منی پور کی نصف عیسائی و مسلم آبادی علاقائی ترقی اور ایشوز پر ووٹ دیتی ہے

damiمنی پور میں 15 سال سے کانگریس کی قیادت چل رہی ہے۔60اسمبلی سیٹ والی ریاست منی پور میں 2017 میں مارچ کے مہینے میں الیکشن ہونے جارہا ہے۔ 2012 کے انتخاب میں کانگریس نے 42 سیٹیں حاصل کرکے حکومت قائم کی تھی۔ کانگریس نے اوکرام ایبوبی سنگھ کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنایا تھا ۔2011 مردم شماری کے مطابق ، ریاست میں31 لاکھ کی آبادی میں41.39 فیصد ہندو، 41.29 فیصد عیسائی ، 8.40 فیصد مسلمان، 0.05فیصد سکھ، 0.25فیصد بدھسٹ ، 0.06فیصد جین اور بقیہ دیگر مذاہب کے ہیں ۔
منی پور 2017 کے اسمبلی انتخابات کانگریس اور بی جے پی کے لئے نیا سیاسی میدان جنگ بن گئے ہیں۔یہاں دونوں پارٹیاں اپنے سیاسی مفادات کیلئے ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔کانگریس ترقی کے ایشو کو لے کر میدان میں اتر رہی ہے تو بی جے پی بدعنوانی سے پاک اور گڈ گورننس کے ایشو پر الیکشن لڑے گی۔بی جے پی یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اگر اس کی حکومت بنی تو وہ پہاڑی علاقوں میں کنکٹیویٹی کو سدھارے گی۔اس سے گھاٹی اور پہاڑی کے لوگوں کو باہمی رابطے میں سہولت ہوگی۔ان دونوں پارٹیوں کے علاوہ میدانِ انتخاب میں سی پی آئی (ایم)، این سی پی، عام آدمی پارٹی،جنتا دل (یو)کے علاوہ منی پور نیشنل فرنٹ اور لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کے اتحادی مورچہ کے علاوہ منی پور پیپلز پارٹی اور منی پور اسٹیٹ کانگریس پارٹی بھی شامل ہیں۔
اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہے۔ بی جے پی مرکز میں اقتدار کے سہارے ریاست میں اقتدار پر قبضہ جمانے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔وہ انکمبنسی کے علاوہ پہاڑی اور گھاٹی کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے پر زیادہ زور دے رہی ہے۔دراصل ریاست کی 60سیٹوں میں سے 20 پہاڑی علاقوں میں اور 40سیٹیں گھاٹی میں ہیں۔پہاڑی علاقے کے لوگوں میں حکومت کے تعلق سے جو غلط فہمی پائی جاتی ہے ، اس غلط فہمی کا فائدہ بی جے پی اٹھانا چاہتی ہے۔پہاڑی لوگوں کو ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ ریاستی حکومت ہمیشہ سے میتئی طبقے کو ترجیح دیتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ منی پور کی کل آبادی میں63فیصد لوگ میتئی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔وزیر اعلیٰ ایبوبی بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔چونکہ میتئی کی آبادی بڑی ہے ،اسی لئے بی جے پی اس طبقے پر فوکس کررہی ہے۔دوسری طرف منی پور میں معاشی ناکہ بندی کے مسئلے میں مرکزی حکومت کسی قسم کی مداخلت نہ کرکے اس مسئلے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور بی جے پی اس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور میتئی غلبہ والے اضلاع میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے کوشاں ہے۔بی جے پی اپنی تمام حکمت عملی اپنا کر منی پور کو کانگریس سے پاک ریاست بنانے کی راہ پر پوری طرح رواں دواں ہے ۔
مگر اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے سامنے ریاست میں کچھ چیلنجز ہیں جن کا سامنا پارٹی کو ہے۔ خاص طور پر اس کے ایک ایم ایل اے کھمک چن جے کشن کا پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوجانا پارٹی کے لئے بڑی مشکلیں کھڑی کردی ہیں۔ جے کشن نے معاشی ناکہ بندی کو ختم کرنے کے سلسلے میں مرکز کی سردمہری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ا ن کے استعفیٰ کا بی جے پی پر گہرا اثر پڑا ہے اور عوام میں بھی پارٹی کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔
ظاہر ہے بی جے پی اپنی نت نئی پالیسیوں سے کانگریس کے لئے مشکلیں کھڑی کررہی ہے ۔اس سے فکر مند کانگریس نے بھی اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہے۔کانگریس سرکار نے عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک نئی چال چلی ہے۔انتخاب سے کچھ پہلے وزیر اعلیٰ ایبوبی نے 7نئے ضلعے بناکر ایسی چال چل دی ہے جس کا جواب فی الوقت بی جے پی کے پاس نہیں ہے۔دراصل ایبوبی سرکار نے ناگا اکثریتی علاقوں والے پہاڑی ضلعوں کو تقسیم کرکے نئے اضلاع بنادیا ہے۔ایبوبی کا یہ عمل کوکی طبقہ کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ان کی پرانی مانگ تھی۔ ایبوبی کے اس فیصلے سے علاقے کے تقریباً 3 لاکھ کوکی کو کانگریس نے اپنے قریب کرلیا ہے۔
دوسری طرف ایبوبی سنگھ نے جری بم اور صدر ہلز کو مکمل اضلاع کا درجہ دینے کے سلسلے میں سمجھوتہ کیا تھا، اس کے خلاف ناگا کونسل نے احتجاج کرتے ہوئے اسے ان کی آزادی کے لئے خطرہ قرار دیا تھا اور معاشی ناکہ بندی کا اعلان کیاتھا ۔اس کے بعد حکمراں کانگریس نے سات نئے اضلاع بنانے کا فیصلہ کرکے علاقے میں ایک نیا طوفان کھڑا کردیا جس کے نتیجے میں ریاست بھر میں معاشی ناکہ بندی مزید بڑھا دی گئی۔ ناکہ بندی کی اس صورتحال نے ریاست میں بی جے پی کو کمزور کردیا۔بالخصوص ناگاؤں کے ساتھ امن معاہدے کے بعد مرکز کی بی جے پی حکومت کا اثر و رسوخ بھی کم ہوگیا ہے۔اب بی جے پی اس اثرو رسوخ کو کیسے بحال کرے گی اور کانگریس سے پاک ریاست کیسے تشکیل دے گی ،اس کا پتہ نتائج کے بعد ہی چلے گا۔
اس مرتبہ منی پور کا انتخاب بہت دلچسپ ہونے والا ہے۔ کیونکہ خواتین بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔معروف صحافی ٹریسا رحمن کہتی ہیں کہ اس مرتبہ خواتین انتخاب کا رخ طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ دیکھا جارہا ہے کہ عمر رسیدہ خواتین خاص طورپر وشناویٹ طبقے کی خاتون میں تو زبردست جوش و خروش دیکھا جارہا ہے اور یہ آنے والے وقت کے لئے ایک اچھی علامت ہے۔
حالانکہ ریاست میں اقلیتی طبقہ میں عیسائی اور مسلمانوں کو ملا کر مجموعی تعداد اتنی ہوجاتی ہے جو کسی بھی پارٹی کو اقتدار تک پہنچا سکتی ہے۔ مسلم آرگنائزیشن ’’دی پنگال پالٹیکل فارم (پی ڈی ایف) کا بھی وہاں کی سیاست میں اچھا عمل دخل ہے ۔اس آرگنائزیشن کی سنگ بنیاد منی پور اسٹیٹ کے پہلے وزیر اعلیٰ محمد علیم الدین نے رکھی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ محمد علیم الدین دو مرتبہ ریاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔پہلی مرتبہ 23مارچ 1972سے 27 مارچ 1973 تک اور دوبارہ 4مارچ 1974 سے 5دسمبر 1974۔اس کے علاوہ وہ اسپیکر اور کئی وزارت کی قلمدان بھی سنھبالتے رہے ہیں۔اس تنظیم کی مسلمانوں پر پکڑ ہے ۔حالانکہ ابھی تک اس نے کسی پارٹی کی حمایت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن یہ اپنی جگہ طے ہے کہ ریاست کے مسلمان اور اقلیت یہاں ہندوتوا کو پورے طور پر مسترد کرتے ہیں۔ یہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بی جے پی منی پور کے لئے اپنا نظریہ تبدیل نہیں کرے گی اور جس طرح سے ملک کی دوسری ریاستوں میں ہندوتوا کے ایشو پر کام کررہی ہے ،یہاں بھی یہی نظریہ نافذ کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے علاوہ وہاں کے مسلمان 2013 میں مظفر نگر فسادجیسے واقعات کی وجہ سے کانگریس کی طرف جاسکتے ہیں۔ ظاہر یہ صورت حال رہی تو بی جے پی کے لئے اقتدار تک پہنچنا مشکل ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *