حقیقی جی ڈی پی نتیجے کے لئے ایک سال انتظار کرنا ہوگا

morarka-sir-jiانتخابی عمل ختم ہو چکا ہے۔انتخابی تشہیر کے دوران ہر دن یہ دیکھنے کو ملا کہ اپنے بھاشنوں کی سطح نیچے گرنے میں لیڈر کیسے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے رہے، خاص طور پر وزیر اعظم۔وہ یقینی طور سے پی ایم او کے وقار کو خراب کررہے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ یہ انتخاب کا وقت تھا اور اپنی پارٹی کا لیڈر ہونے کے ناطے وہ انتخابی پرچار کررہے تھے، لیکن پھر بھی وہ وزیر اعظم ہیں۔انہیں اپنی زبان پر کنٹرول رکھنا چاہئے اور اپنے حقائق کی جانچ کرنی چاہئے ۔خاص طور پر ایسی زبان جیسے کسی کو دھمکایا جارہا ہو۔ خراب زبان کے استعمال سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بہر حال، انتخابات تو انتخابات ہی ہوتے ہیں۔ ان کے کچھ صلاح کار ہوں گے، جو انہیں ایسی صلاح دے رہے ہوں گے، جس کے تحت انہوں نے یہ رخ اپنایا ہو۔
آر ایس ایس کا اسٹوڈنٹس یونٹ ’اے بی وی پی‘ کے کارنامے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں ۔وہ دہلی کے رامجس کالج یا جس ادارہ میں بھی ان کی پکڑ ہے، وہاں ہنگامہ کھڑا کررہے ہیں۔ گزشتہ سال جے این یو معاملہ تھا، اس سال رامجس معاملہ ہے۔ رامجس میں جو ہوا، وہ شرمناک ہے۔لیکن اگر ان کا مقصد شہری آزادی کو کمزور کرنا ہے ،اگر ملک میں عام گفتگو ، بحث و مباحثے کے آدرش کو دھیرے دھیرے ختم کرنا ہے تو وہ صحیح سمت میں جارہے ہیں۔ دراصل’ اے بی وی پی‘ کو اپنے نظریات کے سوا کوئی اور نظریہ قبول نہیں ہے، اس لئے وہ غنڈہ گردی ،ہلڑبازی اور طاقت کی نمائش کریں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ دہلی پولیس ،نئے پولیس کمشنر کے تحت سمجھداری کے ساتھ معاملے پر کارروائی کرے گی۔ بی ایس بسی کے دورِ کار میں جیسا کیا گیا تھا، ویسا نہیں کرے گی۔ بسی مرکزی سرکار کے ایجنٹ کی طرح کام کررہے تھے، بلکہ سرکار ان سے جتنی امید کررہی تھی، اس سے کئی قدم آگے جاکر کام کر رہے تھے۔
اس کے بعد یہ سوال کہ کیا نوٹ بندی نے جی ڈی پی کو متاثر کیا؟یہ ان کے لئے بہت آسان ہے۔ اگر وہ کوئی انتخاب جیت جاتے ہیں،جیسے کوئی میونسپل انتخاب تو یہ کہتے ہیں کہ نوٹ بندی کو لوگوں نے قبول کیا۔حالانکہ اس کا نتیجوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔ جہاں تک جی ڈی پی کا سوال ہے ، تو دسمبر اور جنوری کی جی ڈی پی کا حساب آج نہیں لگایا سکتا ہے، جو ان کے لحاظ سے 7فیصد ہے۔ اس پر نہ صرف یقین کرنا مشکل ہے ،بلکہ یہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ جی ڈی پی کے لئے ہمیں ایک سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔ میں ان لوگوں میںسے نہیں ہوںجو ان چیزوں کو الجھاتے ہیں۔ دراصل سرکار کو نوٹ بندی کرنے کا پورا حق ہے، انہوں نے اس اختیار کا استعمال کیا، حالانکہ نوٹ بندی کا نفاذ بھونڈے طریقے سے کیا گیا۔ وزیر خزانہ کو بھروسے میں نہیں لیا گیا، چیف اکانومک ایڈوائزر کو بھروسے میں نہیں لیا گیا۔ سابق ریزرو بینک گورنر نے اس پر منفی جواب دیا تھا۔ لہٰذا نوٹ بندی کا دانشوارانہ نفاذ نہیں ہوا۔ اب اس کے طویل مدتی نتائج کے لئے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔
اب ایچ – 1 بی ویزہ کی بات کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے ملک میں تارکین وطن کو بلانا نہیں چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ کسی سرکار نے ہندوستانیوں کو اپنے یہاں کام دے کر ہندوستان پر کوئی احسان نہیں کیا ہے۔ انہوں نے ہندوستانیوں کو کام دیا، کیونکہ ہندوستانیوں کی پروڈکٹی ویٹی اچھی ہے، وہ اپنا کام مناسب تنخواہ پر دوسروں سے بہتر کر سکتے ہیں۔بہر حال،ماہرین اقتصادیات کی اپنی دلیل ہوتی ہے،بھلے ٹرمپ کچھ بھی چاہتے ہوں، لہٰذا ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر ملک کو اپنے مفاد کا تحفظ کرنا چاہئے ،امریکہ کو بھی کرنا چاہئے۔لیکن بل گیٹس ہوں، گوگل ہو یا کوئی دیگر بڑی کمپنی، سب کا اپنا مفاد ہوتا ہے اور یہ ان کی تشویش ہے کہ اپنی سرکار سے ویزہ قانون پر بات کریں۔ مجھے یہ ٹھیک نہیں لگتا کہ ہندوستان سے جے شنکر وہاں جائیں اور اس موضوع پر بات کریں۔یندوستان کو اپنا کام صحیح طریقے سے کرنا چاہئے اور ہمیں یہاں کے اقتصادیاتی ماحول کو بہتر کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ ایک طرف آپ وجے مالیہ کو دھمکا رہے ہیں، دوسری طرف سبرت رائے کو جیل میں بند کر رہے ہیں۔ آپ تو خود اپنے یہاں ماحول خراب کررہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہاہوں کہ جو لوگ غلط کام کررہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی نہ ہو، لیکن ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب انتخابات ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم سنجیدگی سے غور کریں گے کہ کارو بار کے لئے کیسے ماحول کو بہتر بنایا جائے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *