بہار اسمبلی کی بحثوں میں عوامی مسائل غائب

damiاسے ستم ظریفی ہی کہیں گے کہ سیاسی پارٹیاں پارلیمنٹ اور اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں اپنا کردار موقع کے مطابق ہی طے کرتی ہیں اور ویسی ہی اس کی توضیح بھی کرتی ہیں۔ وہ اپنے کردار کو جائز ٹھہرانے کے لئے اپنے مخالفین کو ہی ذمہ ڈار ٹھہراتی ہیں۔ بہار اسمبلی کے موجودہ بجٹ اجلاس کے ابتدائی دنوں کی کارروائی اس کی بہترین مثال ہیں۔ ریاست کی سب سے بڑی پنچایت کے کام کاج کے دنوں میں حالانکہ کئی کام نمٹے، لیکن بہار کی عوامی اپیل اور عوامی مسئلے کی بازگشت سننے کا موقع نہیں ملا۔ اس دوران عوام کے مسائل کے علاوہ سب کچھ چھایا رہا۔ اپوزیشن کے ہنگامے ہوئے، ایوانوں کے اندر ہنگامے رہے،دونوں ایوانوں کی کارروائی بار بار منسوخ ہوتی رہی۔ حالت کو سدھارنے کے لئے اسپیکر کی کوشش بار بار ناکام ہوتی رہی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود گورنر کے خطاب اور اس پر بحث ہوئی ، مالی سال 2017-18 کا بجٹ پیش کیا گیا اور وزیر خزانہ اور وزیر تعلیم کی تقریر ہوئی۔لب لباب یہ ہے کہ سرکار کے کام تو نکلے یا انہیں نکلنے دیا گیا لیکن عوامی اپیلوں اور عوامی مسائل کو عوامی نمائندوں نے اپنی سیاست سے دور رکھا۔

اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی شروعات 23فروری کو ہوئی تھی۔ کیلنڈر سال کے پہلے کام کاج کے دن روایت کے مطابق گورنر کا خطاب ہوتا ہے۔ لہٰذا اس دن گورنر رام ناتھ کووند کے تقریبا ایک گھنٹے کا خطاب پُر امن طریقے سے ہوا اور اس کے بعد کچھ سرکاری کام بھی ہوئے۔ پھر اگلے ہفتے کے پہلے دن وزیر خزانہ عبد الباری صدیقی کا تقریبا 20 منٹ کا بجٹ پیش ہوا۔ گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تجویز پر بھی چرچا ہوا اور وزیر اعلیٰ کی تقریر ہوئی۔ لیکن ایک مارچ سے عبد الجلیل مستان معاملے نے ایوانوں کو اپنے قبضے میں لے لیا اور پھر تین دنوں تک یہ مسئلہ چھایا رہا۔ مہا گٹھ بندھن سرکار میں کانگریس کوٹے کے نوآبادکاری کے وزیر عبد الجلیل مستان نے پورنیہ ضلع کے آمور میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں نازیبا اور مریادا سے ہٹ کر ریمارکس تو کیا ہی، وزیر اعظم کی تصویر پر لوگوں کو جوتے چپل برسانے کے لئے اکسایا بھی۔ یہ حادثہ شرمناک تھا اور سبھی نے اس کی مذمت کی بھی۔
اسمبلی اسپیکر وجے کمار چودھری، وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور مہا گٹھ بندھن کے سب سے بڑے اتحادی راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر نے تو مذمت کی ہی، ریاستی کانگریس اور ریاست کے وزیر تعلیم اشوک چودھری اور کانگریس ایم ایل اے پارٹی کے لیڈر سدا نند سنگھ نے بھی سخت لفظوں میں مذمت کی۔ خود عبد الجلیل مستان نے اپنے طرز عمل کے لئے عوامی طور پر افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن بی جے پی اور این ڈی اے کے اس کے اتحادی پارٹی ، وزیر کے استعفیٰ یا ان کی برخاستگی سے کم پر ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اپنی مانگ کو لے کر وہ گورنر کے پاس بھی گئے تھے۔بی جے پی کے لیڈروں نے اعلان کر دیا کہ وزیر کی برخاستگی کے بغیر وہ اسمبلی کو چلنے نہیں دیں گے،لہٰذا ہفتہ کے بقیہ دنوں میں ایوان کی کارروائی کو ٹھپ کیا۔
ویسے مستان معاملے کے پہلے، اپوزیشن نے بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن کے سوال نامے کا لیک گھوٹالہ،پیپر گھوٹالہ کا مسئلہ اٹھائے رکھا۔ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ پر زور دیا تو وزیر اعلیٰ نے سی بی آئی کو سونپ گئے معاملوں کی بدحالی کا بیورا دیتے ہوئے اس مانگ کو خارج کر دیا ۔پیپر گھوٹالہ کے معاملے میں اپوزیشن کا کھوکھلا پن بھی کھل کر سامنے آیا۔ اس مسئلے کو لے کر اپوزیشن کے پاس کچھ بھی ایسی حقیقت نہیں تھی جو برسراقتدار کو گھیر سکے۔ اس نے بڑی مشقت سے ایک ایس ایم ایس اوپر کیا جو اسمبلی کے اسپیکر کے پرسنل اسپیکر کا تھا۔ یہ ایس ایم ایس گزشتہ مہینوں میں اے این ایم کی بھرتی کے سلسلے میں کسی کی پیروی کے لئے بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن ( بی ایس ایس سی ) کے اس وقت کے صدر (اب گرفتار ) سدھیر کمار کو بھیجا گیا تھا۔
درحقیقت اپوزیشن ان حقائق کا بھی جگاڑ نہیں کر سکا جن کے اشارے ایس آئی ٹی سے پوچھ تاچھ کے دوران بات میڈیا میں آئی تھی۔ اپوزیشن کی اس اطلاع کا فائدہ برسراقتدار پارٹی نے اٹھایا۔ اپوزیشن کی تمام قواعد ہنگامہ بھر بن کر رہ گئے ۔ اس سے اپوزیشن کو بھی کیا ملا؟ ہاںریاست کی ترقی اور عوامی فلاحی پروگرام پر نظر رکھنے کی اپنی بنیادی ذمہ داری کی تعمیل میں عوامی نمائندے کس حد تک کامیاب یا ناکام رہے،یہ غور کرنے کا موضوع بن گیا ہے۔
مستان معاملہ نے تو بی جے پی کے سیاسی طریقہ کار کو ہی سوالوں کے گھیرے میں ڈال دیا ہے۔ عبد الجلیل مستان کی جس نازیبا ریمارکس کے نام پر اسمبلی کو ٹھپ کیا گیااور وزیر سے استعفیٰ کی مانگ پوری ہونے تک ایوان نہیں چلنے دینے کا عہد لیا گیا۔ وہ 22فروری کا واقعہ ہے۔ مستان نے وزیر اعظم کو نکسل اور ڈاکو کہا تھا اور ان کے اکسانے پر ہی نریندر مودی کی تصویر پر جوتے برسائے گئے تھے۔حالانکہ اس واقعہ کو ایک مقامی خبر کے چینل پر 23 فروری کو دکھایا گیا تھا۔ لہٰذا بہار بی جے پی لیڈروں کو اپنے بڑے لیڈر کے وقار کی فکر اور اسے اس طرح ظاہر کرنے میں کوئی ہفتہ کا وقت لگ گیا۔
اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے سیاسی استعمال کو مرکزی قیادت نے پہلے سمجھا، ریاست کے لیڈروں نے بعد میں ۔ایسا کیوں ہوا؟ اس بارے میں بہتر وہی بتا سکتے ہیں۔ یہ بھی کم اہم نہیں ہے کہ امَور سے پورنیہ ضلع دفتر کی دوری کوئی 35 کلو میٹر ہے ۔لیکن پارٹی کی ضلع قیادت کو اس واقعہ پر رد عمل ظاہر کرنے میں پانچ دنوں کا وقت لگ گیا۔ بی جے پی کے ذرائع پر بھروسہ کریں تو اس واقعہ کی جانکاری ریاستی لیڈروں کو 23 فروری تک مل گئی تھی لیکن وہ خاموش رہے اور اسمبلی چلتی رہی۔ لیکن اس کی خبر جب قومی صدر امیت شاہ کو ملی اور انہوں نے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اس کا سیاسی فائدہ لینے کے لئے ویڈیو مانگا تو پارٹی کے علاقائی لیڈروں کی خاموشی ٹوٹی تو کیا مستان معاملے کو لے کر حکومت اور اپوزیشن میں نورا کشی کا بہار گواہ بنا؟اس کا جواب بھی بی جے پی کے بڑے لیڈر ہی دے سکتے ہیں۔
اسمبلی کے اسپیکر وجے کمار چودھری نے مستان معاملہ سے بنے حالات کو نارمل بنانے کی ہر ممکنہ کوشش کی ۔لیکن سیاست دانوں نے ان کی کوشش کو ناکام کر دیا۔ اس معاملے کے سامنے آتے ہی انہوں نے سبھی پارٹیوں کی میٹنگ منعقد کی تاکہ ایوان اپنا کام کاج نمٹا سکے۔ پھر ورکنگ کمیٹی کی بھی میٹنگ منعقد کی۔ اپوزیشن کے لیڈر ڈاکٹر پریم کمار خود کو ان میٹنگوں سے الگ رکھتے رہے۔ ان میٹنگوں میں ان کی پارٹی کے لوگ جاتے رہے لیکن وہ خود نہیں جارہے تھے ۔لیکن ایوان کی کارروائی منعقد ہوتے ہی وزیر کی بارخاستگی کی مانگ کو لے کر خود بولنے لگتے تھے اور بی جے پی کے ایم ایل اے ویل میں آجاتے۔ ایم ایل ایز نے ایوان کے اندر بد نظمی بنائے رکھنے کے خیال سے کچھ بھی باقی نہیں رکھا۔ دہاہیوں کے بعد ٹیبل کرسی ٹوٹے۔
یکم مارچ سے لے کر 3 مارچ تک اسمبلی کی کارروائی کبھی ایک گھنٹے نہیں چلنے دی گئی ۔ ایسے حالات بنانے میں برسراقتدار نے بھی اس میں اپنا کردار ادا کیا۔ مستان معاملے میں ایک بات اور سامنے آئی۔ اپوزیشن اس مسئلے پر وزیر اعلیٰ سے بیان کی مانگ کر رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ آکر وزیر کی برخاستگی کا اعلان کریں۔یہ صحیح ہے کہ اپوزیشن کی یہ مانگ قبول کرنے کے قابل نہیں تھی لیکن حالات کو نارمل بنانے کے لئے برسراقتدار کی طرف سے کوئی اہم پہل بھی نہیں دکھائی گئی ۔ بہار سرکار کے کسی بڑے اور اہم وزیر نے ایوانوں میں اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کی کوئی پہل کی ہو، ایسا کبھی دکھا یا لگا نہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟اس کو بہتر طریقے برسراقتدار ہی بتائیںگے لیکن اتنا تو صاف تھا کہ بی جے پی سے نمٹنے کی ذمہ داری قانونی یا اخلاقی طور پر اسپیکر پر ہی چھوڑ دی گئی تھی۔ تو کیا ایوان کی حالت کے اس قدر بگڑ جانے میں برسراقتدار مہا گٹھ بندھن کی اندرونی سیاست بھی اپنا کردار نبھا رہا تھا؟سوال کا بہتر جواب برسراقتدار پارٹی ہی دے سکتی ہے۔
اسمبلی کے دونوں ایوانوں کی کارروائی کا سیدھا اثر ریاست کے انتظامیہ سسٹم کی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ اسمبلی میں بات چیت کے جتنے مواقع ہیں ان کا استعمال کرکے حکومت اور انتظامیہ کو ذمہ دار بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسے حالت بنے اور انتظامیہ سسٹم کی خوبیوں و خامیوں کی بحث ہو، اس کے کیل کانٹے درست کر کے سدھار کے بندوبست کئے جائیں۔ پارلیمانی نظام میں یہ برسراقتدار اور اپوزیشن کی برابر ذمہ داری ہے۔ اس میں بھی ایوان کی کارروائی کی ذمہ داری پوری طرح ممبروں کی ہوتی ہے۔ اس کے سارے کام ممبروں کی ہیں۔کوسچن پیپر، وقفہ صفر، وہسٹل بلوور کی اطلاع اور سرکار کاجواب اور بالآخر ورک آفر ۔لیکن گزشتہ دہائیوں میں عام طور پر ایوان کے اسی وقت کو بائیکاٹ کیا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ سبھی سیاسی پارٹیاں اور لیڈر ایوان کی ابتدائی کارروائی کو چلنے دینے اور اسے بائیکاٹ نہ کرنے کی بات ورکنگ کمیٹی کے اندر اور باہر کرتے رہے ہیں لیکن ایوان میں ان کا کردار ٹھیک اس کے برعکس ہوتاہے۔ جب پارٹیوں کے لیڈر ہی صحیح روایت کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو جونیئر ایوانوں سے آپ کتنی اور کیسی امید کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ایوانوں کی کارروائی چلانے کے طریقہ کار میں ایسی تجاویز کی کمی نہیں ہے جو ممبروں کو اپنے معاملے کے مواقع نہ دیتے ہوں لیکن پارٹیوں کے اندر کی اپنی پالیسی اور لیڈر کی تشہیر پسندی اورپارٹیوں میں اندرونی جمہوریت کی کمی، ممبروں کے مفا د کے آڑے آجاتی ہیں۔ پھر ذاتی سیاسی فائدے کا نقصان تو اپنی جگہ ہے ہی۔ برسراقتدار کے ممبروں کے اوپر سرکار کی شبیہ، لیڈر ( وزیر اعلیٰ اور وزیر وغیرہ ) کی پسند و ناپسند کا دبائو ہوتا ہے۔
یہ دبائو انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع پہلے بھی کم دیتا تھا۔ اب تو حالات اور منفی ہوتے جارہے ہیں۔ حالانکہ اپوزیشن پر ایسے دبائو نہیں ہوتے لیکن پارٹی کے اندر غور وفکر کا عمل کمزور ہونے اور مواقع کی مناسبت سے روایت کی قیادت کی سطح پر اندیکھی سے اپوزیشن پارٹیوں کے ممبروں میں ہڑبڑی کے جذبے میں اضافہ ہو رہا ہے، قانون و قاعدے کی اندیکھی کر کے اپنی بات کہنے کی جلد بازی۔ایسے حالت کی مار ریاست کی ان سب سے بڑی پنچایتوں میں عوامی مسائل اور عوامی توقعات کے اظہار پر پڑ رہی ہے۔ ان ایوانوں میں ان کی گونج کم سے کم ہوتے جارہی ہے ۔ ایسے حالات نوکر شاہی کو طاقت دیتے ہیں اور جمہوری اداروں کے کردار پر چوٹ لگاتے ہیں۔ اس سے دوسری خطرنا ک صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ عام آدمی کے درمیان جمہوری اداروں کو با اختیار اور ہم آہنگ بنائے رکھنے میں خاص پریشانی ہوتی ہے۔ یہ صورت حال قطعی افسوسناک ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *