بابری مسجد کی شہادت کے ملزمان کے خلاف پہلے کارروائی پھر بات چیت: ڈاکٹر انصاری

article-0-11A13F09000005DC-512_468x311پرتاپ گڑھ ۔ مومن کانفرنس کے سابق قومی صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری نے کہا کہ بابری مسجد کو شہید کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ملزمان کے خلاف پہلے کارروائی کی جائے اس کے بعد باہمی گفتگو کی جائے ۔ سپریم کورٹ کا مشورہ ہے کہ فریقین بات چیت سے مسئلہ کا حل تلاش کریں ، لیکن ماضی کو دیکھتے ہوئے باہمی گفتگو سے مسئلہ کا تصفیہ ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے ایک جاری بیان میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ ماضی میں سات مرتبہ اجودھیا تنازع سے متعلق بات چیت سے مسئلہ کے حل کی کوشش کی گئی لیکن رام جنم بھومی کے فریقین کی ضد ہے کہ مسجد کی تعمیر کہیں اور کرائی جائے تو ایسے حالات میں بات چیت سے معاملے کا حل کیسے ہوگا؟ ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا مقام جہاں موجودہ وقت میں پوجا ہو رہی ہے اس کو چھوڑنے کیلئے کیا فریقین تیار ہوں گے ؟ بغیر رام مندر سے منسلک فریقین کی رضامندی کے کسی بھی صورت میں تصفیہ ممکن نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عدالت مقدمہ کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر دے۔عدالت کے فیصلے کے بغیر باہمی گفتگو سے اب تصفیہ ممکن نہیں ہے ۔ سبرامنیم سوامی نے عدالت کو یہ نہیں بتایا کہ گزشتہ حکومتوں کے ذریعہ سات مرتبہ اس مسئلہ پر بات چیت ہو چکی ہے ،لیکن نتیجہ صفر رہا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد درجنوں فسادات ہوئے جس میں جانی مالی نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے بابری مسجد کو شہید کیا ہے پہلے ان کو سزا دی جائے، اس کے بعد بات چیت کی جائے ۔اس سے کروڑوں لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *