مسلم دانشوران سے بات چیت راس نہیں آرہا ہے لوگوں کو اکھلیش -راہل اتحاد

damiاپنوں سے بیر اور غیروں سے پیار کا اکھلیش نواز رویہ لوگوں کو نہیں بھا رہا ہے۔سماج وادی پارٹی کے نو منتخب صدر اکھلیش یادو کے ذریعہ کانگریس سے اتحاد کرنے اور اس نام پر ملائم اور شیو پال سے جڑے سماج وادیوں کا ٹکٹ کاٹ کر کنارے لگانے کی انتقامی کارروائیوں سے سمجھدار ووٹر ناراض ہیں۔ خاص طور پر سماج وادی پارٹی سے جڑے مسلم ووٹرس اس سیاسی اتھل پتھل میں اپنا قیمتی ووٹ برباد نہیں کرنا چاہتے۔ عام ووٹروں سے لے کر اردو صحافیوں کی رائے میں بھی اکھلیش – راہل اتحاد لوگوں کو راس نہیں آرہا ہے۔ مغربی اتر پردیش کے میرٹھ، علی گڑھ، مراد آباد ، مظفر نگر، دیو بند، بریلی ، رامپور اور پروانچل کے اعظم گڑھ ، غازی پور، مئو اور بلیا جیسے اضلاع کو دیکھیں تو سب جگہ عام ووٹر سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے بچکانے فیصلوں اور کانگریس سے بے سر پیر کے اتحاد کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے تک مسلم ووٹروں میں تذبذب کی صورت حال بنی ہوئی تھی لیکن اب ان میں سے زیادہ تر نے یہ طے کر لیا ہے کہ انہیں بہو جن سماج پارٹی کو ووٹ دینا ہے۔
اعظم گڑھ کے لال گنج کے رہنے والے مولانا محمد سرور کہتے ہیں کہ برسراقتدار پارٹی میں تنازع سے اب وہ اکتا چکے ہیں اور سماج وادی اپرٹی چھوڑ کر بہو جن سماج پارٹی کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ بریلی کے موہن پور گائوں کے رہنے والے مہتاب عالم کہتے ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی میں ہوئے غیر جمہوری تنازع سے پریشان ضرور ہیں لیکن پھر بھی وہ اکھلیش یادو کو ہی ووٹ دیں گے ۔علی گڑھ کے مفتی محمد خالد حامد مودی سرکار کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جمہوریت میں مضبوط اپوزیشن کا ہونا بے حد ضروری ہے لیکن سماج وادی پارٹی کے عوامی جھگڑے کو وہ غیر مناسب ٹھہراتے ہیں اور سیاسی متبادل کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے ایک سینئر عالم دین نے کہا کہ یو پی میں بی جے پی کو ہرانا سب سے اہمیت رکھتا ہے لیکن پارٹی ، امیدوار اورعلاقے کے سیاسی اتحاد بھی خاص معنی رکھتے ہیں۔جہاں تک امیدواروں کے انتخاب کا مسئلہ ہے ،اس میں بہو جن سماج پارٹی سب سے اول ثابت ہوئی ہے۔ لہٰذا وہ تو بہو جن سماج پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔مذکورہ مولانا کہتے ہیں کہ اگر سبھی مسلم متحد ہوکر ووٹ کریں تو یو پی میں سیاسی بدلائو آسکتا ہے۔
بی ایس پی-قومی ایکتا دل اتحاد
بہو جن سماج پارٹی کے ذریعہ’ قومی ایکتا دل ‘کا اپنی پارٹی میں الحاق کرانے سے مسلم ووٹروں میں خوشی ہے۔ وہ اسے مایاوتی کی سیاسی ہوشمندی مانتے ہیں۔ خاص طور پر پروانچل میں مسلم ووٹروں پر اس کا مثبت اثر پڑا ہے۔ دانشور ڈاکٹر محمد شرف عالم کہتے ہیں کہ مختار انصاری کو ٹکٹ دینے کو لے کر میڈیا والے کچھ بھی کہتے رہیں، لیکن اصلیت یہی ہے کہ مختار انصاری کو عام مسلمان ہیرو مانتا ہے اور اسے اپنا سیاسی نمائندہ بنانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کی چیف مایاوتی کے ذریعہ 99 مسلم امیدوار اتارے جانے کو بھی ڈاکٹر عالم مسلمانوں کے درمیان مثبت پیغام دیئے جانے کے نظریے سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا اثر انتخاب میں نظر آئے گا۔
انتخابی کوریج کرنے کولکاتا سے لکھنو میں خیمہ زن اردو روزنامہ ’’ اخبار مشرق‘‘ کے سینئر صحافی عظمت جمیل صدیقی کہتے ہیں کہ اسمبلی انتخابات کے کافی پہلے سے سماج وادی پارٹی میں مچے گھمسان پر مسلم ووٹرس مایوس تھے۔ اس مایوسی کو مایا وتی نے اچھی طرح بھانپ لیا۔ مایاوتی کو لگا کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کا ووٹ بہو جن سماج پارٹی کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔لہٰذا انہوں نے خاصی تعداد میں مسلمانوں کوامیدوار بنانے کی پالیسی اپنائی اور اس پر کام کیا۔ اس کا مایاوتی کو یقینی طور سے فائدہ ملے گا۔ صدیقی کہتے ہیں کہ اتر پردیش میں مسلم آبادی تقریباً 19 فیصد ہے جبکہ دلت آبادی تقریباً 21فیصد ہے۔ رام پور ، مراد آباد ، بجنور ، سہارن پور، بریلی ، مظفر نگر ،میرٹھ، بہرائچ، بلرام پور ، سدھارتھ نگر، جیوتی بافولے نگر ، شراوستی، باغپت، بدایون، غازی آباد، لکھنو، بلند شہر اور پیلی بھت کی کل 113 اسمبل سیٹوں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت میں ہیں۔ ایسے میں اگر مایاوتی کو مسلم ووٹ متحد ہوکرمل گیا تو یوپی میں بہو جن سماج پارٹی کی سرکار بننا طے ہے۔
مختار انصاری کو بہو جن سماج پارٹی میں شریک کرنے اور انہیں ٹکٹ دینے کے مسئلے پر مایاوتی نے یہ کہہ کر مسلمانوں کی جذباتی حمایت حاصل کرلی ہے کہ کورٹ میں ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ قتل کے معاملے میں مختار انصاری مجرم ہیں۔ مایاوتی نے تو یہاں تک کہا کہ مختار کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے۔عظمت کہتے ہیں کہ سماج وادیوں کو کھسیانے کے لئے ہی مایاوتی نے اپنے سابق اعلان شدہ امیدواروں کا نام کاٹ کر مختار انصاری کو مئو سے، مختار کے بیٹے عباس انصاری کو گھوسی سے اور مختار کے بھائی صبغت اللہ انصاری کو محمد آباد سے ٹکٹ دینے کا اعلان کیا۔
ایس پی -کانگریس اتحاد
سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد سے مسلمان کتنا متاثر ہوا ہے۔ اس سوال پر عظمت جمیل صدیقی کہتے ہیں کہ فوری طور پر یہ اتحاد تو ٹھیک دکھائی دے سکتا ہے لیکن بہار میں اتحاد کی درگت بنانے میں سماج وادی پارٹی کے کردار کو ووٹر کیسے بھلا سکتے ہیں؟ خاص طور پر مسلم ووٹروں کو یہ اچھی طرح یاد ہے کہ رام گوپال یادو اور اکھلیش یادو نے ہی اتحاد توڑا تھا اور آج اسی اتحاد کے بڑے خیر خواہ بن رہے ہیں۔ صدیقی یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان ریزرویشن وغیرہ کے معاملے میں کانگریس کی یقین دہانی پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر مولانا خالد رشید فرنگی محلی بھی عظمت جمیل صدیقی کی ان باتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ مولاناکہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ریزرویشن کا دائو نہیں لبھاتا۔ غریبی ،ناخواندگی اور پسماندگی سے گھرا ہوا مسلم طبقہ اپنے مسائل کو لے کر ہی پریشان رہتا ہے۔ شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا یعقوب عباس کہتے ہیں کہ اس بار پارٹیوں کے کورے وعدے نہیں چلیں گے بلکہ انہیں خاص طور پر شیعہ مسلمانوں کی فلاح کے لئے پختہ اسکیم پیش کرنی ہوگی۔
مسلم شہریوں اور دانشوروں کی ان باتوں سے صاف ہوجاتا ہے کہ ایس پی -کانگریس کے اس اتحاد کوپسند نہیں کیا جارہا ہے۔ راہل- اکھلیش کے لکھنو میں روڈ شو کے دوران بھی لوگوں کی بھیڑ سے یہ سوال اٹھتا رہا کہ کیامسلمانوں کو یہ ساتھ پسند ہے؟مسلم دانشوروں اور مسلم ووٹروں نے اس پر منفی ہی جواب دیا۔ آل انڈیا مسلم خاتون پرسنل لاء بورڈ کی قومی صدر شائستہ عنبر کا کہنا ہے کہ مسلمان اب کسی مولانا یا لیڈر کے کہنے پر نہیںبلکہ خود فیصلہ لیتا ہے مسلمان اب اکھلیش- راہل یا مایاوتی کے دکھائے اس ڈر کی بھی پرواہ نہیںکرتا کہ بی جے پی اقتدار میں آنے سے مسلمانوںکو کوئی خطرہ ہے۔ لب لباب یہی ہے کہ مسلمان سیاسی متبادل کا خواہاں ہے۔
علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد سماج وادی پارٹی- کانگریس کے اتحاد کو دھوکہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سب سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان انہی دونوں پارٹیوں نے پہنچایا ہے۔ کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کلب جواد کہتے ہیںکہ 50سال سے زیادہ مرکز میں حکومت کرنے والی کانگریس نے سب سے زیادہ تباہی پہنچائی ہے۔اکھلیش کی سرکار میں سینکڑوں کی تعداد میں اور کانگریس کے دور حکومت میں ہزاروں فسادات ہوئے ہیں۔یہ دونوں ہی پارٹیاں مسلم مخالف ہیں۔ مولانا کہتے ہیں کہ ملائم سنگھ بھی اکھلیش پر مسلم مخالف ہونے کا الزام لگا چکے ہیں ۔علماء سماج وادی پارٹی کی وعدہ خلافی سے ناراض ہیں۔ الانعام ویلفیئر ایسو سی ایشن کے قومی صدر عمران صدیقی بھی بہو جن سماج پارٹی کو حمایت دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔
مظفر نگر فساد
مولانا کلب جواد کی باتوںکو آگے بڑھائیں اور مسلمان ووٹروں کا من ٹٹولیں تو ہم پائیںگے کہ خاص طور پر مظفر نگر فسادات کو لے کر اکھلیش یادو کی سرکار پوری طرح کٹہرے میں ہے ۔ایسے میں لاء اینڈ آرڈر کے لئے بہت سے مسلمان مایاوتی کے دن کو یاد کررہے ہیں۔ مئو کے شاہد جمال بی ڈی سی ہیں۔وہ اکھلیش سرکار سے بہت خفا ہیں ۔ان کی ناراضگی کی سب سے بڑی وجہ مظفر نگر فساد ہے۔ جمال کہتے ہیں کہ آپ جاکر مظفر نگر کی حالت دیکھئے۔ وہاں آج بھی لوگ کیمپوں میں رہنے کے لئے مجبور ہیں۔ ملائم سنگھ نے کہا تھا کہ جب ہم حکومت میں آئیںگے تو جتنے بھی بے قصور مسلمان جیل میں بند ہیں ،سب کو رہا کروائیں گے۔لیکن اکھلیش سرکار نے طارق قاسم کے ساتھ کیا کیا؟ملائم سنگھ نے وعدہ کیا تھا کہ جتنے مسلم اکثریت والے علاقے ہیں، وہاں ہر تھانے میں مسلم تھانیدار ہوگا۔ بنکری پروانچل کے لوگوں کی روزی روٹی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سماج وادی پارٹی نے کہا تھا کہ ہم بنکروںکو صنعتی کارو بار میں شامل کریں گے اور تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کو اس کی کل آبادی کے تناسب میں ریزرویشن دیںگے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اکھلیش یادو نے بھی مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ملائم سنگھ نے ہی کہا ہے کہ اکھلیش مسلمانوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔اکھلیش تو ایک مسلم ڈی جی پی کی پوسٹنگ سے بھی ناخوش تھے۔ اس سے تو اچھا ہے کہ بہو جن سماج پارٹی آئے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ بہو جن سماج پارٹی کے دور میں امن رہتا ہے اور غندے جیل میں رہتے ہیں۔
گھوسی (مئو) شمشاد ا حمد کہتے ہیں کہ مظفر نگر فسادات میں اکھلیش سرکار ناکام رہی۔ کونڈا میں شہید ہوئے ڈی ایس پی ضیا ء الحق کے خاندان کو انصاف نہیں ملا۔ مختار کو یہ کہہ کر ٹکٹ نہیں دیا کہ وہ مافیا ہے لیکن دوسرے مجرموں کو وزیر کے عہدہ دینے سے گریز نہیں کیا۔
ہر ایک پارٹی سے مایوسی
کوشی نگر کے محمد عارف ہر پارٹی سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیگر تمام پارٹیاں بی جے پی کا ڈر دکھا کر ہمیں صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتی ہیں۔ محمد عارف پیس پارٹی اور اس کے لیڈر ڈاکٹر ایوب کی وکالت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک پڑھے لکھے لیڈر ہیں جو اسمبلی میں اکیلے دم پر فرقہ پرستوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ وہی اکلوتے لیڈر ہیں جو سچے دل سے غریبوں اور بنکروں کی لڑائی لڑتے ہیں۔الٰہ آباد کے شاہد کو اکھلیش سرکار سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ شاہد مانتے ہیں کہ اس وقت اتر پردیش میں بی جے پی کو صرف اکھلیش یادو ہی ٹکر دے سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اکھلیش ترقی پسند نوجوان ہیںاور ان کی ایک صاف ستھری شبیہ ہے، اس لئے انہیں دوسرا موقع دینا چاہئے۔ آپ کو یہ یاد دلاتے چلیں کہ لوک سبھاانتخابات کے پہلے ہی پسماندہ مسلم سماج نے بہو جن سماج پارٹی کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھاکہ بہو جن سماج پارٹی ہمیشہ مسلمانوں کے مفاد کو لے کر بیدار رہی ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے دور حکومت میں مسلمانوں کے لئے تمام فلاحی کام کئے گئے تھے۔ سماج کا کہنا تھا کہ بہو جن سماج پارٹی کی حکومت میں ریاست میں کوئی فساد نہیں ہوتا۔ ریاست میں چار بار بہو جن سماج پارٹی کی سرکار بنی، کبھی فساد نہیں ہوا۔
اردو صحافیو ں کی رائے
اتر پردیش اسمبلی انتخاب کو لے کر قومی اور ریاستی اردو میڈیا میں خاصی سرگرمی ہے۔ کئی ریاستوں سے اردو صحافی لکھنو میں جمع ہیں اور الگ الگ ضلعوں میں جاکر وہاں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اتر پردیش کے اردو اخبار ات بھی ان دنوں انتخابی مضامین، تجزیہ ،اداریہ اور قارئین کے رد عمل سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ یو پی انتخابات میں مسلمانوں کے کردار کے ارد گرد لکھے جارہے مضامین میں مسلمانوں کے ووٹ ڈالنے کے طریقے پر بات کی جارہی ہے، کچھ میں اکھلیش یادو کے لئے تو کچھ اخبار مایاوتی کو فائدہ ہونے کی پیش گوئی بھی کررہے ہیں۔ کچھ اخبار اکھلیش کو یوپی کا مقبول لیڈر بتا رہے ہیں۔ اردو اخبار کے نمائندہ ہلال احمدکہتے ہیں کہ مسلمانوں کو زمینی حقیقت دیکھنا چاہئے اور اپنے ووٹ کے حق کا استعمال ہوشیاری سے کرنا چاہئے۔ احمد کا ماننا ہے کہ مسلم -دلت اتحاد بھی ریاست کی سیاسی تصویر کو بدل سکتا ہے کیونکہ بہو جن سماج پارٹی کو مسلم طبقے سے بہت امید ہے۔ اردو صحافی ظفر آغا کہتے ہیں کہ بی ایس پی نے کئی مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے ہیں اور خاندانی جھگڑے نے سماج وادی پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔لہٰذا مایاوتی کو اس سے فائدہ ہوگا۔ نمائندہ حسن کمال کہتے ہیں کہ اس انتخاب میں کسی پارٹی کی راہ آسان نہیں رہنے والی۔ یو پی کے انتخابات سبھی پارٹیوں کے لئے اگنی پریکشا ہوں گے۔ اکھلیشکو یہ ثابت کرناہوگا کہ ان کی ترقی کا کام بی جے پی سے الگ ہے۔ جبکہ بی ایس پی کو یہ بتاناہوگاکہ دلت اب بھی مضبوطی سے اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بی جے پی کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ دائوں پر ہے۔ کانگریس ہی اکیلی ایسی پارٹی ہے جس کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ اردو صحافی راشد انصاری کہتے ہیں کہ مسلم طبقے میں ایک ڈر بنا ہو اہے کہ چھوٹی مسلم پارٹیوں کی وجہ سے مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہو جائیںگے۔کئی مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں میں سیٹ پر ایک درجن سے زیادہ مسلم امیدوار میدان میں ہیں۔ انصاری بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو دانشمندی سے ووٹ دینا چاہئے۔اردو صحافی عاصم جلال مانتے ہیںکہ سیکولر پارٹیوں کا اتحاد بی جے پی کو پیچھے دھکیل دے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *