نوٹ بندی کی مار جھیل رہی ہیں سلک صنعتیں

damiیوں تو ملک کے مختلف حصوں میں مختلف طرح کی سلک صنعتیں پائی جاتی ہیں مگر ریاست اترپردیش سلک صنعتوں کے گڑھ کے طور پر معروف ہے۔ مشرقی اتر پردیش خاص کر گھر گھر میں چھوٹی بڑی صنعتیں قائم ہیں۔ملک کی دیگر ریاستوںکی طرح بنارس کی سلک ساڑیاں تو دنیا بھر میں مشہور ہیں مگر یہ سب مندا کا بری طرح شکار ہیں۔اتر پردیش کے سلک صنعتکاروں سے بات کرکے یہ بھی اندازہ ہوا کہ ان میں سے بیشتر جو کہ مسلمان ہیں مودی حکومت میں سبسڈی کے ختم ہونے اور اکھلیش یادو کے عدم دلچسپی سے سخت پریشان ہیںاور اس لئے ان دونوں کی پارٹیوں سے نالاں بھی ہیں۔
ابھی حال ہی میں ’’چوتھی دنیا‘‘ نے اپنے شمارہ (346 )میں’ نوٹ بندی کے اثرات: مسلم معیشت اور تعلیمی اداروں کی کمر توڑی‘ کے عنوان سے تفصیل سے لکھا ہے کہ کس طرح نوٹ بندی کا منفی اثر معیشت پر پڑا۔ یہ اثر عملی طور پر اس وقت دیکھنے کو ملا جب ’’چوتھی دنیا‘‘ کی ایک ٹیم نئی دہلی کے کنسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد سلک انڈیا نمائش کا جائزہ لینے کے لئے گئی۔ یہاں کل 90 سلک کے کپڑوں اور ساڑی کی دکانیں تھیں اور ان میں سے کے مالک مسلم صنعت کار تھے ۔یہ سب مختلف ریاستوںسے آئے ہوئے تھے جن میںبہار ، کرناٹک، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، اتر پردیش، مہاراشٹر، اڑیسہ،مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، جموں و کشمیر، آسام ، راجستھان، وغیرہ کے بنکر شامل تھے، نے اپنی دکانیں سجا رکھی تھیں۔ان دکانوں پر ساری، دوپٹہ، کرتا،سوٹ،چادر،کشمیر چورما ، میسور سلک ساڑیاں ، کریپ ، جارجیٹ سلک ، تسرسلک ، سوٹس ، کانچی ورم سلک ، ڈیزائنر فینسی ساڑیاں ، دھرماورم سلک ، جوٹ سلک ، ہینڈلوم سلک کاٹن ساڑیاں ، سلک بلینڈس ، سلک شالیں ، گدوال سلک کے علاوہ ڈریس میٹریل ، پرنٹیڈ سلک ، مہیشوری چندیری سلک ، کوٹا سلک ، ملبری سلک ، بنارس جامدانی و دیگر ملبوسات اپنے رنگ و روپ سے گراہگوں کی نظریں اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔یہ تمام سلک ہینڈلوم پر بہترین کشیدہ کاری کے ساتھ تیار کئے جاتے ہیں۔یہاں اعلیٰ قسم کی سلک مصنوعات سستے داموں پر بکتے دیکھ کر یہ خیال دماغ میں گھومنیلگتا ہے کہ یہاں بھی پورے ملک کی مختلف سلک اپنا جلوہ دکھا رہی ہیں۔
یوں تو سلک کے شوقین ہمارے ملک میں ہر جگہ اور ہر طبقے میں پائے جاتے ہیں اور جب بات راجدھانی دہلی کی آتی ہے تو کیا کہنا۔ یہاں ہر تہذیب اور کلچر کے لوگ آباد ہیں۔لہٰذا نمائش میں شاپ لگانے والے صنعتکار ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی بڑے جوش و جذبے سے اپنی دکانیں سجائے ہوئے گراہک کا انتظار کررہے تھے۔مگر یہ جذبہ گراہکوں میں نہیں دیکھا گیا ۔ 19سے 28جنوری تک لگنے والی اس نمائش میں بنکر وں میں سے کئی ایک کو تو اس مرتبہ نقصان اٹھانا پڑا اور کئی ’نو بے نیفٹ نو لوس ‘پر دس دن گزار کر چلے گئے۔اس سلسلے میں کئی صنعتکاروں سے بات کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ آخر مارکیٹ میں اس سرد مہری اور کساد بازاری کا سبب کیا ہے تو بیشتر نے کہا کہ ایک طرف حکومت کی بنکر مخالف پالیسی اور دوسری طرف نوٹ بندی نے ہماری کمر توڑ کر رکھ دی۔انہوں نے بتایا کہ ہماری سوسائٹی کو پہلے سرکار کی طرف سے 20فیصد سبسڈی دی جاتی تھی۔اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ ہمیں بنائی کا میٹریل سستے داموں پر مل جاتا تھا۔بنائی پر کم لاگت آنے کی وجہ سے اسے ہم بازار میں بھی کم دام پر فروخت کرتے تھے لیکن مودی سرکار میںجب سے سبسڈی ہٹالی گئی ہے،میٹریل مہنگا ہوگیا ہے ،بنائی کاسٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے مال زیادہ قیمت پر بیچنا پڑتا ہے۔پھر بھی ہینڈلوم کے شوقین کچھ مہنگے داموں پر خریداری کرلیا کرتے تھے مگر نوٹ بندی کے بعد تو اب بالکل ہی کام دھندہ چوپٹ ہوکر رہ گیا ہے۔ ایک طرف گراہک کم اور دوسری طرف اب بنائی کے لئے مزدور بھی نہیں ملتے ہیں۔ جو ملتے ہیں ،وہ زیادہ مزدوری مانگتے ہیں ،وہ بھی کیش میں ۔ پے ٹی ایم کو وہ سرے سے مسترد کردیتے ہیں ۔ اس صورت حال نے بنکروں کے لئے بڑی مشکلیں کھڑی کردی ہے۔
شاپ نمبر 48 پر بنگالورو،کرناٹک کی مشہور سلک مصنوعات کانجی لوم ساری سجی ہوئی تھی۔ شاپ پربیٹھے محمد عرفان سے جب یہ پوچھا کہ کاروبار کیسا چل رہا ہے؟ تو اس نے کہا اس مرتبہ 70 فیصد تک کاروبار کم ہوا ہے۔ وجہ معلوم کرنے پر اس نے بتایا کہ نوٹ بندی سے پہلے تو کام ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن نوٹ بندی نے سب کچھ تباہ کرکے رکھ دیا۔
اس کے کچھ آگے مغربی بنگال کی خوبصورت ساریوں سے سجی ہوئی شاپ نمبر 9 پر گورانج داس سے سوال کرنے پر اس نے بتایا کہ کاروبار ٹھیک ٹھاک ہے مگر اس مرتبہ توقع کے مطابق مال فروخت نہیں ہوسکا۔وہیں پر آندھرا پردیش کی پر سمپارد شاپ نمبر 10 پر ارجن نام کا ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے بتایا کہ کارو بار ٹھیک ہی چلا ۔جتنی توقع تھی ، اس حد کو چھو لیا ہے۔کچھ آگے بڑھے تو ماڈرن شاپ نمبر 56 پر شاہد جمال سے بات ہوئی۔ یہاں مبارکپور ، اترپردیش کے ہینڈلوم کی مصنوعات موجود تھیں۔ شاہد جمال نے بتایا کہ یہاں پرلوگوں کی پرچیزنگ پاور کم ہونے کی وجہ سے کاروبار ڈھیلا ہے۔ شاپ نمبر 89 الجنیٹی سلک کے نام سے ہے۔ یہاں بھی بنگال کی مصنوعات ہیں۔یہاں پر بیٹھے نوجوان لڑکے نے بھی یہی جواب دیا کہ لوگوں میں سلک پرچیزنگ میں دلچسپی کم ہوئی ہے ۔ لہٰذا یہ کاروبار اب پہلے کی طرح نہیں رہا۔ شاپ نمبر 38 پر کشمیر کی مصنوعات تھیں۔ یہاں پر بیٹھے نوجوان کامل اختر نے بتایا کہ نوٹ بندی کا اثر اتنا پڑا ہے کہ ہمارا کاروبار 40-30 فیصد تک گر گیا ہے۔ اسی طرح شاپ نمبر 104 پر بنارس کی سلک مصنوعات تھی۔ یہاں پر جب دکاندار تسلیم سے بات ہوئی تو اس نے بھی کاروبار کے کم ہونے کی بات کہی ۔مارکیٹ میں بھیڑ تھی اور بظاہر لگ رہا تھا کہ کاروبار خوب چل رہا ہے مگر زیادہ تر دکانداروں نے کم کاروبار ہونے کی بات کہی۔اسی دوران شاپ نمبر 12 پر کولکاتا کی خوبصورت مصنوعات نظر آئیں۔ شاپ پر شیکھا نام کی لڑکی کچھ گراہکوں کو اپنی مصنوعات دکھانے میں مصروف تھیں۔ ان سے کارو بار کی صورت حال پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان کا کاروبار ٹھیک چل رہا ہے اور انہوں نے اس نمائش میں جو توقع کی تھی،تقریباً اتنا کاروبار کرلیا ہے۔اس کے بعد چاندوری مدھیہ پردیش شاپ نمبر 17 پر عمران خان سے بات ہوئی۔اس نے بتایا کہ نوٹ بندی نے کارو بار کو متاثر کیا ہے ۔لیکن ہم پھر بھی اس کام کو کرنے پر مجبور ہیں۔کیونکہ برسوں سے ہم اسی کو کرتے آرہے ہیں۔
ایک مشترکہ سوال ان سب سے پوچھا گیا تھا کہ اس کاروبار میں انہیں کیا دشواریاں پیش آتی ہیں تو زیادہ تر نے کہا کہ پہلے مزدور آسانی سے مل جایا کرتے تھے،لیکن اب مزدور ملنے میں دشواری ہوتی ہے کیونکہ وہ پیسے زیادہ مانگتے ہیں۔ظاہر ہے جب کاروبار پر مندا ہے تو منافع بھی کم ہیں،ایسی صورت میں ہم انہیں زیادہ پیسے دے کر کیسے رکھ سکتے ہیں؟دوسری بات یہ کہ آزادی کے بعد سے ہی ہماری سوسائٹی کو سبسڈی ملتی تھی۔لیکن مودی حکومت نے اس سبسڈی کو بند کردیا ہے جس کی وجہ سے میٹریل مہنگا ہوگیا ہے جبکہ بازار میں مال مہنگا سیل نہیں ہوتا ہے لہٰذ ا ہمیں کم منافع میں مال سپلائی کرنا پڑتا ہے۔کم منافع لے کر لیبر چارج زیادہ دینا ممکن نہیں رہا ۔یہی وجہ ہے کہ اس کاروبار میں پہلے جیسی چارمنگ نہیں رہی۔البتہ وہ اس کارو بار سے پشتینی طور پر جڑے ہوئے ہیں اس لئے اس کو چھوڑنا بہت مشکل ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *