تیجسوی کا سوشہ کتنا فسانہ ،کتنی حقیقت

damiکہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بات یونہی نہیں کہی جاتی۔ ہر ایک بات میں کوئی نہ کوئی راز پوشیدہ ہوتا ہے اور صحیح وقت آنے پر اس راز سے پردہ اٹھ بھی جاتاہے۔ ریاست بہار میں ان دنوں اقتدار کی بساط پر کچھ ایسی گوٹیاں بچھائی جارہی ہیں جو کسی کی قسمت بنانے اور کسی کی بگاڑنے کی طاقت رکھتی ہیں ۔ طے مانئے کہ بساط پر پھیلی ہوئی یہ گوٹیاں آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست کی سمت اور حالت طے کرنے والی ہے۔ اقتدار کی سیاست کے بڑے ادا کار لالو پرساد ان دنوں کافی سنبھل سنبھل کر کے یہ گوٹیاں پھینک رہے ہیں اور بہت ہی صبر کے ساتھ اس پل کا انتظار کررہے ہیں جب وہ شہہ اور مات کا کھیل اپنی شرطوں پر کھیل سکیں۔یہ الگ بات ہے کہ اس کھیل کے پہلے رائونڈ میں بڑا جھٹکا لالو پرساد کو ہی لگ گیا ہے۔
اقتدار کی شطرنج کے اس کھیل میں لالو پرساد کے دو بڑے سیاسی سپہ سالار محمد شہاب الدین اور راج ولبھ یادو مات کھاکر جیل کی دیواروں کے پیچھے جا چکے ہیں۔ اپنے ان دونوں سب سے طاقتور سپہ سالاروں کا جیل چلا جانا لالو پرساد کے لئے سیاسی طور پر بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔یہ درد اس لئے بھی افسوسناک ہے کہ ریاست میں 80 ایم ایل ایلز راشٹریہ جنتا دل کے ہیں اور جنتا دل یو کے ساتھ گٹھ بندھن کی سرکار چل رہی ہے۔
لالو پرساد کے پالیسی ساز یہ مانتے ہیں کہ یہ دوہرا جھٹکا ایم وائی (مسلم -یادو )اتحاد پر گڈگورننس کا سرجیکل اسٹرائک ہے اور وقت رہتے اس حملے سے نہیں ابھر ا گیا تو پھر ایم وائی کا قلعہ بچانا مشکل ہو جائے گا۔ کہا جارہاہے کہ لالو پرساد بھی موٹے طور پر اس اندازے کو سمجھتے ہیں اور اسی پس منظر میں انہوں نے ایک ایسی چال چلی ہے جس سے ایم وائی اتحاد تو مضبوط ہو ہی، ساتھ ہی ساتھ تیجسوی یادو کا قد بھی پارٹی کے اندر اور باہر اتنا مضبوط کر دیا جائے کہ آنے والے دنوں میں اگر کبھی وزیر اعلیٰ کے طور پر ممکنہ متبادل کی بات ہو تو صرف اور صرف تیجسوی یادو کا چہرہ ہی چمکتا ہوا دکھائی دے۔
ریاست کے الگ الگ حصوں میں راشٹریہ جنتا دل کوٹے سے ممبر پارلیمنٹ بولو منڈل، ڈیزاسٹر مینجمنٹ وزیر چندر شیکھر ، پارٹی ایم ایل اے سریندر یادو،ایم ایل اے بھائی وریندر سمیت کئی ایم ایل ایز نے اس چرچا کو گرمانے کا کام کیا ہے کہ تیجسوی یادو کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے۔ پہلے ایسا لگا کہ ایسے ممبر پارلیمنٹ و ایم ایل اے لالو پرساد اور تیجسوی یادو کے سامنے اپنا اسکور بڑھانے کے لئے ایسے چرچائوں کو گرم کررہے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے چرچا گرم ہوتا گیا ویسے ویسے یہ بات صاف ہونے لگی کہ یہ چرچا یونہی نہیں ہے بلکہ اس کے اس ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کا منصوبہ ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ جب جب اس طرح کی باتیں سامنے آئیں، خود تیجسوی اور لالو پرساد نے اس کی تردید کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہیںکی ۔ ابھی اسمبلی کے سیشن کے دوران تیجسوی یادو کی ماں اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ بنانے کی مانگ کو جائز ٹھہرا کر بہار کی سیاست میں سنسی پھیلا دی۔ بہار لجسلیٹر کمپلیکس میں انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے تیجسوی کو وزیر اعلیٰ بنانے کی راشٹریہ جنتا دل لیڈروں کی مانگ مناسب ہے۔ تیجسوی میں وزیر اعلیٰ بننے کی ساری خوبیاں ہیں۔عوام بھی اس کی مانگ کر رہے ہیں۔ عوام جیسا چاہیں گے ،ویسا ہی ہوگا۔ حالانکہ دیر رات رابڑی دیوی اپنے بیان سے مکر گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار مہاگٹھ بندھن کے لیڈر ہیں ۔میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ چرچا جب اور زور پکڑنے لگا تو سنت روی داس یوم پیدائش کی تقریب میں تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو چاچا بتایا اور کہا،چاچا سی ایم رہے ہیں اور رہیں گے۔ راشٹریہ جنتا دل کے لیڈروں کو جذبات میں بہہ کر کچھ بھی نہیں کہہ دینا چاہئے۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ کچھ لوگ مہا گٹھ بندھن کو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے اس طرح کا بھرم پھیلاتے رہتے ہیں۔ بھرم پھیلانے والوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہماری لڑائی آر ایس ایس سے ہے۔ بی جے پی ،آر ایس ایس کا حصہ ہے۔ آج تک غریبوں اور محروموں کو پورا حق نہیں مل پایا ہے۔ کچھ لوگوں کی خواہش نہیں رہتی کہ محروم لوگ مین اسٹریم میں آئیں، متحد ہوکر ہی حق لیا جاسکتا ہے، ہمارا ان سے درد کا رشتہ ہے، ہم لوگوں نے درد برداشت کیا ہے، مرکز میں دلت مخالف سرکار ہے۔یہ الگ بات ہے کہ تیجسوی جس پروگرام میں یہ بول رہے تھے، اسی کے مین گیٹ پر ان کا بڑا پوسٹر لگا تھا، جس میں لکھا تھا کہ ’بہار کو یہی پسند ہے‘۔ اتنے پر بھی جب بات نہیں تھمی تو خود لالو پرساد کو میدان میں کودنا پڑا۔ انہوں نے کہا،’مہا گٹھ بندھن میں سی ایم عہدہ کے لئے ویکنسی ہی نہیں، تنازع کا کہاں سوال ہے؟ ہاں، عمر کے حساب سے نوجوانوں کا ہی مستقبل ہے‘۔ لالو پرساد نے کہا کہ نتیش کمار مہا گٹھ بندھن کے قابل قبول لیڈر ہیں۔ ابھی تیجسوی یادو کی عمر سی ایم بننے کی نہیں ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ بہت سیکھنا ہے۔ ہماری اور نتیش کمار کی تو عمر ہو چلی۔ مستقبل تو نوجوانوں کا ہی ہے۔ لالو پرساد چاہے کوئی بھی صفائی دیں لیکن جنتا دل یو نے اسے بہت ہی ہلکے میں نہیں لیا ہے۔
سابق وزیر اور بہار اسمبلی میں ڈپٹی لیڈر شیام رجک نے کہا کہ نتیش کمار وزیر اعلیٰ ہیں اور مہا گٹھ بندھن کے لیڈر ہیں، ایسے سبھی کو اظہار کی آزادی ہے،جو چاہے وہ بول سکتے ہیں۔ جنتا دل یونائٹیڈ ترجمان نیرج کمار کہتے ہیں کہ بہار کے عوام نے مینڈیٹ نتیش کمارکے نام پر دیا ہے اور اس سرکار میں مینڈیٹ کا پورا احترام کیا جارہاہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے ایم ایل اے اپنی پارٹی کے لیڈر کے بارے میں کچھ کہتے ہیں تو یہ ان کی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔ جہاں تک سرکار کی بات ہے تو نتیش کمار کی قیادت میں گڈ گورننس کا ایجنڈا مضبوطی سے لاگو کیا جارہا ہے اور ملک اور دنیا میں اس کی تعریف ہورہی ہے۔ وہیں کانگریس ایم ایل اے ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو کو وزیر اعلیٰ بنانے کا معاملہ راشٹریہ جنتا دل کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس پر راشٹریہ جنتا دل کو طے کرنا ہے ۔ فی الحال نتیش کمار ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں۔
ان بیانوں سے باہر نکلیں گے تو دو باتیں صاف طور پر ان چرچائوں کے پس منظر میں نظر آئیں گی۔ جانکار بتاتے ہیں کہ لالو پرساد کے سامنے دو بہت بڑے چیلنج ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ وقت رہتے صرف پارٹی ہی نہیں بلکہ راشٹریہ جنتا دل کے ووٹروں کے سامنے تیجسوی یادو کو اپنے جانشیں کے طور پر پیش کر دیا جائے۔ لالو پرساد چاہتے ہیں کہ جس طرح راشٹریہ جنتا دل میں بغیر ان کی مرضی کے ایک پتہ بھی نہیں ہلتا ہے، ویسے ہی تیجسوی یادو کا قد اتنا بڑا کر دیا جائے کہ اس کی بات ہی پارٹی میں پتھر کی لکیر ہو جائے۔
لالو پرساد یہ بھی چاہتے ہیں کہ یادوئوں اور مسلمانوں یعنی کہ ’مائی ‘ کا جو حکومت بنائو ووٹ بینک انہوں نے اپنی سیاسی تپسیا سے تیار کیا ہے، اس کا اگلا مالک تیجسوی یادو ہی بنے۔ اس کے کہنے پر یہ ووٹ جس امیدوار کو بھی چاہے اسے مل جائے۔لالو پرساد یہ بات جانتے ہیں کہ ان خوابوں پر عمل کرنے کے لئے عوام خاص طور پر اپنے ووٹروں کو کچھ خواب تو دکھانے ہی ہوں گے۔ اس لئے انہوں نے اپنے حامیوں کے ذریعہ اپنے ووٹروں کو یہ بڑا خواب دکھانا شروع کر دیا ہے کہ تیجسوی یادو بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ ہو سکتے ہیں۔اس کا دوہرا فائدہ لالو پرساد کو مل رہا ہے۔ پہلا تو یہ کہ پارٹی کے اندر جو کچھ ناراضگی تھی وہ پلک جھپکتے ہی ختم ہو گئی۔
راشٹریہ جنتا دل کا ہی وزیر اعلیٰ ہوگا ،یہ خواب پارٹی کے لئے رام وان کا کام کر رہا ہے۔ اپنے ووٹروں کے درمیان لالو پرساد اب خود دورے پر نہیں جارہے ہیں بلکہ تیجسوی یادو کو ڈویژنل دورے پر بھیج رہے ہیں۔ تیجسوی یادو لگاتار دورہ کررہے ہیں اور راشٹریہ جنتا دل کے ووٹروں سے مخاطب ہورہے ہیں۔ ووٹروں کے سکھ دکھ میں جارہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں میں ہی ہوں جو لالو پرساد کی طرح آپ کی پریشانیوں کو دور کروں گا۔ تیجسوی یادو کے ان دوروں کو پوری حمایت بھی مل رہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر اور ووٹر ان سے ذاتی طور پر مل رہے ہیں اور اپنا سکھ دکھ بانٹ رہے ہیں۔ گیا میں تو راشٹریہ جنتا دل کے حامیوں نے ان کا خیر مقدم ایک ہیرو کے طور پر کیا۔ لالو پرساد بھی یہی چاہتے ہیں کہ بہار کے کونے کونے میں تیجسوی جاکر راشٹریہ جنتا دل حامیوں کو یہ احساس دلائیں کہ لالو پرساد تو ہیں ہی، اب میں بھی ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنے کو تیار ہوں۔
وزیر اعلیٰ کے طورپر تیجسوی کے نام پرچرچا سے راشٹریہ جنتا دل کے ووٹروں کا جوش دوگنا ہو گیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل حامیوں کو لگ رہا ہے کہ دیر سویر لالو پرساد اپنے بیٹے تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ بنوا ہی دیں گے۔ شہاب الدین اور راج ولبھ یادو کے جیل چلے جانے کے بعد راشٹریہ جنتا دل حامیوں کا جو جوش ٹھنڈا پڑ رہا تھا، اسے بطور وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے چرچانے گرما دیا ہے۔ تیجسوی یادو کے حامیوں میں لگنے والے پرجوش نعرے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بہت تیزی سے راشٹریہ جنتا دل کے ووٹر یہ ماننے لگے ہیں کہ تیجسوی یاد و ہی لالو پرساد کے اصلی جانشیں ہیں اور آنے والے وقت میں بہار کے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔
پارٹی کے اندر تیجسوی کو مضبوط کرنے کے بعد لالو پرساد کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج تیجسوی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے لازمی حمایت جٹانے کا ہے۔ اس کے لئے لالو پرساد نے کانگریس کے علاوہ کئی چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے چیف کو اپنا پیغام بھیجا ہے۔ اکثریت کے لئے 123 کا جادوئی عدد جمع کرنے میں لالو پرساد کو مشکل آئے گی ،ایسا لگتا نہیں ہے ۔کیونکہ وہ اس کھیل کے ماہر کھلاڑی رہے ہیں۔ لیکن جانکار بتاتے ہیں کہ بھلے ہی لالو پرساد 123 کی قواعد میں لگے ہوں لیکن اندر خانے وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ موجودہ سرکار کے تانے بانے میں کوئی پھیر بدل ہو۔ ہاں اگر نتیش کمار اپنی وجہ سے کمزور ہوتے ہیں تو پھر لالو پرساد اپنا آپریشن چالو کر دیں گے۔
لالو پرساد اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ شراب بندی اور گڈ گورننس کی وجہ سے نتیش کمار کی شبیہ اس وقت عوام کے بیچ کافی اچھی ہے۔ حال میں پیپر لیک معاملے میں نتیش کمار نے جتنا بولڈ قدم اٹھایا، اس سے بھی عوام کے درمیان ان کی ایک کامیاب اور سخت انتظامیہ کی شبیہ بنی ہے۔ لالو پرساد سمجھتے ہیں کہ اقتدار کی تبدیلی کا یہ صحیح وقت نہیں ہے، اس لئے دبائو اور صرف دبائو کی پالیسی ہی اس وقت کارگر ہے اور یہی کام وہ اس وقت کر رہے ہیں۔ یہ سبھی مان رہے ہیں کہ یوپی انتخاب کے نتائج کے بعد بہار کے بھی سیاسی اتحاد بدلیںگے اور اس وقت کی ضرورتوں کے حساب سے لالو پرساد اپنے فیصلے لے سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت بس تیجسوی کے وزیر اعلیٰ بننے کے چرچا کو گرم کر کے جتنا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ،وہ کیا جارہا ہے۔
ادھر وزیر اعلیٰ کے بیٹے نشانت نے کہا ہے کہ اس کی سیاست میں آنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور مذہبی کاموں میں اسے زیادہ من لگتا ہے۔ جانکار کہتے ہیں کہ نشانت کے اس بیان سے لالو پرساد کے بیٹے کا آگے بڑھائو مہم کو اخلاقی جھٹکا لگا ہے۔ لیکن لالو پرساد کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ اس طرح کے بیانوںسے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ لالو نے جو بات چرچا میں لا دی ہے، اسے دور تک جانا ہے۔ بہار کی سیاست کی ہر نبض سے لالو واقف ہیں اور اپنے سبھی سیاسی آپریشن کے وقت اور تاریخ وہ اپنی پالیسی کے حساب سے طے کرتے ہیں۔ اس لئے یہ مان کر چلئے کہ ابھی کچھ دنوں تک بیان اور پھر اس کی تردید کا دور چلے گا لیکن لالو کی مہم کا یہ آخری سچ نہیں ہے۔تیجسوی یادو کو لے کر لالو بے حد سنجیدہ ہیں اور صحیح وقت آنے پر راز پر سے پردہ لالو پرساد خود اٹھانے سے پرہیز نہیں کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *