مرکزی بجٹ اور سچر رپورٹ 19فیصد اقلیتوں کے لئے محض 0.2 فیصد رقم

au-asif-for-webمرکزی حکومت کا 2017-18 کا بجٹ آچکا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس امر پر بات ہورہی ہے کہ اس بار کسے کیا ملا؟اس تناظر میں اس سوال کا اٹھنا بھی فطری ہے کہ 2011 کی مردم شماری کی روشنی میں ہندوستان کی 17.22کروڑ (14.23فیصد) پسماندہ مسلم کمیونٹی کے امپاورمنٹ کے لئے دس برس سے زائد عرصہ قبل سچر کمیٹی نے جوسفارشات پیش کی تھی، اس تعلق سے موجودہ بجٹ میں کیا کچھ موجود ہے؟سچ تو یہ ہے کہ اس پورے بجٹ میں اس تعلق سے فوکس کرکے ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ اس بار مسلمانوں کے امپاورمنٹ کے لئے سنجیدگی اور خلوص سے اقدامات کئے جائیں گے۔
آئیے ذرا یہ دیکھتے ہیں کہ مرکزی سرکارکی بنائی ہوئی سچر کمیٹی نے مسلم کمیونٹی کے بارے میں کیا کہا تھا؟ دس برس قبل سچر کمیٹی نے پوری مسلم کمیونٹی کو دلتوں سے بد تر پسماندہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کمیونٹی ترقی کی متعدد علامتوں بشمول تشخص کے ایشوز، عدم شمولیت، سرکاری پالیسیوں میں کمیوں اور ترقی کے سرکاری اعلانات پر عمل درآمد میں ڈھیل میں دوسری مذہبی کمیونٹیوں سے پیچھے ہے۔لہٰذا مسلمانوں میں پسماندگی سے متعلق مخصوص مسائل سے نمٹنے کے لئے تعلیم ، اقتصادی ترقی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی کے میدانوں میں مسلم کمیونٹی کے اندر ترقی کے ایشوز پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کمیٹی نے اس سلسلے میں دیگر عمومی پالیسی پیش رفتوں بشمول نیشنل ڈاٹا بینک، یکساں مواقع کمیشن (ای او سی ) اور ڈائیورسٹی انڈیکس کی بھی سفارش کی تاکہ سرکاری اداروں میں عدم شمولیت کے شکار مسلمانوں کو ترقی کے دائرے میں لایا جاسکے۔
ظاہر سی بات ہے کہ سچر کمیٹی کی ان بنیادی سفارشات پر اس بار کے مرکزی بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ویسے ایسا نہیں ہے کہ سچر کمیٹی سفارشات پر عمل کرنے کے تعلق سے یہ رویہ صرف بی جے پی قیادت والی این ڈی اے کی مرکزی حکومت کا ہی ہے۔یہ وہ رویہ ہے جو کہ سچر کمیٹی کو بنانے والی کانگریس قیادت والی گزشتہ یو پی اے حکومت کے دونوں ادوار میں بھی موجود تھا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ دونوں حکومتوں کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدہ اور یکسو ہیں اور اس پسماندہ کمیونٹی کو اوپر اٹھانے کے لئے متعدد اسکیمیں اور پلان بناتی اور ان پر عمل کرتی رہتی ہیں۔
آئیے، اب ذرا یہ بھی جائزہ لیں کہ یہ حکومتیں اس تعلق سے کن کن اسکیموں اور پلان کے تعلق سے کوشاں ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ گزشتہ یو پی اے حکومت ہو یا موجودہ مرکزی حکومت، یہ سب کی سب 2006 میں سچر رپورٹ کے بعد سے وزیر اعظم کے نئے 15نکاتی پروگرام کے تحت اقلیتوں کے چند فلیگ شپ پروگراموں ؍ اسکیموں جو کہ تعلیم ، روزی روٹی ، سرکاری سہولیات تک رسائی ، کریڈٹ اور مہارت ابھارنے سے متعلق ہیں،کو ٹارگٹ کرتی آرہی ہیں ۔ہوتا یہ ہے کہ وزارت برائے اقلیتی امور کے تحت اسکالر شپ، کمیونٹی لیڈرشپ اور علاقے کی ترقی کے لئے نئے ترقیاتی اسکیم اور پروگرام بنائے جاتے ہیں جن میں علاقہ کے ترقیاتی پروگرام جیسے ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام (ایم ایس ڈی پی ) سب سے اہم ہوتا ہے لیکن یہ تمام سرکاری پروگرام مسلمانوں پر فوکس کرنے کے بجائے اقلیتوں کو ٹارگٹ کررہے ہوتے ہیں۔
فی الوقت وزارت اقلیتی امور تعلیمی امپاورمنٹ، مہارت اور روزی روٹی، اقلیتوں کے لئے خصوصی پروگرام اور ایم ایس ڈی پی جیسے علاقہ جاتی ترقیاتی پروگرام کو چلانے میں مصروف ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ 12پلان میں وزارت اقلیتی امور کے لئے مجوزہ مختص رقم 17 ہزار کروڑ روپے کے آس پاس تھی جن میں تقریباً 15 ہزار 771 کروڑ روپے کی وزارت اقلیتی امور کے ذریعے نشاندہی کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وزارت اقلیتی امور کے لئے مختص رقم 2016-17 میں 3ہزار 827 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2017-18 میں 4ہزار 195 کروڑ روپے کردی گئی ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ 9فیصد کا اس بار اضافہ کیا گیا ہے،مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق جو اقلیتیں ملک میں 19فیصد سے زیادہ ہیں، ان کے لئے مکمل بجٹ کا محض 0.2 فیصد مختص کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ایم ایس ڈی پی اور 15نکاتی پروگرام کے تحت اقلیتوں کے لئے بجٹ میں مختص رقم کے تجزیہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مختص کی گئی مکمل رقم کا بڑا حصہ اقلیتوں کے تعلیمی امپاورمنٹ کو جاتا ہے۔حیرت ہے کہ اس کے باوجود دوسری کمیونٹیوں کے مقابلے اقلیتی کمیونٹیوں میں تعلیم کی مختلف سطحوں پر ڈراپ آئوٹ اب بھی ہورہا ہے اور ان اقلیتوں میں مسلمان ڈراپ آئوٹ میں سب سے آگے ہیں ۔وزارت اقلیتی امور کے تحت سوشل جسٹس کے تعلق سے محکماتی اسٹینڈنگ کمیٹی اپنی 32ویں رپورٹ میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرچکی ہے کہ آخر اسکالر شپ پروگرام، ایم ایس ڈی پی اور 15نکاتی پروگرام کے تقریباً دس برسوں سے چلنے کے باوجود یہ پسماندگی دور کیوں نہیں ہورہی ہے؟مذکورہ سرکاری کمیٹی نے اس سلسلے میں وزارت اقلیتی امور سے جامع اسٹڈی کی درخواست کی ہے تاکہ مسلمانوں میں پائے جارہے سب سے زیادہ ڈراپ آئوٹ شرح پر قابو پایا جاسکے۔ علاوہ ازیں نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن ( این ایس ایس او) نے کبھی اسکول نہ جانے والے افراد کے بارے میں بھی اپنی 575 ویں رپورٹ میں جو تعداد بتائی ہے، وہ بھی چونکانے والی ہے۔
اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی حالت زار پر کسی بھی سیاسی پارٹی اور حکومت کا نہ چونکنا یقینا لمحہ فکریہ ہے۔ کسی انتخابات کے موقع پر ان کی اس حالت کو کوئی پارٹی بھی نہ انتخابی منشور کاحصہ بناتی ہے اور نہ ہی اسے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں اٹھاتی ہے۔اس بار بھی 2017 میں ہورہے پانچوں ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں یہ معاملہ نہیں بنا۔ اتر پردیش میں تو حد یہ ہوگئی کہ سماج وادی پارٹی نے 2012 کے انتخابی منشور میں سچر رپورٹ کو تین نکات میں زور و شور سے اٹھایا تھااور 5برس میں اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی تھی اور اس بار تو اس رپورٹ کا اس کے منشور میں نام و نشان ہی نہیں ہے۔ مزید برآں اس کی اتحادی کانگریس جس نے سچر کمیٹی بنائی تھی، اس نے بھی اپنے انتخابی منشور میں خاموشی اختیار کرلی ہے۔
بہر حال اب اس ٹال مٹول سے کام نہیں چلے گا۔ سیاسی پارٹیوں کو پسماندگی کی شکار مسلم کمیونٹی کی طرف توجہ دینی پڑے گی ورنہ اس کے اندر احساس محرومی بڑھے گا جو کہ ایک جمہوری و سیکولر ملک میں اچھی بات نہیں ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *