گوا کے اسمبلی انتخابات خواتین اس بار بھی نظر انداز

damiگوا ہندوستان کی ایک ایسی ریاست ہے جہاں ترقی کے لحاظ سے خواتین دیگر ریاستوں کے بالمقابل ترقی یافتہ ہیں۔ کل آبادی کا تقریباً نصف ہونے کے ساتھ ساتھ خواندگی، تعلیم، ملازمت اور صحت میں یہ دوسری ریاستوں سے آگے ہیں مگر اس کے باجود 1970 کی دہائی میں صرف ایک خاتون وزیر اعلیٰ رہی ہیں۔ گزشتہ مرتبہ کانگریس سے صرف 2خواتین کو ٹکٹ ملا تھا جس میں سے ایک کامیاب ہوئی تھیں جبکہ اس بار کل 9خواتین کو ملے ٹکٹ میں 3کانگریس سے، ایک بی جے پی اور 5 عام آدمی پارٹی سے ہیں۔ سیاسی طورپر ان کا ڈس امپاورمنٹ ان کے لئے مستقل پریشان کن مسئلہ ہے۔ اس تجزیہ میں اس پہلو کے علاوہ مجموعی صورت حال کی احاطہ بندی کی گئی ہے
گوا کا اسمبلی انتخابات 2017 کے ماہ فروری کے ابتدائی ہفتہ میں ہونا ہے۔ 40 سیٹوں کے لئے بی جے پی ، کانگریس اورعام آدمی پارٹی کے بیچ سہ رخی مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ یہاں کی کل 20لاکھ کی آبادی میں 2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوئوں کی آبادی 65.78 فیصد، عیسائی 25.11 فیصد اور مسلمانوں کا تناسب 8.34 فیصد ہے۔ ان کے علاوہ سکھ، بدھسٹ اور جین بھیقلیل تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
2012 کے انتخابات میں یہاں دو بڑی پارٹیوں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ تھاجس میں 21 سیٹوں پر قبضہ کرکے بی جے پی نے حکومت بنائی تھی۔ مگر اس مرتبہ یعنی 2017 کے اسمبلی انتخابات میں سہ رخی مقابلے کا امکان ہے۔ اس مرتبہ ریاست میں کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ عام آدمی پارٹی بھی میدان میں ہے۔ ہر پارٹی ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لئے دلکش منشور پیش کررہی ہے مگر گوا کے جو بنیادی مسائل ہیں ان کو حل کرنے کی بات کوئی نہیں کررہی ہے۔ گوا کے بنیادی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے کانکنی سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی۔ گوا ملک کی تیسری بڑی ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ لوہا پیدا ہوتا ہے۔ لوہا نکالنے کے لئے کی جانے والی کھدائی سے ماحولیات پر پڑنے والے منفی اثرات ہر انتخاب میں ایشو رہتا ہے۔اس کے علاوہ غیر لائسنسی جوئے خانے کا خاتمہ اور کلچر کا تحفظ بھی اہم ایشو ہے۔ ریاست میں 5 غیر ملکی اور 12 علاقائی جوئے خانے ہیں۔2012 میں بی جے پی نے غیر لائسنسنی تمام جوئے خانوں کو بند کرنے اور اس کی تحقیق کرانے کی بات اپنے انتخابی منشور میں کہی تھی،مگر اس پر عمل نہیں ہوسکا۔اس کے علاوہ ایک اور اہم ایشو ہے جس کا تعلق عوام کے جذبات ہے جڑا ہوا ہے اور وہ ہے گوا کو خصوصی ریاست قراردیا جانا۔
ماضی میں بی جے پی اور کانگریس دونوں نے اپنے انتخابی منشور میں اس ایشو کو شامل کیا تھا اور باری باری سے دونوں پارٹیوں نے اس ریاست پر حکومت کی ہے مگر اب تک کسی نے بھی اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا ۔ اس کے علاوہ گوا کا ایک اور اہم ایشو ہے اور وہ ہے وہاں کی ثقافت کا تحفظ۔دراصل وہاں کے پرائمری اسکولوں میں پڑھانے کے لئے میڈیم زبان کیا ہو مونکانی ہو، مراٹھی ہو یا پھر انگریزی ۔ ہمیشہ سے موضوع بحث رہی ہے۔آر ایس آیس اور اس کی اتحادی پارٹیوں کا مطالبہ ہے کہ جن اسکولوں میں تعلیم کا میڈیم انگریزی ہے ان اسکولوں کو سرکاری مدد نہ دی جائے اور دیگر تمام اسکولوں میں علاقائی زبان مونکانی اور مراٹھی کو میڈیم بنایا جائے ۔برسوں سے یہ معاملہ بھی زیر التوا ہے ۔
چونکہ عوام کانگریس اور بی جے پی دونوں کی حکومتوں کو دیکھ چکے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی مذکورہ ایشوز کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔اب اس کا فائدہ عام آدمی پارٹی اٹھانے کی کوشش میں ہے۔ اروند کجریوال اپنی تقریروں میں یہ بات بار بار کہتے ہیں کہ لوگوںنے دونوں پارٹیوں کو دیکھ لیا ہے۔لہٰذا اب وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ لہٰذا عوام کی مرضی کے مطابق اس مرتبہ ’’آپ ‘‘ دونوں کی امیدوں پر پانی پھیر دے گی اور جس طرح سے دہلی میں عوام بی جے پی اور کانگریس سے پریشان ہوکر ’’ آپ ‘‘ کو زبردست فتح دلائی تھی ،ویسی ہی فتح گوا میں ہونے والی ہے اور یہاں کی 40 سیٹوں میں سے کم سے کم 35 سیٹیں ’’ آپ ‘‘ کے حصے میں آئیں گی ۔
عام آدمی پارٹی نے جو انتخابی منشور جاری کیا ہے، اس میں اس نے کہا ہے کہ ساحلوں پر خواتین کے لئے خواتین لائف گارڈ، چینجنگ کمرے اور بیت الخلاء کو یقینی بنایا جائے گا۔ خواتین کے لئے وقار کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ کمیونٹی انصاف مراکز قائم کیا جائے گا تاکہ مشاورت کے لئے محفوظ، قابل رسائی اور باوقار پلیٹ فارم اور بلا معاوضہ قانونی امداد دستیاب ہو پائے۔ پارٹی نے ساحلی ریاست میں پانچ خواتین تھانے بنانے کا وعدہ بھی کیا۔ پارٹی کے ریاستی کنوینر اور وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار الوس گومز نے انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے کہا کہ’ آپ ‘حکومت اقتدار میں آنے کے بعد ڈابولم ہوائی اڈے پر شہری ٹریفک یقینی بنائے گی اور ڈابولم ہوائی اڈے کی توسیع اور اپ گریڈ کے لئے تمام تر کوششیں کی جائیں گی‘‘۔گومز کا کہنا ہے کہ “ہم لوگ یہاں مجوزہ کیسینو اور گیمنگ جونز کے سلسلے میں تحقیقات کر کے یہ پتہ لگانے کی کوشش بھی کریں گے کہ اس کیلئے تحویل میں لی جانے والی زمین کے بدلے میں لوگوں کو کس قسم کی نوکریاں دی جا رہی ہیں۔
اس پارٹی کو کتنی سیٹیں ملیں گی، یہ تو نتائج ہی بتائیں گے مگر جو دلچسپ بات ہے، وہ یہ ہے کہ اروند کجریوال جو کہ متنازع بیان دینے میں مشہور رے ہیں، یہاں بھی متنازع بیان دینے سے باز نہیں رہے، نتیجے میں الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنی پڑی۔دراصل کجریوال نے گوا کی ایک ریلی میں کانگریس اور بی جے پی کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ یہ دونوں پارٹیاں ووٹ کے بدلے نوٹ بانٹ رہی ہیں۔ اگر کوئی کوئی پارٹی آپ کو نوٹ دے کر ووٹ مانگے تو آپ نوٹ لے لیجئے مگر ووٹ صرف ’’ آپ ‘ ‘ کو ہی دیجئے۔ ان کے اس بیان پر کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت الیکشن کمیشن نے ان کے نام نوٹس جاری کیا اور اس طرح کی غیر سنجیدہ باتوں سے گریز کرنے کی صلاح دی ۔کجریوال نے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو کہا ہے کہ وہ انتخابات کے موقع پر ووٹ کے بدلے نوٹ کی روایت کی حوصلہ شکنی کے لئے ایسا بیان دے رہے ہیں۔
دوسری طرف بی جے پی پھر سے اپنی حکومت بنانے کا دعویٰ کررہی ہے۔بی جے پی گوا چیف ونئے تندولکر کا کہنا ہے کہ پارٹی کو 26سے زیادہ نشستیں جیتنے کا یقین ہے۔ ا ن کا مزید کہنا ہے کہ ہم گڈ گورننس اور ترقی کے نام پر یہ الیکشن لڑ رہے ہیں،ہم نے لوگوں کو دکھایا ہے کہ بی جے پی کا مطلب ترقی ہے۔ بی جے پی کو امید ہے کہ وزیر دفاع منوہر پاریکر یہاں کوئی کرشمہ دکھائیں گے۔دراصل موجودہ صورت حال میں لکشمی کانت پاریکر جو کہ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ ہیں، کی شخصیت ایسی کرشمائی نہیں ہے جیسا کہ پاریکر کی ہے۔ اس لئے مودی کے بعد ریاست میں سب سے زیادہ اہمیت پاریکر کے چہرے کو دی جارہی ہے۔ مودی کو ان پر بہت زیادہ بھروسہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں گوا کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹاکر مودی نے اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا اور وزارت دفاع ان کے سپرد کیا تو اس وقت انہوں نے پاریکر کے بارے میں کہا تھا کہ یہ ہماری کابینہ کی 9رتنوں میں سے ایک رتن ہیں۔ جس طرح اکبر کی حکومت میں 9 رتنوں نے مل کر اکبر کی حکومت کو مضبوط کیا تھا،اسی طرح پاریکر ہماری حکومت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اب اسی 9رتن کو گوا الیکشن کی قیادت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی شخصیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کو پھر سے ریاست میں کامیابی دلائیں۔
اب دیکھنا ہے کہ وہ بی جے پی کو کامیاب بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔اس وقت پارٹی کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک تو ایکمبنسی کا سامنا ہے۔پارٹی نے 2012 میں اپنے منشور میں جو کچھ وعدے کیا تھا، اس کی تعمیل پر عوام بہت مطمئن نظر نہیں آتے ہیں۔دوسری طرف آر ایس کے لیڈر سبھاش ولنگوار نے بغاوت کرکے پارٹی کے لئے مصیبت کھڑی کردی ہے۔گزشتہ مرتبہ ان کی پارٹی ’’گوا سرکشا منچ‘‘بی جے پی کی اتحادی پارٹی تھی ،مگر اس مرتبہ اس نے بی جے پی کو چھوڑ کر تین پارٹیوں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ( آر ایس ایس )، گوا سرکشا منچ (جی ایس ایم )اور مہاراشٹر وادی گومانتک پارٹی (ایم جی پی ) کے علاوہ شیو سینا نے باہم مل کر اتحاد بنا لیا ہے۔ظاہر ہے یہ صورت حال بی جے پی کے لئے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے کھڑی ہے۔ادھر عام آدمی پارٹی کے میدان میں اترنے سے جو مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان دو رخی ہوا کرتا تھا ،اب سہ رخی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
رہی بات کانگریس کی ،تو اسے ایک تو انکمبنسی اور بی جے پی کے اندرونی اختلاف کا فائدہ ہونے کے علاوہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے ووٹ اسے مل سکتے ہیں ۔ظاہر ہے 8.34فیصد مسلمانوں کے ووٹ اور 25.11فیصد عیسائیوں کے مکمل ووٹ اسے مل جاتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ جیت کے بہت قریب ہوجائے گی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس ان کو اپنے شیشے میں کس طرح اتار پاتی ہے ۔ویسے کانگریس نے مسلمانوں کو راغب کرنے کے لئے ایک مسلمان محمد علی شبیر کو گوا کا اسٹار کمپینر بنا یاہے ۔دوسری طرف کانگریس عیسائیوں کو اپنی طرف کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔جیسا کہ علی شبیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائی طبقہ کو کافی ہراساں و پریشان کیا گیا۔ جب بھی انتخابات منعقد ہوتے ہیں، بی جے پی اور ہندوتوا طاقتیں فرقہ پرستی کے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ نوٹ بندی کے بعد سیاحوں کے نہ آنے کی وجہ سے ریاست میں جو بے روزگاری کا ماحول بنا ہے، کاروبار پوری طرح ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ لاکھوں نوجوان روزگار سے محروم ہوگئے ہیں۔ کانگریس پارٹی عوام کے درمیان جاکر یہ تمام باتیں رکھے گی اور اگر وہ جیت کر حکومت بناتی ہے تو ان مسائل پر خصوصی توجہ دے گی۔
گوا میں دیگر ریاستوں کے بالمقابل انتخابات میں دو اہم فیکٹرز ہیں جنہیں قطعی نظر اندازنہیں کیا جاسکتاہے۔ ایک ہے خواتین ووٹروں کا اور دوسرا آزاد امیدواروں کا۔ یہاں خواتین اس لئے اہم ہیں کہ وہ خواندگی میں 84.66 بالمقابل کل ہند 65.46،جنسی تناسب 973 بالمقابل 943 ، زچگی کے دوران بچوں کی اموات 9 بالمقابل کل ہند 40 ، تنخواہ یافتہ دیہی خواتین 48.9 بالمقابل کل ہند5.6 اور تنخواہ یا فتہ شہری خواتین 82.8بالمقابل کل ہند 42.8 کے معاملے میں ہی سب سے آگے نہیں ہیں بلکہ ریاست میں ووٹروں کی فہرست میں ان کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ 2012 کے انتخابات میں صرف کانگریس نے دو خواتین کو ٹکٹ دیا تھا جن میں سے ایک جانیفر مانسیراتے اور بعد میں کانگرس کی ہی ایک اور ایلینا سلدہنا ضمنی انتخاب میں جیت کر اسمبلی میں آگئیں۔ اس بار کانگریس نے 3خواتین امیدوار کو میدان میں اتارا ہے۔ جکبہ بی جے پی نے 2012 میں ایک بھی خاتون کو ٹکٹ نہیں دیا تھا، اس بار ایک ٹکٹ دیا ہے۔’ آپ‘ جو کہ اس بار انتخاب میں اتری ہے، نے پانچ خواتین کو ٹکٹ دیئے ہیں۔ خواتین کو شکایت ہے کہ 49.32 فیصد آبادی کے لحاظ سے اسمبلی میں ان کی نمائندگی بہت کم ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ خاتون کی یہ نمائندگی ایک ایسی ریاست میں ہے جہاں 1973 سے 1979 تک ایک خاتون ششی کلا کاکودکر وزیر اعلیٰ رہی ہیں۔
دوسرا اہم فیکٹر آزادامیدواروں کا ہے۔ 2012 میں 72 آزاد امیدوار کھڑے ہوئے تھے۔ جنہوں نے ریاست میں کل 16.67 فیصد ووٹ پر قبضہ کیا۔ ان 72 امیدواروں میں پانچ کامیاب ہوئے جبکہ 10نے اپنی ضمانت بچائی اور 57 ضمانت کھو بیٹھے۔ گزشتہ بار جو 5 امیدوار جیتے تھے، وہ سب کے سب اس بار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے تین آزاد حیثیت ہی میں ہیں جبکہ باقی دو میں سے ایک نریش سول کو ایم جی پی اور دوسرے وجئے ساردیسائی کو گوا فارورڈ پارٹی نے ٹکٹ دیئے ہیں۔ اس بار کل 58 آزادامیدوار میدان میں ہیں۔ اس ریاسست میں آزاد امیدواروں کا دور دیگر ریاستوں کی طرح ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ یہاں مسلمان تجارت میں اچھی حالت میں ہیں۔ ان کا انتخاب میں اہم کردار ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *