جموں و کشمیر کی قراردادوں کی انوکھی کہانی

damiہندوستان میںعوامی نمائندوں کے کسی بھی ایوان کی طرح جموںو کشمیر اسمبلی اور جموںو کشمیر قانون ساز کونسل کسی ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے قرارداد منظور کرتی ہیں تاکہ ان کا فوری طور پر حل نکالا جاسکے۔ ان دونوں ایوانوں نے کچھ ایسے بل اور قرارداد منظور کی ہیں جو سیاسی طور پر حساس اور متوجہ کرنے والے تھے۔ لیکن زیادہ تر قرارداد کو نہ تو ریاستی سرکار نے اور نہ ہی حکومت ہند نے سنجیدگی سے لیا۔ شیخ عبداللہ سرکار کے ذریعہ ایوان کی ٹیبل پر لایا گیا بل نمبر 7 یا جموں و کشمیر ریسیٹلمنٹ بل 1977 اس کی مثال ہے۔ یہ بل سال 1954 تک ریاست سے ہجرت کرنے والے شہریوں کی واپسی کے لیے لایا گیا تھا۔ اس بل کو اسمبلی کے بعد سپریم کورٹ بھیج دیا گیاجو پھر ریاستی سرکار کے پاس واپس چلا آیا ہے۔ ابھی بھی یہ بل لٹکا ہوا ہے۔
ایک دیگر معاملے میں اسمبلی نے ریاست میں زیادہ خودمختاری کی بحالی کے لیے سال 2000 میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ ایک قرارداد پاس کی تھی۔ یہ کشمیر کے تینوں خطوں کشمیر، جموں اور لداخ کے لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتی تھی کیونکہ اسمبلی میں برسراقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) کی نمائندگی ان تینوںخطوںسے ٹھیک ٹھاک تھی۔ یہ قرارداد 1995 میں نرسمہا راؤ کے ذریعہ فاروق عبداللہ سے کیے گئے وعدے کی بنیاد پر منظور کی گئی تھی۔ فاروق عبداللہ نے مئی 1996 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھالیکن مرکزی سرکار نے خودمختاری کے وعدے پر انھیں ستمبر 1996 کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے راضی کرلیا تھا۔ اس دور کے وزیر اعظم دیوگوڑا، جنھیں بائیںبازو کی پارٹیاں حمایت دے رہی تھیں، نے فاروق عبداللہ کو تعاون دینے کا یقین دلایا ، لیکن جب تک قرارداد تیار ہوتی، ان کی سرکار چلی گئی اور دہلی کی باگ ڈور بی جے پی کے اعتدال پسند رہنما اٹل بہاری واجپئی کے ہاتھوںمیں آگئی۔ پھر جب قرارداد پاس ہوئی تو واجپئی سرکار نے اس کا نوٹس تک نہیں لیا۔ نئی دہلی جس آواز کو دنیا بھر میں چنی ہوئی اسمبلی کے طو ر پر تشہیر کرتی تھی، اس نے اسی آواز کو بدنام کیا اور فاروق عبداللہ اس کو چیلنج بھی نہیںکرسکے۔ ساتھ ہی ساتھ نیشنل کانفرنس اب عوام کی نمائندگی کرنے والی پارٹی بنے رہنے میں ناکام رہی کیونکہ اس دوران وہ واجپئی سرکار کا حصہ بنی رہی۔ لہٰذا اسمبلی کے ذریعہ منظور قرارداد ہمیشہ کے لیے دفن ہوگئی۔
حال ہی میںاسمبلی نے کشمیری پنڈتوں کی وادی میں واپسی سے متعلق ایک قرارداد پاس کی ہے۔ یہ قرارداد این سی لیڈر عمر عبداللہ کے ذریعہ پیش کی گئی تھی۔ قرارداد کا اہم نکتہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے سیاسی نظام کی اجتماعی خواہش کا مظاہرہ کرنا تھا۔ پنڈتوں کی بازآبادکاری پر لاکھوں خرچ کیے جاچکے ہیں اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کالونیاں بھی بنائی گئی ہیں۔
اسی طرح سال 2004 میں قانون ساز کونسل نے چودہویں صدی کے صوفی سنت شیخ نورالدین ولی، جو شیخ العالم کے نام سے مشہور ہیں، کے نام پر سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ کا نام رکھنے کی قرارداد پاس کی تھی۔ وہ بڈگام کے چرار شریف میں دفن ہیں جو ایئرپورٹ کے نزدیک ہے۔ اس قرارداد کو بھی بھی حکومت ہند نے نامنظور کردیاتھا۔ ہندوستان میں درجنوں ایئرپورٹ ہیںجومشہور ہستیوں کے نام پر ہیں لیکن اس معاملے میںیہ دلیل دی گئی کہ سرکار اب ایسی درخواستوں کی تعمیل نہیںکرتی۔ چناب وادی میںپہاڑی ترقی کونسل بنانے سے متعلق ایک قرارداد زیرالتوا ہے۔ غور طلب ہے کہ اسی طرح کے کونسل لیہہ اور کارگل میںکام کررہے ہیں۔
ایک اور قرارداد جسے حال ہی میںقانون ساز کونسل نے پاس کیا ہے، جس پر اب یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ حکمراںاتحاد کو اسے پیش کرنے کی اجازت دینی بھی چاہیے تھی یا نہیں؟ ا س میں جموں و کشمیر کے آخری حکمراں مہاراجہ ہری سنگھ کی برسی پر چھٹی کی بات کی گئی ہے۔ یہ قرارداد راجہ ہری سنگھ کے پوتے اجات شترو سنگھ کے ذریعہ لائی گئی تھی۔ اس عمل نے ڈوگرا نسل کی 100 سال لمبی ظالم حکومت کے دوران لگے زخموں کو تازہ کردیا۔ ریاستی آبادی کی اکثریت نے ڈوگرا سامراج کے خلاف جمہوریت کے حق میں لڑائی لڑی ہے۔ یہ لڑائی ہندوستانی جدوجہد آزادی کے متوازی چلی تھی۔نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی دونوں علاقائی پارٹیوں نے انتخابی جنگ میں جموں کے علاقے کو دھیان میں رکھتے ہوئے شاہی خاندان کی نسلوںکو اپنے ساتھ رکھا۔
جس طرح سے وہ قرارداد منظور کی گئی، وہ ظاہر کرتی ہے کہ سرکار کا طریقہ کار کیا ہے؟ حالانکہ پی ڈی پی کے رکن اسمبلی خورشید عالم نے اکیلے اس کی مخالفت کی اور این سی اس دوران غیر حاضر رہی۔ پی ڈی پی کے لیڈر اور وزیر تعلیم نعیم اختر نے اس قرارداد کو واپس لینے کی اپیل کی، لیکن یہ قرارداد کسی پریشانی کے بغیر پاس ہوگئی۔ دراصل اختر نے ہی بحث کے رخ کو بھی بدلا۔ مہاراجہ کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے انھوںنے کہا، ’’500 سے زیادہ ریاستوں نے انڈین یونین میں مرج کرلیا تھا لیکن یہ مہاراجہ ہری سنگھ ہی تھے جنھوںنے ریاست کے خصوصی درجہ کی حفاظت کی تھی‘‘۔ نعیم اختر نے کہا آپ دو دہائی پیچھے جائیے ’’ریاست موضوع کے قانون جس میں جموں و کشمیر کی ثقافت اور اقتصادی نظام کے کور کی حفاظت کا انتظام ہے، وہ مہاراجہ کی اہم شراکت ہے‘‘۔ وہ آگے کہتے ہیں، ’’جموں و کشمیر کی تاریخ اور جغرافیہ پر نظر ڈالیں، ان حالات پر نظر ڈالیں جن کے تحت اس کی علاقائی توسیع ہوئی۔۔۔ کیا انھوںنے دنیا کی سب سے مشکل ریاست کی تعمیر نہیںکی تھی؟‘‘
اس طرح کے حساس ایشو پر پی ڈی پی کو احتیاط برتنی چاہیے تھی۔ بے لگام راج تنتر کے مظالم کے زخم کے سوال پر اسے خوش نہیں ہونا چاہیے، بھلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اس کی ساجھیداری میں درار پیدا ہوجائے۔ اگر پی ڈی پی یا این سی اقتدار میں آتی ہیں تو ڈوگرا حکومت کے خلاف لڑائی میں لوگوںکی قربانیوں کی وجہ سے آتی ہیں۔ پی ڈی پی کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس نے اس قرارداد کو روکا کیوں نہیں جس کی وجہ سے دسیوںہزار لوگ دلبرداشتہ ہوئے۔
المیہ یہ ہے کہ ہری سنگھ کے بارے میںاس کے بیٹے کرن سنگھ کہتے ہیں کہ وہ فرقہ پرست نہیںتھے، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ڈوگرا نسل نے اپنی مسلم قوم کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔ یہ حقیقت کہ ہری سنگھ کی حکومت کے آخری ایام میں جموں کے مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا، 28 جنوری کو ڈاکٹر کرن سنگھ کے اس اعلان کو جھٹلانے کے لیے کافی ہے۔ کرن سنگھ نے کہا تھا کہ’’(ہری سنگھ کے) سب سے قریبی دوست مسلمان تھے اور ان کے اسٹاف میں ہمیشہ مسلمان کافی تعداد میں رہے۔ انھیںفرقہ پرست کہنا ایک دم غلط ہے۔ وہ ایک ترقی پسند حکمراں تھے او رکئی سدھار کے کام کیے تھے۔ ‘‘اگر چند مسلمانوں سے دوستی کسی کو سیکولر بنادیتی تو کسی کو بھی فرقہ پرست نہیںکہا جاسکتا ہے۔ اپنی کتاب ’’کشمیر ۔دی انٹولڈ اسٹوری‘‘ میںآسٹریلیائی مصنف کرسٹوفر سنیڈن نے راجہ ہری سنگھ کے آخری ایام میں مسلمانوں کے قتل عام پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق ، قبائلی حملے سے پہلے تقریباً 22000 مسلمان مارے گئے تھے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تباہی کی کہانی بہت پہلے شروع ہوچکی تھی۔ ٹائمز آف انڈیا کے نامہ نگار کے مطابق 411,000 مسلم آبادی میں سے 237,000 مسلمانوںکو منظم طور پر ان کی جڑوںسے اکھاڑ پھینکا گیا۔ یہ باتیں اس نے 10 اگست 1948 کو لکھی تھیں۔ کرن سنگھ کی سیکولر تھیوری کو مسمار کرنے کے لیے ایسے سیکڑوںمثال پیش کی جاسکتی ہیں۔
سرکار کو اس طرح کی آگ بھڑکانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ہری سنگھ اب ماضی بن چکے ہیں انھیں حال یا مستقبل میںمتعلقہ نہیںبنایا جاسکتا ہے۔ وہ بھی اس وقت جب ایسے لوگوںکی سمجھ پر سوال کھڑا کیا گیا جو مہاراجہ کے خلاف کھڑے ہوئے اور انھیںکشمیر چھوڑنے پر مجبور کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *