فلم ’رئیس‘ نظر انتخاب ماہرہ پر ہی کیوں پڑی؟

damiپاکستان سنسر بورڈ کے مطابق فلم ’رئیس‘ میں اسلام اور مسلمانوں کا غلط امیج پیش کیا گیاہے، مسلمانوں کو شدت پسند کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں اس کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔واضح رہے کہ فلم ’رئیس‘ میں بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان کے مقابل پاکستانی فلم اور ٹی وی کی اداکارہ ماہرہ خان نے کردار ادا کیا ہے۔

سینسر بورڈ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلم کو سرٹیفیکیٹ جاری نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فلم میں اسلام اور خصوصاً مسلمانوں کے ایک فرقے کو بدنام کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلم میں مسلمانوں کو جرائم پیشہ اور دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا ہے۔اہلکار کے مطابق فلم کو سینسر بورڈ کے سامنے پیش کی گئی تھی اور طویل غوروخوص کے بعد کو اسے نمائش کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ خیال رہے کہ عموماً فلم پر اس قسم کے اعتراضات آنے کے بعد اسے بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تاہم رئیس کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا ہے۔پاکستان میں حال ہی میں انڈین فلموں کی نمائش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے اور پابندی ہٹنے کے بعد اس وقت دو انڈین فلمیں ‘قابل اور ‘اے دل ہے مشکل پاکستانی سنیماؤں میں دکھائی جا رہی ہیں۔
گذشتہ سال ستمبر میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع اُڑی کیمپ پر ہونے والے حملے کے دو ہفتے بعد انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں کے انڈیا میں کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کی تھی جس کے جواب میں پاکستان میں سنیما مالکان نے اپنے طور پر انڈین فلموں کی نمائش روک دی تھی۔یہ خود ساختہ پابندی دسمبر میں اٹھا لی گئی مگر اس کے باوجود انڈین فلمیں فروری میں ہی پاکستانی سنیما کی زینت بن سکیں۔اس سے پہلے انڈین فلموں کو وزارتِ تجارت، وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سفارش پر استثنیٰ کا سرٹیفیکیٹ یا این او سی جاری کیا کرتی تھی۔ ترمیم کے بعد اب وزیرِاعظم ہی انڈین فلموں کی درآمد کی اجازت دے سکتے ہیں۔
بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کی حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم ‘رئیس’کی کامیابیوں کا سفر جاری ہے،فلم ہندوستان سمیت بیرون ممالک میں 200 کروڑ سے زائد کا بزنس کرچکی ہے۔ فلم میں شاہ رخ کی بہترین پرفارمنس کے علاوہ ماہرہ خان کی اداکاری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،فلم میں ماہرہ کافی خوبصورت نظر آرہی ہیں جبکہ ان کی جانداراداکاری بھی قابل تعریف ہے۔
یقیناً لوگوں کے ذہنوں میں اس سوال نے ضرور سر اٹھایا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ شاہ رخ نے باووڈ کی تمام اداکاراؤں کو چھوڑ ایک پاکستانی اداکارہ کاانتخاب کیا؟
فلم میں ماہرہ،نوازالدین صدیقی اور ذیشان ایوب کو شامل کرنے کے پیچھے شاہ رخ کا ایک خاص مقصد تھا۔ شاہ رخ خان نے فلم پرموشن کے دوران اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ’میں نے ان تینوں اداکاروں (ماہرہ،نواز اور ذیشان)کے ساتھ اس سے قبل کبھی کام نہیں کیا ،یہ تینوں شوز میں پہلے سے کام کررہے تھے،اداکاری ان کے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھی،انہیں چیزوں کی سمجھ ہے،وہ فلم میں اپنے سین کے متعلق دوسروں سے بات کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں فلم میں روایتی ہیرو نہیں بنا بلکہ میں نے ایک ‘کردار’نبھایا ہے،لہٰذا یہ بہت ضروری تھا کہ میرے آس پاس ایسے لوگ موجود ہوں جنہیں اداکاری کی سمجھ ہو،اور وہ تمام سین کو سمجھ کر،محسوس کرکے حقیقی انداز میں کام کرسکیں۔یہی وجہ تھی کہ میں نے ان تینوں کا انتخاب کیا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ ہماری ٹیم منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ کام کرے،میں نے ان تینوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
واضح رہے کہ ماہرہ خا ن پہلی پاکستانی اداکارہ ہیں جنہیں شاہ رخ خان کے مقابل مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملا جبکہ نوازالدین صدیقی اس سے قبل عامر خان اور سلمان خان کے ساتھ کام کرچکے ہیں لیکن کنگ خان کے ساتھ پہلی بار کام کیا ہے جبکہ ذیشا ن کا بھی شاہ رخ کے ساتھ کام کرنے کا یہ پہلا تجربہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *