بدعنوانی کا شکار دینی مدارس بھی ؟

damiاتر پردیش میں مدرسوں کا دھندہ بے تحاشہ چل رہا ہے۔ ملک و بیرون ملک کے متعدد ذرائع سے آنے والا فنڈ دھندے بازوں کو مدرسے کا دھندہ چلانے کے لئے حوصلہ دیتا ہے۔ کئی ہندوستانی مشرق وسطیٰ کے ملکو ں میں محض اس لئے رہ رہے ہیں کہ وہ وہاں سے فنڈ حاصل کریں اور اپنے ذاتی اکائونٹ سے رقم ٹرانسفر کرتے رہیں۔ اس میں ایف سی آر اے (فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ)کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ مدرسے کا دھندہ چیریٹیبل سوسائٹی اور چیریٹیبل ٹرسٹ کا سہارا لے کر چلایا جارہاہے۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے کچھ دانشوروں نے مدرسوں کی آڑ لے کر چلائے جارہے دھندے کے خلاف سماجی مہم چھیڑ دی ہے۔
شیعہ مذہبی پیشوا اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا یعقوب عباس نے کہا کہ مذہبی تعلیم گاہ خدا کی عبادت کی طرح پاکیزہ ہوتی ہیں۔ اسے اپنے کردار سے ناپاک کرنا غیر مذہبی اور غیر اسلامی ہے۔ علماء فائونڈیشن کے صدر مولانا سید کوکب مجتبیٰ نے بھی کہا کہ مدرسوں کے نام پر دھندے چلانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔ اسلامی تعلیم کے ماہر علامہ ضمیر نقوی کی قیادت میں کئی دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے اس کا بیڑہ اٹھایا ہے اور ایران کی المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے متعلق اور کویت سے فنڈ یافتہ لکھنو کے دو مدرسوں سے اپنی مہم کا آغاز کیا ہے ۔
لکھنو کے سعادت گنج میں کشمیری محلے میں الزہریٰ ایجوکیشنل اینڈ چیرٹیبل سوسائٹی کے تحت چل رہے مدرسہ الزہریٰ اور مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کو مرکز میں رکھ کر مہم کی ابتدا کی گئی ہے۔ علامہ ضمیر نقوی کہتے ہیں کہ یہ مدرسے طالبات کو مذہبی تعلیم دینے کے لئے بنے ہیں۔ طالبات کے مدارس ہونے کے ناطے یہ زیادہ حساس ہیں، اس لئے یہاں سے مہم کی ابتدا کی گئی ہے۔ ان مدرسوں میں اصلاح ہوئی تو اس کا بڑا پیغام جائے گا اور دیگر مدرسے بھی سدھرنے کی طرف قدم بڑھائیں گے۔ زیادہ تر مدرسوں میں ملک و بیرون ملک کے متعدد ذرائع سے پیسے آتے ہیں اور اس کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ ان مدرسوں میں تمام غیر شرعی سرگرمیاں چلتی ہیں۔یہ انتہائی تشویش کی بات ہے۔ نقوی کہتے ہیں کہ الزہریٰ ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل سوسائٹی کا انسٹی ٹیوشنل اکائونٹ بینک آف بڑودا کی نخاص شاخ میں ہے، لیکن ملک و بیرون ملک کے متعدد ذرائع سے آنے والے فنڈ لکھنو کے نادان محل روڈ میں واقع آئی سی آئی سی آئی بینک (اکائونٹ نمبر 000401408949)میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ این آر آئی اکائونٹ ہے جو ادارہ کے صدر سید شمس نواب رضوی کے نام ہے۔ ادارہ کے صدر بیرون ملک میں ہی رہتے ہیں لیکن ان کے اس اکائونٹ کو ادارہ کے نائب صدر سید ظہیر حسین رضوی لکھنو میں آپریٹ کرتے ہیں۔ جبکہ مذکورہ بینک کھاتہ بنیادی طور سے آئی سی آئی سی آئی کی کویت شاخ سے متعلق ہے۔نقوی اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ مدرسے کو حاصل ہونے والی تمام رقم آئی سی آئی سی آئی کے ذاتی کھاتے میں وصول کی جاتی ہے اور پھر اسے ادارہ کے کھاتے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ الگ الگ چھوٹی چھوٹی رقوم مدرسے کے کھاتے میں جمع کرائی جاتی ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟اس طرح کی سرگرمیوں کی وجہ سے یہ صاف نہیں ہوتا کہ مدرسوں کے لئے کن کن ذرائع سے عطیہ رقم کتنی کتنی اور کب کب موصول ہورہی ہے۔ ضمیر نقوی کہتے ہیں کہ کویت کے ممبر پارلیمنٹ صالح احمد آشور کی طرف سے بھیجا گیا پیسہ بھی استعمال ہو رہا ہے، جس کی توثیق بینک کھاتوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔ ان کھاتوں کی جانچ کی قانونی کارروائیوں کے لئے بھی پہل ہو رہی ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ مدرسے کی آڑ میں کالے دھن کا دھندہ تو نہیں چل رہا ہے، جس طرح کی سرگرمیاں سامنے آئی ہیں، اس سے اس طرح کے اندیشے پختہ ہوتے ہیں۔
ان مدسوں کے تحت لڑکیوں کے ہاسٹل اور یتیم خانے بنائے جانے کے لئے ہردوئی روڈ کے غیر آباد علاقے میں 12 ہزار اسکوائر فٹ زمین خریدی گئی۔ نقوی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب زمین خرید لی گئی تو وہاں ہاسٹل اور یتیم خانے کیوں نہیں بنوائے گئے؟کیا وجہ ہے کہ لڑکیوں کے یتیم خانے کے لئے شہر سے دور بیاباں علاقے میں زمین خریدی گئی اور ہاسٹل کے نام پر ایک کروڑ روپے کا خرچ دکھا کر لکھنو کے شاہ نجف رستم نگر کے سامنے تین فٹ کی سنکری گلی میں ہاسٹل کے لئے ایک گھر (پلاٹ نمبر 565، مکان نمبر 390/067(036) آدھی رقم میں خرید لیا گیا ؟ہاسٹل کے لئے مذکورہ گھر کو 49لاکھ 16 ہزار روپے میں خریدا گیا، جس کی رجسٹری (بتاریخ 21-12-2015)میں 3لاکھ 43 ہزار روپے کا اسٹامپ لگا ، یعنی کل 52 لاکھ 59 ہزار روپے لگے۔لیکن اس ہاسٹل کو ایک کروڑ میں خریدا ہوا دکھایا گیا۔ صاف ہے کہ مالی بد عنوانی ہوئی۔ ہاسٹل کیلئے خریدی گئی عمارت کے رکھ رکھائو اور فینشنگ کا کام رضا کنسٹرکشن ورک (295/113اشرف آباد، تھانہ بازار خالہ لکھنؤ )کو دیا گیا تھا جس کے لئے اسے 12-01-2016 کو ایک لاکھ 70ہزار 240 روپے کی ادائیگی کی گئی۔اگر اس رقم کو بھی جوڑ دیا جائے تو ہاسٹل پر کل 54لاکھ 29 ہزار 240 روپے ہی خرچ ہوئے۔ پھر 45لاکھ 70 ہزار 760 روپے کہا گئے؟یہ سوال سامنے ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ مدرسے کے ذمہ دار اور الزہریٰ ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل سوسائٹی کے نائب صدر سید ظہیر حسین رضوی نے آئی سی آئی سی آئی بینک کے کھاتے سے 01-12-2015 کو 50لاکھ 50ہزار 439 روپے اور 41پیسے نکالے ۔ پھر 7-12-2015 کو 10لاکھ روپے نکالے گئے ۔بتاریخ 14-12-2015 کو پھر سے 10 لاکھ روپے نکالے گئے۔ بتاریخ 17-12-2015 کو بھی 10لاکھ روپے نکالے گئے اور پھر دو ہی دن بعد تاریخ 19-12-2015کو پھر پانچ لاکھ روپے نکالے گئے۔ یعنی ادارہ کے نائب صدر کی مداخلت سے محض 19 دن میں کل 85 لاکھ 50 ہزار 439 روپے اور 41 پیسے نکال لئے گئے۔ اتنی بڑی رقم آخر کس مد میں خرچ ہوئی؟اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
الزہریٰ ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل سوسائٹی سے حاصل دستاویز بتاتے ہیں کہ یتیم بچوں، بیوائوں،مریضوں وغیرہ کی مدد کے نام پر بھی بینک سے اندھا دھند پیسے نکالے جاتے ہیں۔ تاریخ 10-04-2014 کو ایک لاکھ 11 ہزار 265 روپے نکالے گئے تو اگلے ہی دن 11-04-2014 کو ادارہ کے بینک آف بڑودہ کے کھاتے سے 11 ہزار 395 روپے نکالے گئے۔پھر اس کے بھی اگلے دن 12-04-2014 کو 51 ہزار 548 روپے نکالے گئے ۔ تین دن بعد 15-04-2014 کو پھر ایک لاکھ روپے نکالے گئے۔ اسی دن قربانی کے نام پر دس ہزار روپے نکالے گئے۔ دوسرے ہی دن 16-04-2014 کو یتیموں کے نام پر 32ہزار 489 روپے نکالے گئے۔اسی دن 7ہزار 850 روپے اور نکالے۔ 17-04-2014 کو پھر 21ہزار 709 روپے نکالے گئے۔ یہ کچھ مثالیں ہیں۔ اس طرح بینک کھاتے سے بے تحاشہ پیسے نکالے جانے کے تمام اعدادو شمار سامنے آئے، جن کی جانچ ہو تو یہ پتہ چلے کہ فنڈ میں مل رہا پیسہ آتا ہے تو جاتا کہاں اور کس طرح ہے۔ کن لوگوں کی مدد میں پیسہ جاتا ہے، اس کا پورا بیورا گہرائی سے جانچ کا موضوع ہے اور یہ بھیانک بدعنوانی کا اشارہ دیتا ہے۔
مدرسے کا سالانہ خرچ کروڑ میں دکھایا جاتا ہے۔ اس کا بیورادیکھیں گے تو آپ کو حیرت ہوگی ۔اس میں ایسے خرچ بھی شامل ہیں جو کبھی ہوتے ہی نہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ ایران کی المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے الحاق ہونے کی وجہ سے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں جیسے کئی اخراجات تو وہاں سے آتے ہیں۔حالانکہ علماء فائونڈیشن کے صدر مولانا سید کوکب مجتبیٰ کہتے ہیں کہ ایران کی مذکورہ یونیورسٹی سے الحاق بتانا بھی فرضی واڑہ ہے، کیونکہ اس یونیورسٹی کی کوئی تعلیمی سرگرمی ہندوستان میں ہے ہی نہیں۔ اس یونیورسٹی کا نام ہی فرضی واڑہ گورکھ دھندوں میں چل رہاہے ۔
علامہ ضمیر نقوی کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے مدرسے کا پورا نظم و ضبط مردوں کے ہاتھوں میں ہے۔ مدرسے کا فارمولا کویت میں بیٹھے سید شمس نواب رضوی اور کویت کے ممبر پارلیمنٹ صالح آشور کے ہاتھوں میں ہے تو لکھنو میں مینجمنٹ کی باگ ڈور سوسائٹی کے نائب صدر سیدظہیر حسین رضوی اور سکریٹری مجتبیٰ حسین کے ہاتھوں میں ہے۔ لڑکیوں کے مدرسے میں سوسائٹی کے سکریٹری مجتبیٰ حسین کے بیٹے سبطین حسین اور نور عین حسین کی بھی زبردست مداخلت ہے۔یہاں تک کہ سکریٹری کے بیٹے کو بھی ادارہ سے پیسے ملتے ہیں۔
آئی سی آئی سی آئی بینک سے ملے دستاویز ایسے کئی عجیب و غریب لین دین کا خلاصہ کرتے ہیں۔ مثلاً سوسائٹی میں چپراسی رہے عنبر مہدی کو کچھ ہی وقفہ میں دو لاکھ روپے دیئے گئے۔ پیسے وصول کرنے والے لوگوں کی فہرست میں کئی نام ایسے ہیں جنہیں بار بار ادارہ کی طرف سے لاکھوں روپے دیئے گئے یا وہ ادارہ کی طرف سے بار بار پیسے نکال رہے تھے ، وہ بھی لاکھوں میں۔ عنبر مہدی ادارہ میں چپراسی تھے۔ عنبر کی دو بیٹیاں بی بی فاطمہ اور زیبا فاطمہ اسی مدرسے میں پڑھتی تھیں۔پھر بی بی فاطمہ اسی مدرسے کی پرنسپل بن گئیں۔لیکن بی بی فاطمہ عرف فرحا حدیث خان کو پرنسپل بنائے جانے کے بعد ہی عنبر مہدی کو سوسائٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔
شریعت کہتی ہے کہ عورتوں کے لئے بنے مذہبی مدرسوں کو اگر مرد چلا رہے ہوں تو اسے اسلامی دستور کی سختی سے تعمیل کرنی ہوگی۔ لیکن ان مدرسوں میں اس کے بالکل برعکس ہورہا ہے۔ نقوی اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ مذکورہ دونوں مدرسے دس سال سے چھوٹی عمر کی بچیوں کو مذہبی تعلیم دینے کے لئے بنے تھے، لیکن تین چار سال سے وہاں بالغ لڑکیاں پڑھائی جانے لگی ہیں۔ اردو اخبار ’’ نقیب ‘‘ کے ایڈیٹر مولانا آصف جائسی کہتے ہیں کہ اصولاً تو لڑکیوں کے مدرسے مولانائوں کے ذریعہ چلایا جانا چاہئے اور مدرسے کا اندرونی نظم و ضبط مولانائوں کی بیگمات اور دیگر خاتون ممبروں کے ذریعہ دیکھا جانا چاہئے، مولاناا جائسی کہتے ہیں کہ لیکن ان کا کیا ہے،یہ تو دھندے اور چندے کے لئے مدرسہ کھول لیتے ہیں، انہیں شریعت سے کیا لینا دینا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ مدرسے کی کئی طالبات اور اساتذہ کے ساتھ سوسائٹی کے صدر سید شمس نواب رضوی سمیت کئی لوگوں کے ’وہاٹس ایپ ‘‘ اور ای میل پر بھیجے گئے قابل اعتراض تجاویز اور بغیر حجاب کے فوٹو بھیجنے کے میل ، میسیج پکڑے جانے کے باوجود ان حرکتوں پر پردہ ڈال دیاگیا۔ لڑکیوں کو پاسپورٹ بنوانے اور بیرون ملک بلوانے کے لئے دبائو دینے کے میل ، میسیج بھی پکڑے جا چکے ہیں۔ لڑکیوں کے مدرسوں میں ہو رہی اس طرح کی بے جا حرکتوں پر اردو اخبار ’’ نقیب ‘‘ کے ایڈیٹر مولانا آصف جائسی کہتے ہیں کہ سوسائٹی کے مالک شمس کے بارے میں ایسی جانکاریاں تو ملتی رہی ہیں۔ خود تو کویت میں رہتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے کچھ خاص لوگوں کو یہاں رکھ چھوڑا ہے۔ کوئی مذہبی آدمی ہوتا تو مذہبی ادارہ کی شکل میں مدرسے قائم کرتا۔لیکن وہ مذہبی آدمی تو ہے نہیں۔ وہ تو کسی کا ایجنٹ ہے ، بہت چالو قسم کا آدمی ہے ، اس کا مذہب وغیرہ سے تو کوئی لینا دینا ہے نہیں۔ اس نے صرف کویت چولہ پہن رکھا ہے۔ مدرسہ وغیرہ کھولنا تو ویسے ہی ہے۔ اس کے پیچھے مقصد کچھ اور ہے۔ اس کے خلاف بہت سی خبریں آتی ہیں۔ یہ آدمی خود ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ ہونا چاہئے۔ شمس باہرملک سے بہت بڑی رقم لاتا ہے،لیکن اس کے بارے میں سرکار کو جانکاری دیتا ہے یا نہیں ،یہ تو سرکار ہی بتا سکتی ہے۔ جائسی یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلامی ماہر علامہ ضمیر نقوی نے مدرسے کی آڑ میں چل رہی کرتوتیں پکڑی ہیں اور اس کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ علامہ ضمیر نقوی نے کہا کہ جو لوگ پاکیزہ مدرسوں کو ناپاک کررہے ہیں، ان پر مذہبی پیشوائوں کو سختی سے پیش آنا چاہئے۔ نقوی کہتے ہیں کہ یہاں تو سوسائٹی کے صدر کے ساتھ ساتھ سارے عہدیدار اپنی حرکتوں میں مبتلا ہیں۔ صدر کی کرتوتوں کے بارے میں آپ نے سنا ۔وائس صدر سید ظہیر حسین رضوی بھی ویسے ہی ہیں۔ر ضوی نے بھی مدرسے سے ہی متعلق رہی ایک ٹیچر سے شادی کرلی، جبکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا۔ رضوی کی بیویوں کے لئے مدرسے کے پیسوں سے ہی گھر خریدے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی رضوی کی کئی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ اسی لئے مدرسے کے گورکھ دھندوں کی جانچ سی بی آئی سے ہونی چاہئے۔ جانچ کا موضوع یہ بھی ہے کہ ادارہ کے صدر سید شمس نواب رضوی جب غیر ملک میں رہتے ہیں تو ادارہ کی جدید کاری سمیت تمام قانونی ضابطے کیسے پورے ہو جاتے ہیں؟اس میں ضرور فرضی واڑہ کیا جارہا ہے۔
مدرسے میں دہشت کا ماحول ہے۔ ادارہ میں زبردست بدعنوانی ، قابل اعتراض فتنہ پرور تجاویز یا غیر مناسب سرگرمیوں کے خلاف جس نے بھی منہ کھولا ،اسے فوراً باہر نکال دیاجاتاہے۔ برخاست ہونے والوں میں ملازمین، اساتذہ اور طالبات شامل ہیں۔ مینجمنٹ کے سینئر عہدیداروں کی بے جا حرکتوں یا بدعنوانیوں کے خلاف انگلی اٹھانے والے کئی اساتذہ اور طالبات کی طرف سے مینجمنٹ کو لکھے گئے احتجاجی خطوط، ان سے جبراً لکھوائے گئے استعفیٰ، ادارہ میں زبردست افراتفری، قابل اعتراض سلوک اور تانا شاہی کے خلاف دئے گئے لڑکیوں کے تمام بیان ’’ چوتھی دنیا ‘‘ کے پاس دستیاب اور محفوظ ہیں۔ ہم ان اساتذہ اور طالبات کا نام نہیں چھاپ رہے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ کچھ اساتذہ اور طالبات نے تشدد، بدسلوکی کے خلاف احتجاج کا بگل بجا دیا ہے۔ ادارہ کے صدر اور دیگر عہدیداروں کے ذریعہ لڑکیوں کو لکھے گئے قابل اعتراض ’وہاٹس ایپ ‘ میسیج اور ای میل وغیرہ بھی ’’چوتھی دنیا ‘‘کے پاس محفوظ ہیں۔ اس کے بھی ثبوت ہیں کہ جس نے مینجمنٹ کے آگے سر جھکا دیئے، اس کے آگے ساری راحت و سہولتیں بچھا دی گئیں۔ ایسے کچھ خاص اشخاص کو مدرسوں میں اساتذہ کی تقرری کرنے کا اختیار بھی دے دیا جاتاہے اور اس کے نام و فون نمبر کے ساتھ اخبار میں اشتہار بھی چھپنے لگتے ہیں۔
اسلامی دانشوران اور مذہبی گروپ کے لوگ اسے بدقسمتی اور اسلام مخالف عمل بتاتے ہیں۔آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا یعقوب عباس کہتے ہیں کہ باضابطہ طور سے معاملہ پیش ہونے پر بورڈ اس کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے۔ باقاعدہ کمیٹی تشکیل کرکے جانچ کرائی جائے گی اور اسے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ مولانا عباس کہتے ہیں کہ مدرسے جیسی پاک جگہوں پر اس طرح کی سرگرمیاں چلتی ہیں تو ایسے مدرسوں پر پابندی عائد کردی جانی چاہئے۔ بورڈ اس معاملے کو باضابطہ طور سے پیش کئے جانے کے بارے میں پوچھنے پر علامہ ضمیر نقوی کہتے ہیں کہ اس معاملے کو نہ صرف بورڈ بلکہ قانون کی ہر دہلیز تک لے جائے جانے کی تیاری ہے۔
نقوی کہتے ہیں کہ دھیرے دھیرے ہم لکھنو اور یو پی کے تمام مدرسوں کی اصلاح کی پہل کررہے ہیں۔ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل سے جڑے علماء فائونڈیشن کے صدر مولانا سید کوکب مجتبیٰ نے اس بارے میں پوچھنے پر کہا کہ سوسائٹی اگر مدرسہ بورڈ سے منظوری لئے بغیر مدرسہ چلا رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے فنڈ کی نگرانی کے لئے بنے ایف سی آر اے کے تحت اگر کلیئرنس نہیں لی گئی ہے تو یہ مجرمانہ کام کے دائرے میں آئے گا۔ اس پر سیدھے کارروائی کی جاسکتی ہے۔ مولانا مجتبیٰ کہتے ہیں کہ لکھنو میں کچھ ہی مدرسے الحاق شدہ ہیں۔ باقی تو سب دھندے ہیں اور دکانیں چل رہی ہیں۔ کئی تو صرف کاغذی ہوتے ہیں۔ کئی مدرسے تو گھروں میں چل رہے ہیں،جہاں سے شدت پسندی کی تعلیم دی جارہی ہے۔ کئی ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں جس میں مدرسہ چلایا جارہاہے لیکن کاغذوں پر مدرسہ کانام ہٹا کر ہ چیریٹیبل یا ٹرسٹ کا نام لگا دیتے ہیں رجسٹریشن میں ۔مولانا کہتے ہیں کہ لکھنو میں سلطان المدارس ناظمیہ ، تنظیم المکاتب جیسے کچھ ہی منظور شدہ ادارے ہیں جو باقاعدہ دستور و قانون سے چل رہے ہیں۔ یہاں خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش سرکار کے ذریعہ منظور شدہ 359 مدرسوں کی لسٹ میں مدرسہ الزہری اور مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کے نام نہیں ہیں۔ مولانا سید کوکب مجتبیٰ کا کہنا ہے کہ وسائل اور فنڈ کے لالچ میں دکانوں کی طرح مدرسے کھولے جارہے ہیں۔ مدرسوں میں پیسے کا لین دین اتنا زیادہ ہے کہ مدرسہ بنا کر کوئی جلدی ہی امیر بن جاتا ہے۔ اس وجہ سے مذہبی تعلیم دینے کے بجائے مدارس پیسہ کمانے کا دھندہ بن گئے ہیں۔
فرضی مدارس کے جال
پورے اتر پردیش میں فرضی مدرسوں کا سیلاب ہے ۔متعدد رائع سے ملنے والے فنڈ اور مالی تعاون کے لالچ میں مدرسوں کا دھندہ چل رہا ہے۔ اتر پردیش کے 22ضلعوں میں تقریباً 200 ایسے مدراس پائے گئے جو حقیقت میں نہیں ہیں، صرف سرکاری فائلوں پر چل رہے تھے۔ مدرسوں کے نام پر یہ سرکار سے کروڑوں روپے حاصل بھی کر رہے تھے۔ ان فرضی مدرسوں کے پتوں پر پڑھانے، لکھانے کا کام نہیں، بلکہ الگ الگ قسم کی دکانداری چل رہی تھی۔ کہیں کوئی چائے کی دکان چلا رہا تھا تو کوئی بیوٹی پارلر ۔کسی کے گھر کا ایک کونا مدرسہ دکھایا جارہا تھا تو کہیں خالی پڑا پلاٹ۔ لکھنو میں بھی ایسے ایک گھر کو مدرسہ دکھا کر سرکاری پیسے کو لمبے عرصے سے چونا لگایا جارہا تھا۔ جبکہ اصل میں وہاں مدرسہ ہونے کی کوئی شناخت ہی نہیں تھی۔ کاغذ پر جس گھر میں مدرسہ دکھایا جارہا تھا، وہاں چھان بین کرنے پر کوئی ہندو کرایہ دار پایا گیا۔ اس نے وہاں مدرسہ ہونے کی بات پر بڑی حیرانی ظاہر کی۔ کئی مسجدوں کو بھی مدرسہ دکھایا جارہا ہے۔
میرٹھ میں تقریباً 50 مدرسے فرضی پائے گئے تھے۔ ان میں سے کئی نام نہاد مدرسوں میں پرچون کی دکان یا کوئی دوسرا دھندہ چلتا ہوا پکڑا گیا۔ فرضی مدرسوں کا دھندہ لمبے وقت سے چل رہا ہے۔ دھندہ کرنے والے لوگ سرکاری نمائندوں سے ملی بھگت کرکے سرکار سے ملنے والی رقم کی بندر بانٹ کر لیتے ہیں۔ ایسے کئی مدرسوں کی منظوری بھی رد کی گئی۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایسے فرضی مدرسوں کو اقلیتی فلاحی محکمہ اور متعلقہ سرکاری محکمہ کے افسروں و ملازموں کا تحفظ ملا ہوا ہے۔ ایسی بھی مثالیں سامنے آئی ہیںکہ فرضی واڑہ پکڑے جانے پر کچھ دنوںکے لئے انہیں کنارے کر دیا جاتا ہے اور کچھ وقفے کے بعد ان کا دھندہ پھر سے چلنے لگتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *