مسلم ممالک کے خلاف ٹرمپ کا فیصلہ یوروپ ناراض ، سعودی عرب خوش

damiامریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایک آرڈر جاری کیا ۔ اس آرڈر کے تحت تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو چار ماہ کے لئے معطل کردیاگیا ہے جبکہ سات ممالک کے شہریوں کو تین ماہ تک امریکہ کے ویزے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان سات مسلم ممالک میں عراق، ایران ، شام، لیبیا ، صومالیہ ، سوڈان اور یمن ہیں جن کے شہریوں کو امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے پر یوروپی ممالک سمیت امریکی عدلیہ نے زبردست تنقید کی ہے ۔مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ کو مسلمانوں کا مسیحا کہنے والا سعودی عرب اور کویت ایسے نازک وقت میں مسلم ممالک کے خلاف ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
اندرونی و بیرونی مخالفت
ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی مخالفت کرنے والوں میں سب سے اہم وہاں کی عدالت ہے۔ امریکی ریاست واشنگٹن کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ7 مسلم ملکوں کے شہریوں کا امریکہ میں داخلہ روکنے کا حکم نامہ معطل رکھا جائے۔عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے سے ریاست واشنگٹن کی معیشت اور شہریوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف حکم امتناع جاری کیا جانا ضروری ہے۔ واشنگٹن کے اٹارنی جنرل باب فرگوسن نے ایگزیکٹو آرڈر کو معطل رکھنے کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔ باب فرگوسن کا موقف تھا کہ صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر سے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی اور یکساں تحفظ کی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔عدالت کے علاوہ امریکہ کے سرکاری ملازمین،سفارت کار وںاور سیاست دانوں کی لمبی فہرست ہے۔ چند روز قبل مرکزی حکومت کی قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی جس کے پاداش میں انہیں عہدہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ 16 امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلوں نے صدر ٹرمپ کے حکم نامے کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب ہزاروں افراد نے امریکی ہوائی اڈوں کے باہر اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔
دنیا کی متعدد مشہور شخصیات، بین الاقوامی اداروں اور عام لوگوں نے بھی ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍامریکا میں مسلمانوں اور پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی کے امریکی صدر کے فیصلے کو نسل پرستانہ اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔
ہالی ووڈ اداکار بھی شامل ہیں لیکن اب امریکی فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی بالی ووڈ اداکارہ بھی اس فیصلے کے خلاف بول پڑی ہیں۔بالی ووڈ اداکارہ اور یونیسیف کی خیرسگالی کی سفیر پریانکا چوپڑا نے سماجی رابطے کی سائٹ لنکڈن پر اپنے فیچر میں لکھا ہے کہ امریکی پابندی کا شکار مسلم ممالک میں یونیسیف کے تحت متعدد پراجیکٹ چل رہے ہیں اور ان ممالک میں جنگ کے باعث کئی ملین بچے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر یہ امتیاز نہیں برتنا چاہیے اور نہ ہی ہمیں اس پابندی کو برداشت کرنا چا ہئے کیوں کہ اس فیصلے سے مجھ سمیت دنیا کا ہر ایک انسان متاثر ہورہاہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ امریکا ایسے وقت میں اپنی ذمہ داری سے دامن چھڑا رہا ہے، جب پوری دنیا میں پناہ گزینوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔برطانیہ کی وزیر اعظم تریسا مے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں مہاجرین کی پالیسی، اس ملک کا اپنا مسئلہ ہے لیکن ہم اس طرح کے رویے کو قبول نہیں کرتے۔برطانیہ میں لیبر پارٹی کے لیڈر جرم آوربن نے کہا ہے کہ جب تک یہ پالیسی جاری رہتی ہے، ٹرمپ کو برطانیہ میں نہیں آنے دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی عجیب اقدام ہے اور امریکی پارلیمنٹ کو بھی لوگوں کے اصل حقوق کی حفاظت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس سے پہلے جرمنی اور فرانس کے بھی وزرائے خارجہ نے بھی اس حکم پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کو تشویش کا سبب قرار دیا تھا۔
کناڈا میں رد عمل
امریکی صدر کے اس فیصلے سے متاثر ہوکر کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈیو نے اعلان کیا کہ ان کا ملک ایسے پناہ گزینوں کے استقبال کے لئے تیار ہے جو دہشت گردی، جنگ یا کسی پرتشدد ظلم و زیادتی کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کسی ظلم و ستم کا شکار ہیں یا دہشت گردی اور جنگ کی وجہ سے اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں تو کناڈا آپ کے مذہب کی تفریق کئے بغیر آپ کو خوش آمدید کہے گا۔اسی دوران کناڈا کی کیوبک مسجد میں گزشتہ دنوں شب کی نماز کے دوران ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں تقریباً 6 نمازیوں کوجام شہادت نوش کرناپڑا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال کناڈا کی ایک مسجد کے سامنے خنزیر کا سر پھیکا گیاتھا اور اس کے ساتھ ایک پرچہ بھی لکھا ہوا ملا تھا جس پر لکھا تھا ’’بون اپیٹیٹ‘‘یعنی’کھانے کا مزہ لو‘۔ظاہر ہے یہ کام کسی فتنہ پرور آدمی کا ہی ہوسکتا ہے جو مسلمانوں کو مشتعل کرکے ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتا ہو۔مگر کناڈا کے مسلمانوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس معاملے کو قانونی دائرے میں رہ کر سلجھایا ۔اب ایک مرتبہ پھر کناڈا کی اسی مسجد پر حملہ ہوا ہے۔ یہ مسجد کینڈا کے شہر کیوبیک میں واقع ہے۔رات کی نماز کے وقت یہ حملہ ہوا ہے جس میں پچاس سے زیادہ گولیاں چلائی گئیں۔
دراصل اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کی وجہ سے اسلام فوبیا کا خوف ایسا چھایا ہوا ہے کہ مساجد ، تعلیمی اداروں اور درسگاہوں کو انتہا پسندکی آماجگاہ بنایا جانے لگا ہے۔ اس کے پیچھے دائیں بازوئوں کی وہ تشہیری مہم بھی ہے جس میں اسلام کو بدنام کرنے کے لئے نئے نئے طریقے آزمائے جاتے ہیں۔ ان تشہیری مہم کی وجہ سے نوجوان طبقہ اسلام کے تئیں غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے اور اسلامی اداروں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے لگتا ہے۔چنانچہ کناڈا، فرانس اور امریکہ میں اس طرح کے حملے اسی تشہیر کے حصہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
کناڈا کی مسجد پر حملے کو اس نقطہ نظر سے بھی دیکھا جارہا ہے کہ یہ حملہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اظہار اورسوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ ہے۔اس سانحہ کو ٹرمپ کے جارحانہ فیصلے اوراقدام کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔دراصل کینڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈیوے نے ٹرمپ کے سات ملکوں پناہ گزینوں پر پابندی عائد کرنے کے رد عمل میں انتہائی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک ایسے پناہ گزینوں کے استقبال کے لئے تیار ہے جو دہشت گردی، جنگ یا کسی پرتشدد ظلم و زیادتی کا شکار ہیں۔ٹروڈیو نے اپنے ٹویٹ پر مزید کہا ہے کہ’’اگر آپ کسی ظلم و ستم کا شکار ہیں یا دہشت گردی اور جنگ کی وجہ سے اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو ئے ہیں تو کناڈا آپ کے مذہب کی تفریق کئے بغیر آپ کو خوش آمدید کہے گا۔ ثقافتی تنوع ہماری طاقت ہے‘‘۔
لندن کے میئر صادق خاں نے امریکی صدر کی طرف سے عائد کردہ سفری پابندیوں کو ظالمانہ اور متعصبانہ قرارد یا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے مسلم ممالک کے شہریوں کے لیے امریکا کے سفر پر پابندی عائد کرنے کے ٹرمپ حکومت کے فیصلے کو عالم اسلام اور ایرانی قوم کی توہین قرار دیا ہے۔ترکی کے نائب وزیر اعظم نعمان قرطلمس نے ٹرمپ کو اسلام فوبیا سے متاثر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا مشورہ دیا ہے۔
سعودی عرب کی حمایت
غرضیکہ یوروپ میں اس فیصلے پر شدید رد عمل ہورہاہے،خود امریکہ کی عدالت اور وہاں کے سرکاری و غیر سرکاری ملازمین اس فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں لیکن مسلم ملکوں میں سعودی عرب کے وزیرِ تیل خالد الفلیح نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سات مسلم ممالک پر لگائے جانے والی سفری پابندی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق ہے۔خالد الفلیح نے مزید کہا کہ لوگ جن مشکلات کا سامنا پیش کر رہے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائیں گی۔جب خالد الفلیح سے پوچھا گیا کہ اگر صدر ٹرمپ اپنے وعدے کہ مطابق سعودی عرب سے تیل خریدنا بند کر دیں تو کیا ہوگا، تو وزیرِ تیل نے جواب دیا تھا کہ یہ دھمکی حقیقت میں نہیں بدلے گی۔صدر ٹرمپ کے اقدامات کی تعریفیں کرتے ہوئے خالد الفلیح نے کہا کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کا فوسل فیول کی جانب مثبت نقطہ نظر رکھنے کو سراہتے ہیں اور کہا کہ یہ سابق صدر اوباما کے غیر حقیقی پالیسیوں سے بہتر ہے اور اس کی مدد سے امریکہ اور سعودی عرب کی معاشیات کو مشترکہ فائدہ ملے گا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وہ سعودی عرب کو اہم اتحادی تصور کرتے ہیں اور صدر بننے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جس مسلم سربراہ سے سب سے پہلے فون پر بات کی تھی وہ سعودی بادشاہ سلمان بن عبد العزیز تھے۔اس دوستی کے پیچھے یہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ ٹرمپ کے سعودی عرب میں بہت سے مفاد جڑے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے اگست 2015 میں کچھ کمپنیوں کے ساتھ کچھ سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔ یہ کمپنیاں ٹی ایچ سی جدہ ہوٹل ،ڈی ٹی جدہ ٹیکنیکل سروسز کے نام سے رجسٹر ہیں۔انہوں نے اپنے جو مالیاتی گوشوارے جمع کرائے تھے،ان کے مطابق وہ ان کمپنیوں میں سے چار کے سربراہ اور بعض کے ڈائریکٹر ہیں۔ظاہر ہے ایسی صورت میں وہ سعودی عرب کو دشمن بنا کر اپنے منافع کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے ہیں۔
کویت نے بھی پابندی لگائی
دوسری طرف سعودی عرب کے دوست اور پڑوس ملک کویت نے بھی ایک نیا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے میں پاکستان سمیت پانچ ممالک کے شہریوں کو ویزادینے پر پابندی لگادی ہے۔’ گلف نیوز‘ کے مطابق کویت نے اپنی نئی ویزاپالیسی میں پاکستان ، ایران ،عراق ،شام اور افغانستان کے شہریوں کو ویزانہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سیکورٹی مسائل اورکویت میں ان ممالک کے شہریوں کی تعداد میں اضافہ کے باعث پہلے بھی شام کے تعلق سے یہ فیصلہ کیاگیا تھا۔اس پابندی کے تعلق سے کویتی حکومت کا کہنا ہے کہ ویزانہ دینے کی پابندی عارضی ہے سیکورٹی مسائل حل ہونے کے بعد پابندی کو ہٹالیاجائے گا۔
بہر کیف ایک ایسے وقت میں جب ٹرمپ مسلم ملکوں کے خلاف متعصبانہ فیصلے صادر کررہے ہیں،دنیا بھر کے مسلمان سعودی عرب کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اور یہ امید کررہے تھے کہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کا اعلان کرے گا۔سعودی عرب کے اس فیصلے سے امریکہ مسلم ممالک کے تئیں محتاط ہوجاتا لیکن سعودی عرب کے ایک سینئر وزیر نے ٹرمپ کے اقدام کی تعریف کرکے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مایوس کردیا ہے۔ مزید براں کویت نے بھی پانچ مسلم ملکوں کے لئے ویزہ کے اجرا پر پابندی لگا کر مسلمانوں کے زخموں پر مرہم لگانے کے بجائے نمک مل دیا ہے۔حالانکہ کویت کے اس فیصلے پر کچھ خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ یہ فیک نیوز تھا مگر ماضی میں کویت سیکورٹی کے مد نظر شام کے ساتھ ایسا کرچکا ہے ،نیز ٹرمپ کے اس فیصلے پر اس کی طرف سے کوئی مذمتی قرار داد بھی نہیں آئی ہے لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے میں کویت اس کے ساتھ تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *