اس انتخابی شور میں جمہوریت کھو گئی ہے

SATOSH-SIRانتخابات گزر گئے۔لیکن انتخابات کی تلخ یادیں بہت دنوں تک پریشان کرتی رہیں گی۔ہندوستان میں انتخابات پہلے جمہوری عمل کی سب سے زیادہ مقدس علامت مانے جاتے تھے، جس میں عوام فیصلہ کرتے تھے کہ کون5 سال تک اقتدار میں رہے گا اور کون 5 سال تک عوام کے حق میں سرکار کے ذریعہ نہ کئے جارہے کاموں کو لے کر احتجاج کرے گا۔ دھیرے دھیرے جمہوریت کا یہ سب سے مقدس عمل کسی بھی طرح اقتدار حاصل کرنے کا ذر یعہ بن گیا، چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔
پہلے بھی جمہوریت میں انتخابات ہوتے تھے،لوگ ایک دوسرے کی مخالفت بھی کرتے تھے لیکن شام کو بیٹھ کر دن بھر کی سرگرمیوں کا لطف لیتے تھے، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھاتے پیتے تھے اور ہنستے ہنساتے بھی تھے ۔لیکن گزشتہ 25-20سالوں سے، ووٹنگ کے دوران ہوئی بدمزگی اب قتل تک پہنچ جاتی ہے۔ جن کے گھر کے لوگوں کے قتل ہوتے ہیں، انہیں بعد میں کوئی نہیں پوچھتا۔ نہ وہ جن کی حمایت کے لئے ان کا قتل ہوا اور نہ وہ جو اس قتل کولے کر دماغی طور پر پریشان رہے۔
ان انتخابات نے،چاہے پنجاب ، اتراکھنڈ یا اترپردیش رہا ہو، کہیں پر بھی ایشوز سامنے نہیں آئے۔جیتنے والی پارٹی کیا کرے گی، اس نے بتایا نہیں۔ مذہب اور ذات برادری کا مدعا آیا۔ اقتدار پر کسی بھی طرح قبضہ کرنا ہے،یہ سوال اٹھا۔سامنے والا کتنا چور، لٹیرا اور لُچا ہے، یہ سوال اٹھا۔لیکن ہم کیا کریںگے،یہ کسی بھی پارٹی یا لیڈر نے نہیں بتایا۔ شاید وہ یہ سب بتانا بھی نہیں چاہتے۔ دوسری طرف، لوگ جاننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ جہاں تک ووٹروں کا سوال ہے،ووٹر اس عمل سے اتنا زیادہ مایوس ہو گیا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ جس امیدوار یا پارٹی کو وہ ووٹ دے رہا ہے، اس پارٹی نے 5 سال پہلے اس سے کیا وعدہ کیا تھا۔ اس وعدے کو اس نے نبھایا یا نہیں نبھایا۔ وہ یہ بھی نہیںدیکھتا کہ 5 سال میں اس کا امیدوار کتنی جائیداد کا مالک بن گیا ہے یا پانچ سال میں قانونی یا غیر قانونی طریقے سے کتنی جائیداد جمع کی۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ جس امیدوار کو وہ ووٹ دے رہا ہے، اگر وہ پہلے سے جیتا ہوا ہے، تو اس نے اسمبلی میں اپنے حلقے یا ریاست کے لئے کوئی سوال اٹھایا ہے یا نہیں، بحث کی بھی ہے یا نہیں ۔
اسی لئے ،جیسے عوام ، اس کا ویسا نمائندہ ۔ عوام نے سوال اٹھانا چھوڑ دیا۔ عوام نے لیڈروں پر نکتہ چینی کرنا چھوڑ دیا ،عوام نے لیڈروں کو لے کر بحث اور بات چیت بند کر دی۔دوسری طرف لیڈروں نے اس صورت حال کو اپنے لئے فائدہ مند سمجھا، شخصی طور پر بھی اور پارٹی کے لئے بھی ۔ ہماری پوری جمہوریت ، پتہ نہیں کس چوراہے سے مڑ کر اس طرف بڑھنے لگی ،جس کا راستہ اجارہ دار حکومت کی طرف جاتا ہے۔
اب انتخابات پارٹی کے نہ ہو کر شخصیات کے ہو گئے ہیں۔ پارٹیوں سے لوگوں کو مطلب کم، شخصیت سے زیادہ ہو گیا ہے۔ پھر اگر وہ شخص مجرمانہ طریقہ کار سے جڑا ہے، اگر وہ شخص مجرموں کو تحفظ دیتا ہے یا اگر وہ شخص غیر قانونی دھندے چلاتا ہے، تب بھی اس کا کوئی اثر ووٹروں پر نہیں پڑتا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ وہ جسے چن رہے ہیں، وہ ریاست یا ضلعے کے لئے کتنا صحیح ہے۔
حالیہ انتخابات نے لوگوں کے دلوں میں بہت دوریاں پیدا کر دی ہیں۔خود بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو لیڈر، جن میں وزیر نقوی اور وزیر اوما بھارتی شامل ہیں، نے کہا کہ بی جے پی مسلمانوں کو ٹکٹ دیتی، تو اچھا رہتا۔دوسری طرف مسلمانوں کے درمیان یہ احساس گھر کر گیا کہ وہ بی جے پی کے تئیں کتنی بھی دلچسپی دکھائیں،ان کے لیڈر کتنا بھی امیت شاہ یا وزیر اعظم مودی سے ملنے کی کوشش کر لیں، لیکن بی جے پی انہیں دوسری ہی نہیں، تیسری سطح کا شہری مانے گی اور ان کے اقتدار میں حصہ داری کے سوال کو متعلقہ ہی نہیں مانے گی۔حالانکہ مسلمانوں کے بہت سارے نوجوان لیڈر اکھلیش یادو کے ساتھ انتخابی تشہیر کرتے نظر آئے اور اکھلیش یادو نے بھی مسلم سماج کو لے کر کوئی بھی ٹھوس منصوبہ اس انتخاب میں پیش نہیں کیا۔
ان انتخابات میں یادو اور انتہائی پسماندہ سماج میں ایک نئی دوری بن گئی۔ اعلیٰ ذات پورے طور پر بی جے پی کے ساتھ چلی گئی،ان کا پیغام مایاوتی اور اکھلیش یادو سے بہت کمزور پڑ گیا،جبکہ دوسری طرف یادوئوں کا ایک طبقہ بی جے پی کے پاس چلا گیا، لیکن بہت بڑا طبقہ اکھلیش یادو کے ساتھ رہا۔ مایاوتی سے یادو سماج سو فیصد دور رہا۔ دلت سماج کمزور ہوا کیونکہ دلتوں کے کئی سارے حصے مایاوتی کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کی طرف جاتے دکھے۔
ان تمام کشیدگی اور تضادات کے درمیان ابھی تک یہ صاف نہیں ہو پایا ہے کہ اتر پردیش میں بننے والی دوری کیا جمہوریت کی صحت کے لئے صحیح ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ لیڈر شاید اس دوری کو صحیح مانیںگے، عام لوگ ان بڑھتی دوریوں کے درمیان پستے رہیںگے،لیکن جمہوریت ان دوریوں کے بھنور میں چکر کھاتی ہوئی اقتدار اور سرکار کے بیچ ناچتی رہے گی۔ وہ لوگ جو جمہوریت کے پرستار ہیں ،جو جمہوریت کو اقتدار ،حکومت اور زندگی کا سب سے اچھا طرز مانتے ہیں، ان کے لئے یہ تشویش کی بات ہے کہ میڈیا کے لوگ بھی جمہوریت کو روندنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے اور نہ جمہوریت کی عزت اتارنے میں کسی سے پیچھے رہ رہے ہیں۔ شاید میڈیا کے لوگوں کو بھی جمہوری عقائد سے پرہیز یا گریز ہے۔ ظاہر ہے جب پورا سماج بھٹک رہا ہو، تو اکیلے میڈیا کو ہی کیوں قصوردیا جائے، اس لئے دل میں سوال اٹھتا ہے کہ کہاں ہیں سماج کے مصلحین، کہاں ہیں لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے لیڈر،کہاں ہیں ٹیلی ویژن پر بھائی چارے اور محبت کا پیغام دینے والے سادھو مہاتما اور مولانا۔ہم اس شور میں جمہوریت کو تلاش کرنے یا جمہوری عمل کو تلاش کریں تو آخر تلاش کریں کیسے؟

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *