور دیاہے کہ وہ اس تشدد زدہ اور غربت زدہ ملک کی جتنی ممکن ہوسکے مدد کیلئے آگے آئیں۔اقوام متحدہ کے شعبہ اطفال نے اپنے ایک بجاری بیان میں کہا ہے کہ حالیہ تشدد سے غربت زدہ ملک میں بڑے پیمانے پر گھر،اسکولوں ،اسپتالوں ،سمیت پانی کے ذخائیر اور دیگر بنیادی ڈھانچے حملوں کی وجہ سے منہدم ہوئے ہیں جن کی آباد کاری ایک اہم مسئلہ ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی 12 ملین آبادی کے دوتہائی حصے کو فوری امداد کی ضرورت ہے جبکہ 8 لاکھ لوگ بھوک کی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہیں اور یہ ملک میں ہوئے تشدد اور تنازعات کی وجہ سے لاکھوں لوگ مارے جاچکے ہیں اور 1.5 ملین کے قریب بے گھرہوئے ہیں جبکہ فاقہ کشی پر مجبور لوگوں کی تعداد 4.6 ملین سے تجاوز کرسکتی ہے۔واضح رہے کہ دسمبر 2013 سے جنوبی سوڈان میں کشیدگی اور تشدد بھڑک اٹھاتھا جس کے اثرات ہنوز برقرار ہیں اور جنوبی سوڈان میں ڈھائی لاکھ بچے فاقہ کشی کی زندگی گذاررہے ہیں۔
یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہے ۔اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں ہرسال 3.1 ملین بچے بھوک کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی یچوٹ نے ایک رپورٹ جاری کیا ہے جسکے مطابق تنازعات اور عدم استحکام کی وجہ سے دنیابھر میں ہرسال 3.1 ملین بچے بھوک کی وجہ سے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً8 لاکھ افراد ہرسال بھوک کا شکار ہورہے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ معاشرتی بدامنی ،عدم استحکام کی وجہ سے دنیا بھر کے 52 ممالک میں بھوک کی شرح نے ایک خطرناک اور سنگین رخ اختیار کرلی ہے اور وسطی افریقہ اور جمہوریہ چاڈ تشدد آمیز واقعات او رعدم استحکام کی وجہ سے اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ شام ،عراق اور جنوبی سوڈان کے عصر حاضر کے تنازعات دنیا بھر میں فاقہ کشی اور بھوک مری کی حالات کے اہم عناصر ہیں جبکہ دنیا بھر میں ان جنگوں اور فسادات کی وجہ سے 172 ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ زدہ ممالک میں غذا کی عدم دستیابی کی وجہ سے عام لوگ بھوک سے مررہے ہیں جنہیں بچانے کیلئے ان کی مدد کرنا بین الاقوامی برادری کی اہم ذمہ داری ہے اور جب تک تمام دنیا مسلح تصادم کو کم کرنے کی خاطر کوئی موثر اقدام نہیں اٹھائے گی تب تک دنیا سے فاقہ کشی کو کم نہیں کیاجاسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان ،یمن، زامبیا ،مشرقی تیمور ،سیرالیون اور نائجیر بھوک کی وجہ سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ میں مزید بین الاقوامی برادری پر زور دیاگیا ہے کہ وہ تشدد زدہ ممالک میں بھوک سے نڈھال عام لوگوں کی مدد کیلئے فوری اقدام کرے تاکہ وہ لوگ اپنے معیار زندگی کو بحال کرسکیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے نگران عالمی ادارہ اطفال’یونیسیف‘ کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں دنیا بھر میں خوراک کی قلت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے لرزہ خیز اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں۔ عالمی ادارہ حقوق اطفال کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صومالیہ، جنوبی سوڈان، یمن اور نائجیریا میں خوراک کی شدید قلت کے نتیجے میں 14 لاکھ سے زاید بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ خشک سالی کی حالیہ لہر نے افریقی ممالک کو میں مزید قحط سالی اور خوراک کی شدید قلت پیدا کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 62 لاکھ لوگوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صومالیہ میں خشک سالی کے نتیجے میں خوراک کی قلت کے شکار بچوں کی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 70 ہزار تک جا پہنچی ہے۔جبکہ جنوبی سوڈان میں اس وقت 2 لاکھ 70 ہزار بچے خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ جنوبی سوڈان کی شمال وسطی ریاست میں 20 ہزار بچے خوراک کی قلت کے نتیجے میں موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔جنوبی سوڈان میں بچوں کے علاوہ مجموعی طور پر 4.9 ملین اور 5.5 ملین افراد بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *