مایاوتی کے آنے پر پھر تقسیم ہوگا اترپردیش

damiاتر پردیش کے لوگوں میں پھر سے ایک خوف ہونے لگا ہے کہ مایاوتی اگر پوری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آگئیں تو یو پی پھر تقسیم ہوگا۔ بڑی ریاست تر پردیش کی زیادہ تر لوک سبھا اور ودھان سبھا سیٹوں سے کئی لیڈر گھبراتے ہیں۔ان میں مایاوتی بھی ایک ہیں۔ اتر پردیش کو توڑ کر اترا کھنڈ بنانے سے اس بنی ریاست کو کیا حاصل ہوا؟ اسے سب جانتے ہیں۔ کیک کی طرح ریاستوں کو بانٹ بانٹ کر اقتدار کا ر مزہ اٹھانے کے علاوہ تقسیم شدہ ریاستوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ نہ اترا کھنڈ کو،نہ جھارکھنڈ کو ،نہ چھتیس گڑھ کو اور نہ تلنگانہ کو۔لیڈروں کے ما سوا کسی کو کچھ نہیں ملا۔ مزید سرکاری لوازمات قائم کرنے کا خرچ اوپر سے عوام کے سر تھوپ دیا گیا۔
بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی اپنے سابقہ دور حکومت میں بھی اتر پردیش کو اودھ پردیش، مغربی پردیش، پروانچل اور بندیل کھنڈ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز لائی تھیں۔ یعنی اتر پردیش کو تہس نہس کرنے کا منصوبہ تھا،لیکن اس وقت یہ عمل میں نہیں آسکا۔ اس بار انتخاب کی آہٹ شروع ہونے کے پہلے سے ہی مایاوتی نے پھر سے یو پی کو تقسیم کرنے کی اپنی پرانی ضد پر زور دینا شروع کردیا ۔ بات تھوڑی سی آئی ۔ میڈیا نے بھی بہت توجہ نہیں دیا۔ لیکن اندر ہی اندر یہ معاملہ گہرا ہوتا رہا ہے۔ یو پی کی مزید تقسیم کرنے کی بات سے ریاست کے لوگ پریشان ہیں۔قانون کے جانکار اسے روکنے کے لئے قانونی تجاویز تلاش کرنے میں لگ گئے ہیں ۔لوگ پھر سے ان سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کو یاد کر رہے ہیں، جن کی پالیسی ریاست کو چھوٹی کرنے کی پالیسی کے خلاف رہی ہے۔
سیاست کی نبض پہچاننے والے کچھ تجزیہ کاروں کا اندازہ تھا کہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں اتر پردیش کی تقسیم کا مسئلہ اٹھے گا اور اس انتخاب کے ذریعہ تقسیم کے سوال پر عوامی ریفرنڈم جیسا بھی ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ اور خطرناک صورت حال ہے۔ ایسی صورت حال میں اقتدار پر آنے والی سیاسی پارٹی اپنی چاہت کے مطابق عوامی ریفرنڈم منظم کراتی ہے۔
آپ یاد کرتے چلیں ، اتر پردیش کی اس وقت کی وزیر اعلیٰ مایاوتی نے 2012 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے 2011 میں اتر پردیش کو چار حصوں میں بانٹنے کی تجویز اسمبلی میں پاس کرایا ۔ حالانکہ سماج وادی پارٹی ، بی جے پی ، کانگریس اور کچھ دیگر پارٹیوں نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔ مایاوتی کا وہ تقسیم کارڈ تو 2012 کے انتخابات میں نہیں چلا اور ان کا اقتدار ختم ہوگیا لیکن بڑی ریاست میں سیاست کا روشن مستقبل نہیں دیکھنے والی مایاوتی اور ان جیسے دیگر تمام باریک بیں لیڈر اترپردیش کو مزید چار حصوں میں توڑنے کا موقع تلاش رہے ہیں۔ اس میں اترپردیش کا اپنا وجود بھلے ہی دھول میں مل جائے۔ بہو جن سماج پارٹی کے اندر یہ بھی چرچا تھا کہ اتر پردیش کو تقسیم کرنے کا مسئلہ ، بہو جن سماج پارٹی کے انتخابی منشور میں شامل ہوگا۔ لیکن بہو جن سماج پارٹی کا کوئی منشور ہی نہیں آیا۔
اتر پردیش کی تقسیم کے حق میں مایاوتی یہ دلیل دیتی رہی ہیں کہ ریاست کی ترقی اور قانون و نظام اس کے بڑے ہونے کے سبب نہیں ہو رہا ہے۔ وہ اکھلیش یادو پر خراب قانون و نظام کے لئے لگاتار حملہ بھی کرتی رہی ہیں اور دھیرے سے یہ بھی کہتی رہی ہیں کہ بڑی ریاست ہونے کے سبب قانون و نظام سنبھل نہیں پا رہا ہے۔ایسا کہہ کر مایاوتی اپنی منشا ظاہر کرتی ہیں۔ مایاوتی اتر پردیش کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے تقسیم کو ذریعہ بنانے کا کارڈ کھیل رہی ہیں۔ اپنی کرسی محفوظ رکھنے کا بندوبست کرنے کی نیت کا خلاصہ کرنے کے بجائے مایاوتی لوگوں سے یہ کہتی ہیں کہ اتر پردیش کی تقسیم کرکے ریاست کے پسماندہ علاقے میں ترقی کی اسکیموں اور پروگراموں کو پہنچایا جاسکتاہے۔ لیکن ایسا کہتے ہوئے مایاوتی تمام پہلے سے تقسیم شدہ ریاستوں کے موجودہ حالات پر نظر نہیں ڈالتیں۔
مایاوتی کا ہدف مغربی اترپردیش ہے۔ اتر پردیش کو تقسیم کرکے اسے وہ ہرت پردیش بنانا چاہتی ہیں اور وہاں کے اقتدار پر قبضہ چاہتی ہیں۔ریاست کی تقسیم میں بی جے پی بھی ان کا ساتھ دے سکتی ہے۔ اترا کھنڈ ، جھارکھنڈ ، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ جیسی تمام ریاستوں کو وجود میں لانے کا عمل کانگریس کے دور حکومت میں شروع ہوا اور بی جے پی کے دور حکومت میں پورا ہوا ۔ ہرت پردیش کی مانگ کی حمایت راشٹریہ لوک دل بھی کرتا ہے۔ متحدہ اتر پردیش کے مسئلے پر اب تک کھڑی سماج وادی پارٹی کے ساتھ مستقبل میں کانگریس بھی کھڑی رہے گی۔ گٹھ بندھن کے باوجود اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
اتر پردیش میں ابھی 75 ضلاع اور 18منڈل ہیں ۔مایاوتی کے اس حالیہبیان کے مضمرات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، جب وہ یہ کہتی ہیں کہ یوپی میں مورتیاں اور میوزیم قائم کرنے کا کام بہت ہو چکا، اب دوسری ترجیحات پر کام کیا جائے گا۔ مایاوتی کی دوسری ترجیحات اترپردیش کی سیاسی پارٹیوں میں اقتدار پانے کے ہدف کو گہرا کر ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی ہے۔ مایاوتی نے صاف طور پر اتر پردیش کو چار ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پر مرکزی سرکار پر دبائو بنانے کی بات کہی ہے۔ مایاوتی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی چھوٹی ریاستوں اور چھوٹی انتظامی اکائیوں کی تشکیل کی مکمل حامی ہے۔ چھوٹی انتظامی اکائیاں ہونے سے قانون اور نظم و ضبط اور ترقی کے کاموں کی صورت حال کو بہتر بنانے میں سہولت رہے گی۔ اسی سوچ کی بنیاد پر انہوں نے اپنے دور حکومت میں اتر پردیش میں کئی منڈلوں اور ضلعوں کی تشکیل کی تھیں۔
اگر اترپردیش کی تقسیم ہوتی ہے تو مغربی پردیش میں مغربی یوپی کے 26 اضلاع آئیں گے جبکہ اودھ میں 13 اضلاع رہیں گے۔ بندیل کھنڈ میں 7 اور پروانچل میں سب سے زیادہ 29 اضلاع آئیںگے ۔ مغربی پردیش میں آگرہ ،میرٹھ، اور نوئیڈا جیسے ضلعے چلے جائیںگے۔ اودھ کے حصے میں لکھنو اور کانپور جیسے ضلعے آپائیںگے۔ پروانچل کے پاس گورکھپور، وارانسی اور الٰہ آباد رہیں گے۔بندیل کے حصے میں جھانسی ، باندہ اور چترکوٹ آئیںگے۔ آباد ی کے مطابق اترپردیش کا مقام دنیا میں پانچواں ہے۔ یو پی کو پھر سے توڑنے کی مانگ اتراکھنڈ کی تقسیم کے بعد ہی تیز ہو گئی۔ حالانکہ یو پی کو اترا کھنڈ سمیت کئی ٹکڑوں میں توڑنے کی مانگ عرصہ پہلے سے اٹھ رہی تھی۔ اترا کھنڈ بننے سے چار لوک سبھا حلقے یو پی سے الگ ہو گئے۔
اب چار الگ ریاست بنانے کی مانگ ہے، یعنی یو پی چھوٹی پانچویں (اتراکھنڈ کو شامل کریں تو چھٹی ) ریاست کی شکل میں سمٹ جائے گا۔ جب 2014 میں آندھرا پردیش کو توڑ کر تلنگانہ بنا، تب بھی بی جے پی لیڈر اوما بھارتی نے اسٹیٹ ری اورگنائزیشن کمیشن کو پھر سے بنانے کی مانگ کی تھی اور کہا تھا کہ الگ ریاست بنانے کی جو دیگر تجاویز عمل میں نہیں آسکی ہیں،ان پر بھی غور کیا جائے۔ اوما بھارتی نے مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے بندیل کھنڈ علاقوں کو ملا کر الگ تھلگ ریاست بنانے اور اترپردیش کو چار ریاستوں میں بانٹنے کو لے کر مایاوتی کی تجویز پر بھی غور کئے جانے کی مانگ کی تھی۔
اتر پردیش کی تقسیم کے پیچھے ترقی اور نظم و ضبط درست رکھنے کی دلیل بے معنی ہے۔ اسے عام شہری بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اقتدار کا مزہ لینے کی ایک سطی درجہ کی سیاسی چال ہے۔ تقسیم کے پیچھے سیاسی پارٹیوں کی منشا ایک کے بجائے پانچ ریاستوں میں اپنا دھندہ پھیلانے کی ہے۔ اتر پردیش کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی وکالت کرنے والی بہو جن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی اس کے لئے بابا صاحب امبیڈکر کے نظریات کا حوالہ دے کر اسے اپنی باتوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ لیکن اصلیت یہ ہے کہ امبیڈکر ملک اور ریاست کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے سخت مخالف تھے۔
تقسیم، ہندوستان کا کردار بن چکا ہے۔پہلے ملک تقسیم ہوا اور اس کے بعد مسلسل ریاستوں کی تقسیم ہوتی جارہی ہے۔نام نہاد آزادی کے بعد رجواڑوں کے ہندوستانی جمہوریت میں الحاق کے ساتھ ہی نئی ریاستوں کی تشکیل کی زمین تیار ہونے لگی تھی۔ 1953 میں اسٹیٹ آف آندھرا پہلی ریاست بنا، جسے زبان کی بنیاد پر مدراس اسٹیٹ سے الگ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دسمبر 1953 میں جواہر لال نہرو نے جسٹس فضل علی کی صدارت میں اول اسٹیٹ ری اورگنائزیشن کمیشن کی تشکیل کی۔ یکم نومبر 1956 میں فضل علی کمیشن کی سفارشوں کی بنیاد پر اسٹیٹ ری اورگنائزیشن ایکٹ 1956 لاگو ہوگیا اور زبان کی بنیاد پر ملک میں 14 ریاستیں اور 7 مرکز کے زیر انتظام ریاستیں بنائی گئیں۔وسط صوبہ کے شہر ناگپور اور حیدرآباد کے مراٹھواڑہ کو بمبئی اسٹیٹ میں اس لئے شامل کیا گیاکیونکہ وہاں مراٹھی بولنے والے زیادہ تھے۔ اس کے بعد لگاتار کئی ریاستوں کا جغرافیہ بدلتا رہا اور نئے دلائل و معیار کی بنیاد پر نئی نئی ریاستیں بنتی گئیں۔ تریپورہ کو آسام سے زبان کی بنیاد پر الگ کیا گیا تو منی پور، میزورم ، ارونا چل پردیش اور ناگالینڈ کی تشکیل نسل کی بنیاد پر کی گئی۔
2000 میں اترا کھنڈ، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی تقسیم کی بنیاد بھی ترقی نہیں تھی بلکہ اصلیت میں اقتدار کا لالچ ، نسل اور زبان تھی۔ دھیرے دھیرے ملک کے کئی حصوں میں اس ایشو نے زور پکڑا۔ نتیجتاً آج ہندوستان میں 29 ریاستیں اور 7 مرکز کے زیر انتظام ریاستیں ہیں۔ کئی سماجی و سیاسی مفکروں نے بھی کہا کہ تقسیم شدہ زیادہ تر ریاستیں ناکام ہی رہیں۔ چھتیس گڑھ، اترا کھنڈ اور جھارکھنڈ اس کی واضح مثال ہیں۔ جھارکھنڈ میں تو سیاسی اور انتظامی بد عنوانی انتہا پر پہنچ گئی ہے اور لگاتار پچھڑتا ہی جارہا ہے۔
ایسے میں اگر مغربی پردیش، پروانچل، اودھ پردیش اور بندیل کھنڈ کی کامیابی کی دلیل کو تجربہ کی کسوٹی پر رکھا جائے تو وہ یہ بے معنی اور فرضی ہی ثابت ہوتی ہے ۔ ریاست کو چھوٹا کر دینے سے صرف انتطامی ڈھانچہ بدل سکتا ہے لیکن بے روزگاری اور غربت سے لڑنے کی کوئی حتمی پالیسی ہی نہیں ہوگی تو ریاست کو کتنا بھی چھوٹا کر دیا جائے، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سماجی مفکرین مانتے ہیں کہ ریاست کی تقسیم کی بات سیاسی پارٹیاں اس لئے کرتی ہیں کیونکہ وہ لوگوں کا دھیان اصلی ایشو سے بھٹکانا چاہتی ہیں۔ ریاستوںکی تقسیم مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ مسئلے کو اور بڑھا دینا ہے ۔
کس ریاست میں جائیں گے کون سے ضلع
اتر پردیش کی تقسیم چار مختلف ریاستوں میں ہوئی تو کون سے ضلع کس ریاست میں جائیں گے، اسے جان لینا بھی ضروری ہے۔ پروانچل بنا تو بہار کی سرحد سے لگے ہوئے 24اضلاع اس ریاست میں چلے جائیںگے۔ ان میں وارانسی ، گورکھپور، بلیا ، دیوریا، اعظم گڑھ ، بستی جیسے اضلاع قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح بندیل کھنڈ ست بنا تو تین منڈل اور 11 اضلاع چلے جائیں گے۔ ان میں جھانسی ، مہوبہ، باندہ، حمیرپور، للت پور، جالون جیسے اضلاع شامل رہیںگے۔ مغربی پردیش بننے پر آگرہ ، علی گڑھ، میرٹھ، سہارنپور، مراد آباد، بریلی جیسے اضلاع اس کی زینت بنیں گے۔ اودھ پردیش بنا تو باقی بچے ہوئے لکھنو، دیوی پاٹن، فیض آباد ، الٰہ آباد، کانپور اس کے حصے بنیں گے۔
کیا چاہتی ہیں دیگر پارٹیاں
سماج وادی پارٹی کے سبکدوش صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کہتے رہے ہیں کہ ریاست کی تقسیم کی بات کرنے والے لوگ اتحاد کے دشمن ہیں۔ ملائم نے اترا کھنڈ کی تشکیل کی بھی مخالفت کی تھی۔ ملائم ہرت پردیش بنانے کی مانگ کی بھی سختی سے مخالفت کرتے رہے ہیں، تب ملائم نے کہا تھا کہ سماج وادی پارٹی کی پالیسی ریاستوں کی تقسیم کے خلاف ہے۔ ملائم نے کہا تھا کہ ریاست کی مزید تقسیم سماج وادی پارٹی کے کارکنان کسی بھی قیمت پر نہیں ہونے دیں گے۔ ریاست کے عوام تقسیم چاہنے والی پارٹیوں کو سبق سکھا دیں گے۔کیونکہ یہ فیصلہ چھوٹی ذہنیت کا عکاس ، عوام مخالف اور ترقی کے خلاف ہے۔ ملائم کے سبکدوش ہونے کے بعد اکھلیش نے بھی سماج وادی پارٹی کی پالیسیاں وہی رکھی ہیں۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھی صاف طور پر کہا ہے کہ وہ اتر پردیش کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ اکھلیش کا کہنا ہے کہ ریاست کے اتحاد کے لئے بڑی ریاست کا ہونا ضروری ہے۔ اتر پردیش کی مزید تقسیم پر بی جے پی کا موقف مذبذب ہے ۔کبھی اوما بھارتی کہتی ہیں کہ نیو اسٹیٹ ریکوگنائز کمیشن بنا کر نئی ریاستوں کی تجویز اور اترپردیش میں چار اور نئی ریاستیں بنانے کی مانگ پر غور ہو ،جبکہ بی جے پی کے ریاستی زمینی لیڈر اول تو مایاوتی کے بیان کو انتخابی اسٹنٹ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یو پی کو چار ریاستوں میں تقسیم کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بی جے پی کے لیڈر الگ قسم کی د یتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسٹیٹ ری اورگنائزیشن کمیشن تشکیل کرکے اس سے جغرافیائی ، سماجی اور اقتصادی عدم توازن کو دور کرنے کے لئے نئی ریاست کے بارے میں سفارشات منگائی جائے۔کانگریس نے چھوٹی ریاست بنانے کی تجویز اسمبلی میں رکھا تھا تب بہو جن سماج پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس چھوٹی ریاستوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔
کانگریس بھی ریاستوں کی تقسیم کے لئے سیکنڈ اسٹیٹ ری اورگنائزیشن کمیشن کی مانگ کررہی ہے۔ ’راشٹریہ کرانتی کاری سماج وادی پارٹی‘ کے بانی صدر گوپال رائے کہتے ہیں کہ اتر پردیش کو پروانچل، مغربی پردیش اور بندیل کھنڈ میں تقسیم کرنا ضروری ہے اور وقت کا تقاضہ بھی ۔اس مانگ پر ’راشٹریہ کرانتی کاری سماج وادی پارٹی‘ اور’ پچھمی پردیش نرمان مورچہ‘ کی طرف سے لکھنو اور دہلی میں کئی دھرنا ، احتجاج بھی منعقد کئے جاتے رہے ہیں۔
کیا چاہتاہے عام آدمی ؟
اتر پردیش کی مزید تقسیم پر عام شہریوں کے خیالات بھی بہت اہم ہیں، جن پر سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کو غور کرنا چاہئے۔ کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے عام لوگوں کی رائے جان لینا اور اس پر مناسب فیصلے لینا سمجھداری بھی ہے اور جمہوریت بھی۔اتر پردیش کو مزید تقسیم کئے جانے کے مسئلے پر ’پروانچل نریات سنگھ‘ کے نائب صدر مکند اگروال کہتے ہیں کہ نئی ریاست کی تشکیل تو ٹھیک ہے لیکن ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا قطعی ٹھیک نہیں ہے۔ جس طرح سے ریاست تقسیم کی جارہی ہے، ایسی تقسیم کا طریقہ مناسب نہیں ہے۔ اگر الگ ریاست بنتی ہے تو ترقی ہونی چاہئے۔ وسائل کی لوٹ اور بدحالی نہ ہو۔ تقسیم سیاسی ارادے سے نہیں بلکہ سماجی نظریئے سے ہو۔ آئی ٹی ،بی ایچ یو کے پروفیسر کے کے شریواستو کہتے ہیں کہ ترقی کی دلیل دے کر خطے کی تقسیم کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ترقی کے لئے پنچایتوں کو مضبوط کرنا ہوگا اور خود مختاری دینی ہوگی۔تقسیم کا اعلان تو کر دیا جاتا ہے لیکن مناسب ہے کہ ترقی کا خاکہ بھی پیش کیا جانا چاہئے۔
ترقی کی بنیاد صرف وسائل کی دستیابی پر ہی نہیں بلکہ اتفاق باہمی اور ہم آہنگی پر بھی ہونی چاہئے۔بی ایچ یو کے ہی فیکلٹی آف لاء کے پروفیسر ڈاکٹر اے کے پانڈے کہتے ہیں کہ ابھی وہ وقت نہیں ہے کہ ریاست کی تقسیم کی بات ہو ۔ پروانچل میں نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی صنعتکاری ۔ پہلے وہاں تمام سہولیات بحال کی جانی چاہئے۔ گورکھپور کے تاجر منوج اگروال کہتے ہیں کہ چھوٹی ریاست ہوگی تو ترقی ہوگی۔پروانچل جو ٹیکس دیتا ہے، وہ یوپی میں مرتکز ہوجاتا ہے اور اس سے دیگر علاقوں کی ترقی کی جاتی ہے اور پروانچل محروم رہ جاتا ہے۔ سرکار تقسیم کا جو طریقہ اپناتی ہے، وہ غلط ہے۔ اس پر بحث ہونی چاہئے۔ عوامی ریفرنڈم کیا جانا چاہئے۔
ادیب اچاریہ رام دیو شکل کہتے ہیں کہ نظریاتی طور پر تو انتظامی اکائیاں جتنی چھوٹی ہیں، نظم و ضبط اتنا اچھا ہوتا ہے لیکن جس طرح ریاست تقسیم کی جاتی ہیں، وہ نظریاتی نہیں، سیاسی ہوتے ہیں۔ملک میں متعدد جگہوں پر تقسیم کی مانگ کی جارہی ہے۔ ایسے میں مناسب ہوگا کہ اسٹیٹ ری اورگنائزیشن کمیشن بنا کر قومی سطح پر اس کا تجزیہ کرایا جائے کہ کس طرح اور کن نبیادوں پر تقسیم کئے جائیں۔
دین دیال اپادھیائے گورکھپور یونیورسٹی میں ترجمان ڈاکٹر انوراگ کہتے ہیں کہ وہ چھوٹی ریاستوں کے حامی ہیں لیکن اس میں دو باتوں پر خاص دھیان دینا ہوگا۔ انتظامی رسائی عام آدمی تک ہو اور فلاحی اسکیموں کا پورا فائدہ عوام کو ملے۔ مشہور سماجی کارکن لکھنو باشندہ اشوک گوئل کہتے ہیں کہ ریاستوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے پیچھے سیا سی پارٹیوں کا مقصد محض اقتدار کا لطف اٹھانا ہی ہے۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی اگر سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات میں ہوتی تو کیا آزادی کے 70 سال اسی طرح گزر جاتے؟ سیاسی پارٹیوں نے ملک کا مذاق بنا ڈالا ہے ۔اتنی ریاستوں کی تقسیم کیا۔ کیا مل گیا ان ریاستوں کے لوگوں کو؟صرف اور صرف لیڈروں ، نوکر شاہوں، سرمایہ داروں اور دلالوں کو اس کا فائدہ ملا۔ عام آدمی تو تب بھی مرتا تھا اور اب بھی مر رہا ہے۔
چھوٹی ریاست ہی ترقی کی بنیاد ہوتی تو یونائٹیڈ اسٹیٹ امریکہ کی 50 ریاستیں اب تک ہزار ریاستوں میں منقسم ہو چکی ہوتیں۔ 50ریاست والے امریکہ جیسے وسیع ملک نے ترقی کی انتہا کو کیسے پا لیا؟چین جیسے ملک میں ترقی نے اتنی اونچائی کیسے پائی؟تو یہ چھوٹی ریاستوں سے ترقی کی باتیں، سب لیڈروں کی جال سازیاں ہیں۔ عام لوگ سب سمجھتے ہیں، لیکن ان کے پاس اس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *