اترپردیش انتخابی تشہیر اور غیر معیاری بیانات نے ریکارڈ توڑا

damiاترپردیش اسمبلی انتخابات 2017 سیاسی لیڈروں کی تقریروں میںاستعمال ہونے والی سطحی زبان اور مضحکہ خیز بیانوں کے لیے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ اس الیکشن میںلیڈروںنے اپنے حریفوں کے لیے نہ صرف غیر مہذب اور ناشائستہ زبان استعمال کی، بلکہ الیکشن کو پولرائز کرنے کے لیے قصاب، گدھے، بجلی اور قبرستان سے لے کر شمشان تک کی باتیں کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اس کے علاوہ یہ انتخابات سیاسی پارٹیوںکی طرف سے ہونے والے بڑی تعداد میں روڈ شو، ریلیاں اور جلسے جلوس کے لیے بھی یاد رکھے جائیںگے۔
اترپردیش کی 17 ویں اسمبلی کی انتخابی تشہیر کے لیے سبھی پارٹیوںکے لیڈروں نے اپنی اپنی کامیابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جہاں 21 ریلیاںاور روڈ شو کیے، وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدرامت شاہ، سماج وادی پارٹی کے صدر اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو، کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اپنے اپنے امیدواروں کو جتانے کے لیے انتخابی تشہیر میںاپنی پوری طاقت جھونک دی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اترپردیش میںجہاں21 ریلیاں اور روڈ شو کرکے اپنی پارٹی کے لیے پسینہ بہایا، وہیںآخری مرحلے کی ووٹنگ سے قبل اپنے پارلیمانی حلقے میں تین دن سے زیادہ ڈٹے رہ کر بحیثیت وزیر اعظم ایک ریکارڈ بھی قائم کیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کی طرف سے وزیر اعظم کی ریلیوںکی مانگ مسلسل بڑ ھ رہی تھی۔ نتیجتاً وزیر اعظم نے بھی ان کی خواہش کا احترام کیااور انھوںنے ان کی مانگوںکو پورا کرنے میں کوئی کنجوسی نہیںبرتی۔وہ بہت سے مقامات پرگئے اور ریلیوں و جلسہ عام کو پورے جوش و خروش کے ساتھ خطاب کیا۔ الیکشن کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے 4 جنوری کو میرٹھ سے ریلی کی شروعات کی۔ اس کے بعد انھوںنے علی گڑھ، غازی آباد، بجنور، بدایوں، لکھیم پور کھیری، قنوج، ہردوئی، بارہ بنکی، فتح پور، اُرئی، الہ آباد، گونڈہ، بہرائچ، بستی او رمئو میںعظیم الشان ریلیوںسے بھی خطاب کیا۔ 3 مارچ کو وزیر اعظم نے مرزا پور، 4 مارچ کو جونپور اور وارانسی میںروڈ شو اور جلسہ عام سے خطاب کیا۔ 5 مارچ کو وارانسی میںروڈ شو اور جلسہ کیا ، 6 مارچ کو بھی وارانسی میںکئی پروگرام کیے اور روہنیا میں ریلی کی۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے انتخابی حلقہ میںتین دن سے زیادہ کا وقت گزار کر اپنے انتخابی حلقہ میںسب سے زیادہ دن گزارنے کا ناقابل تسخیر ریکارڈ بھی قائم کیا۔ وزیر اعظم کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امت شاہ، ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ،اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، سینئر لیڈر کلراج مشر، اوما بھارتی اور منوج سنہا وغیرہ قدآور لیڈروں نے بھی اپنی پارٹی کی انتخابی تشہیر میںخوب محنت کی اور پسینہ بہایا۔
سماجوادی پارٹی کے صدر اور یوپی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادونے بھی انتخابی تشہیر میںکوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انھوں نے 200 سے بھی زیادہ سبھائیںکی اور ایک دن میںتین سے سات جلسہ عام تک کو خطاب کیا ، اس کے ساتھ ہی وہ روڈ شو میںبھی شامل ہوئے۔ اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو نے بھی اپنی پارٹی کے لیے خوب پسینہ بہایا اور وہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میںسماجوادی پارٹی کی دوسری سب سے بڑی پرچارک کے طور پر دکھائی دیں۔ البتہ سماجوادی پارٹی کے بانی سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو اس الیکشن کی انتخابی تشہیر میںبہت کم نظر آئے۔ اس بار انھوں نے صرف چار سبھائیں کیںجبکہ ان کے بھائی اور سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر شیو پال محض اپنے انتخابی حلقہ تک ہی محدود رہے۔
کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے بھی انتخابی تشہیر میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ انھوںنے تقریباً 55 جلسے اور روڈ شو کیے۔ اس کے علاوہ سماجوادی پارٹی اور کانگریسکے گٹھ بندھن میںراہل اور اکھلیش نے مشترکہ طور پر روڈ شو اور سبھائیںکرکے اپنے گٹھ بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے خوب پسینہ بہایا۔ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ریاستی صدر راج ببّر اور اترپردیش کے انچارج غلام نبی آزاد نے بھی اسٹار پرچارک کے طور پر اپنے امیدواروں کے لیے خوب محنت کی۔ لیکن کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اپنی طبیعت علیل ہونے کی وجہ سے اس الیکشن میں کسی بھی ریلی میںشرکت نہیں کرسکیں۔ پورے الیکشن میںوہ کہیں نظر نہیںآئیں، جبکہ ان کی بیٹی پرینکا گاندھی بھی صرف دو جلسوں میںشامل ہوسکیں۔ حالانکہ امید کی جارہی تھی کہ اس بار پرینکا گاندھی پورے اتر پردیش میںانتخابی تشہیر کریں گی ۔ اس کے علاوہ یہ بھی خبر پھیلی تھی کہ پرینکا گاندھی ، اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کے ساتھ بھی مشترکہ طور پر ریلیاںکریں گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا، لوگ ان کا انتظار کرتے ہی رہ گئے۔
بہوجن پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اترپردیش اسمبلی انتخابات میں ’ہم کسی سے کم نہیں ‘ کے مصداق ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ انھوں نے 51 ضلعوں میں سبھائیں کرکے انتخابی ماحول کو اپنے حق میںبنانے کے لیے خوب محنت کی۔ ان کے ساتھ ہی ان کی پارٹی کے جنرل سکریٹری ستیش مشرا اور نسیم الدین صدیقی نے بھی انتخابی تشہیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ راشٹریہ لوک دل کے صدر اجیت سنگھ اور ان کے بیٹے جینت چودھری نے بھی اپنی پارٹی کے امیدواروں کو جتانے کے لیے خوب پسینہ بہایا۔ انھوںنے نہ صرف مغربی اترپردیش میںبلکہ پوروانچل میںبھی اپنی پارٹی کے لیے خوب محنت کی۔
اس طرح اترپردیش کے اسمبلی انتخابات اپنے لیڈروں کے بیانات اور جلسے جلوسوںکے تعلق سے ایک یادگار بن گئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *