جشنِ ریختہ اردو احیا تحریک میںسنگ میل ہے

shujaat-bukhariاردو کا جشن منانے کے لیے منعقد سہ روزہ جشن ریختہ کے اختتام پر شرکاء اتنے متاثر ہوئے کہ انھیںلگا جیسے اردو کے احیا کا وقت آگیا ہے۔ جشن میںپہنچنے والے لوگوںکے سیلاب نے آرگنائزس کو بھی حیران کردیا۔ انھوںنے اتنی بھاری بھیڑ کی توقع نہیںکی تھی ۔ جیسے جیسے دہلی کے اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس(آئی جی این سی اے) میںلوگوں کی بھیڑ بڑھتی جارہی تھی ویسے ویسے یہ محسوس ہورہا تھا کہ اردو جس شہر کے گلی کوچوں میںپروان چڑھی تھی،اسی شہر میںاپنے احیا کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ عام طور پر ہندوستان میں جب اردو کی حالت پر بات ہوتی ہے تو اسے سازش اور تعصب کے دو الفاظ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اردو سے محبت کرنے والے ایک شخص صنعت کار سنجیو صراف نے کم سے کم اس متک کو توڑ دیا کہ نوجوان نسل میں اس زبان کے لیے کوئی کشش نہیںہے۔
جشن ریختہ کا یہ لگاتار تیسرا یڈیشن تھااو ر اس میںشامل ہونے والوںکی بھیڑ ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔ ریختہ فاؤنڈیشن نے جشن میںآئے لوگوںکے لیے اردو زبان کے سبھی رنگوں، باریکیوں اور الگ الگ موڈ کامکمل پیکیج پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آئی جی این سی اے کے وسیع لان میںتین دن تک ایک ساتھ چل رہے الگ الگ سیشن میںگلزار، شرمیلا ٹیگور، گوپی چند نارنگ، نادرہ ببراور پریم چوپڑہ جیسی شخصیات کو سننے لے لیے لوگوںمیںہوڑ لگی ہوئی تھی۔ الگ الگ پیش کش کے بعد اردو کے الگ الگ موضوعات پر سنجیدگی کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا۔ دراصل اس حوالہ سے آرگنائزرس نے مقبول ثقافت، شاعری، نثر، ڈرامہ، آرٹ، سنیما کسی بھی شعبہ کو نظرانداز نہیںکیا۔
اختتامی سیشن میںانّو کپور اور ہنس راج ہنس نے جب اپنی پیشکش سامنے رکھی تو اس رنگین شام میںموجود شائقین نے ہر لفظ پر تال دی اور ہر حرکت پر تالی بجائی۔ آرگنائزرس نے نہ صرف مشاعرہ، داستان گوئی، ڈرامہ اور موسیقی کے ذریعہ لوگوںکو متوجہ کیا ،بلکہ ایوان ذائقہ کے تحت فوڈ فیسٹول بھی زائرین کے لیے ایک خاص کشش کا سامان تھا، جس میںکشمیری اور مغلئی پکوان بھی شامل تھے۔ حالانکہ یہ نظر آرہا ہے کہ اردو کو ایک نئی زندگی مل رہی ہے لیکن اس کے تحفظ میںکئی عملی دشواریاں ہیں۔
اس جشن کا انسٹی ٹیوشنلائزیشن ایک ایسی زبان کے لیے، جو دلوںکو جوڑتی ہے اور بالی ووڈ پر جس کا غلبہ رہا ہے (حالانکہ اب اسے ہندوستانی کہا جاتا ہے) کے لیے اچھا اشارہ ہے۔ لیکن زبان کی مٹھاس دل و دماغ پر اثر کرتی ہے اور یہی کام جشن ریختہ نے کیا۔ لوگ الگ الگ پروگراموں میں جگہ پانے کے لیے پُرجوش نظر آئے اور گھنٹوں جشن کے الگ الگ رنگوں کا لطف اٹھاتے رہے۔ ایک زبان جو ایک طبقے سے جڑی ہوئی ہے اور جسے جدید ثقافت کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے، لیکن تنوعات کو سمیٹتے جشن ریختہ میں ایک اور بات ابھر کر سامنے آئی کہ بغیر کسی تعصب کے یہ زبان مختلف مذاہب کے لوگوں میںاپنی جگہ بنا سکتی ہے۔ ریختہ نے جو اسٹیج فراہم کرائے تھے، وہاںسے فنکاروں نے مذہبی بنیاد پرستی کے بندھنوں کو توڑ دیا۔ جب اردو کے مشہور مصنف سبودھ لال نے اردو اور سیکولرازم کے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اردو سیکولرازم کی علامت ہے تو وہاں موجود لوگوں نے زوردار تالیاں بجاکر ان کی تائید کی۔ انھوںنے کہا کہ اردو کسی بھی مذہب کے خلاف بدنیتی نہیںرکھتی۔ سنجیو صراف کہتے ہیںکہ اردو کا فیسٹول اس کے تنوع اور خوبصورتی کے لیے منایا جانا چاہیے۔ صراف نے بغیر کسی بناوٹ کے کہا کہ ریختہ اردو کی خوشحال ادبی اور تقافتی وراثت کو محفوظ کرنے اور اسے فروغ دینے کی تحریک ہے اور جشن ریختہ اسی تحریک کی ایک کڑی ہے۔
ریختہ کا دہلی کے دل میںاردو فیسٹول منانا بلاشبہ کسی زبان کو بچانے کی منفرد کوشش ہے۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ نئی نسل کی اردو سمیت علاقائی زبانوں سے دوری ان زبانوں کو ختم کردے گی۔آج تیزی سے بدل رہی مسابقتی دنیا میںایسی زبانیںجن سے تہذیبوں کو شکل ملی ہے، اب کمزور ہوگئی ہیں۔ یونیسکو کے ایک سروے کے مطابق 21 ویں صدی کے آخر تک تقریباً 7,000 زبانیں ختم ہوسکتی ہیں۔ ایسے لوگ جوان زبانوںسے جڑے ہوئے تھے ، وہ اب تیزی سے ان زبانوںسے دور ہوتے جارہے ہیں۔ وہ ایسی زبانوں کا انتخاب کررہے ہیں، جن میں اقتصادی مواقع زیادہ ہوں اور جن میں ان کا مستقبل روشن رہے۔ لوگ ان ہی زبانوںکو اپناتے ہیں جن میں بہتر اقتصادی امکانات ہوں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے ذریعہ شائع ایک تحقیق کے اہم مصنف تاتسویا امانو کا کہنا ہے کہ ہم نے (اپنی ریسرچ میں) پایا ہے کہ عالمی سطح پر کئی زبانوں میںآئی گراوٹ پوری طرح سے اقتصادی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ دراصل یہ گراوٹ خاص طور سے اقتصادی طور پر ترقی یافتہ علاقوں میں درج کی گئی ہے اور یہ خطرہ جنوبی ایشیا کی زبانوں پر بھی منڈلارہا ہے۔ حالانکہ اردو ختم ہونے والی زبان نہیں ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کے بولنے والوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ اب یہ سب سے زیادہ بولی جانے والی 20 زبانوں میںسے ایک نہیں رہی ہے۔
اردو اور سازشی نظریہ
اردو جیسی زبانوں کے زوال کے بارے میں ایک عام سی بات کہی جاتی ہے کہ ان کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اردو ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے، حالانکہ پاکستان میںیہ اکثریت کی زبان ہے، لوگ اسے بولتے ہیں۔ اس زبان میںلکھتے پڑھتے ہیں اور اس زبان کو سیکھتے بھی ہیں۔ اب اقتصادی فائدے کے فقدان میںپاکستان میںبھی نوجوان نسل انگریزی کو اپنانے لگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکومت اب انگریزی کو سرکاری زبان بنانے کے بارے میںغور کرنے لگی ہے۔ حالانکہ پاکستانی اشرافیہ طبقہ، جس کا نوکر شاہی اور پالیسی سازوںمیںغلبہ ہے، اس قدم کی مخالفت کررہا ہے۔اس زبان کے لیے اصلی چیلنج یہ ہے کہ آج یہ اقتصادی طور پر فائدہ مند نہیںہے اور جو لوگ اس کے حسن کے مداح ہیں، ان کی تعداد بڑی نہیںہے۔ ہندوستان میںبھی ، جہاںاس کی پہچان مسلمانوں سے جوڑ دی گئی ہے، اس کے اقتصادی امکانات روشن نہیںہیں۔ روزگار کے وسائل کے طور پر اس زبان کو اپنانے والے لوگوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ یہاں پالیسی ساز اردو کو اس لیے نظرانداز کررہے ہیں کیونکہ یہ اقتصادی طور پر بہت مفید نہیں ہے اور یہ حقیقت اردو کے مستقبل کے لیے اچھا اشارہ نہیںہے۔
ہندوستان میں سرکاروں نے اس زبان کی ترقی کے لیے کافی رقم مہیا کرائی ہے۔ پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت کے ذریعہ اردو زبان کی ترقی کے لیے دی گئی گرانٹ صرف 60 لاکھ روپے تھی، جس میںاٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی مدت کارمیںبڑا اضافہ دیکھا گیا۔ مرلی منوہر جوشی کے انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر رہتے یہ گرانٹ 5 کروڑ ہوگئی تھی۔ سال 2012-13 میںاس گرانٹ کو بڑھا کر 40 کروڑ روپے کردیا گیا تھا اور پچھلے بجٹ میں بھی اس میںاور اضافہ کیا گیا(حالانکہ اب سبھی ہندوستانی زبانوں کی ترقی کے لیے گرانٹ کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے) ۔ حالیہ کچھ سالوں میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مالی امداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن پھر بھی زبان کے چیلنجز ابھی برقرار ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوںمیںاردو اور ہندوستانی کو دونوںکو ایک زبان کے طور پر پہچان کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔
اردو صرف ایک مذہب خاص کی زبان نہ ہوکر ایک بڑی کمیونٹی کی زبان ہے۔ اس تصور کو مسلم اور غیر مسلم دونوں عام طور سے مانتے ہیں۔ یہ بات یونیورسٹی آف ہائیڈیلبرگ کے ساؤتھ ایشیائی انسٹی ٹیوٹ کے تحت انویتاابّی، امتیاز حسنین اور عائشہ قدوائی کے ذریعہ کیے گئے مطالعہ میںکہی گئی۔ ان محققین نے بہار، لکھنؤ، میسور، دہلی او رشملہ میں اپنا مطالعہ کیا۔
غیر منقسم ہندوستان میں اردو ایک مقبول زبان تھی اور تقسیم کے بعد بھی سرکاری زبان کے دعویدار کے طور پر آئین ساز اسمبلی کے ایجنڈے پر موجود تھی۔ ووٹنگ کے دوران ہندی اور اردو کے بیچ ٹائی ہوگئی تھی اور تب ڈاکٹر راجندر پرساد نے ہندی کی حمایت کی تھی۔ اس میںالمیہ یہ تھا کہ بیگم اعجاز رسول اور مولانا حسرت موہانی ،دونوں نے اردو کے خلاف ووٹ کیا تھا۔ مولانا حسرت موہانی نے آرٹیکل 370 کی بھی مخالفت کی تھی، لیکن ان کی مخالفت کا بچاؤ گوپال سوامی آینگر نے کیا تھا۔
حالانکہ اردو بہار، اترپردیش اور دہلی میںدوسری سرکاری زبان ہے، لیکن اس کے وجود کے چیلنجز اس کے اصل بولنے والوں کی طرف سے ہی ہیں، جو اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ اس میں کوئی اقتصادی فائدہ نہیںہے۔ ممتاز شاعر اور مصنف گوپی چند نارنگ بے شک یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو میری پہچان ہے، لیکن یہ اردو کے امکانات کو لے کر لوگوں کو یقین دلانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ شاید جموں و کشمیر ہی ایک ایسی جگہ ہے، جہاںایک باہری زبان ہونے کے باوجود ، ا سے خطرے کا سامنا نہیں ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سرکاری سطح پر یہ نظر انداز کی گئی ہے۔
ریختہ کی پہل نے اس عام تصور کو خارج کردیا کہ اس زبان سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی میں جو دیکھا گیا ، وہ ایک ایسی زبان کے ایڈیشن کی ایک امید افزا شروعات تھی ، جو الگ الگ طبقوںکو ایک دھاگے میںپرونے کی اپنی صلاحیت ثابت کرچکی ہے۔ دراصل ہمیںہر جگہ او رزیادہ ریختہ کی ضرورت ہے۔ سنجیو صراف اور ان کی ٹیم کو ہمارا سلام ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *