انتخابی مہمات کیا نفرت آمیز جملے بازیوںنے حقیقی مسائل کی جگہ لے لی ہے؟

damiمحمد آصف ا قبال، نئی دہلی
ملک کی پانچ ریاستوں میں جاری اسمبلی الیکشن میں میڈیا، عوام اور مرکزی حکومت سبھی کی سب سے زیادہ توجہ ریاست اترپردیش کے انتخابات پر ہے۔اس کی اہم ترین وجہ ریاست میں سب سے زیادہ اسمبلی امیدواروں کی تعداد ہے جو نہ صرف اپنی قسمت آزمانے میں مصروف عمل ہیں بلکہ اُن کی کامیابی و ناکامی ملکی سطح پر جاری سیاست پر بھی اثر انداز ہونے والی ہے۔ نیز ملک کی یہ واحد ریاست ہے جو ملکی سطح پر سیاست کے مزاج کو متاثر کرتی ہے۔اس کی ایک مثال تو بابری مسجد کی شہادت اور اس سے متعلقہ سیاسی جماعتوں کی منفی و مثبت سرگرمیاں تھیں جنہوں نے قومی و ریاستی ہردوسطح کی سیاسی جماعتوں کو کہیں ناکام ،کہیں کامیاب ،تو کہیں سیاسی بساط پر شناخت قائم کرنے اور بڑی کامیابی حاصل کرنے میں مدد کی۔دوسری مثال گزشتہ 2014کے لوک سبھا انتخابات ہیں جس میں ریاستی سطح پر کسی کو بڑی کامیابی نے مدہوش کردیا تو کسی کو حد درجہ ناکامی نے بے انتہا کمزور کر دیا۔ ان سب کے اثرات نہ صرف ریاستی سطح پر جاری سیاست میں نظر آئے بلکہ ملکی سطح پر بھی عوام نے خوب خوب محسوس کیے۔اس کے باوجود کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت دو الگ الگ سیاسی جماعتوں کے زیر سایہ اپنے کاموں کو انجام دے رہی ہے۔وہیں 2007سے 2012تک ریاست میںبرسراقتدار بہوجن سماج پارٹی کا لوک سبھا الیکشن میں صفایہ ہوگیا۔اور بی جے پی جسے 2012میں کل 47اسمبلی سیٹوں پر کامیابی ملی تھی ،کو پولرائزیشن اور جملے بازیوں کے نتیجہ میں لوک سبھا کی 80میں سے 71پارلیمنٹری سیٹوں پر کامیابی مل گئی۔بس پھر کیا تھا جسے دیکھو وہ بڑے منہ کا ہو گیا۔نازیبا گفتگو،نفرت آمیز گفتگو اور سماج کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ امن و امن کے خاتمہ کے لیے سرگرم عمل افراد آپے سے باہر نظر آنے لگے۔یہاں تک کہ سنگھ پریوار کی ڈکٹیشن پر چلنے والے وزیر اعظم جن کا خود کا کیڈر اس پورے منظر نامہ میں رنگ بھرنے میں مصروف عمل تھا،تنگ آگئے،اور کہہ ڈالا کہ یا تو ان لوگوں پر لگام کس دی جائے یا پھر میں استفعی دے دیتا ہوں۔
اترپردیش
ایک بار پھر اسی ریاست اترپردیش کی سیاسی آب و ہوا نے سب کے مزاج تبدیل کر دیے ہیں۔جس کے واضح اثرات انتخابی جلسوں اورریلیوں میں دیے جانے والے بیانات کی شکل میں ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ریاست کی سیاسی آب و ہوا نے ہر پارٹی کے لیڈر کی زبان کو کنٹرول سے باہر کر دیا ہے۔اس کے باوجود کے بنیادی مسائل بڑے پیمانہ پر موجود ہیں لیکن غیر شائستہ اورنفرت آمیز بنایات کی روشنی میں محسوس یہی ہوتا کہ کسی بھی پارٹی اور اس کے لیڈران کو ان کی فکر نہیں ہے۔ اس آگ میں گھی ڈالنے کا کام الکٹرانک میڈیا اور پیڈ میڈیا انجام دے رہا ہے۔نتیجہ میں حقیقی مسائل پیچھے چلے گئے ہیں اور بیان بازیاں منظر عام پر ہیں۔اس موقع پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ موجودہ دور میں لہجہ کا اتار چڑھائو اور الفاظ کا مسخرا پن،یہ سب سیاسی منیجرس طے کرتے ہیں اور اسٹیج سے بولنے والا سیاسی لیڈر صرف ان کی پیروی کرتا ہے اور کامیاب ہوتا ہے۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ جس سطح کا نظریہ ہوتا ہے اسی سطح کی زبان بھی استعمال کی جاتی ہے۔دوسرے الفاظ میں ہم اور آپ میں سے جو فرد جس سیاسی جماعت سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہے یا اسے اس کی توقع ہوتی ہے،اس فرد کی ذہنی ساخت کو پیش نظر رکھتے ہوئے جملے بازیوں کے محل تعمیر کیے جاتے ہیںاور جب الیکشن مکمل ہوجاتا ہے تو عموماً جملوں سے یا زہر آلود سیاسی فضا سے محظوظ ہونے والے محظوظ ہوچکے ہوتے ہیں،ان کے پاس کچھ نہیں بچتا،کیونکہ وہ اپنے قیمتی ووٹ کو ایک خاص فضا کی نظر کر چکے ہوتے ہیں،لہذا بقیہ مدت وہ خالی ہاتھ ہی رہتے ہیں۔
آئیے ایک نظر اترپردیش کی سیاسی آب و ہوا کا جائزہ لیں اور دیکھیں کس طرح ایک بار پھر لوک سبھا الیکشن کی طرح عوام بے وقوف بننے کو تیار ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ اتر پردیش میں چوتھے مرحلے کی 53 سیٹوں کے لئے انتخاب مکمل ہو گیا ہے۔لیکن اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے چونکہ ایک بڑی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں گجرات میں پیدا ہوا اور اتر پردیش نے مجھے گود لے لیا ہے۔اور جنہوں نے مجھے گود لیا ہے وہ اترپردیش تو میرا مائی باپ ہے میرا مائی باپ۔اس پر بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے گونڈا میں ایک بار پھر بی جے پی اور وزیر اعظم مودی پر حملہ بولتے ہوئے بی جے پی کو ہندوستانی جملہ پارٹی بتایا۔ اور وزیر اعظم کے گود لیے جانے والے بیان پر کہا کہ گود لئے بیٹے واپس گجرات جائیں گے اور اتر پردیش کی عوام یوپی کی بیٹی کو وزیر اعلی منتخب کرے گی۔دوسری جانب سماج وادی پارٹی کی خاتون ممبر پارلیمنٹ ڈمپل بھی بیان بازی میں پیچھے نہیں ہیں۔ڈمپل نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی، وزیر اعلی اکھلیش کے ترقیاتی کاموں کو کمتر دکھانے کے لیے غیر شائستہ اور نفرت پھیلانے والی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ الہ آباد میں ایس پی امیدوار کی حمایت میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران ڈمپل نے مرکزی وزیراسمرتی ایرانی کے اُس بیان پر بھی چٹکی لی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس اور ایس پی کا اتحاد اس لئے ہوا کیونکہ کانگریس کمزور ہو گئی ہے۔ڈمپل نے کہا کہ راہل اور اکھلیش کے ایک ساتھ آنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ کیا وزیر اعلیٰ نے میٹرو اور ایکسپریس وے بنا کر کوئی غلط کام کیا ہے؟ ریاست کی عوام تو اسے غلط نہیں کہتی لیکن وزیر اعظم مودی کو یہ غلط لگتا ہے کیونکہ خود انہوں نے ایک بھی ایسا کام نہیں کیا۔ وہیں چوتھے مرحلے کی انتخابی مہم اورروڈ شو کے بعد بی جے پی کے ریاستی صدر کیشو موریہ نے اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت بننے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ سائیکل پنکچر ہو گئی ہے ہاتھی بیہوش ہو گیا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا کمل عوام نے کھلا دیا ہے ۔سنت کبیر نگر میں ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے جوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ راہل گاندھی کانگریس کے لیے سب سے بڑ ا اَپ شگن ہیں۔ساتھ ہی کہا کہ راہل جس امید واور کی تشہیرکرتے ہیں اس کی ہار پکی ہو جاتی ہے،جہاں ان کے پیر پڑ گئے وہاں گانگریس کا صفایا ہوجاتا ہے۔وہیں فتح پور میں جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے سادھوی نرنجن جیوتی نے اعظم خان کو للکارتے ہوئے کہا کہ ارے ماجم خان تیری اوقات کیا تیرے باپ میں بھی اوقات نہیں میری زبان کاٹنے کی ۔دوسرے لفظوں میں اسے ایسے پڑھا جا سکتا ہے کہ تیری اوقات کیا ہے تیرے باپ کی بھی اتنی اوقات نہیں ہے کہ میری زبان کاٹ سکے، اس کے باوجود کہ اعظم خان کا خود کا زبان کاٹنے کا بیان نامعقولیت سے بھر پورہے۔گرچہ یہ تمام بیانات سیاست کے حد درجہ گرتے معیار کو واضح کرتے ہیں ،ساتھ ہی عوام کی فکری عیاشی پر چوٹ کرتے ہیں۔اس کے باوجود ان بیانات نے مین اسٹریم میڈیا کو بڑے پیمانہ پر متوجہ نہیں کیااور شاید ان بیانات کی تشہیر میں پیڈ میڈیا سے وابستہ بکائو جرنلسٹ حضرات اور میڈیا انڈسٹری کے مالکان کو بھی زیادہ منافع کما کر نہیں دیا ہوگا۔جس بیان کے خوب چرچے ہوئے اور جاری ہیں وہ کچھ اور ہے۔
19؍فروری 2017فتح پور میں ایک بڑی ریلی کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ’ بھائیو بہنو‘ اگر گائوں میں قبرستان بنتا ہے تو گائوں میں شمشان بھی بننا چاہیے۔اگر رمضان میں بجلی ملتی ہے تو دیوالی میں بھی بجلی ملنی چاہیے”۔اوریہی وہ بیان ہے جس نے ریاست کی سیاسی فضا کو مکدر کر دیا ۔اس بیان نے نوجوان وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے تیور بدلے اور وہ بھی امیٹھی میں ایک بڑی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے بول اٹھے کہ “آپ نے ٹی وی پر گجرات کے گدھوں کا اشتہار دیکھا ہوگا ۔تو ہم تو صدی کے سپر اسٹار سے کہیں گے کہ آپ گجرات کے گدھوں کا اشتہار نہ کیجئے “۔وہ ہم پر الزام لگا رہے ہیں کہ ہم نے قربستان اور صرف ان کے لیے کام کیا ہے۔لے سے لے ملاتے ہوئے لالو پرساد یادو نے بھی ٹی وی چینل سے خاص بات چیت کے دوران وزیر اعظم کے قربستان اور شمشان کے بیان پر کہا کہ مودی اترپردیش الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتے ہیں، اس کے باوجود کہ نریندر مودی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے اور اکھلیش یادو بڑی اکثریت کے ساتھ جیت درج کریں گے۔ساتھ ہی لالو نے مودی کے نوٹ بندی کے فیصلہ پر تنقیدکرتے ہوئے اسے تانہ شاہی فیصلہ قرار دیا ۔لیکن بیان بازیوں کا معاملہ یہیں نہیں تھما،سماج وادی پارٹی کے اہم ترجمان اور وزیر اعلی اکھلیش یادو کے انتہائی قریبی راجندر چودھری نے تیسرے مرحلے کی پولنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کیااوروزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کو سب سے بڑا دہشت گرد بتادیا۔مانا جا رہا ہے کہ اتر پردیش میں جاری انتخابی مہم اب مکمل طور پر ‘مہابھارت’ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس میں جماعتوں کے رہنما بیان بازیوں کو ہتھیاروں کی جگہ استعمال کر رہے ہیں۔ ریاست کے اقتدار پر قابض سماج وادی پارٹی نے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔سماج وادی پارٹی کے ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ دونوں دہشت گرد ہیں۔ چودھری اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اتر پردیش میں گجرات کے دو جادوگر زور شور سے گھوم رہے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ اتر پردیش کا ووٹر سیاست نہیں جانتا اور اس کو گمراہ کیا جا سکتا ہے، لیکن یہاں کا ووٹر مریادہ کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ عوام کو گمراہ کرنا ایک سیاسی جرم ہے۔ ان جادوگروں کو اپنی روزی روٹی کے لئے دوسرا دھندہ اپنانا چاہئے۔
اس پستی کی وجہ کیا ہے؟
بیان بازیوں کے اس پورے گورکھ دھندے میں ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ سوال لازماً اٹھنا چاہیے کہ ان تمام بیانات کا کیا مطلب ہے ؟ کیا ترقی کے ایشوزکم پڑ گئے؟ یا مسائل ختم ہوگئے؟کیا نوٹ بند ی نے ملک کی معیشیت کو جس طرح نقصان پہنا یاہے ، وہ اترپردیش کی انتخابی مہم کا حصہ نہیں ہیں؟یا دوسری جانب نوٹ بندی کے فائدے جو بی جے پی پہلے گنا رہی تھی، وہ اب کیوں نہیں بتائے جا رہے ہیں؟کیا لاکھوں لوگوں کو دی گئی بے روزگاری کا مسئلہ ختم ہوگیا؟کہ بجلی کا بھی ہندو اور مسلمان میں بٹوارا ہورہا ہے؟دراصل، گزشتہ ڈھائی سال کے وزیر اعظم مودی کے دوراقتدار اور 2014 کے بی جے پی کے انتخابی وعدوں کو دیکھا جائے تو بہت واضح فرق صاف دکھائی دے گا۔ لوک سبھا انتخاب سے قبل پی ایم مودی کی تقریروں پر غور کریں تو ایک ماہ کے اندر اندر بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے، کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت، بلٹ ٹرین چلوانے، سمارٹ شہر بنوانے، گنگا صفائی، پاکستان کے خلاف ایکشن، بدعنوانوں پر گرفت،خصوصاًسونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کے خلاف کارروائی جیسے وعدے بڑے زور و شور کے ساتھ کیے گئے تھے۔لیکن ان تمام محاذ پر نہ صرف حکومت بلکہ بی جے پی بھی ناکام رہی ہے، اس کی شبیہ کو بھی نقصان پہنچا ہے اور وہ ہر سطح پر اب تک ناکام ہی دکھائی دے رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بلٹ ٹرین اور اسمارٹ سٹی کی بات پر انتخابی مہم کے دوران جملے سنائی نہیں دے رہے ہیں۔یہاں تک کہ 2016-17 کے عام بجٹ میں بھی اس پر ایک لفظ نہیں کہا گیا جبکہ اس سے قبل حکومت نے بے شمار مواقع پر وعدے کیے تھے۔ دوسری جانب بیرون ملک سے کالا دھن لانے کا تذکرہ بھی وزیر اعظم تقریباً ہر تقریر میں کیا کرتے تھے۔لیکن اس جانب ایس آئی ٹی کی تشکیل کے علاوہ حکومت اب تک کچھ نہیں کر سکی ہے۔ جس وقت ملک سے پرانے نوٹوں کو بند کرنے کی بات کہی گئی اس وقت نوٹ بندی کے عمل کو یہی بتانے کی کوشش کی گئی کی یہ کالے دھن کے خلاف کارروائی ہے۔لیکن سوال ابھی بھی برقرار ہے کہ کیا واقعی اندورن ملک و بیرون ملک نوٹ بندی کے عمل سے کالے دھن پر روک لگ گئی؟جن لوگوں نے کالا دھن جمع کیا ہوا تھا، کیا وہ کالا دھن اب پاک وصاف ہو کر سفید میں تبدیل ہو گیا؟کیا ملک کی معیشت نوٹ بندی کے عمل سے ،آگے بڑھ سکے گی ؟ملک اور اہل ملک ترقی کی راہوں پر تیز رفتاری کے ساتھ گامزن ہو سکیں گے؟ یا پھر معیشت کمزور ہوئی ہے؟بے روزگاری بڑھی ہے؟ترقی تھم گئی ہے اور اہل ملک حد درجہ پریشان ہوئے ہیں؟اس کے باوجودکہ جن کے پیٹ اورتجوریاں کل بھری تھیں وہ آج بھی بد مست زندگی گزاررہے ہیں اور عوام نہ صرف پریشانیوں سے دوچار ہوئی بلکہ بے شمار گھروںمیںہونے والی اموات نے انہیں مزید ایک طویل مدت کے لیے پریشانیوں سے دوچار کر دیا ہے۔اور روزگار،حساب لگائے یا جائزہ لیجئے کہ وہ بڑھا ہے یا گھٹ گیاہے؟نو ٹ بندی کے بعد تو مزید بڑے پیمانہ پر غیر منظم کاروبار اور ان سے وابستہ افراد لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار ی سے دوچار ہوئے ہیں۔نتیجہ میں چھوٹی فیکٹریاں متاثر ہوئی ہیں،طلب اور رسد دونوں ہی کم ہوئی ہیںاور عوام آج تک پریشانیوں سے دوچار ہیں۔اس کے باوجود کہ وزیر اعظم نے لوک سبھا انتخابات سے قبل ہر سال کم از کم ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا۔وہیں آپ یہ بات بھی جانتے ہیں کہ گنگا کی صفائی پر گزشتہ دنوں گرین ٹریبونل نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گنگا کی صفائی کے نام پر وسائل اور وقت کا صرف نقصان ہی کیا جا رہا ہے۔ضرورت ہے کہ جو وقت اور موقع اتر پردیش الیکشن کا بچا ہے اور جو حضرات اپنے ووٹ کا حق ابھی ادا نہیں کرپائے ہیں اور پانچویں ،چھٹے اور ساتویں مرحلہ میں ادا کریں گے، وہ خوب سوچ سمجھ کر اور اِن جملہ بازیوں اور بیان بازیوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے، اپنے ووٹ کا حق ادا کریں،نہیں تو ایک بار پھر پشیمانی کے لیے تیار رہیں!

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *