انتخابی نتائج آنے کے بعد ملک میں ایک نیا سیاسی عمل شروع ہوگا

SATOSH-SIRپھر بیتلوا ڈال پر۔ اترپردیش انتخابات میںاب لگ بھگ یہی ہوگیا ہے۔ کوئی بھی یہ اندازہ نہیںلگا پارہا ہے کہ کون الیکشن جیتے گا؟ بھارتیہ جنتا پارٹی بہت جوش میں ہے۔ اس کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔ وہ پرچارکوں کی ایک بڑی فوج کے ساتھ اترپردیش کے انتخابات کے پرچار میںاتری، لیکن اجیت سنگھ نے پہلے دور میں اسے پریشان کردیا۔ الیکشن کے شروع میںہی اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کے اتحاد نے ہر جگہ یہ تاثر دے دیا تھا کہ وہ اقتدار کے مضبوط دعویدار ہیں او ر ان کا بنایا ہوا ماحول ابھی تک انھیں مایوس نہیںکررہا ہے۔ تیسری بڑی پارٹی مایاوتی کی ہے۔ مایاوتی ایک مضبوط سماجی اتحاد کے ساتھ انتخابات میں اتری ہیں، جس میں دلت سماج اور مسلم سماج ایک ساتھ رہ کر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ایسا لگ رہا ہے، لیکن ان میںسے سچ کیا ہے؟
اترپردیش کے انتخابات میںسب سے پہلے ہم اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کے اتحاد کی بات کریں۔ اس اتحاد میں سب کچھ اچھا دکھائی دینے کے بعد بھی دونوں پارٹیاںایک ساتھ مل کر الیکشن لڑتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہیں۔ کانگریس کے ووٹ سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کو نہیںمل رہے ہیں،بلکہ کانگریس پارٹی کے حامی سماجوادی پارٹی کے امیدواروںکی جگہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کی طرف جھکتے دیکھے جارہے ہیں۔ اکھلیش یادو کے لیے پہلا چیلنج ان کے اپنے حامی ہیں، جنھیں ٹکٹ نہیںملا اور وہ الیکشن میںکھڑے ہوگئے ہیں۔ دوسرا چیلنج ملائم سنگھ یادو کے حامیوںکا ہے، جو بھلے ہی بڑے پیمانے پر الیکشن نہ لڑ رہے ہوں، لیکن وہ اکھلیش یادو کے امیدواروں کو دل سے حمایت دیتے نہیںدکھائی دے رہے ہیں۔ ا س کے باوجود نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اکھلیش یادو کے ساتھ الیکشن میں کھڑا دکھائی دے رہا ہے اور عام طور پر یہ تاثر بنا ہے کہ اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کا اتحاد نوجوانوں کی امیدوں کو پورا کرنے والا اتحاد ہوسکتا ہے۔
لیکن اکھلیش یادو کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے خلاف ایک نئے ماحول کا ہونا ہے۔ پچھڑے طبقے کا سب سے مضبوط سماج یادو سماج ان کے ساتھ ہے اوریہ ماننا چاہیے کہ پورے طور پر ان کے ساتھ ہے لیکن یادو سماج کے علاوہ جتنے سماج ہیں، جنھیں ہم پسماندہ(بیک ورڈ) کہتے ہیں، جن میں کُرمی، کوئری او ر لودھی ہیں یہ سبھی لوگ اکھلیش یادو کے ساتھ نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ سبھی پچھڑوں میںیہ احساس گھر کرگیاہے کہ اکھلیش یادو صرف یادووں کو اقتدار میںاہمیت دینا چاہتے ہیں۔ بیک ورڈ کلاس کے دوسرے طبقوںکو اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے سماج جن میں سینی، کمہار ہیں، اس طرح کی بہت ساری ذاتیں جو تھوڑا تھوڑا مل کر بہت بڑا روپ اختیار کر لیتی ہیں، وہ سماجوادی پارٹی سے چھِٹک گئی ہیں او روہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف کھسک گئی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کچھ کرنا نہیں پڑا ہے۔ جب ملائم سنگھ اپنی قیادت میں حکمت عملی بناتے تھے تو وہ دوسرے سماج کو سیٹیں زیادہ نہیںدیتے تھے لیکن وہ یہ احساس پورے پسماندہ طبقے کو کراتے تھے کہ ان کے ساتھ جو لوگ ہیں ، وہی ریاست کے سب سے اہم لیڈر ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھاکہ یادووںکے علاوہ بیک ورڈ کلاس کے جتنے بھی سماج ہیں، وہ سب ملائم سنگھ کے ساتھ بڑی تعداد میں کھڑے دکھائی دیتے تھے۔اس بار اکھلیش یادو سے یہ چوک ہوگئی او روہ صرف اور صرف یادو سماج کے لیڈر کے طور پر سامنے ابھر کرسامنے آئے ۔ اس کے مضر اثرات انھیںبھگتنے پڑ سکتے ہیں کیونکہ پچھڑے سماج کے باقی طبقوںکے لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف چلے گئے۔
اسی اتحاد کا دوسرا حصہ کانگریس اپنے پرچارکوں کی فوج کے ساتھ میٹنگ تو کرنے میں کامیاب ہورہا ہے لیکن جس اسٹار پرچارک کے دم پر کانگریس کے کارکنوںمیں جوش یا امیدواروںمیںجیتنے کی حکمت علی بننی تھی، وہ ا انتخاب سے سرے سے دور ہیں۔ پرینکا گاندھی کو پورے اتر پردیش میںانتخاب میں پرچار کرنا تھا، جس کو لے کر کانگریس کارکنان بہت پُرجوش تھے، لیکن پرینکا گاندھی نے خبریںلیک کرائیںکہ اب وہ پورے اترپردیش میںنہیںبلکہ صرف رائے بریلی اور امیٹھی میںانتخابی پرچار کریںگی۔ جب وہ ایک دن کے لیے پرچار میںاتریںتو کارکنوںکو لگا کہ شاید اب وہ آگے بڑھیں، تب تک تین مرحلوں کی ووٹنگ ہوچکی تھی۔ شاید پرینکا گاندھی نے پرچار میںاترنا صحیح نہیںسمجھا۔ ہوسکتا ہے ان کے پاس یہ فیڈ بیک گیا ہو کہ کانگریس کو 40 سیٹوںکے آس پاس مل سکتی ہیں، اگر وہ پرچار میںاتریںتو ہوسکتا ہے ان کے اوپر یہ سوال کھڑا ہوجائے کہ پرینکا گاندھی کے پرچار کے باوجود کانگریس 80-90 سیٹیںنہیں جیتی۔ حالانکہ پرینکا گاندھی کے معتمد پرشانت کشور ، جنھیںبازار میں’پی کے‘ کہا جاتا ہے، ان کا ماننا ہے کہ 70 سیٹوں کے آس پاس کانگریس جیت سکتی ہے۔
اب مایاوتی جی پر آتے ہیں۔ مایاوتی جی گھوم رہی ہیں۔ کانگریس او راکھلیش یادو کے حق میںلالو یادو سبھائیںکررہے ہیں۔ اکھلیش یادو نے کامیابی کے ساتھ یہ بات مسلم ووٹروں کے دل میں ڈالی ہے کہ اگر مایاوتی اقتدار میںآنے کی کوشش کرتی ہیںتو بغیر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میںنہیںآسکتی ہیں ۔ یہی کام لالو نے کیا ہے،جس کو لے کر مایاوتی جی کو یہ بار بار بیان دینا پڑ رہا ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ اقتدار میںنہیںجائیںگی۔ مایاوتی کے ساتھ ایک الجھن یہ بھی ہے کہ دلتوںکے ساتھ جن انتہائی پسماندہ سماجوں کا رشتہ بنا تھا، وہ رشتہ اس الیکشن میںٹوٹ گیا ہے۔ مایاوتی کی پرانی حکمت عملی ہے کہ صرف اور صرف اپنے کو سامنے رکھو اور سب کی لیڈر کی شبیہ بناؤ۔ لیکن شاید اس الیکشن میںانھیںاس کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
سب سے آخر میں بھارتیہ جنتا پارٹی جو بغیر کسی چہرے کے الیکشن لڑ رہی ہے۔ اس نے بہار کی حکمت عملی اپنائی کہ صرف اور صرف نریندر مودی کے نام پر الیکشن لڑا جائے۔ نریندر مودی کی سبھاؤں میں بے پناہ بھیڑ ہورہی ہے ۔ اور پہلی بار نریندر مودی نے بھی قائم کیا ہے کہ وہ پارٹی کے لیڈر کے طور پر ہر جگہ میٹنگ کررہے ہیں۔ اس سے قبل کسی وزیر اعظم نے ریاستی انتخاب میںاتنی سبھائیںنہیں کی تھیں۔ نریندرمودی بالکل لوک سبھا انتخاب کی طرز پر زیادہ سے زیادہ اسمبلی حلقوںمیں جانے کی حکمت عملی بنا کر خالص انتخابی زبان کا استعمال کررہے ہیں۔ اس کی تنقید ملک میںاس لیے ہورہی ہے کیونکہ ان کے بیان سے ایشو زغائب ہیںاور صرف الیکشن جیتنے والی زبان روانی کے ساتھ نکل رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ ایسے بیان دیے جن سے یہ لگتا ہے کہ وہ الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بیان کہ گر گاؤںمیںقبرستان ہے تو شمشان بھی ہونا چاہیے۔ اس بیان کواچھی نظر سے نہیںدیکھا گیا۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی ہندو ہیں او روہ جانتے ہیںکہ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ اگر موت کے بعد موکش پانا ہے یا سورگ میںجانا ہے تو گنگا،جمنا یا کسی ندی کے کنارے ان کا داہ سنسکار ہونا چاہیے۔ اگر دہ سنسکار وہاں ہوتا ہے جہاں قبرستان بنا ہوا ہے تو پھر موکش ملے گا، اس میں شک پیدا ہوجائے گا۔ اگر قبرستان اور شمشان ایک ساتھ بنانے کی ان کی بات مان بھی لی جائے تو پورے ملک میںجیسے مندر- مسجد کا جھگڑا چلتا ہے، ویسا ہی جھگڑا قبرستان اور شمشان کا شروع ہو جائے گا۔ لوگ توقع کررہے تھے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اترپردیش سمیت ریاستوںکی ترقی کی ایک الگ تصویر پیش کریں گے لیکن شاید انھوںنے اسے پیش کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
اترپردیش کے الیکشن میںپسماندہ ذاتوں کا بی جے پی کے ساتھ ملنا اس کہاوت کو صادق کرتا ہے کہ بیتال پھر واپس ڈال پر چلاگیا۔ ہر الیکشن کی طرح یہ الیکشن بھی کسی کو اندازہ نہیں لگنے دے رہا ،نہ یہ احساس ہونے دے رہا ہے کہ 11 مارچ کو جب اسمبلی انتخابات کے نتائج نکلیں گے تو کون سی پارٹی یا کون سی پارٹیاں مل کر اقتدار میںآئیں گی؟
میری سمجھ سے یہ صورت حال جمہوریت کے مفاد میںہے۔ اگر ہم اندازہ لگالیں تو پھر الیکشن کی ضرورت ہی کیاہے؟ عوام اتنے سمجھدار ہوگئے ہیں کہ وہ کسی کو بھی اپنے دل میںجھانکنے نہیں دیتے۔ اب تک سروے ایجنسیاں سیاسی پارٹیوںکے ہتھیار کے طور پر اپنے کو استعمال کراتی آئی ہیں ۔اب لگتا ہے کہ 8 مارچ کو جب ایکزٹ پول کے نتائج سامنے آئیں گے تب یہ تصویر سامنے ضرور آئے گی۔ لیکن اب تک زیادہ تر سروے نتیجے آخری نتیجے سے الگ ہی دکھائی دیے ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ سروے کرنے والے یا ایکزٹ پول کرنے والے کبھی عوام سے معافی نہیںمانگتے کہ انھوں نے انھیں گمراہ کرنے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اترپردیش، پنجاب، گوا، اتراکھنڈ اور منی پور کے انتخابی نتائج آنے کے بعد ملک میںایک نیا سیاسی عمل شروع ہوگا، جس میںنئے سرے سے پارٹیوںکے بیچ بات چیت ہوگی۔ بہت ساری پارٹیاں جو ان انتخابات میںاپنا مطلوبہ مقام نہیں حاصل کرپائیں گی، وہ 2019 کے لیے ایک ساتھ ملتی نظر آئیںگی اور بھارتیہ جنتا پارٹی تھوڑی سخت اور تیز بھی ہوجائے گی او ر اس کی بھی کوشش کرے گی کہ کس طرح 2014 کا نتیجہ 2019 میںدکھائی دے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *