سب کچھ اپنے بل بوتے اور صلاحیت سے حاصل کیا : شترو گھن سنہا

damiبالی ووڈ کے معروف اداکار شتروگھن سنہا نے بتایا کہ زیادہ خوبصورت نظر آنے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانے کا خیال ان کے دل میں آیا تھا لیکن ان کے سینئر ساتھی اداکار دیو آنند نے انھیں اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔انھوں نے یہ باتیں ‘برہمپترا لٹریری فسٹیول میں بات کرتے ہوئے کہی جہاں وہ اپنی آپ بیتی’’اینی تھنگ بٹ خاموش‘ کی تشہیر کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔

شتروگھن سنہا کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو کچھ حاصل کیا وہ اپنے بل بوتے اور اپنی صلاحیت پر حاصل کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا نہ فلمی دنیا میں کوئی گاڈ فادر تھا اور نہ ہی سیاست میں۔انھوں نے نوجوان نسل کو اپنی انفرادیت قائم رکھنے اور اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے دل و جان سے محنت کرنے کا مشورہ دیا۔اپنی کتاب کو انھوں نے بے باک اور انتہائی سچی سوانح قرار دیا اور اردو کے معروف شاعر کلیم عاجز کا شعر پڑھا۔
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
انہوں نے اردو کے معروف شاعر علامہ اقبال کا ایک شعر پڑھتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی:
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو
تماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
ان سےملک کے حالات پر فلم ‘پدماوتی کی شوٹنگ بند کیے جانے کے حوالے سے ایک سوال کیا گیاتو انھوں نے دامن بچاتے ہوئے ہندوستان کی جنگ آزادی کے ایک اہم رہنما رام پرشاد بسمل کے شعر کا سہارا لیا:
وقت آنے پر دکھادیں گے تجھے اے آسمان
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا سیاست میں آنے کا فیصلہ بہت مشکل تھا لیکن وہ اپنے ارادے پر قائم رہے۔ انھوں نے یہ ضرور بتایا کہ ایک مرحلہ ایسا آیا جب وہ اس سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار ہو گئے تھے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما ایل کے اڈوانی نے ان کی رہنمائی کی۔
فلم انڈسٹری میں آنے کے بارے میں انھوں نے کہا: ’جب آپ میں کسی چیز کو حاصل کرنے کی ضد ہوتی ہے تو پہلے لوگ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جیسے کہ ’بڑے چلے ہیں ہیرو بننے‘۔ پھر اگر آپ اس میں کچھ آگے پہنچتے ہیں تو لوگ آپ کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں، پھر آپ مزید کامیاب ہوتے ہیں تو لوگ آپ پر تنقید کرنے لگتے ہیں لیکن جب آپ واقعی کوئی مقام حاصل کر لیتے ہیں تو پھر آپ کو سراہا جاتا ہے اور لائف ٹائم اچیومنٹ جیسے اعزاز ملتے ہیں۔‘
شتروگھن سنہا کے سگریٹ پینے اور مرغولے اور لچھوں پہ لچھے چھوڑنے کو کئی فلموں میں دکھایا گيا ہے۔ اس پر انھوں نے جواب دیا کہ جوانی کے دنوں میں ان میں یہ ’بری عادت تھی‘ لیکن اب وہ نہ صرف خود اسے چھوڑ چکے ہیں بلکہ ہر کسی کو تمباکو سے بنی تمام چیزوں کے استعمال سے منع کرتے ہیں۔شتروگھن سہناسابق وزیراعظم اٹل بہار واجپائی کی حکومت میں وہ ’ہیلتھ اور فیملی ویلفیئر‘ کے کچھ عرصے تک وزیر رہ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ جہاں جاتے ہیں تمباکو کے خلاف بیداری پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں۔
اس سے قبل انھوں نے دیپا چودھری سے کتاب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو ’کمپاؤنڈر بننے کے قابل بھی نہیں تھے لیکن انھیں ‘وزیر صحت بنا دیا گيا۔‘ شتروگھن سنہا کو غصہ کیوں آتا ہے تو انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے کہا: ’اس عمر میں میرا بلڈ پریشر کسی بچے کی طرح نارمل (120/80) ہے اور مجھے غصہ بالکل نہیں آتا۔ یہ افواہ ہے۔ میں اور کچھ بھی ہوں یا نہ ہوں لیکن ایک اچھا باپ ضرور ہوں۔‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *