برطانیہ کی پارلیمنٹ کے باہر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں پانچ افراد ہلاک، 40 زخمی

uk-attacklondonبرطانیہ کے دارالحکومت لندن میں کل پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے حملے میں پانچ افراد کی موت ہو گئی ہے اور 40 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے پہلے پارلیمنٹ سے تھوڑی ہی دور پر واقع ویسٹ منسٹر پل پر پیدل چلنے والے لوگوں کو کار سے کچلنا شروع کر دیا جس میں تین لوگوں کی موت ہو گئی اور اس کے بعد حملہ آور نے پارلیمنٹ کے قریب پولیس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ بعد میں حملہ آور بھی مارا گیا۔ پولیس اسے دہشت گردانہ واقعہ مان رہی ہے۔
وہیں برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا مے نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کو بزدلانہ کارروائی بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کی جگہ جان بوجھ کر شہر کے دل کے پاس منتخب کیا گیا ہے جہاں تمام ممالک، مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ آتے ہیں اور آزادی، جمہوریت اور بولنے کی آزادی کا جشن مناتے ہیں۔ انهوں نے کہا کہ جو بھی تشدد سے ایسے اقدار کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
برطانیہ کے سینئر انسداد دہشت گردی افسر مارک راؤلے نے کہا کہ حملے کی شروعات اس وقت ہوئی جب ویسٹ منسٹر پل کے قریب ایک کار نے لوگوں کو ٹکر مارنا اور کچلنا شروع کر دیا۔ بعد میں حملہ آور چاقو سے حملہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی طرف جانے کی كوشش کرنے لگا۔ اس دوران حملہ آور نے چاقو سے ایک پولیس اہلکار کو قتل کر دیا۔ پولیس کو یہ یقین ہے کہ وہ حملہ آور کی شناخت جانتے ہیں لیکن اس وقت وہ حملہ آور کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *