بہار 41 برسوں سے کسان امید لگائے بیٹھے ہیں

damiرانا اودھوت کمار
1970 کے آس پاس سینچائی نظم و ضبط کے لئے رہتاس اور کیمور ضلعے کے سروے کے دوران درگاوتی ندی پر باندھ بنانے کا پروجیکٹ بنا تھا۔ اس سے دس ڈویژنوں کی زمین کی سینچائی کی جانی تھی۔ آبی وسائل اور محکمہ جنگلات کی تحویل اراضی میں محکمہ جاتی پینچ اور کچھ دیگر معاملوں میں قانونی اڑچن آنے سے یہ پروجیکٹ لٹک گیا۔ کئی سال تو درگا وتی کا معاملہ کاغذوں کے ٹرانسفر میں ہی گزر گئے۔
1977 میں ڈیم سائٹ کے انتخاب اور محکمہ جنگلات سے این او سی نہیں ملنے کی صورت میں نشان زد ڈیم ہی تنازعہ کے گھیرے میں آگیا ۔2 کروڑ روپے کے فنڈ سے تب کام کی جگہ پر ابتدائی کام شروع ہوئے تھے۔ لیکن اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل ہونے اور افسروں کی لا پرواہی سے کام بند ہوتا گیا۔ 1978 میں بہار کے اس وقت کے آبپاشی وزیر سچیدا نند سنگھ نے یکمشت 13 کروڑ کی رقم الاٹ کرنے کے ساتھ ڈیم سائٹ کے سبھی تنازعات پر لگام لگا کر 1980 تک نہروں میں پانی پہنچانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے باوجود نتیجہ ایک بار پھر صفر ہی رہا ۔
1985 تک ڈیم سائٹ رہتاس کے کرمٹ اور کیمور میں باندھ کے علاقے میں باندھ بنانے کے لازمی آلات اور افسروں کی بڑھتی آمدو رفت کے درمیان پھر سے 1991میں نہروں میں پانی دینے کا خواب پورا نہیں ہو سکا۔
رہتاس ضلع کے تین ڈویژنوں چیناری، شیوا ساگر ، ساسارام اور کیمور ضلع کے پانچ ڈویژن بھگوان پور،رام پور، کودرا، درگاوتی اور موہنیا ڈویژنوں کی تقریبا 20000ہیکٹیئر بنجر زمین کو زرخیز بنانے اور کل ملا کر 35000 ہیکٹیئر زمین کی سینچائی کا مسئلہ اس پروجیکٹ سے جڑا ہوا ہے۔ ان ڈویژنوں سے جڑنے اور اس اسکیم سے سیدھے طور پر مستفید ہونے والے 384 گائوں کے لاکھوں لوگوں کا مستقبل اس سے جڑے ہونے کے باوجود کام کی رفتار بے حد سست ہے اور سسٹم ایسا بدعنوان ہے کہ آفیسر سے لے کر چپراسی تک سبھی اپنی سہولت کے مطابق اسے کمائی کا ذریعہ بنانے میں لگے ہیں۔ تبھی تو 26کروڑ کی اسکیم ہر دو تین سال پر بڑھتی چلی گئی۔ 1980 میں 31کروڑروپے، 1991 میں 101 کروڑ، 2001 میں 181کروڑ اور 2011میں 690 کروڑ سے 2017 میں 1064 کروڑ روپے کے اعدادو شمار کو پار کر گئے ہیں۔
بنیادی طور سے تین نہروں کے سہارے یہ پروجیکٹ عمل میں آنا ہے۔دائیں کنارے کے مین نہر سے رہتاس ضلع اور بائیں نہر سے کیمور ضلع کو پانی دینے کی اسکیم ہے۔ ایک اور بڑی کودرا ویئر بھی کیمور ضلع کو سیراب کرتی ہے۔ درگاوتی ندی کے پانی کو باندھ کر کیمور اور رہتاس دونوں ضلعوں کے 35000ہیکٹیئر غیر زرعی یعنی بنجر کھیتوں کی سینچائی کی دوررس منصوبہ بندی ہے۔درگاوتی آبی ذخائر منصوبے کی خواہش جگجیون رام نے کی تھی۔10جون 1976 کو شیلانیاس ہونے کے بعد دونوں ضلعوں کے سات ڈویژنوں کے تقریبا 384 گائوں کے لاکھوں کسان، اسے ایک زندگی دینے والی اسکیم ماننے لگے۔وہیں افسروں کی نظر میں یہ اسکیم سونے کے انڈے دینے والی مرغی کے طور پر ایک پسندیدہ سائٹ بن کر رہ گئی۔ لیڈروں اور مقامی نمائندوں نے بھی درگاوتی کو صرف انتخابی ایشو بنا کر رکھ دیا۔
پروجیکٹ کی واقعی صورت حال یہ ہے کہ اس مالی سال میں 33کروڑ کا فنڈ الاٹ ہونے کے باوجود اب تک صرف 30لاکھ روپے ہی خرچ کئے جاسکے ہیں۔ وہ بھی تب جب گزشتہ ایک سال میں وزیر اعلیٰ تین بار ضلع میں آئے اور درگاوتی کی پروگریس رپورٹ دیکھی اور ہر بار افسروں کو پھٹکار لگائی۔ اس کے باوجود ڈیم کا موجودہ حال یہ ہے کہ ڈیم کے ترائی والے علاقے میں بھی کافی مقدار میں پانی موجود نہیں ہے۔ کسانوں کے کھیتوں تک پورا پانی آج بھی دور کی کوڑی بنا ہوا ہے۔ ابھی 102 کلو میٹر لمبے مائنروں کی تعمیر ہونی باقی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آدھے ادھورے درگاوتی پروجیکٹ کا افتتاح 15 اکتوبر 2014 کو ہی اس وقت کے وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے کر دیا تھا۔ حالانکہ اس ادھوری اسکیم کا سہریٰ لینے کے لئے سبھی پارٹیوں کے لیڈروں میں ہوڑ لگی ہوئی تھی۔ کہہ سکتے ہیں کہ افسروں کی لوٹ کھسوٹ اور عوامی نمائندوں کی بے حسی کی وجہ سے چار سال کا پروجیکٹ گزشتہ 41 سال سے نامکمل پڑا ہوا ہے۔ سوائے بد عنوانی کے آخر اس تاخیر کی کوئی اور دوسری وجہ کیا ہوسکتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *