بی ایس پی سے کیوں کھسکے دلت؟

damiایس آر داراپوری
بہو جن سماج پارٹی لیڈر مایاوتی الکٹرانک ووٹنگ مشین ( ای وی ایم ) میں گڑبڑی کا شگوفہ چھوڑ کر اپنی ہار کی جھینپ مٹانے کی کوشش کررہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے مایا وتی شکست کی ذمہ دارے سے بچ جائیںگی؟اس کا جواب آپ بھی سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ دلت بہو جن سماج پارٹی سے کھسک گئے ہیں۔
اتر پردیش میں دلتوں کی آبادی کل آبادی کا 21 فیصد ہے۔ ان میں تقریباً 66 ذیلی کاسٹ ہیں ، جو جو کہ سماجی طور پر بٹے ہوئے ہیں۔ان ذیلی کاسٹ میں جاٹو یا چمار 56فیصد ، پاسی 16 فیصد ، دھوبی ، کوری اور بالمیکی 15فیصد ، گونڈ ،دھانوک اور کھٹک 5فیصد ہیں۔ انتہائی دلت ذیلی کاسٹ 9 ہیں جن میں راوت، بہیلیا، کھروار اور کول شامل ہیں، جن کا فیصد پانچ ہے۔ بقیہ 49 ذیلی کاسٹ تقریباً 3فیصد ہیں۔ذات کے حساب سے چمار یا جاٹو اعظم گڑھ، آگرہ، بجنور، سہارن پور، مراد آباد، گورکھپور ، غازی پور اور سون بھدر میں زیادہ ہیں۔ سیتا پور، رائے بریلی ، ہردوئی اور الٰہ آباد ضلعوں میں پاسی زیادہ ہیں۔ بقیہ گروپجیسے دھوبی، کوری اور بالمیکی کی زیادہ آبادی بریلی، سلطان پور اور غازی آباد میں ہے۔
بہو جن سماج پارٹی کے دلت ووٹ بینک میں آئی گراوٹ کی بنیادی وجہ مایاوتی کے ذریعہ بہو جن سماج پارٹی کے اصول چھوڑ کر عمومی اصول کو اپنایا جانا ہے۔اس سے دلت طبقہ کا بڑا حصہ ناراض ہو کر مایاوتی سے الگ ہو گیا۔ 2012 کے اسمبلی انتخاب کے نتائج پر دھیان دیں تو پائیںگے کہ اس بارمایاوتی 89 ریزرو سیٹوں میں سے صرف 15 پر جیت پائی تھیں۔ جبکہ سماج وادی پارٹی 55 سیٹیں جیتی تھی۔89ریزرو سیٹوں میں 35 سیٹوں پر جاٹو یا چمار اور 25 سیٹوں پر پاسی جیتے تھے۔ اس میں سماج وادی پارٹی کے 21پاسی امیدوار اور مایاوتی کے محض دو پاسی امیدوار جیتے تھے۔ بہو جن سماج پارٹی نے اس الیکشن میں جو 15ریزرو سیٹیں جیتی تھیں، وہ زیادہ تر مغربی اتر پردیش میں تھیں، جہاں جاٹو سب کاسٹ زیادہ ہیں۔
مایاوتی کو اس وقت بھی پاسی اکثریتی اور کوری اکثریتی حلقے میں بہت کم سیٹیں ملی تھیں۔ مشرقی اور وسط اتر پردیش میں ،جہاں چمار ذیلی کاسٹ کی اکثریت ہے، وہاں بھی مایاوتی کو بہت کم سیٹیں ملی تھیں، یعنی صاف تھا کہ بہو جن سماج پارٹی سے پاسی، کوری، کھٹک ، دھوبی اور بالمیکی ووٹ تو کھسک ہی رہا تھا، چمار یا جاٹو ووٹ بینک ( 70فیصد چمار (ریداس) اور 30 فیصد جاٹو ) بھی بہو جن سماج پارٹی سے کھسک رہا تھا۔ لیکن مایاوتی نے اس پر دھیان دینے کے بجائے دوسرے اتحاد پر دھیان دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں مایاوتی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ بہو جن سماج پارٹی سے دلت ووٹ بینک کھسکنے کی بنیادی وجہ مایاوتی کی بد عنوانی ، ترقی کا کام نہ کرنا، دلت متاثرین کو نظر انداز کرنا اور ان کا راج شاہی رویہ بھی رہا ہے۔ دلت مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے اندھا دھند مورتیاں بنانے کو بھی زیادہ تر دلتوں نے پسند نہیں کیا۔ دلتوں میں ایک یہ سوچ قائم ہوئی کہ بہو جن سماج پارٹی سرکار کا پورا فائدہ صرف مایاوتی کی ذیلی کاسٹ خاص طور پر چماروں یاجاٹوں کو ہی ملا۔ اس سے بھی غیر چمار یا جاٹو ذیلی کاسٹ مایاوتی سے دور ہوگیا ۔ انتخاب میں ٹکٹوں کی خرید و فروخت نے بھی دلتوں کو بدکانے کا کام کیا۔
دلتوں کا استحصال کرنے والوں،مافیائوں ،جرائم پیشوں اور سرمایہ داروں ٹکٹ دے کر دلتوں کو انہیں ووٹ دینے کے لئے حکم دینے کا مایاوتی کا طور طریقہ بھی دلتوں کو ناگوار لگتا رہا۔ انہیں لگا کہ دلت سیاست میں جن سے ان کی بنیادی لڑائی ہے، مایاوتی نے انہیں ہی اقتدار کا لطف لینے میں شرہک کر لیا۔ اس بار کے اسمبلی انتخابات میں بھی مایاوتی نے نصف درجن ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جو دلت قتل، دلت عصمت دری اور دلت استحصال کے ملزم ہیں۔
اتر پردیش کے تقریباً 60 فیصد دلت غریبی کی ریکھا سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ تقریباً 60فیصد دلت عورتیں غذائی قلت کی شکار ہیں۔ 70فیصد دلت بچے غذائی قلت کے شکار ہیں۔ زیادہ تر دلت بے روزگار ہیں اور پیدوار کے وسائل سے محروم ہیں۔ مایاوتی نے عمومی ووٹ کے چکر میں زمینی اصلاحات کو نظر انداز کیا جو دلتوں کے امپاورمنٹ کا سب سے بڑا ہتھیار ہو سکتا تھا۔ مایاوتی کی بد عنوانی سے منریگا،راشن تقسیم نظام، اندرا آواس، آنگن باڑی سینٹر ، معذور وں کے لئے پنشن اور بیوائوں کے پنشن جیسی فلاحی اسکیمیں بھیانک بدعنوانی کے چنگل میں چلی گئیں۔ ان وجوہات سے دلتوں نے مایاوتی کو مسترد کردیا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *