بی جے پی او رسنگھ پر بھاری نریندر مودی

morarka-sir-jiپانچ ریاستوںمیں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔ ان نتیجوںسے کچھ لوگ خوش ہوں گے اور کچھ مایوس۔ یہ اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ آپ کون ہیںیا آپ کی ہمدردی کس پارٹی کے ساتھ ہے۔ جو لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی ہیں، وہ یہ کہیںگے کہ نریندرمودی کافی مقبول ہیں، نوٹ بندی کے فیصلے کو لوگوںنے سراہا،مودی کی پالیسیاںاچھی ہیں ، اس وجہ سے انتخابات کے نتیجے ایسے آئے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مخالف ہیں،وہ کہیںگے کہ بی جے پی نے خوب پیسہ بہایا اور پورے سسٹم کا بے جا استعمال کیا۔ اس کی پرواہ کیے بغیر کہ کون سا گروپ کیا کہتا ہے، کچھ باتیں بالکل صاف ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ایکزٹ پول کی اہمیت ختم ہوگئی ہے۔ اب کچھ چینل یہ دعویٰ کریںگے کہ ان کا اندازہ صحیح نکلا، لیکن بات یہ نہیںہے ۔سچائی یہ ہے کہ ہر ایکزٹ پول الگ الگ نتیجے بتا رہا تھا اور کوئی بھی ایکزٹ پول صحیح ثابت نہیںہوا۔
ایسے میںنتیجوںکا تجزیہ کیا ہو؟ اترپردیش کے انتخابی نتیجوں کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ 2007 میںاترپردیش کے عوام نے بہوجن سماج پارٹی کو اکثریت دی ، وہیں2012 میںلوگو ں نے سماجوادی پارٹی کو اور اس بار لوگوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح اکثریت سے جتایا ہے۔ یہ صاف ہے کہ لوگوں کے دماغ میں دو باتیںتھیں۔ ایک یہ کہ لوگ پہلے دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح ملی جلی سرکار میںاراکین اسمبلی کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور لوگ اس طرح کی سیاست سے تھک چکے ہیں۔ اس لیے لوگ اب مستحکم سرکار چاہتے ہیں۔ اترپردیش کے لیے یہ اچھی بات ہے کہ لوگوںنے پانچ سال مایاوتی یعنی بہوجن سماج پارٹی کو چنا۔ پھر پانچ سال کے لیے سماجوادی پارٹی اور اب پانچ سا ل کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو حکومت کرنے کا موقع دیا۔ اس طرح کی سیاست سے کوئی نقصان نہیںہے۔
میری ہمدردی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ نہیں ہے ،لیکن مجھے یہ قبول کرنا ہوگا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح اکثریت دے کر لوگوںنے یہ اشارہ دیا ہے کہ لوگ ترقی چاہتے ہیں۔ لوگ سرکار چلانے کے دوران آپس کا جھگڑا نہیںدیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بہکاوے میںآگئے کہ اگر مرکزی سرکار چلانے والی پارٹی کی سرکار بنتی ہے تو ترقی کے لیے بہت سارے پیسے آئیںگے۔یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کاایک پروپیگنڈہ تھا۔یہ سیاست کرنے کا ناقص طریقہ ہے۔یہ ہندوستان کے وفاقی نظام او رآئین کی روح کے خلاف ہے۔ لیکن جو بھی ہو ، لوگوں نے اس امید میںبھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیا کیونکہ انھیںلگا کہ بی جے پی کے جیتنے میںاترپردیش میں کافی پیسہ آئے گا اور ترقی ہوگی۔ یہی بات نریندر مودی نے کہی۔ یہی بات امت شاہ دوہراتے رہے۔ یہی امید اترپردیش میںووٹروںکے دماغ میںرہی۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایکزٹ پول کے اب کوئی معنی نہیں رہے۔ لوگ اب گٹھ بندھن کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ یہ ایک طرح سے اچھی بات ہے ۔ جو باتیںاترپردیش کے لیے صحیح ہیں ، وہی باتیںاتراکھنڈ میںبھی لاگو ہوتی ہیں کیونکہ دونوں جگہ کے لوگ ایک ہی طرح کے ہیں۔
اس الیکشن سے دوسری اہم بات جو سامنے آئی ہے ، وہ یہ ہے کہ’ کانگریس مکت بھارت ‘ کی باتیںبے معنی ہیں۔ پنجاب میںکانگریس کا وزیر اعلیٰ ہوگا۔ گوا اور منی پور میںبھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس میںٹکر رہی۔ حالانکہ یہ دونوںچھوٹی ریاستیں ہیں اور قومی سیاست پر ان کا کوئی اثر نہیںہے، پھر بھی ان دونوں ریاستوںکے لوگوںنے اس مہلک تصور کو ہی دفنادیا جو نظریاتی طور پر ملک میںایک ہی پارٹی کی حکومت یعنی تاناشاہی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔
پنجاب میںایک تیسری پارٹی اس امید کے ساتھ الیکشن میںکودی کہ لوگ دونوںہی پارٹی کو ٹھکراکر اسے چن لیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پنجاب میںکیپٹن امریندر سنگھ نے وزیر اعلیٰ کے طور پر پانچ سال تک اچھی حکومت دی تھی۔ اس کے بعد یہاںدس سال تک پرکاش سنگھ بادل کی حکومت رہی۔ پنجاب میںلوگوںنے ایک بار پھرسے کیپٹن امریندر سنگھ کی قیادت پر بھروسہ کیا ہے ۔
جہاں تک ان انتخابات سے سبق لینے کی بات ہے تو ہمیںسیاسی طور پر پہلے سے زیادہ سمجھدار ہونے کی ضرورت ہے۔ لوگوںسے ہر بار جھوٹے وعدے کرکے ووٹ لینا یا ووٹ کی خاطر جوش میںآکر بڑے بڑے وعدے کرنے سے کسی بھی ریاست کا بھلا نہیں ہونے والا ہے۔
اب نہ تو بھارتیہ جنتا پارٹی ہے اور نہ ہی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ہے۔ صرف ایک شخص ہے نریندر مودی۔ ان کا ہر فیصلہ اب آخری فیصلہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس بار سنگھ نے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو تعاون کرنے سے منع کردیا۔ اس سے مودی کا ہاتھ اور مضبوط ہوا ہے۔ اب نریندر مودی یہ دعویٰ کریںگے کہ اترپردیش کی جیت ، ان کی اپنی ذاتی جیت ہے کیونکہ کسی نے ان کی مدد نہیںکی۔
اترپردیش کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟ یہ طے کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی کا اگلا چیلنج ہے۔ انھیںکسی سمجھدار شخص کو چننا چاہیے جو ریاست کی حکومت چلا سکے۔ لیکن ابھی جو نام چل رہے ہیں،اس میںمتھرا کے رکن اسمبلی یا کسی اور کا نام جو امت شاہ کے قریبی ہیں۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ راجناتھ سنگھ، اوما بھارتی یا اتر پردیش کے کسی دوسرے کابینہ وزیر کا کوئی نام نہیںلے رہا ہے۔ کوئی کسی سمجھدار شخص کا نام لے ہی نہیںرہا ہے، یہ بہت بڑی غلطی ہوگی۔ اترپردیش میںبھارتیہ جنتا پارٹی کو حکومت چلانے کا موقع ملا ہے۔ اسے کسی ایسے سمجھدار شخص کو وزیر اعلیٰ چننا چاہیے جواترپردیش کے لوگوںکو قبول ہو اور جس میںسبھی کوساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت ہو۔ یہ بات سبھی کو پتہ ہے کہ اترپردیش ذات، ذیلی ذات،طبقہ او ر مذہب میںاتنی بری طرح بٹا ہوا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ سمجھدار نہ ہوتو ریاست کا بھلا نہیںہوسکتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اس طرح کی غلطی پہلے بھی کرچکی ہے۔ گوا سے انھوںنے پریکر کو اٹھاکر وزیر دفاع بنا دیا۔وہ ایک برے وزیر دفاع ثابت ہوئے۔اب گوا میںلوگ انھیںواپس بلانے کی مانگ کررہے ہیں۔یہ اچھی بات ہوگی اگر انھیںواپس گوا بھیج دیا جائے۔ ویسے یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے او ر کسی باہری کو اس پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لیکن جب ہم لوگوں کی بھلائی ، حکومت کی بھلائی اور ریاست کی بھلائی کے بارے میںسوچتے ہیں تو ہمیںمدلل باتیںتو کر نی ہی پڑیںگی۔ انتخابی نتائج آج ہی آئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاںکیا کرتی ہیں یا بھارتیہ جنتا پارٹی کیا فیصلہ لیتی ہے ،اس کے لیے ہمیںایک ہفتہ انتظار کرنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *