جموں کے مسلمانوں کے ساتھ بھی انصاف ہونا چاہئے

damiجموں و کشمیر میں پھر سے فرقہ وارانہ تنازع کا اندیشہ اپنا سر اٹھا رہا ہے۔ اسی طرح کی صورت حال ہم نے 2008 میں دیکھا تھا، جب امرناتھ اراضی تنازع کی وجہ سے دو خطوں جموں اور کشمیر کے درمیان نازک رشتوں میں درار آگئی تھی۔ اس بار اختلاف کا فوکس مغربی پاکستان کے کچھ لاکھ پناہ گزینوں کے حقوق پر مرکوز ہے۔ 1947 میں تقسیم کے وقت، مغربی پاکستان سے ہندو اور سکھ خاندان جموں آگئے تھے۔ ان خاندانوں کی تعداد آج بڑھ گئی ہے۔ اس وقت ان پناہ گزینوں کے پاس ہندوستان کے دیگر حصوں میں بسے پناہ گزینوں کے مقابلے میں کچھ الگ حقوق تھے۔
کشمیرمیں بہت سے لوگ اسے ایک مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی کی شکل کو بدلنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک شکایت یہ بھی ہے کہ جموں کے ڈویژنل انتظامیہ نے اس کے لئے ریونیو منسٹری کو نظر انداز کر کے سیدھے ہندوستانی سرکار سے ہدایت لی۔ یہ بات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی اور بی جے پی کے نظریات الگ الگ ہیں۔ ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے ان پناہ گزینوں کو دیگر لوگوں کے ساتھ ہی ووٹنگ کا حق دینے کی سفارش کی تھی۔ ریاستی سرکار نے حال ہی میں انہیں رہائشی سر ٹیفکیٹ جاری کئے،لیکن اس کی وجہ سے یہ شک پیدا ہوا کہ کہیں یہ قدم پوری طرح سے ان لوگوں کوریاست میں پوری طرح سے جوڑنے کا عمل تو نہیں ہے ۔ اگلا قدم انہیں ریاست کی قومیت کا سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔لوگوں کی دلیل ہے کہ انہیں رہائشی سرٹیفکیٹ دینے کے دیگرطریقے بھی ہیں جیسے آدھار کارڈ جاری کر کے یہ کام کیاجا سکتا ہے ۔
پناہ گزیں کے مسائل
یہ پناہ گزیں صحیح معنی میں کئی مسائل کا سامنا کررہے ہیں جن کا ہمدردی کے ساتھ حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ان مسائل سے نمٹنے میں ریاستی سرکار ایک بڑا جوکھم اٹھا رہی ہے۔ دراصل ایک بحث پہلے ہی کشمیر میں شروع ہو چکی ہے ۔ اس سلسلے میں سنگھ پریوار کی تقسیم کاری ہندو راشٹریہ واد کا ایجنڈا اس معاملے کو اور بھی ہوا دے رہا ہے جس میں گھر واپسی یعنی مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو مذہب میں واپس لانا بھی شامل ہے۔
بحث کا ایک حصہ تعداد اور آبادی کے تنازع میں پھنس گیا ہے۔ مغربی پاکستان پناہ گزیں تنظیم کے صدر لابھا رام گاندھی کا دعویٰ ہے کہ صرف 5764 ہندو اور سکھ خاندانوں نے 1947 میں جموں سے ہجرت کی تھی لیکن اب ان خاندانوں کی تعداد بڑھ کر 25460 ہو گئی ہے جن میں کل ایک لاکھ 50ہزار لوگ رہتے ہیں۔کچھ لوگوں کو ان اعدادو شمار پر اعتراض ہے۔ جموں کے مسلمانوں سے متعلق مختلف ایشوز پر کام کرنے والے ایک ماہر کے مطابق اس وقت ان پناہ گزیں خاندانوں کی تعداد تقریباً 12 ہزار تھی اور وہ بڑھ کر 50 ہزار ہو گئی ہے جن کی آبادی لگ بھگ 3 لاکھ کی ہوگی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے کئی خاندان ہیں جو اس تنظیم کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ خیر جو بھی حقیقی اعدادو شمار ہوں، لیکن مانا یہی جارہا ہے کہ انہیں رہائشی حق دینے کا فیصلہ سیاست سے متاثر ہے۔ سب سے متنازع سفارش انہیں ووٹنگ کا حق دینے کا ہے اور بی جے پی اسے بحث کا موضوع بنانے کی شکل میں استعمال کرتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی انتخابی ریلیوں میں اس کا ذکر کرتے ہیں اور لوگوں کو یہ لگ رہا ہے کہ کمیٹی کی سفارشوں کو لاگو کیا جارہا ہے اور لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ پی ڈی پی خاموش ان واقعات کو منظور کررہی ہے۔
لمبے وقت میں یہ فیصلہ ان طاقتوں کو مدد پہنچائے گا جو سیٹوں کی تعداد کے معاملے میں جموں کو کشمیر کے برابر دیکھنا چاہتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے ووٹروں پر منحصر رہے بغیر ریاست میں اقتدار مل سکے۔ حالانکہ اسمبلی حلقوں کی حد بندی 2026 تک نہیں ہوگی لیکن اس قدم سے ان پارٹیوں کو فائدہ ملے گا جو بھید بھائو اور کشمیر ی تسلط کو ہتھیار بناتے ہیں۔
1947کا جموں سانحہ
جس طرح ہجرت پر بحث زور پکڑ رہی ہے ،اس طرح ایک اور ہجرت ہوئی تھی جس پر کوئی بات نہیں ہورہی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ ان پناہ گزینوں کو 1947 میں صرف جموں ہی کیوںبھیجا گیا؟ انہیں ہندوستان کے کسی دیگر حصے میں کیوں نہیں بھیجا گیا؟ جیسے جیسے تاریخ کے صفحات کھلتے گئے،یہ صاف ہوتا گیاکہ یہ کام ریاست کی آبادی کے فارمیٹ کو بدلنے کے مقصد سے کیا گیاتھا۔ شاید 3 لاکھ مسلمانوں کے قتل کے ساتھ ساتھ یہی طریقہ تھا جموں کی مسلم اکثریتی علاقے کی پہچان کو بدلنے کا۔ زوال پذیر ڈوگرا راج شاہی نے اپنے اس عوام کو یہ انمول تحفہ (قتل عام ) دیاتھا جو صدیوں سے ان کی وفا دار رہے تھے ۔ آج جمو ں میں مسلم آبادی 5فیصد ہے جبکہ 1947 میں یہ 39 فیصد تھی۔اسی طرح 1947 میں کٹھوعہ ضلع میں مسلم 30فیصد تھے، آج صرف 8فیصد رہ گئے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کی 25ویں سالگرہ پر 19جنوری 2015 کو ٹائمس آف انڈیا میں صحافی سوامی ناتھن ایس انکلیسریا ایر لکھتے ہیں کہ ہمارا میڈیا اپنی آزاد اور مضبوط اسپیچ پر فخر کرتا ہے،پھر بھی انہوں نے مبینہ قومی مفاد سے متعلق کچھ ایشوز پر سازش بھری خاموشی اختیار کئے رکھا ۔ سوامی ناتھن ایئر کا اشارہ 1947 میں بڑے پیمانے پر ہوئے مسلمانوں کے قتل اور ہجرت کی طرف تھا۔انہوں نے لکھا کہ اس کہانی کواس مایوس کن سالگرہ پر یاد کیا جانا چاہئے۔
جموں و کشمیر سے گئے تقریباً 1.2 ملین پناہ گزین خاص پاکستان(پی او کے ،کے علاوہ ) میں رہتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 1.1 ملین اس وقت جموں اور کٹھوعہ ضلعوں سے گئے ہیں ۔کس طرح سے ان کا قتل ہوا اور انہیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا، اس کی کہانی ایک نامور صحافی وید بھسین نے بیان کی ہے ۔ 2003 میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ منصوبہ مہاراجہ کی سرکار اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے ذریعہ بنا یا گیا تھا ۔ میر چند مہا جن (وزیر اعظم ) ایک بار تب جموں آئے تھے جب فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے تھے۔ انہوں نے کچھ اقلیتی لیڈروں کو مدعو کیا، جس میں فرقہ پرست پارٹی اور نیشنل کانفرنس بھی شامل تھے۔ تریلوک چند دت، گردھاری لال ڈوگرا اور اوم سراف وہاں تھے۔ میں بھی ایک طالب علم کے نمائندہ کی حیثیت سے وہاں پر تھا۔ مہاراجہ پیلس میں انہوں نے کہا کہ اقتدار جموں و کشمیر ریاست کے لوگوں کو دیا جارہا ہے توآپ ہندو اور سکھ برابری کی مانگ کیوںنہیںکرتے ہو؟برابری کا مطلب ہندو اور مسلمان (مسلم لیگ )میں برابر کی نمائندگی ۔اوم سراف کو چھوڑ کر کسی نے جواب نہیں دیا۔ سراف نے کہا کہ ہم کیسے برابری کی مانگ کر سکتے ہیں؟ہندوئوں اور مسلمانوں کی آبادی میں بھاری فرق ہے۔ مسلمانوں کے پاس ایک بڑی اکثریت ہے، ہندو اقلیت میں ہیں۔یہ کیسے عملی طور پر ممکن ہے؟اس پر میر چند مہاجن نے مہاراج پیلس کے نیچے ایک جنگلی خطہ ( جہاں پر کچھ گوجر کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آبادی بدل بھی سکتی ہے۔ بھسین کہتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب تھا؟ان پناہ گزینوں کے پاس کوئی مکمل حق نہیں تھا سوائے جموں اور کشمیر اسمبلی میں ریزرو 8 سیٹوں کے۔
پاکستان میں رہنے والے جموں و کشمیر کے پناہ گزینوں کی واپسی کے لئے، شیخ محمد عبد اللہ ایک رہابلی ٹیشن بل 1977 میں (جسے بل نمبر 9 کے نام سے بھی جانا جاتاہے ) لے کر آئے۔یہ بل 1954 تک ہجرت کر چکے لوگوں کے لئے تھا۔ ابھی تک اس بل پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
ابھی جب مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کے بارے میں زیادہ بات ہو رہی ہے،ایسے میں کوئی بھی ان کی بات نہیں کرتا ہے جو نہ صرف 1954 بلکہ 1990 کے بعد بھی سرحد پار سے ہونے والی گولا باری سے بچنے کے لئے پاکستان میں ہجرت کر گئے۔ ایسے لوگوں کی تعداد 35 ہزار سے زیادہ ہے اور وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک مشکل زندگی جی رہے ہیں ۔کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور جو لوگ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے لئے مجبور ہوئے لوگوں،ان دونوں ایشوز کا حل یکسانیت کے ساتھ نکالنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *