اترپردیش – اتراکھنڈ ایشو لیس رہے اسمبلی انتخابات

damiاترپردیش اور اتراکھنڈ کے اسمبلی انتخابات اناپ شناپ بیان بازیوںمیںنمٹ گئے۔ نہ کوئی ایشو سامنے آیااور نہ ہی کوئی ٹھوس منصوبہ۔ لوگوںکو ’رشوت‘ کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کرنے کا رویہ کھل کر ظاہر ہو ا۔ مقامی زبان میںکہیںتو یوپی کا الیکشن لیڈروں کے ’ال بل سل‘ میںنمٹ گیا ۔ سماجوادی پارٹی کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے منشور جاری کیے لیکن بی ایس پی کا منشور نہیں آیا۔
منشور میںبھی ایشو کم اور ’رشوت‘ کا اثر زیادہ تھا۔ لوگوںکو مفت لیپ ٹاپ ، مفت اسمارٹ فون، مفت پریشر کوکر، 25 روپے دیسی گھی اور سستی شرح پر بجلی اور پانی دینے جیسے وعدے تو شامل ہوئے لیکن وسیع پالیسیوں پر مبنی پروگراموںکا فقدان رہا۔ کسی بھی پارٹی نے اپنی انتخابی تشہیری مہم میںاترپردیش کے بنیادی ایشوز کا ذکر نہیں کیا اور اگر ذکر کیا بھی تو ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی منشا زیادہ ظاہر ہوئی۔ بجلی پر تھوڑا بہت چرچا ہوا تو وہ ہندو اور مسلمان میںبٹ گئی اور بوکھلائے ہوئے اکھلیش یادو ’گجرات کے گدھوں‘ کی چرچا کی سطح پر آگئے۔ اس الیکشن میںسیاست نے اپنی سطح کھونے کا بھی ریکارڈ بنایا۔ کسی نے خوب کہا ہے ؎
سیاست اتنی گری کہ بے ایمان ہوگئی
یوپی میںبجلی بھی ہندو مسلمان ہوگئی
جمہوریت تو بھیا طبیلہ ہوگیا
سیاست میںگدھوں پر جھمیلا ہوگیا
اترپردیش
اترپردیش کے مسائل بڑے اور پیچیدہ ہیں لیکن انتخابی مہم کی دوران نعرے ، جملے اور الزام تراشیوں کے شور میںاس ریاست کے سارے بنیادی مسئلے طاق پر چلے گئے۔ تقریباً بیس کروڑ کی آبادی والے اترپردیش میں اقتصادی نابرابری، بدعنوانی، صحت، تعلیم، روزگار، کاشت کاری، نظم و نسق جیسے سنگین سوال سامنے کھڑے ہیں لیکن سیاسی پارٹیوںکی انتخابی تشہیر میںان سوالوںکو قاعدے سے ترجیح نہیںملی۔ اگر کسی نے ان کا ذکر کیا بھی تو بیحد سطحی انداز میں۔
ایس پی – کانگریس اتحاد سمیت سبھی پارٹیاںاپنی ریلیوں اور سبھاؤں میں جٹی اور جٹائی گئی بھیڑ کو اپنی مقبولیت کا پیمانہ مان کر مست رہیں۔ لیڈروں کے سطحی طنز کی مقابلہ آرائی ہوتی رہی۔ ایشوز کی چرچا پر سارے لیڈر متضاد باتیںکرتے رہے۔ نوٹ بندی سے لے کر لاء اینڈ آرڈر اور سرجیکل اسٹرائک سے لے کر قبرستان اور شمشان تک کے مسئلے صرف سیاسی جملے بازیوںسے ہی ظاہر ہوئے۔ یہ ایشو نہیں بنا۔
کسی بھی لیڈر نے یہ نہیںکہا کہ ریاست کا بدحال نظم و نسق، زراعت، کسانوںکی بدحالی، بیمار ہیلتھ سروسز اور خراب تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ان کے پاس حل کیا ہے۔ انتخابی تشہیر میںجس لیڈر کو بھی دیکھئے، وہ ذاتی حملوں اور انفرادیت کی مقابلہ آرائی میں ہی لگا رہا۔ ایک مرکزی وزیر نے یہ ضرور کہا کہ اترپردیش میںچھوٹی صنعتوں کے وسیع امکانات ہیں لیکن انھوںنے اپنی پارٹی کی طرف سے ایسا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیںرکھا، جو ان امکانات کو پختہ کرنے کی بات کہتا ہو۔ اترپردیش کا کپڑا، مورتی ،لکڑی، پیتل، پتھر ، قالین، دری جیسی چھوٹی صنعتوں کا بھٹہ بیٹھتا جارہا ہے، لیکن اس پر کسی سیاسی پارٹی کا دھیان نہیںہے۔ اسمال، کاٹیج اور مائیکرو انڈسٹری سے جڑے لوگوںکو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جب یوپی میںچھوٹی صنعتیںہی مار کھا رہی ہیں تب آئی ٹی، بی پی او، لاجسٹکس، ہاسپٹلٹی اور ٹورزم ڈیولپمنٹ کی بڑی بڑی باتیں کرنے کا کوئی جواز نہیںہے۔ حالانکہ ان کے بارے میں اس الیکشن میںکسی بھی لیڈر نے کوئی ٹھوس بات نہیںکی۔
صنعتی دھندوں کی سب سے بڑی پریشانی بجلی ہے۔ آزادی کے اتنے سالوںبعد بھی اترپردیش کے ڈھیر سارے گاؤں اور قصبے بغیر بجلی کے ہیں تو ترقی کو لے کر کی جارہی بڑی بڑی بیان بازیوںکا بے معنی پن سمجھ میں آتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بجلی کے مسئلے پر ہاتھ رکھاتو باہمی حملے شروع ہوگئے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو بنارس میں 24 گھنٹے بجلی سپلائی ہونے کی بات کہنے لگے تو یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ کہہ کر پول کھول دی کہ بنارس کے مشہور کاشی وشوناتھ مندر میںچار گھنٹے سے زیادہ مستقل بجلی نہیںدی جاتی۔ اسی طرح دیویٰ شریف میں24 گھنٹے بجلی ملتی ہے جبکہ مہادیوا میںچار گھنٹے بجلی ملتی ہے۔ تیوہار کے موقع پر بجلی میںمذہبی امتیاز برتا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے بھاشن میںیہ بات کہی تھی۔
اس پر اکھلیش نے بوکھلا کر ’گجرات کے گدھوں‘ پر بات شروع کردی اور سیاسی سطح کو کافی نیچے لے گئے۔ وزیر اعلیٰ کے بیانوں کی اصلیت یہی ہے کہ سونیا گاندھی ، راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی اور امیٹھی کے کچھ گانووں میںآج بھی بچے لالٹین کی روشنی میںپڑھتے ہیں او رعورتیں مٹی کے تیل کی ڈھبری کی روشنی میںکھاناپکاتی ہیں ۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ اکھلیش کے دیہی باشندے ضلع اٹاوہ اور ملائم پریوار کے گڑھ مین پوری کے کئی گاؤں اندھیرے میںرہتے ہیں۔
امیٹھی ضلع کے صنعتی علاقہ جگدیش پور کے تحت آنے والی گرام سبھا کٹھورا کیمے ڈھائی لودھ کا پُروا گاؤںمیںراجیو گاندھی رورل الیکٹریفکیشن کے تحت کھمبے کھڑے کرکے تار دوڑا دیے گئے تھے لیکن ان میںبجلی نہیںدوڑی۔بجلی کنکشن کے لیے گاؤں کے لوگوں نے فیس بھی جمع کردی تھی او رمیٹر بھی لگا دیے گئے تھے لیکن کوئی لیڈر یہ نہیںکہہ پایا کہ بجلی سپلائی کو یقینی بنائیںگے۔
حالانکہ ایس پی اور بی جے پی دونوں نے اپنے انتخابی منشور میںزیادہ بجلی دینے کی بات کہی لیکن بجلی کی پیداوار اور فراہمی بڑا سوال ہے۔ ایس پی نے اپنے منشور میںکہا ہے کہ شہروںکے ساتھ ہی اب گانووں کو بھی 24 گھنٹے بجلی دیںگے۔ بی جے پی نے بھی اپنے منشور میںریاست میںحکومت بننے پر گاؤںاور شہر دونوںمیں24 گھنٹے بجلی دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اصلیت یہ ہے کہ ہر بار الیکشن سے قبل لیڈروںکو بجلی کی یاد آتی ہے اور الیکشن کے بعد وہ اسے بھول جاتے ہیں۔ ملائم کے اثروالے علاقہ مین پوری کے لوگ کہتے ہیںکہ بجلی دو سے چار گھنٹے ہی ملتی ہے، اس میںکیا کام ہوگا؟
یوپی میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہش مند کاروباریوں نے وزیر اعلیٰ کے سامنے ہی بجلی اور نظم و نسق کا ایشواٹھایاتھااور کہا تھاکہ اترپردیش میںکاروباری ماحول نہیںہے۔ حکومت بڑے بڑے منصوبوں اوران کے اصلاحی پروگراموںکا اعلان کرتی ہے لیکن فیتہ شاہی کے سبب وہ مشکل سے زمین پر پہنچتے ہیں۔ حکومت کی تمام اسکیموں کی پروگریس کی رفتار بھی بہت دھیمی ہے۔ کئی اسکیموںکا وجود صرف کاغذوں پر ہی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اسکیموںکے جائزے کے نام پر صرف خانہ پری ہوتی ہے یا پھر سرکاری کام کی نگرانی کا سسٹم ایسا ہوتاہے جس کی خود نگرانی کی ضرورت ہے۔ اس میٹنگ میںافسروںکو چست اور چوکنا رہنے کی ہدایات دی گئیں او ربس ختم شد۔ ساری سخت ہدایات ڈھاک کے تین پات ہوکر رہ گئیں اور ترقی وہیںکی وہیںٹھہر گئی۔اعداد وشمار کی تجزیہ کار کمپنی فورتھ لائن ٹیکنالوجیز کے ایک سروے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ اترپردیش میںبجلی کٹوتی سب سے بڑا ایشو ہے۔ یوپی کے قریب 20 فیصد لوگوں نے روزگار، معیشت اور ترقی کو سب سے بڑا ایشو بتایا جبکہ 10 فیصد لوگوں نے کہا کہ صاف پانی کی کمی سب سے بڑا ایشو ہے۔ اترپردیش کی آبادی کو دیکھتے ہوئے بجلی کو توانائی کے اہم ذرائع کے روپ میںاستعمال کرنے والے گھروںکی تعداد لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔
سرکاری اعداد وشمار ہی بتاتے ہیںکہ سال 2016 کے آخیر تک اترپردیش کے دیہی علاقوںکے 1,77,000گھروںمیںبجلی نہیں تھی۔ مارچ 2014 میں اس کی تعداد 1,85,900تھی۔ سروے میںیہ بات ابھری کہ جن گھروںمیںبجلی ہے، انھیںبھی بجلی نہیںمل پارہی ہے۔ اسی طرح یوپی کے لوگوںکے لیے سڑک، کھانا، نوٹ بندی، جرائم، بدعنوانی،زراعت، صفائی، صحت او رتعلیم ضروری ایشوز ہیں۔وزارت محنت کے اعدادوشمار کے مطابق ریاست میںمزدوروں کی آبادی 2009 سے 2015کے بیچ 1000 فی شخص پر82 سے گھٹ کر 52 رہ گئی۔بے روزگار نوجوانوںکی تعدادبہت زیادہ ہے۔2015-16 میں18-29 کے ایج گروپ میں 1000 لوگوںپر بے روزگاروںکی تعداد 148 تھی۔
ملک کوکئی وزیر اعظم دینے والا اترپردیش ترقی کے صرف نعرے ہی سنتا رہا ہے۔ ترقی کی رفتار یوپی میں دھیمی ہے جبکہ ترقی پر بیان بازی کی رفتار بہت تیز، ہرایک الیکشن میںاترپردیش بنانے کی باتیں کہی جاتی رہی ہیں، خواہ وہ ملائم رہے ہوں یا اکھلیش، اترپردیش کبھی اتم پردیش نہیںبن پایا۔ سال 2007 میں مایاوتی آئیں تو پورے پانچ سال اسمارکوں، پارکوں اور مورتیوںکی تعمیر میںالجھی رہ گئیں۔ اس کے بعد پھر سماجوادی پارٹی کی حکومت آئی۔ لیکن اکھلیش حکومت کی بھی زیادہ تر اسکیمیںبیچ میں ہی لٹکی رہ گئیں۔
آپ یاد کریں، اکھلیش نے اترپردیش کی ترقی کا جو ایجنڈا پیش کیا تھا، اس میںترقی کے 165 ایشوز شامل تھے۔ ان میں زراعت، توانائی، انفراسٹرکچر، سہولتیں مہیاکرنا، فروغ انسانی وسائل، حفظان صحت ، شہری ترقی، دیہی ترقی، کمزور طبقوںکے لیے سماجی تحفظ ، لیبر، انتظامی نظام کو مؤثر بنانا، شفافیت اور مؤثر بنائے جانے کے لیے نئی کوششوںکا ذکر تھا۔ میٹرو پرجیکٹ بھی شامل تھا۔ اسی طرح آگرہ – لکھنؤ ایکسپریس وے کا کام بھی ایجنڈے میںشامل تھا۔ میٹرو اور آگرہ ایکسپریس وے پر کام تو ہوا، لیکن زیادہ ترمسائل جوں کے توں ہی رہ گئے۔
عام شہری کہتے ہیںکہ انھیںٹھیک سڑک، درست بجلی اورپختہ قانون چاہیے لیکن انھیںیہ چیزیں نہیں ملیں۔کسان کہتے ہیںکہ چینی ملوں سے ان کے بقایاجات کی ادائیگی ہو، ان کی فصلوں کے مناسب دام طے ہوں اور ان پر قرض کا بوجھ نہ ہو، جس سے خود کشی کے واقعات نہ ہوں۔ لیکن کسانوں کی توقعات کے مطابق کوئی کام نہیںہوا۔ زراعت اور کسانوںکی ترقی کا کوئی منصوبہ ٹھوس شکل اختیار نہیںکرسکا۔ قومی زرعی ترقی کی منصوبہ بندی کے تحت پیداوار بڑھانے کے لیے کسان کھیت اسکیم بنائی گئی تھی۔ اس کے تحت کسانوںکو کھیتوںمیںجاکر تربیت دی جانی تھی۔ انھیں فصلوںکی بوائی، بیماری کا علاج، فصل کی کٹائی اور مڑائی وغیرہ کی تکنیکی معلومات دی جانی تھی۔ کسانوںکو کھاد کے استعمال اور فرٹیلائزر اسٹرینتھ ٹیسٹ کے لیے بھی آگاہ کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی کسانوںکو گوبر اور نامیاتی کھاد کے فائدے بھی بتائے جانے تھے لیکن اس اسکیم کوافسروںنے زمین پر ہی نہیںاترنے دیا کسان پوچھتے ہیںکہ وہ میٹرو ریل کھائیں یا ایکسپریس وے چبا جائیں۔ دوسری طرف کھیتوں میں گھٹتی ہوئی مین پاور بھی اہم مسئلہ ہے۔ اس کا بھی کوئی حل نہیںنکل سکا۔اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید زرعی آلات کی تشہیر و توسیع کے ساتھ ہی چھوٹے اور درمیانی درجہ کے کسانوں کو یہ آلات سستی شرح پر فراہم کرائے جانے چاہیے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
کسانوںکو کھاد کے استعمال اور فرٹیلائزر اسٹرینتھ ٹیسٹ کے لیے بھی آگاہ کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی کسانوںکو گوبر اور نامیاتی کھاد کے فائدے بھی بتائے جانے تھے لیکن اس اسکیم کوافسروںنے زمین پر ہی نہیںاترنے دیا کسان پوچھتے ہیںکہ وہ میٹرو ریل کھائیں یا ایکسپریس وے چبا جائیں۔ دوسری طرف کھیتوں میں گھٹتی ہوئی مین پاور بھی اہم مسئلہ ہے۔ اس کا بھی کوئی حل نہیںنکل سکا۔اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید زرعی آلات کی تشہیر و توسیع کے ساتھ ہی چھوٹے اور درمیانی درجہ کے کسانوں کو یہ آلات سستی شرح پر فراہم کرائے جانے چاہیے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اتراکھنڈ
چھوٹی سی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میںبھی یہی ہوا۔ سارے ضروری مسئلے جملوں، نعروں او رآپسی لڑائی میںہی پیچھے رہ گئے۔ کسی بھی پارٹی یا لیڈر نے پہاڑی ریاست کے بنیادی مسئلوںپر ہاتھ نہیں رکھا۔اتراکھنڈ ریاست بننے کے دور میںچلیںتو یاد آئے گا کہ اتراکھنڈ ریاست کی تحریک دراصل ریزرویشن کی مخالفت میںکھڑی ہوئی تھی جو بعد میںالگ ریاست کی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔ ریاست بننے سے پہلے یہاںکے لوگوںکو بے روزگاری کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا تھاکیونکہ لکھنؤ دور ہونے کی وجہ سے اترپردیش میںہونے والی ترقی کا فائدہ انھیںنہیںمل پاتا تھا۔پہاڑ کے لوگوںکو لگتا تھاکہ اسے سمجھے بغیر لکھنؤ میںبیٹھ کر پہاڑ کے لیے منصوبے بنادیے جاتے ہیںجن کا پہاڑ کو کچھ بھی فائدہ نہیںمل پاتا ہے۔ لیکن جب پہاڑ میںخود کی سرکار بن گئی تب بھی سرکاروںکارویہ ویسا ہی رہا جیسا لکھنؤ میںرہتا تھا۔ الگ ریاست بننے کے بعدجن حالات میںبہتری آنی تھی، وہ اب بھی جوں کے توںہیں۔
اتراکھنڈ بننے کے بعد لوگ چاہتے تھے کہ اتراکھنڈ کی زمین پر ان کا اختیار ہوگا۔ وہ چاہتے تھے کہ لینڈ ریفارم پر کام ہو اور حکومت چک بندی لاگو کرے۔لوگوںکے پاس روزگار کے ذرائع مہیا ہوں۔ لیکن کچھ بڑی سیاسی طاقتوںکے سبب سب کام ٹھپ ہی رہا۔ آج پہاڑ کے لوگوںکو لگتا ہے کہ الگ ریاست بنانے کے نام پر انھیںٹھگ لیا گیا۔ یہاں بدعنوانی عروج پر ہے اور غریبی و بے روزگاری کا گراف بڑھتا ہی جارہا ہے۔ پنچایتی راج نظام مضبوط ہونے کے بجائے نظر انداز کردیاگیا۔ چک بندی پر بھی کوئی کام نہیںہوا۔ آج جل ، جنگل اور زمین کا بندوبست نجی ہاتھوںمیںجارہا ہے اور ان پر ملٹی نیشنل کمپنیوںکا قبضہ ہوتا جارہا ہے۔ جبکہ جل، جنگل اور زمین جیسے مقامی وسائل پر مقامی عوام کا حق ہوناچاہیے تھا، جس سے گاؤںسے لے کر ریاست تک کی ترقی ہوتی۔ انگریزوںکی طرح یہاںکی حکومت نے بھی جنگلات سے عام شہری کا حق چھین لیا۔
پہاڑ کے اصل باشندے جنگلوں سے جڑے رہے ہیں، ان کا پورا روزگار جنگل سے جڑا رہا ہے، وہ یہاںمویشی پالن کرتے رہے ہیں اور پھران مویشیوںکے ذریعہ دودھ، اون اور کپڑے وغیرہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان جانوروں کی مدد سے اپنی کھیتی کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن حکومت نے لوگوں کو یہ حق دینے کے بجائے اسے اپنی ہی کمائی کا ذریعہ بنالیا۔
عام شہری کو جنگل کے استعمال کی اجازت نہیں ہے ۔ کوئی لکڑی نہیں کاٹ سکتا۔ پہاڑ پوری دنیا کو لکڑی دے رہا ہے، لیکن خود یہاںکے لوگوں کی ضرورت کے لیے لکڑیوں کی کمی ہے۔ اتراکھنڈ میں پہلے ہی زمین کی کمی تھی۔ سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیںکہ پوڑی کی پوری زمین کا 67 فیصد علاقہ جنگل میں ہے، بچی ہوئی زمین پر کھیتی ہوتی ہے۔ کچھ زمین بنجر ہے اور باقی 2-3 فیصد زمین پر لوگ رہتے ہیں ۔ لوگوں کے پاس پہلے سے ہی زمین کی کمی تھی او راوپر سے جنگلوں کو محفوظ رکھنے کے نام پر لوگوں سے ان کا روزگار بھی چھینا جارہا ہے۔
ایسے میں پہاڑ میںایک اور متوازی تحریک کی آہٹ ہورہی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ اتراکھنڈ کے جل، جنگل اور زمین پر باہری طاقتوںکی مداخلت بڑھ گئی ہے۔ مزدورکی صورت حال تشویشناک ہے۔ ایک رپورٹ کہتی ہے کہ محض تین سال میں5339 اسکوائر کلومیٹر جنگلی علاقہ ترقی کے نام پر بلی چڑھا دیا گیا اور کروڑوں روپے کا اقتصادی نقصان ہوا۔ دوسری طرف جنگل کے اصلی باشندوںکو جنگل کے تحفظ کے نام پر بے دخل کیا جارہا ہے۔
جنگلات کے کم ہونے سے ہر سال بارش کے دنوںمیںلینڈ سلائیڈنگ، سیلاب وغیرہ سے کروڑوں روپے کا نقصان اٹھاناپڑتا ہے۔ 2013 میں اتراکھنڈ میںآئی قدرتی آفت سے 5700 مسافروں کی موت واقع ہوئی تھی اور متاثرہ پہاڑی علاقہ میںسڑکوںکے ٹوٹنے،دکانوں اور ہوٹلوں کے ندی میںبہنے کی وجہ سے بھی ریاست میںبھاری جان و مال کا نقصان ہوا تھا۔ اس آفت میں9510 مویشیوں کی جانیں گئی تھیں، 175 پل، 1307 سڑکیں، 4207 گھر اور 649 مویشی خانے تباہ ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ فصلوںکا بھی بھاری نقصان ہوا تھا۔ آفات کے بڑھنے کی اہم وجہ جنگلات کی اندھادھند کٹائی ہے۔
زیادہ پیسہ کمانے کے لیے مافیاؤں کے ذریعہ نایاب جڑی بوٹیوںاور لکڑی کی اسمگلنگ کے لیے درختوںکو بڑے پیمانے پر کاٹا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ماحولیات کے توازن کے معیار وںکی خلاف ورزی اور غیر قانونی تعمیراتی کاموںسے جنگلی علاقے لگاتار کم ہوتے جارہے ہیں، لیکن سرکاریںیا سیاسی پارٹیوںکے لیے یہ تشویش کا موضوع نہیںہے۔
اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرہ دون سمیت میدانی علاقوںمیںجرائم، بدعنوانی، خواتین پر زیادتی، بے قابوٹریفک جیسے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ندی کے سیلابی علاقوں میںریت پتھر چگان اور غیر قانونی کان کنی بے تحاشہ ہورہی ہے۔ کان کنی کے دھندے میںمافیا شامل ہیں اور لیڈر ان کے سرپرست ہیں۔بڑے پیمانے پر ہورہی غیر قانونی کان کنی سے ندیاں ہر سال اپنا راستہ تبدیل کررہی ہیں۔ دوسری طرف تعمیراتی کام کے لیے ضروری ریت، روڑی، پتھر وغیرہ عام آدمی کی رسائی سے باہر ہوتے جارہے ہیںاس کے لیے ریاست میںکوئی مؤثر کان کنی کی پالیسی نہیں ہے او رغیر قانونی کان کنی روکنے میںحکومت کی کوئی دلچسپی نہیںہے۔
لگاتار آفات کی مار جھیل رہی اس ریاست کے لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوںاور ٹہری باندھ جیسے پاور پروجیکٹس کے سبب بے دخل لوگوںکے لیے ابھی تک کوئی ٹھوس بازآبادکاری کی پالیسی نہیںبنائی گئی ہے۔ بے اصولی ترقی کی مشکلات جھیل رہے ٹہری اور پرتاپ نگر علاقے ناکارہ سیاسی انتظام کی مثال ہیں۔ اتراکھنڈ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن اس پہاڑی ریاست کے سیکڑوںگانووں میںبجلی نہیں ہے۔ ریاست میںجہاںبجلی لائن ہے ،وہاںبھی گھنٹوںتک بجلی گل رہنا عام سی بات ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر کے نقصان تو اتراکھنڈ نے جھیلے ،لیکن بجلی کی پیداوار میں اترا کھنڈ کا حصہ صرف 12.5 فیصد آتا ہے، جبکہ پاور پروجیکٹس میں اتراکھنڈ کا منافع دوگنا کیا جاناچاہیے۔
لگاتار آفات کی مار جھیل رہی اس ریاست کے لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوںاور ٹہری باندھ جیسے پاور پروجیکٹس کے سبب بے دخل لوگوںکے لیے ابھی تک کوئی ٹھوس بازآبادکاری کی پالیسی نہیںبنائی گئی ہے۔ بے اصولی ترقی کی مشکلات جھیل رہے ٹہری اور پرتاپ نگر علاقے ناکارہ سیاسی انتظام کی مثال ہیں۔ اتراکھنڈ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن اس پہاڑی ریاست کے سیکڑوںگانووں میںبجلی نہیں ہے۔ ریاست میںجہاںبجلی لائن ہے ،وہاںبھی گھنٹوںتک بجلی گل رہنا عام سی بات ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر کے نقصان تو اتراکھنڈ نے جھیلے ،لیکن بجلی کی پیداوار میں اترا کھنڈ کا حصہ صرف 12.5 فیصد آتا ہے، جبکہ پاور پروجیکٹس میں اتراکھنڈ کا منافع دوگنا کیا جاناچاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *