اردو کے فروغ کے لئے فیصلے عمل دراامد میں تاخیر کیوں ؟

damiبہار میں یوں تو اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن یہ صرف کاغذ پر ہے۔ اس کا عملی نفاذ 36 سالوں بعد بھی ممکن نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ٹھوس کارروائی ہو رہی ہے۔ حکومت کے عزم اور اعلان کے باوجود اب تک نہ تو ہر اسکول میں اردو یونٹ قائم ہو سکا ہے اور نہ ہی اردو ملازمین کے تقرر کی کارروائی شروع ہو سکی ہے۔ حکومت کی اس سرد مہری کے خلاف اردو آبادی میں اضطراب اور بے چینی نظر آنے لگی ہے۔ محبان ا ردو حکومت کو اردو کے تعلق سے اس کے وعدے اور فرائض یاد دلانے اور اردو کو اس کا حق دلانے کے لیے سڑکوں پر اُترنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ 1981 میں ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کے دورِ اقتدار میں ملا تھا۔ اس کے عملی نفاذ کی بنیاد بھی کانگریسی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا نے ہی ڈالی تھی۔ لیکن اس کے بعد آنے والی غیر کانگریسی حکومتوں نے اس کے عملی نفاذ میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو اردو ریاست میں ہر جگہ رائج اور دخیل تھی وہ آج صرف اردو حلقوں اور اردو سے متعلق اداروں سے دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ شروع میں اردو کے نفاذ کے لیے اردو ٹرانسلیٹر، اسسٹنٹ ٹرانسلیٹر اور اردو ٹائپسٹ کے عہدوں پر جو اردو ملازمین بحال کیے گئے تھے وہ یا تو سبکدوش ہو گئے یا دنیا سے ہی سدھار گئے۔ جو عہدے خالی ہوئے انھیں پُر کرنے کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اردو ڈائریکٹوریٹ ڈیپوٹیشن کے سہارے چل رہا ہے۔ پرانے اردو ملازمین جو بچ رہے ہیں ان سے اردو کے کام چھوڑ کر باقی سارے کام لیے جا رہے ہیں۔ مگر انھیں آج تک ترقی نہیں مل سکی۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اردو کے ملازمین ہیں۔
جیتن رام مانجھی حکومت نے جاتے جاتے کچھ فیصلے عوامی مفاد میں تو کچھ مسلمانوں اور اردو کے مفاد میں بھی کیے جس میں 1765 اردو ملازمین کے تقرر کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ اس کے لیے 85کروڑ روپے منظور بھی کیے گئے تھے اور کیبنٹ نے بھی اپنی مہرتصدیق ثبت کر دی تھی۔ مگر بعد میں مگر بعد نتیش حکومت کی واپسی ہوئی تو انھوں نے مانجھی حکومت کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا۔ نظر ثانی میں مسلمانوں اور اردو کے تعلق سے لیے گئے سارے فیصلے رد کر دیے گئے۔ اس کے بعد انتخابی عمل شروع ہو گیا۔ اس انتخاب میں کانگریس۔آرجے ڈی اور جنتا دل یو کا اتحاد مضبوطی کے ساتھ اقتدار میں آیا، تو یہ امید پیدا ہوئی کہ اب اردو کے دن بہوریں گے۔ عظیم اتحاد حکومت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً دیڑھ ماہ بعد 4جنوری 2016کو اپنی رہائش گاہ پر محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اردو ڈائریکٹوریٹ کو حسب ضرورت ڈپٹی ڈائریکٹر اردو ، راج بھاشا افسر، اردو ٹرانسلیٹر اور اسسٹنٹ ٹرانسلیٹر مہیا کرا کے اسے بااختیار بنانے کا حکم دیا۔ اور سکریٹریٹ کے سبھی محکموں، ڈویژنل دفاتر، کلکٹریٹ، سب ڈویژن، بلاک اور سطحی دفاتر، ڈی آئی جی، ایس پی، ایس ڈی پی او، سبھی تھانوں، رجسٹریشن دفاتر اور ضلع ایجوکیشن آفس میں اردو ٹرانسلیٹر، اسسٹنٹ ٹرانسلیٹر، کلرک اور اردو آپریٹر کی تقرری کا عمل شروع کرنے کی واضح ہدایت جاری کی تاکہ اردو کے فروغ کا کام بلا روک ٹوک جاری رہ سکے اور اردو سے متعلق معاملات اور عرضیاں اردو میں نپٹائی جا سکیں۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ اردو ملازمین کے لیے سروس رولس تیار کر کے انھیں نافذ کیا جائے تاکہ ملازمین کی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری اشتہارات اور حکم ناموں کی اردو میں اشاعت کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی محکمہ اقلیتی فلاح، محکمہ مالیات اور محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے پرنسپل سکریٹری، اردو ڈائریکٹر پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی جو اردو کے فروغ کے سلسلے میں حکومت کو مشورے دے گی۔ اس کمیٹی کی تشکیل اردو مشاورتی کمیٹی کو نظر انداز کر کے کی گئی تھی۔ مگر تقریباً 14 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اب تک ان ہدایات پر عمل درآمد تو کیا اس کی ابتدائی کارروائی کا بھی پتہ نہیں ہے۔ یہ کمیٹی بھی اردو مشاورتی کمیٹی کی طرح غیر فعال اور غیر متحرک بنی ہوئی ہے۔ راج بھاشا اردو ایوارڈ کا سلسلہ گزشتہ 5 سالوں سے بند ہے۔ حالانکہ ہندی کے ایوارڈ لگاتار دیئے جا رہے ہیں۔ اردو مشاورتی کمیٹی، اردو اکادمی اور اردو ڈائریکٹریٹ کے ذمہ داران سیلف برانڈنگ میں مصروف ہیں۔
27 ہزار اردو اساتذہ کی بحالی کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔ ٹی ای ٹی کامیاب امیدوار ملازمت کے بجائے لاٹھیاں کھا رہے ہیں۔ ٹی ای ٹی متاثرہ امیدوار انصاف کی گہار لگاتار لگا رہے ہیں لیکن ان کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔ ریاست میں صرف پرائمری اور مڈل اسکولوں کی تعداد 68 ہزار ہے اور ہر اسکول میں ایک اردو ٹیچر کے تقرر کا فیصلہ نافذ ہوتا تو کم از کم 67 ہزار اردو اساتذہ ہوتے۔ اس کے علاوہ ہائی اسکولوں اور پلس ٹو اسکولوں میں اردو اساتذہ الگ ہوتے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اردو کے خالی عہدے پڑے ہیں۔ عربی اور فارسی کے اساتذہ کے تقرر کا تو دھیان ہی نہیں ہے۔
ایسے میں خبر آئی ہے کہ حکومت ایک سال کے تعطل کے بعد ایک بار پھر یوم بہار کے موقع پر جشن اردو منانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اردو ہر جگہ سے سمٹ رہی ہے اور حکومت اس کا جشن منانے کی تیاری کر رہی ہے۔ سرکاری پروگراموں میں بھی اردو کو جگہ نہیں مل پا رہی ہے۔ اردو اخبارات کو اشتہارات بھی ایمانداری کے ساتھ نہیں دیئے جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ تعصب سے کام لیا جار ہا ہے۔ اردو مشاورتی کمیٹی بھی ان تمام کمزوریوں کی طرف حکومت کی توجہ مبذول نہیں کرا رہی ہے۔ اردو ڈائریکٹوریٹ اور اردو مشاورتی کمیٹی سے لے کر اردو اکادمی تک سب کے سب سمینار، سمپوزیم اور مشاعروں کے انعقاد میں مصروف ہیں۔ ہر جگہ ادب کی بات ہو رہی ہے۔ زبان کے فروغ کا کوئی کام نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی اس پر کسی کا دھیان ہے۔ کوئی یہ سوچنے کے لیے تیار نہیں کہ جب اردو جاننے والے ہی نہیں ہوں گے تو اردو ادب کے قدرداں کہاں سے آئیں گے۔ ادب پاروں کو قاری کہاں سے ملیں گے۔ اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا نظم ہی نہیں ہو سکے گا تو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو پڑھنے والے اور تحقیق کار کہاں سے آئیں گے۔ حکومت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خالی ہونے والے عہدوں کو پہلے ہی سے پُر کرنے سے کترا رہی ہے۔ جب وہاں امیدوار ہی پہنچنے بند ہو جائیں گے تو اردو اساتذہ کے تقرر کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔ دیگر تمام شعبہ جات تو شاید کام کرتے رہیں گے مگر یونیورسٹیوں میں اردو ، فارسی اور عربی کے شعبہ جات دم توڑ دیں گے اور ان کی جگہ تقرری ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے گی۔ اردو سے متعلق سبھی ادارے صرف ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں۔ زبان کے فروغ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ یعنی اردو کی جڑیں سوکھ رہی ہیں اور پتیوں پر پانی کا چھڑکائو کیا جا رہے۔
بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے 15 سال بعد اردو قانون سازیہ کی زبان بنی اور اردو کا شعبہ قائم ہوا۔ کارروائی سے متعلق پروگرام اور کارروائی رپورٹ اردو میں تیار ہونے اور منظر عام پر آنے لگی۔ خبرنامہ اور دستاویز کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا مگر حالات اور صدر نشیں کے بدلتے ہی قانون سازیہ کا شعبہ اردو زوال پذیر ہوتا چلا گیا۔ قانون ساز کونسل میں جو 3 اردو رپورٹرس بحال کیے گئے تھے، ا ن میں سے ایک نے استعفی دے دیا، ایک کو سازش کے تحت ہٹا دیا گیا۔ خبرنامہ اور روداد کی اشاعت برسوںسے بند ہے۔ مگر حکومت تو کیا اردو سے متعلق ادارے بھی کان میں تیل ڈال کر سو رہے ہیں۔ پہلے اردو یا اہل اردو کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوتی تھی تو اس کے خلاف اردو نواز اور حق پسند عوامی نمائندے قانون سازیہ میں صدائے احتجاج بلند کرتے تھے اور وہاں سے حکومت کو انصاف کرنے کی ہدایت جاری ہوتی تھی۔ لیکن جب قانون سازیہ کی سطح پر ہی اردو کے ساتھ انصاف نہ ہو رہا ہو تو اہل اردو کہاں جائیں گے؟ اور جب کسی بھی سطح پر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوا تو اردو کے خدام اردو کو کیسے بچا پائیں گے یا کیسے انصاف دلا پائیں گے؟ اس طرح کے ہزاروں سوالات اہل اردو کی زبان پر ہیں مگر ان کے جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہے۔
2015 کے اسمبلی انتخاب کے بعد پہلی بار جب کانگریس اور اس کے بعد اقتدار سنبھالنے والی سبھی پارٹیاں مخلوط حکومت کا حصہ بنیں تو یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب اردو کے نام پر سیاست کا دور ختم ہوگا اور اردو کے سلسلے میں ٹھوس عملی اقدام کیے جائیں گے۔ کانگریس بھی اتحادی حکومت پر اردو کے سلسلے میں دبائو قائم کرے گی مگر سوا سال گزر جانے کے بعد بھی جب اس طرح کی کوشش نہیں ہوئی تو اہل اردو میں اضطراب اور بے چینی پیدا ہوئی اور اب وہ اس کے خلاف سڑکوں پر اُترنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس لڑائی میں اہل اردو کے ساتھ میر اردو ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا بھی ان کے ساتھ سڑکوں پر اُترنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو ہندستانی زبان ہے۔ ملک کی آزادی اور محبت کی زبان ہے۔ اس لیے اسے ریاست میں دوسری سرکاری زبان کے طور پر تمام مراعات حاصل ہونے ہی چاہئیں اور حکومت خواہ کسی کی بھی ہو، اردو جیسی شیریں، لطیف اور محب وطن زبان کے لیے اردو کے ہر شیدائی کو جماعتی وابستگی سے اوپر اٹھ کر کام کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اگر اردو ہماری غفلت کے نتیجے میں برباد ہو گئی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *