کانگریس-سماج وادی پارٹی اتحاد سرکار مخالف غذائی قلت تحریک کا کیا ہوگا؟

damiدلچسپ بات تو یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے جس کانگریس پارٹی کے ساتھ دوستی کی ہے، اسی کانگریس پارٹی نے اتر پردیش میں پھیلی غذائی قلت کے مسئلے پر اکھلیش سرکار کے خلاف مہم چھیڑ رکھی تھی۔ یو پی میں غذائیقلت کے خلاف باقاعدہ کانگریس کا پوسٹر وار چل رہا تھا۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کی زمین کتنی کھوکھلی ہے، ان باتوں سے سمجھا جاسکتا ہے ۔ کانگریس کے پوسٹروں کے ذریعہ’ 27سال یو پی بے حال‘ کے تحت یہ کہا گیا تھا کہ اتر پردیش میں ہر دن650 بچے غذائی قلت کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ اتر پردیش میں غذائی قلت ایک خوفناک سچ ہے۔
سرکاری رپورٹ بھی یہی کہتی ہے کہ اتر پردیش میں ہر روز 650 بچوں کی موت غذائی قلت کی وجہ سے ہو رہی ہے ۔ 70فیصد بچوں کی پیدائش سرکاری اسپتالوں میں ہوتی ہے۔ اس کے باوجود نہ تو بریسٹ فیڈنگ کو بڑھاوا مل پارہا ہے اور نہ مائوں کی صحت ایسی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صحت منددودھ پلا سکیں ۔50 فیصد سے زیادہ مائیں خون کی کمی میں مبتلا ہیں۔
یہ اعدادو شمار ضلع اسپتالوں اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں سے جمع کئے گئے ہیں۔ سرکاری اعدادو شمار سے الگ سماجی تنظیموں کے سروے بتاتے ہیں کہ3 لاکھ سے بھی زیادہ بچوں کی موت ہر سال غذائی قلت سے ہو جاتی ہے۔ ریاست میں 12 لاکھ 60ہزار بچے انتہائی غذائی قلت کے شکار ہیں۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ہر 7واں بچہ مقررہ وزن سے کم ہوتاہے۔ آدھے سے زیادہ بچوں کی لمبائی اوسط سے کم ہوتی ہے۔ 5 سال کی عمر کے 4 میں سے 3 بچے خون کی کمی (اینمیا) کے شکار ہیں۔6 میں سے5 مائیں بچوں کو 6 مہینے تک دودھ پلانے لائق نہیں ہوتی ہیں۔ اس کے سبب بچوں کو کافی غذائیت نہیں مل پارہی ہے۔ عورتیں خود خون کی کمی کی شکار ہیں۔ علاج کے لئے سرکاری اسپتالوں میں آنے والی عورتوں میں 50 فیصد سے زیادہ عورتوں میں خون کی کمی پائی جاتی ہے۔ ایسی عورتوں کے بچوں میں بڑھنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔ تقریباً35 لاکھ بچے مقوی غذا نہیں ملنے کی وجہ سے خشک مرض ( ریکیٹ) سے متاثر ہوتے ہیں۔
اتر پردیش میں غذائی قلت کا مسئلہ آر ٹی آئی(حق اطلاعات قانون) کے تحت بھی سرکاری طور پر اجاگر ہو چکا ہے۔ کچھ ہی عرصہ پہلے اُروشی شرما کو آر ٹی آئی کے تحت جو جانکاری ملی، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اتر پردیش کو غذائی قلت سے پاک بنانے کے لئے ریاستی سرکار کے ذریعہ کئے جارہے دعوے کھوکھلے ہیں۔ ریاست میں ریاستی مقوی غذائی مشن کے تحت ضرورتمند لوگوں تک مقوی غذا پہنچانے کے اکھلیش سرکار کے دعوے حقیقت کے بالکل خلاف پائے گئے تھے۔
سماجی کارکن اُروشی شرما نے آر ٹی آئی کے تحت یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ریاست میں غذائی قلت کے شکار لوگوں کی تعداد کتنی ہے۔ ریاست کے ’چائلڈ ڈیولپمنٹ سروس ‘ محکمہ نے جو جواب دیا ہے، وہ چونکانے والاتھا۔ سرکاری محکمہ نے بتایا کہ مایاوتی کے دور حکومت ہو یا اکھلیش سرکار کا۔ ریاستی سرکار نے غذائی قلت کے تعلق سے کوئی بھی تجزیہ یا سروے نہیں کرایا جس سے یہ پتہ چل سکے کہ ریاست میں غذائی قلت کے شکار لوگوں کی تعداد کتنی ہے۔
اتر پردیش کے چائلڈ ڈیولپمنٹ سروس اینڈ ڈائریکٹوریٹ کے پاس غذائی قلت کے مسئلے سے متاثر مردوں ،عورتوں ،کنّروں ، بچوں ،بچیوں اور جانوروں کی تعداد کی کوئی بھی اطلاع دستیاب نہیں تھی۔ سوال پیدا ہونا لازمی ہے کہ آخر کس بنیاد پر اکھلیش سرکار نے ریاستی غذائی قلت مشن کے انعقاد پر ضرورت مند لوگوں تک مقوی غذا پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا؟جب اعدادو شمار ہی دستیاب نہیں ہیں تو اس مشن سے ریاست کی ایک لاکھ عورتوں کو جوڑے جانے کا دعویٰ کیسے کیا گیا؟
قابل ذکر ہے کہ اکھلیش یادو نے سرکاری تام جھام کے ساتھ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروس کے وزیر کی موجودگی میں ریاست میں غذائی قلت کے خلاف اسٹیٹ نیوٹریشن مشن کے تحت اس کا ہدف ضرورت مندلوگوں تک مقوی غذا پہنچانا اور ریاست کی ایک لاکھ عورتوں کو جوڑنا بتایا جاتا ہے ۔ اس طرح کے دعوے اور اس پر اٹھ رہے تمام سوالات پوری طرح لاجواب ہیں ۔کانگریس بھی ان سوالوں کا جواب مانگ رہی تھی، لیکن انتخاب آتے ہی کانگریس ان جوابوں کی تلاش چھوڑ کر اکھلیش کے ساتھ ہاتھ ملاکر اقتدار کے جگاڑ میں مشغول ہو گئی ۔عوام سے اصلیت میں جڑے ایشو اس سیاسی چکاچوند میں گم ہو گئی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *