ٹرمپ کے تئیں عالم عرب کے تاثرات مسلمانوں کا چہرہ اتر گیا

damiڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے کے بعد عالم عرب کے اخباروں میں الگ الگ تاثرات آرہے ہیں۔مصر ،جہاں کے صدر السیسی ان پانچ پسندیدہ سربراہان میں سے ایک ہیں جن سے صدر بننے کے بعد ٹرمپ نے فون پر خاص طور سے بات کی ہے ۔اس ملک سے شائع ہونے والا ایک اخبار ’’ الرصیف ‘‘ لکھتا ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کے چہرے اتر گئے ہیں۔اس کے کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو ٹرمپ اسرائیل کی حمایت میں پورے طور پر کھڑے ہیں۔دوسرے وہ عالم اسلام کے خلاف گاہے بگاہے بیان دیتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی بات کرتے ہیں۔اسلام فوبیا کو دہشت گردی سے جوڑتے ہیں۔ٹرمپ عالم عرب کو امن معاہدے کے نام پر خودسپردگی کے لئے مجبور کرسکتے ہیں۔شام پر کھلے عام پوتین بمباری کے تئیں ٹرمپ کی حمایت سے عرب کے تئیں ان کے رجحان کا اندازہ ہوتا ہے۔ بہر کیف یہ وہ چیزیں ہیں جس نے عام عرب کے چہرے پر پژمردگی پیدا کردی ہے۔
مصیبت آنے والی ہے
ایک عربی نیوز سائٹ ’’ شبکۃ الاعلام العربیۃ ‘‘ نے ’ٹرمپ عرب کی نظر میں ‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ٹرمپ کو ذمہ داری سنبھالتے ہی پہلے امریکہ کے اندرونی معاملوں سے نمٹنا ہوگا ۔یہی صورت حال جارج بش کے ساتھ بھی پیش آئی تھی ،لیکن اس صورت حال نے عربوں کے لئے جو مشکلات پیدا کی ،وہ 9/11 کی شکل میں سامنے آیا اور پھر عربوں کو اس حادثے کی وجہ سے بڑی سبکی اٹھانی پڑی، پوری دنیا میں مسلمانوں مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ اب ٹرمپ اسی نہج سے امریکہ کا اقتدار سنبھال رہے ہیں تو دیکھنا ہے کہ ان کے دور اقتدار میں عربوں پر کونسی مصیبت آتی ہے۔
عرب سے دوری
ایک اخبار ’’ المدونات ‘‘ نے عربوں کے تئیں ٹرامپ کے نظریہ کو اپنی ہیڈنگ میں واضح کیا ہے۔ اخبار نے ہیڈنگ لگائی ہے ’عرب کے لوگوں ، ٹرمپ کے جال سے کوئی راہ فرار نہیں ‘۔ ظاہر ہے ہیڈنگ ہی مضمون کا ماحصل بتا رہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ جب تک ہیلری اور ٹرمپ کا مباحثہ ہوتا رہا، عالم عرب میں خوشی کی لہر تھی کہ ٹرمپ جارہا ہے لیکن نتیجہ آیا تو خوف سوار ہوگیا کہ اب ٹرمپ آرہا ہے۔ دراصل ٹرمپ کی جنونی شخصیت سے سب کو خدشہ ہے کہ عالم عرب میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔ ٹرمپ اپنے ہٹ دھرم مزاج کی وجہ سے امریکی قانون میں بدلائو کرکے عربوں سے دوری اختیار کرسکتے ہیں۔
عالم اسلام پریشان نہ ہو
عربی سائٹ پر’’بی بی سی ‘‘ پاکستان میں حقوق انسانی کی ترجمان اسماء جہانگیر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ٹرمپ کا بیان قابل اعتناء ہے ہی نہیں۔انہوں نے اقتدار حاصل کرنے سے پہلے بہت سی غیر مناسب باتیں کہیں ہیں۔ان سب کا مقصد کسی طرح اقتدار تک پہنچنا تھا۔ اب جبکہ وہ الیکشن جیت چکے ہیں تو انتظار کیجئے کہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ان کا انداز کیا ہوتا ہے۔ وہائٹ ہائوس پہنچنے کے بعد انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے جس کی وجہ سے عالم اسلام کو پریشان ہونا پڑے۔
مسلم ممالک کو نقصان
ایک عربی نیوز سائٹ ’’الجزیرہ نت ‘‘ لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنا جو پہلا خطاب عوام کے نام کیا ہے ، اس میں عالم اسلام کے لئے انتباہ ہے۔ٹرمپ نے اپنے انداز سے امریکی اور دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک پیغام دیا ہے کہ وہ امریکہ کی نئی پالیسی کے بارے میں آگاہ ہوجائے۔ ظاہر ہے ان کا یہ انداز بتا رہا ہے کہ مسلم ملکوں کے تعلق سے اب تک امریکہ کی جو پالیسی رہی ہے ،اس میں تبدیلی آسکتی ہے۔ حالانکہ ٹرمپ دہشت گردی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں اور داعش جیسی تنظیموں کی بیخ کنی کے عزم کا اظہار کرتے ہیں مگر اس آڑ میں وہ دیگر مسلم مسلم ملکوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ڈر بے معنی ہے
ایک اور اخبار ’’ الاخبار ۲۴‘‘ لکھتا ہے کہ ٹرمپ سے ڈرنا بے معنی ہے۔ انہوں نے اب تک جو باتیں کہی ہیں ،وہ محض تجویز ہے۔ مثلاً انہوں نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی بات کہی ہے تو ظاہر ہے وہ اس کو قانون کا حصہ نہیں بناسکتے ہیں،بلکہ ان کی طرف سے ایک تجویز ہے۔ اسی طرح وہ تمام بیانات ہیں جن کی وجہ سے عالم عرب میں خوف پایا جاتا ہے۔لیکن سچائی یہ ہے کہ امریکہ کا اپنا ایک قانون ہے اور ٹرمپ اس قانون کے دائرے سے باہر نہیں جاسکتے ،لہٰذا کسی بھی مسلمان کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
کچھ بھی حیران کن نہیں
فلسطین کا ایک ویب سائٹ ’’ فلسطین فیدیو ‘‘ لکھتا ہے کہ ذمہ داری سنبھالنے کے 72 گھنٹے بعد تک دنیا کی نگاہیں وہائٹ ہائوس پر ٹکی ہوئی تھی،لیکن اس دوران ٹرمپ نے ایسا کچھ نہیں کہا جو اچنبھے کی بات ہو۔ اگر مسلمانوں کو امریکہ میں داخلے پر پابندی کی بات کرتے ہیں تو اس کا تعلق نظم و نسق سے ہے اور یہ باتیں عام مسلمانوں کے لئے نہیں ہے بلکہ جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ ہو، کے تعلق سے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *