دنیا بھر میں 66 کروڑ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم

_95257846_gettyimages-655991086دیہی علاقوں میں بسنے والے ایسے افراد کی تعداد دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ ہے جنہیں صاف پانی میسر نہیں ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے یہ صورت حال مزید سنگین ہوتی چلی جا رہی ہے۔واٹر ایڈ نامی ایک غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق چھ کروڑ تیس لاکھ دیہاتیوں کو، جو کہ برطانیہ کی مجموعی آبادی سے زیادہ تعداد ہے، پینے اور روزمرہ کے استعمال کے لیے صاف پانی میسر نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی، انفراسٹرچکر کی عدم دستیابی اور دشوار گزار علاقوں میں آبادی ہے۔
واٹر ایڈ رپورٹ نے مزید کہا ہے کہ چین دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں چار کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کو صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ اس کے بعد تیسرے نمبر پر افریقی ملک اتھوپیا اور نائجیریا ہے جہاں چار کروڑ لوگ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
واٹر ایڈ انڈیا کے سربراہ وی کے مدہاون نے کہا ہے کہ جو لوگوں کو پانی کی سہولت میسر نہیں ہے ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو دیہات میں بستے ہیں اور کسی بھی بڑی ماحولیاتی تبدیلی سے ان لوگوں کی حالتِ زار مزید ابتر ہو جائے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ ہندستان کی 35 میں سے 27 ریاستیں ایسی ہیں جو قدرتی آفات کی زد میں آ سکتی ہیں اور ان میں ایسی ریاستیں جو پسماندہ اور غریب ہیں وہ ماحولیاتی تبدیلی یا شدید موسمی حالت میں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔دنیا بھر میں 66 کروڑ 30 لاکھ افراد ایسے ہیں جو صاف پانی سے محروم ہیں اور ان میں اسی فیصد یعنی 52 کروڑ 20 لاکھ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ان میں سے اکثریت ایسے ملکوں میں بستی ہے جنہیں پہلے ہی شدید موسمی حالات مثلاً سمندری طوفانوں، سیلابوں اور خشک سالی کا سامنا رہتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متوقع شدید موسمی حالات کی صورت میں ان افراد کے لیے مشکلات میں کئی گناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیضہ، ملیریا اور ڈینگو جیسی بیماریوں کے زیادہ پھیلنے کے خطرات بڑھ جائیں گے اور زیادہ لوگ خوراک کی کمی کا شکار ہوں گے۔درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ کسانوں کو خوراک پیدا کرنے اور مال مویشیوں کو پالنے میں مزید مشکلات پیش آئیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *