ڈونالڈ ٹرمپ کی دوستی ہندوستان کے لئے نقصان دہ

damiڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔امریکہ میں وہ کیسی پالیسی نافذ کرتے ہیں اور کس طرح کی خارجہ پالیسی پر چلتے ہیں ،یہ انہیں طے کرنے کا پورا حق ہے۔ ہر سرکار کو ملک کی معاشی صورت حال اور لوگوں کی توقعات کے مطابق چلنا چاہئے۔لیکن امریکہ کی صورت حال دوسرے ملکوں سے الگ ہے۔ امریکہ دنیا کا اکیلا سپر پاور ہے۔ دنیا کے الگ الگ علاقوں میں اس کی فوج موجود ہے۔عالمی اداروں پرامریکہ کا کنٹرول ہے۔ساتھ ہی دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکہ اعتدال پسند جمہوریت ،گلوبلائزیشن اور فری مارکیٹنگ کا علمبردار رہا ہے۔ایسے میں امریکہ میں اگر کچھ بدلائو ہوتا ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑنا لازمی ہے۔ ہندوستان جیسے ملکوں پر کچھ زیادہ ہی اثر ہوگا۔کیونکہ 1991 سے ہم امریکہ کے ذریعہ طے معاشی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ سوویت روس کے ختم ہونے کے بعد ہندوستان امریکہ کا ایک اتحادی ملک بن کر ابھرا ہے۔مودی سرکار کے دور میں یہ نزدیکیاں اور بھی زیادہ واضح ہوکر اورنکھر کر سامنے آئی ہیں۔ امریکہ میں ایک ایسے صدر وجود میں آئے ہیں جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے چلی آرہی امریکی پالیسیوں کو سر کے بل کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا اثر ہندوستان پر کیا ہوگا؟کیا ہندوستان کو ٹرمپ سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے؟
جو لوگ ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت پر خوشیاں منا رہے تھے، اب ان کو تشویش ہونے کی باری آگئی ہے۔ صرف امریکہ میں ہی نہیں، پوری دنیا میں ڈونالڈ ٹرمپ کی مخالفت شروع ہو گئی ہے۔حالانکہ ان احتجاجات کا کیا اثر ہوگا ،یہ کہنا مشکل ہے لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کو ڈھول پیٹنے والے ملک میں رہنے والے اور امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں کو اب یہ سمجھ میں آگیا ہوگا کہ ان کی پالیسیاں ہندوستان کے لئے مصیبت کا سبب بننے والی ہیں ۔سب سے پہلا خطرہ تو ان ہندوستانیوں پر آنے والا ہے جو ایچ ون بی ویزہ لے کر امریکہ میں کام کررہے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ ایسے ہوں گے جو اس مرتبہ ٹرمپ سرکار کا نعرہ لگا رہے تھے۔شاید اب انہیں امریکہ چھوڑ کر کسی اور ملک یا واپس ہندوستان آنا پڑے ۔کیونکہ دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت نے اب امریکہ فرسٹ کی پالیسی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ کے صدر نے حلف لیتے ہی بائے امریکن۔۔۔ہائر امریکن کا اعلان کر دیا۔ مطلب یہ کہ امریکہ میں اب سرکار امریکی سامان کو خریدنے اور صرف امریکی شہریوں کو ہی نوکری دینے کی پالیسی پر کام کرے گی۔
ڈونالڈ ٹرمپ سرکار کی خارجہ پالیسی کا ہندوستان پر اثر کیاہوگا؟اسے سمجھنے کے لئے ہمیں ڈونالڈ ٹرمپ کی نفسیات کو سمجھنا ہوگا۔ ان کے بیانوں سے یہ صاف ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی تنگ نظر قوم پرستی سے متاثر ہوگی۔ امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت ہندوستان کو نقصان ہونے والا ہے۔ ٹرمپ نے صاف صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ایچ ون بی ویزہ امریکی شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔یہ ایک دھوکہ ہے۔ انہوں نے انتخابی تشہیر کے دوران یہ کہا تھا کہ بیرون ملک سے لوگ امریکہ میں آکر امریکی شہریوں کی نوکری کھا جاتے ہیں اور انہیں بے روزگار رہنا پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسی پالیسیوں کو لاگو کریں گے جس سے غیر ملکی شہریوں کو نوکری ملنا مشکل ہو جائے گا۔ اس پالیسی کا سب سے پہلا منفی اثر ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز(ٹی سی ایس) اور انفوسیس جیسی ہندستان کی آئی ٹی کمپنیوں پر پڑنے والا ہے۔ جن ہندوستانیوں نے ٹرمپ کو حمایت دیا، انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ ایک طرف ہندوستان کو عظیم بتاتے رہے اور دوسری طرف ہندوستانیوں سے نوکری چھین کر امریکی شہریوں کو دینے کا وعدہ کرتے رہے۔ ٹرمپ نے امریکہ میں کارپوریٹ ٹیکس میں چھوٹ دی ہے۔ اسے 35فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیاں اب واپس امریکہ کی طرف رخ کریںگی۔ ان میں سے کئی ایسی کمپنیاں بھی ہوں گی جو فی الحال ہندوستان میں صنعتکاری کررہی ہیں۔ اس کا سب سے برا اثر وزیر اعظم نریندر مودی کی ’میک ان انڈیا‘ پر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے چیف اکانومیک ایڈوائزر اروند سبرامنیم ٹرمپ کی پالیسیوں پر صاف طور سے تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایچ ون بی ویزا کو ختم کرنے سے ہندوستان کی بر آمدات پر منفی اثر پڑے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹرمپ کے امریکہ سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کو تحفظ کی طرف لے جانے کی پالیسیوں پر کام کررہے ہیں۔ تحفظ وہ معاشی پالیسی ہے جو مختلف ملکوں کے درمیان ہونے والی کاروبارمیں روک لگانا ہے۔یہ کئی طرح سے لگائے جاسکتے ہیں جیسے کہ درآمدات پر چارج لگانا، رسٹرکٹیو ریزرویشن اور دیگر بہت سے سرکاری ریسٹریکٹیو ضابطے جن کا مقصد درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا اور غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعہ مقامی بازاروں اور مصنوعات کے حصول کو روکنا ہے۔یہ پالیسی گلوبلائزیشن سے متعلق ہے اور گلوبلائزیشن اور فری کاروبار کے بالکل برعکس ہے۔یہ تشویشناک صورت حال ہے۔ امریکہ اب تک پوری دنیا میں گلوبلائزیشن اور فری کاروبار کا حامی رہا ہے۔ ہندوستان جیسے ملکوں پر اقوام متحدہ، عالمی بینک اور انٹر نیشنل مونیٹری فنڈ جیسے عالمی ادارے فری مارکیٹنگ کا دبائو دیتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے لگاتار امریکہ نے پوری دنیا کو اعتدال پسند ، فری مارکیٹنگ اور گلوبلائزیشن کے دلدل میں ڈھکیلنے کی پالیسی اپنائی۔اب ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخاب جیتنے کے بعد اچانک ان پالیسیوں پر روک لگا دی ہے۔ اس کا اثر خطرناک ہونے والا ہے، خاص طور سے ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر جو فری کاروبار کے درد سے ابھی باہر نہیں آیا ہے۔ اس کی وجہ سے گھریلو کاروبار اور روایتی کاروبار ختم ہو گیا۔ بے روزگاری بڑھ گئی ۔ان پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں غریب اور امیر کے بیچ فاصلہ بڑھا ہے۔ شہروں اور دیہی علاقوں میں کافی فرق پیدا ہوگیا ہے۔ سماج میں کئی خطوں اور سطح پر ایسا اندرونی اختلاف پیدا ہو گیا ہے جو مستقبل کے لئے ایک تشویشناک حالت ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فری مارکیٹنگ پر مبنیجمہوریت کا علمبردار اب ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں تحفظ کا پیروکار بن جائے گا۔ یہ عالمی پالیسی اور کاروبار میں افراتفری کو جنم دے گا۔ ایسے میں ہندوستان جیسے وسیع ملکوں ، جہاں لوگوں کے پاس کھانے کو پیسے نہیں ہیں، کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے عالمی سیاست اور عالمی کاروبار میں افراتفری تو آئے گی ہی، ساتھ ہی ہندوستان نئی مصیبت میں پھنسنے والا ہے۔ ٹرمپ کے دور حکومت میں چین کے ساتھ امریکہ کے رشتے پہلے سے اور بھی خراب ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ ساتھ ہی مسلم ملکوں کے ساتھ ڈونالڈ ٹرمپ کا رویہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔دہشت گردوں سے لڑنے کے نام پر ٹرمپ نے اسلام کو ہی نشانے پر لے لیا ہے۔ اس سے دنیا بھر کے مسلمان حیران ہیں۔ ٹرمپ نے 7 مسلم ملکوں کے شہریوں کو ویزہ دینے سے منع کر دیا ہے۔ مانا یہ جارہا ہے کہ مغربی ایشیا کے ملک خاص طور پر ایران بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے نشانے پر ہوںگے ۔ پاکستان کو صدر ٹرمپ ایک غیر مستحکم اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ بتا چکے ہیں۔ مطلب یہ کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکہ کا سارا دھیان مسلم ملکوں اور چین پر ہونے والا ہے۔ جنوبی چین سے اختلاف کی وجہ سے امریکہ اور چین کے رشتے میں کڑواہٹ تیز ہو گئی ہے۔ اگر امریکہ اور چین کے بیچ آمنا سامنا جیسی صورت حال بنتی ہے تو پورے مشرقی ایشیا میں عدم استحکام کا ماحول بنے گا۔ ایسے حالات میں ہندوستان بھی اس کی لپیٹ میں آئے گا۔
ہندوستان کے لئے یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہندوستان کے مغربی ایشیا کے مسلم ملکوں کے ساتھ اچھے رشتے ہیں۔یہ رشتے کئی سالوں کی محنت اور تعاون کا نتیجہ ہیں۔ مغربی ایشیا کے ملکوں نے وزیر اعظم مودی اور ان کے منصوبوں کو دونوں ہاتھوں سے لیا۔ ان ملکوں نے ہندوستان میں سرمایا کاری کی، ایران کے ساتھ ہندوستان کے رشتے بہتر ہیں۔پابندی کے باوجود ہندوستان نے ان کے ساتھ رشتہ نہیں توڑا ۔ ان ملکوں میں کافی بڑی تعداد میں ہندوستانی کام کرتے ہیں۔ یہ ہندوستان کی سرحد سے لگے ہوئے نہیں ہیںلیکن پڑوسی ہیں۔ ہندوستان اب تک مسلم ملکوں سے پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ مغربی ایشیا کے ملک پاکستان سے زیادہ ہندوستان کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہندوستان کو امریکہ کا استعمال پاکستان پر دبائو ڈالنے کے لئے کرنا ہے۔ ویسے بھی دہشت گردی سے نمٹنے کو لے کر پاکستان بھی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا ایک مرکز ہوگا۔ ایسے میں ہندوستان اپنے رشتے کوامریکہ اور مغربی ایشیا کے ملکوں کے ساتھ کیسے متوازن کرے گا، یہ مودی سرکار کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی وجہ سے مودی سرکار کو ملک کے اندر بھی مصیبت جھیلنا پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مسلم آبادی والاملک ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانوں اور پالیسیوں سے ہندوستان کے مسلمان بھی فکر مند ہیں۔ ایسے میں امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی نزدیکیاں ملک کے اندر ماحول کو آلودہ کریں گی۔ وہ اس لئے کیونکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی بے دلیل اور بامعنی نظریات سے خالی ہے۔ مودی سرکار پر یہ ذمہ داری ہے کہ یہ ہندوستان کے حال اور مستقبل کے فائدوں کا بھی تحفظ کرے اور ساتھ ہی امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ مسلم ملکوں میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے مفاد کو بھی محفوظ رکھے ۔ ہندوستان کو امریکہ سے اسٹریٹجک مدد کے ساتھ عالمی سطح پر اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے لئے مدد بھی چاہئے اور ساتھ میں مسلم ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے رشتے بھی مضبوط رکھنے کی ذمہ داری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مغربی ایشیا کے ملکوں کے ساتھ اچھے رشتے رکھتے ہوئے ہندوستان ٹرمپ حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھ سکتا ہے؟مودی سرکار کو تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ذرا سی چوک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی دوستی ہندوستان کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کا پاکستان پر اثر
ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب جیتتے ہی پاکستان کی تشویشات بڑھ گئی تھیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ پاکستان کو ایک غیر مستحکم اور خطرناک ملک مانتے آئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے آگے بڑھ کر صورتحال کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی۔ صدر کے حلف لینے سے پہلے ہی انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی۔ لیکن یہاں پاکستان سرکار سے ایک چوک ہو گئی۔ فون پر ہوئی بات چیت کو عوامی کر دیا ،وہ بھی جھوٹا۔پاکستان کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے وزیر اعظم نواز شریف کو کال کیا۔ انہوں نے پاک کو ایک شاندار ملک بتایا اور نواز شریف کو ایک شاندار لیڈر بتایا اور پاک کا دورہ کرنے کا وعدہ شریف سے کیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیم کی طرف سے ان رپورٹوں کو سرے سے خارج کر دیا گیا۔ اس کے بعد پاکستان کے قومی سیکورٹی صلاح کار ڈونالڈ ٹرمپ سے ملنے نیو یارک بھی گئے۔ وہ 9دنوں تک وہاں انتظار کرتے رہے، ڈونالڈ ٹرمپ تو دور، ان کی ٹیم کے ادنیٰ سے آفیسر نے بھی پاکستان کے سیکورٹی صلاح کار سے ملنے سے انکار کر دیا۔
صدر کا حلف لیتے ہی ٹرمپ نے جب یہ اعلان کیا کہ وہ انتہا پسند اسلامی دہشت گرد کا نام و نشان مٹا کر رہیں گے ،تب سے پاکستان کی فکر بڑھ گئی۔ اس کے بعد، صدر ٹرمپ نے 7 مسلم اکثریتی ممالک کے لوگوں کو امریکہ میں داخلے سے روک لگا دی۔ ان ملکوں میں عراق، شام، سوڈان، ایران، صومالیہ، لیبیا اور یمن شامل ہیں۔ پاکستان اس لسٹ میں نہیں تھا۔ لیکن پاکستان کو جھٹکا تب لگا جب ٹرمپ نے پہلا انٹرویو دیا۔ اس میں پاکستان میں اس کے فوری بعد ہوئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہائٹ ہائوس پریس سکریٹری نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان اس لسٹ کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پاکستان نے لشکر کے چیف حافظ سعید کو 6 مہینے کے لئے نظر بند کردیاہے۔ حافظ سعید ممبئی دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ ہندوستان کے ذریعہ ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں حافظ سعید کے ملوث ہونے کے تمام ثبوت دیے جانے کے باوجود بھی سالوں سے وہ پاکستان میں آزادانہ طور سے رہتا ہے۔ پاک میڈیا کے مطابق یہ کارروائی پاکستان نے امریکہ کے اس انتباہ کے بعد کیا جس میں امریکہ نے کہا کہ اگر جماعۃ الدعوۃ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو وہ پاکستان پر پابندی لگا سکتا ہے۔یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے ۔کیونکہ جماعۃ الدعوۃ کو امریکہ نے 2014 میں دہشت گرد تنظیم ہونے اعلان کر دیا تھا۔
پاکستان میں ڈونالڈ ٹرمپ کو لے کر جو تشویش ہے ،وہ جائز بھی ہے۔کیونکہ صدر بننے سے پہلے انہوں نے 17جنوری 2016 کو ٹویٹر پر لکھا تھا کہ پاکستان امریکہ کا دوست نہیں ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو کئی بلین ڈالرس دیئے ہیں لیکن پاکستان کی طرف سے صرف امریکہ کو دھوکہ ملا ہے۔ صدر بننے سے ٹرمپ نے دہشت گرد تنظیموں کے پناہ گاہ ملکوں کو نشان زد کیا تھا جس میں پاکستان بھی شامل تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کتنے دنوں تک نیو کلیئر بم اور افغانستان میں مدد کے نام پر امریکہ کو بلیک میل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *