جمہورتی میں اقلیتوں سے انصاف برتنے کی ضرورت

damiعارف عزیز(بھوپال)
جمہوریت کا صحیح تصور اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ ایک مثالی جمہوری نظام میں اکثریت کی حیثیت بڑے بھائی کی طرح ہوتی ہے او ر اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں میں اعتماد اور بھروسہ کا احساس پیدا کرے تاکہ اقلیتیں قومی بھلائی اور مشترکہ مفاد کے لئے اکثریت سے اشتراک کرکے آگے بڑھ سکیں ، ورنہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ غیر مطمئن اور کچلی ہوئی اقلیتیں اکثر جمہوریت کے لئے خطرہ بن جاتی ہیں جیسا کہ آج کل سری لنکا، فلپائن، آئرلینڈ، صومالیہ اور اسرائیل میں نظر آتارہا ہے کہ وہاں کی اقلیت نے اکثریت کا جینا حرام کررکھاتھا ،اس لئے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اکثریتی حکومت کی کامیابی کا راز اقلیتوں کے تحفظ اور خوشحالی میں پوشیدہ ہے جیسا کہ مہاتماگاندھی نے بھی کہا تھا ’’جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کمزور ترین فرد کو انتہائی شہ زور کے مساوی مواقع حاصل ہوں‘‘
لیکن ہندوستان میں اکثریت کے بعض طالع آزمائوں نے جمہوریت کو ایک ایسا نظام سمجھ لیا ہے جس میں اکثریت کی مرضی ومنشاء کے مطابق حکمرانی کی جاتی ہو حالانکہ یہ جمہوریت کی ایک سطحی اور گمراہ کن تعریف ہے جس کے ساتھ اسے نظام حکومت تک محدود کردینا مزید نادانی ہے کیونکہ جمہوریت محض ایک طرز ِ حکومت کا نام نہیں ایک ایسا نظام حیات بھی ہے جس میں ہر سطح پر جمہوری اصول وآداب پر عمل کیا جاتا ہو اور جب تک پورا معاشرہ ایسا نہ ہوگا اس وقت تک حقیقی جمہوریت کا تصور محال رہے گا۔
بدقسمتی سے ہندوستان میں آج جمہوریت کے نام لیوائوں، دعویداروں اور پرستاروں کی تعداد جتنی زیادہ ہے جمہوریت پر سچا یقین رکھنے والوں، اس کے حقیقی مفہوم سے روشناس ہونے والوں اور اس پر خلوصِ دل سے عمل پیرا ہونے والوں کی تعداد اتنی ہی کم ہے اور ایسے لوگ برابر بڑھتے جارہے ہیں جو جمہوریت کو اکثریت کی تانا شاہی سمجھتے یا دوسروں کو سمجھاتے ہیں۔
جبکہ سچ پوچھا جائے تو ہندوستان اقلیتوں کا ملک ہے جہاں مختلف تہذیبوں، رنگوں، نسلوں اور زبانوں کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں اور جنہیں بظاہر یکساں حقوق بھی ملے ہوئے ہیں لیکن باریکی سے دیکھا جائے تو عملاً اکثریت کو اول درجہ کی شہریت اور قومیت حاصل ہے جبکہ اقلیتیں بے آرامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان میں بھی سب سے زیادہ مسائل و مشکلات کا اگر کوئی شکار ہے تو وہ مسلمان اور صرف مسلمان ہیں جن کو پہلے انگریزوں نے اپنی سیاسی مصالح کی وجہ سے ایک صدی تک نظر انداز کیا، اب آزاد ہندوستان میں بھی وہ قومی سطح پر مسلسل ۷۰برس سے حق تلفی کا شکار ہیں، ۳۵ برس قبل وزارتِ داخلہ کی طرف سے سینٹر فار ڈیولپنگ سوسائٹیز کے ڈائرکٹر ڈاکٹر گوپال کرشنا نے اس سلسلے میں مسلم معاشرہ کا سروے کیا تو اس کے نتائج کا کمپیوٹر کے ذریعہ تجزیہ کرنے پر یہ چونکا دینے والی بات سامنے آئی تھی کہ مسلمانوں کے ہر طبقہ اور ذیلی طبقہ میں ان کا معیار، ہر شعبہ میں دوسروں کے مقابلہ میں سب سے پست ہے۔ یعنی معیارِ زندگی کے لحاظ سے وہ اچھوتوں سے بھی نیچے پہونچ گئے ہیں ان کے یہاں تعلیم ترک کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اسی طرح روزگار کی فراہمی یا سرکاری ملازمتوں میں ان کا تناسب اپنی آبادی کے مقابلہ میں کافی نیچے ہے۔
نریندرمودی کی سرکار پس ماندہ طبقات کی فلاح وبہبود اور اقلیتوں کے مسائل ومشکلات حل کرنے کا جو وعدہ کررہی ہے، وہ اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک کہ مسلمانوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے سرگرمی سے کام نہ ہو جو ہندوستان میں جمہوریت کی بھی ایک بڑی خدمت ہوگی۔
سیکولر فیکٹر
سنگھ پریوار ہندوستان کے مخلوط معاشرہ کی ضرورت واہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہے اور اسی
وجہ سے اپنے گروہی مفادات کے لئے وہ ایک ملک ایک تہذیب اور ایک مذہب پر زور دیتا ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا مشترکہ کلچر، ملی جلی تہذیب، الگ الگ مذاہب اور زبانوں میں پوشیدہ ہے اور ان کو چھیڑنے یا بگاڑنے کا نتیجہ ملک کی سیکولر اساس کو کمزور کرنا ہوگا، جس دن ملک میں سیکولرازم نہیں رہا تو جمہوریت بھی باقی نہیں رہے گی۔
یہ وہ حقیقت ہے جسے بار بار ہرانے کی ضرورت ہے خصوصا یہ پہلو ملک کی اکثریت کو ذہن نشین کرانا چاہئے کہ ہندوستان میں جمہوریت صرف سیکولر نظام میں باقی رہے گی اور اس کے ذریعہ ہی ہندوستان جیسے وسیع وعریض ملک کو متحد رکھا جاسکتا ہے، لہذا یہ فیصلہ عوام اور صرف عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے ملک میں جمہوریت کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں ، سنگھ پریوار کے ہندوستان کے مجوزہ نقشہ میں رنگ آمیزی کرنا یا سیکولر جمہوریت کو مضبوط بنانا، ان کی کیا ترجیح ہونا چاہئے، کیونکہ آج تک ملک کی اکثریت ہی اس بارے میں فیصلہ کن رول ادا کرتی آرہی ہے اور آگے بھی یہ حق اسی کا ہے جس کو کوئی غصب نہیں کرسکتا۔
ہندوستان کو ایک سیکولر ملک بنانے کا فیصلہ دستور کے وسیلہ سے ملک کی اکثریت نے کیا تھا اور اب تک وہی اس کو ایک سیکولر اسٹیٹ کی حیثیت سے باقی رکھے ہوئے ہے، مستقبل میں بھی سیکولر کردار کے تحفظ کی یہ لڑائی اکثریت کے صاف ذہن اور دوراندیش لوگوں کو ہی لڑنا پڑیگی، اس مقصد کے حصول میں اقلیتیں اس کی مددگار توبن سکتی ہیں لیکن ہر اول دستہ کے طور پر کام نہیں کرسکتیں کہ ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر داغ دی جائے ۔ دوسری بات یہ کہ ملک کے عوام پر آج یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہوجانا چاہئے کہ سیکولرازم صرف مسلمانوں کی نہیں ایک قومی ضرورت ہے۔ جو ملک کو ہندواسٹیٹ بنادینے کے خواہشمند ہیںیا اپنی گروہی مفاد پرستی کے پیش نظر ملک کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے درپے ہیں وہ ملک کے بہی خواہ نہیں ہوسکتے کیونکہ ایک سیکولر ریاست کو جب ’’ہندو راشٹر‘‘ میں تبدیل کیاجائے گا تو اس کے ردعمل میں دوسری ذیلی اقلیتیں اور تہذیبیں بھی اپنی اپنی ضرورتوں اور امنگوں کے لئے مطالبات کرینگی اور اس طرح ہندوستان متحد نہیں رہ پائے گا، اس کی وہ اساس ختم ہوجائے گی جو دو قومی نظریہ کے خلاف ملک کے معماروں نے بہت سوچ سمجھ کر قائم کی تھی۔
ہندوستان یقینا ہندوئوں کا بھی ملک ہے جیسا کہ سنگھ پریوار کہتا ہے کیونکہ یہاں بڑی تعداد میں ہندوآباد ہیں، ان کے اس حق سے کوئی انکار نہیں کرسکتا بلکہ ملک میں ان کی حیثیت ایک بڑے بھائی کی طرح ہیں لیکن جب ایک ملک ایک تہذیب اور ایک مذہب کی وکالت کی جاتی ہے تو اقلیتوں بالخصوص دوسری لسانی، معاشرتی اور مذہبی اکائیون کو اس بارے میں سوچنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ ان کا علاقہ کہاں ہے؟
ابھی ہمارا ملک ایک سیکولر اسٹیٹ ہونے کی وجہ سے تمام ہندوستانیوں کا اپنا دیش ہے، خواہ ان کا مذہب کچھ ہو، وہ کوئی بھی زبان اور تہذیب کی نمائندگی کرتے ہوں ، اس سیکولر انڈین یونین میں مسلم اکثریت کی ریاست جموں وکشمیر شامل ہے، سکھ اکثریت کا پنجاب ہے، شمال مشرقی علاقے میں ناگالینڈ، میزورم اور میگھالیہ جیسی عیسائی اکثریت کی ریاستیں موجود ہیں اور سب انڈین یونین کا ناقابل تنسیخ حصہ ہیں، ہندوستان کو ایک مذہبی اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا جیسا کہ سنگھ پریوار کا مطمح نظر ہے تو غیر ہندواکثریت کی درجِ بالا ریاستیں اس کے علاحدہ ہونے کے لئے سرگرم ہوجائیں گی، آج بھی تنگ نظروں اور کوتاہ ذہنوں کی دل آزاد حرکات کی وجہ سے سیکولر فکر ونظر میں کمزوری یا کمی پیدا ہوتی ہے تو مذکورہ غیر ہندو اکثریت والی ریاستوں میں علاحدگی پسند تحریکیں سراٹھانے لگتی ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے میں قوم کی کافی توانائی ضائع ہوجاتی ہے نیز انہیں یہ باور کراکر مطمئن کیا جاسکتا ہے کہ انڈین یونین میں رہ کر نہ صرف اپنی ریاست بلکہ سارے ملک پر ان کا حق ہوجاتا ہے۔
آج جو عناصر ملک کی سیکولر بنیاد کو کھوکھلا کررہے ہیں ۔ درحقیقت وہ ہندوستان کو ’’مہابھارت‘‘ کے عہد میں لے جانا چاہتے ہیں جب یہ ملک چھوٹی چھوٹی ریاستوں او ر علاقوں میں تقسیم تھا اور اس کا موجودہ جغرافیہ نہیں تھا، اگر ہندوستان کو مہا بھارت کے دور میں لے جانے کے بارے میں سنگھ پریوار کا خواب پورا ہوگیا تو پھر یقینا یہ ملک ’’ہندوراشٹر‘‘ بن جائے گا لیکن یہ راشٹر موجودہ ہندوستان جیسا ایک وسیع وعریض ملک ہرگز نہ ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *