حکومت کرنے کے لیے پختگی کی ضرورت ہوتی ہے

damiہفتہ در ہفتہ سیاسی بات چیت کی سطح لگاتار گرتی جارہی ہے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ شرد پوار کو پدم وبھوشن اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ بی جے پی چاہتی ہے کہ وہ اس کے تئیں اپنا رویہ نرم کرلیں تاکہ مہاراشٹر میں شیو سینا کی حمایت واپس لینے کی صورت میں این سی پی کی حمایت لے کر بی جے پی اقتدار میں بنی رہے۔ یہ بہت افسوسناک تبصرہ ہے۔ شرد پوار کی سیاسی زندگی اتنی طویل ہے کہ وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر اس اعزاز کے حقدار ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ بی جے پی ایوارڈ کے ذریعہ ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انھیں خوش کررہی ہے۔ لیکن یہ ایسا وقت ہے جس میں کوئی یہ بھروسہ نہیں کرسکتا ہے کہ سرکار بغیر کسی مطلب کے کچھ کر سکتی ہے۔ بہرحال اگر خدا نخواستہ شیو سینا مہاراشٹر میں حمایت واپس لے لیتی ہے تو وہ بہت افسوسناک ہوگا اگر بی جے پی کو اقتدار میں رکھنے کے لیے این سی پی اپنی حمایت دے۔ یہ محبوبہ مفتی اور بی جے پی کے کشمیر گٹھ بندھن کی طرح کا ایک بڑا غیر اخلاقی اتحاد ہوگا۔ لیکن چند وزارت کے عہدوں اور چند سہولتوں کے لیے آج کل کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
اس ہفتہ کی اچھی خبر یہ رہی کہ سپریم کورٹ نے گئوکشی کے معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ملک میں قانون کا راج ہے۔ کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاںگئو کشی پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے کیونکہ وہاں اکثریتی آبادی گوشت خور ہے جیسے کہ نارتھ ایسٹ کی ریاست یا گوا۔ یہاں تک کہ مہاراشٹر، گجرات وغیرہ جیسی ریاستیں،جہاںکی سرکاروں نے یہ محسوس کیا کہ گئوکشی پر پابندی لگائی جاسکتی ہے لیکن اسے نافذ کرنا مشکل ہے کیونکہ بیف بہت سارے لوگوں کی بنیادی غذا ہے۔ ہم ہندو یا روایت پسند لوگ اسے پسند نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن ہوا کیا؟ ممبئی میںبیف پر پابندی لگا دی گئی اور سبھی بین الاقوامی کانفرنس گوا میں منتقل ہوگئی ہیں۔ یہ کس طرح کا مذاق ہے؟ آپ غیر ملکیوں کو بیف پروستے ہیں۔ یہ سوچنا چاہیے کہ کانگریس مخالف جذبے کے سبب بی جے پی کو بہت اعتماد کے ساتھ چنا گیا تھا۔ اب سرکار کو اقتدار میںآئے تقریباً تین سال ہوگئے ہیں اور شاید انھیںاحساس ہورہا ہے کہ ہندوستان جیسے وسیع اورمتنوع ملک پر حکومت کرنے کے لیے پختگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بغیرسوچے سمجھے فیصلے سے کام نہیںچلے گا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ روزانہ فرمان جاری کررہے ہیں ۔ امریکی صدر اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ اس کے ہر فیصلہ کا دنیا بھر میں نوٹس لیا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ امریکی صدر امریکہ کے مفادات کو سادھنے کے لیے چنا جاتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے مفادات کے لیے۔ اگر وہ میکسیکو کے ساتھ جڑے معاملوں سے اپنے طریقے سے نمٹنا چاہتے ہیں، اگر وہ پاٹا، نفٹا سمجھوتہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ ا س میںسدھار کے لیے ان کے پاس چار سال کا وقت ہے ۔ امریکہ میںہم نے دیکھا ہے کہ کوئی بھی صدر آتا ہے تو نظام میں 10-15 فیصد سے زیادہ فرق نہیںلاسکتا کیونکہ زیادہ تر نظام مقررہے۔ اپنی تمام خواہشوں کے باوجود اوبامہ عراق سے اپنے فوجیوں کو باہر نہیںنکال پائے تھے۔ یا صحت کے شعبہ میں انھوںنے اوبامہ کیئر پیش کیا تھا جو ایک بڑا فیصلہ تھا اور اب ٹرمپ اس کے بدلے میں کوئی دیگر پالیسی لانا چاہتے ہیں۔ لیکن جو بھی امریکہ کا صدر ہوگا وہ امریکہ کے مفادات میں کام کرے گا۔ اگر وہ دہشت گردوں او رمسلم مہاجروں کو امریکہ میںنہیں آنے دینا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی نوکریاں محفوظ کی جائیں تو وہ اسے بھی کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہندوستان میں ڈر ہے کہ ایچ -1 بی ویزا میں کمی کی جاسکتی ہے۔ انھیں ایسا کرنے کا اختیار ہے۔ ابھی ان پر کوئی تبصرہ کرنا جلد بازی ہوگی۔ ابھی انھیں اپنا چارج سنبھالے ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان پر اتنا تبصرہ کیوں ہورہاہے۔ ہمیں فی الحال انتظار کرنا چاہیے۔ لیکن وہ جو بھی فیصلہ لیںگے، یقینی طور پر اس کا اثر پوری دنیا میںدیکھا جائے گا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کی چین کی پالیسی کیا رہتی ہے۔ اگر وہ واقعی چین کے خلاف ہوجاتے ہیں تو یہ پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔ اس میںکاروبار اور معیشت سبھی شامل ہوںگے۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *