بہار کے مسلمان تعلیمی و سیاسی بیداری آرہی ہے

damiارشاد الحق
خاندان یا سماج کو تباہ کر دینے والے بھیانک حادثات کے باوجود زندگی کے سامنے امید کی ایک کرن موجود رہتی ہے۔ گجرات فسادات کے بعد احمد آباد کے سماجی کارکن حنیف لکڑاوالا نے ایک بار بتایا تھا کہ وہاں مسلمانوں کے کاروبار اور روزگار تباہ ہو گئے تھے ۔ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی کھائی کافی بڑھ چکی تھی۔ ایسے میں ایک دوسرے سے باہمی مدد کی امیدیں کمزور ہو چکی تھیں۔ تب مسلمانوں نے وقت کے ساتھ خود کو اٹھ کھڑا ہونے اور آگے بڑھنے کے لئے تیار کر لیا۔ جن کے پاس چھوٹی پونجی تک نہیں بچی تھی، انہوں نے آگے بڑھنے کے ارادے اور حوصلے سے خود کو لبریز کر لیاتھا۔
لکڑاوالا نے فسادات کے چار پانچ سال بعد بتایا تھا کہ اس حادثے کے بعد مسلم نوجوان اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر کھڑا ہونے کا عزم لے کر کچھ سالوں میں خود کو کھڑا کر لیا۔گجرات کے واقعہ کے پہلے بابری مسجد انہدام کے حادثہ نے مسلمانوں پر ملک گیر اثر ڈالا تھا۔ اس حادثہ کا ایک مثبت اثر یہ ہوا تھا کہ مسلمانوں نے اپنے بچے و بچیوں کو پڑھا لکھا کر آگے بڑھانے کا عزم کیا۔ لکڑوالا نے یہ دو مثالیں دیتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ ان حادثوں کے بعد مسلم سماج کی اگلی نسل تیزی سے آگے بڑھے گی۔
1992 کے بعد 25 برسوں کا سفر طے ہو چکا ہے۔ تب سے اب تک مسلم سماج معاشی و تعلیمی ترقی میں کتنا آگے بڑھ چکا ہے ، اس کا کوئی نتیجہ خیز سروے نہیں ہوا ہے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کے سروے اگر سامنے آئے بھی ہیں تو وہ مسلمانوں کی مجموعی صورت حال پر مرکوز تھے۔ وہ سروے نئی نسل کو مرکز میں رکھ کر نہیں کئے گئے تھے۔ ایسے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہہ پانا ممکن نہیں ہے۔
خوش آئند تجزیہ
لیکن بہار میں جس طرح کی تبدیلیاں گزشتہ 8 10- سالوںمیں دیکھنے کو ملی ہیں، انہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حالت میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ بات اگر تعلیم کی کریں تو ایک حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، جو ریاستی سرکار کے زیر نگرانی کام کرنے والا ادارہ ہے، کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ مسلمان لڑکیاں ، لڑکوں کے مقابلے میںزیادہ آگے بڑھی ہیں۔گزشتہ کچھ سالوں میں بورڈ فوقانیہ (میٹرک کے مساوی) سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ رہی ہے۔
ریاست میں 1500 کے قریب الحاق شدہ مدارس ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں پرائیویٹ مدارس ہیں جن کے طلبا ء و طالبات مدرسہ بورڈ کا امتحان دیتے ہیں۔مدرسوں کی توضیح یہاں اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ مدرسوں میں زیادہ تر غریب مسلمانوں کے بچے پڑھتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے کا خرچ نہیں ہوتا۔ یہاں قابل غور بات ہے کہ مدرسوں کے بارے میں جو عام رائے سماج کے کچھ طبقوں میں پائی جاتی ہے، اس سے بہار کے یہ مدارس بالکل الگ ہیں۔ الحاق شدہ مدرسوں کے نصاب میں سائنس، ریاضی، ہندی اور یہاںتک کہ کئی مدرسوں میں کمپیوٹر تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایسے میں ان مدسوں سے فارغ طلباء کی بڑی تعداد کو سرکاری روزگار کے مواقع ملے ہیں۔
گزشتہ دس برسوں میں اگر ریاست کے اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری پر ہی نظر ڈالیں تو پرائمری اور مڈل اسکولوں میں تقریباً 6 لاکھ اساتذہ کی تقرریاں ہوئی ہیں اور ایک عام اندازے کے مطابق ان تقرریوں میں مسلم نوجوانوں نے اپنی آبادی کے مطابق تقرریاں حاصل کی ہیں۔
بہار میں مسلمانوں کی آبادی مردم شماری رپورٹ کے مطابق 16.9 فیصد ہے۔ایسے میں اگر اساتذہ کے عہدوں پر ان کی نمائندگی ان کی آبادی کے برابر ہے تو یہ حیران کر دینے والی بات ہے۔ کیونکہ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی نمائندگی تیسرے یاچوتھے طبقہ کے عہدوں پر بھی 10 فیصد سے زیادہ کبھی نہیں رہی۔ آفیسر گریڈ اور انتظامیہ کے عہدوں پر ان کی نمائندگی تو 3 5- فیصد کے قریب ہی رہتی ہے لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں ریاست کی سطح پر مسلمانوں نے اپنی نمائندگی ہر شعبے میں بڑھایا ہے۔ ایسی مثالیں سرکاری میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں بھی دیکھنے کو ملنے لگی ہیں۔ حالانکہ جیسا کہ اوپربتایا گیا ہے کہ ایسا کوئی صحیح تجزیہ یا سروے تو نہیں ہوا ہے جس سے یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ مسلمانوں میں تعلیم یا نوکریوں میں نمائندگی کتنی بڑھی ہے لیکن ہر برس ہونے والے میڈیکل اور انجینئرنگ ٹیسٹ ایگزام کے نتائج کو نمونہ کے طور پر پیش کیا جائے تو صورت حال امید افزا معلوم ہوتی ہے۔ بہار کے سرکاری میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں گزشتہ کئی سالوں سے مسلمانوں کی نمائندگی 9-7 فیصد کے آس پاس رہی ہے۔ جبکہ 10-8 سال پہلے صورت حال ایسی نہیں تھی۔
مسلمانوں کی نمائندگی بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ بہار کی ریزرویشن پالیسی کا فائدہ مسلمانوں نے اٹھانا شروع کیا ہے ۔بہار میں پسماندوں کے ریزرویشن کے دو درجے ہیں۔ پسماندہ اور انتہائی پسماندہ ۔انتہائی پسماندہ ذات کے لئے 21فیصد ریزرویشن ہے جبکہ پسماندہ ذات کے لئے 12 فیصدہے۔ مسلمانوں کی بہت سے ذات انتہائی پسماندوں کے درجے میں ہیں۔ جہاں ان کی حیثیت یادو ، کورمی ،کوئری جیسی مڈل کلاس کی ذات کے بجائے سونار،قہار، ملاح جیسی انتہائی پسماندہ کے زمرے میں ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ریزرویشن کا یہ پروویژن نیا ہے۔ ریزرویشن کا یہ پروویژن دہائیوں پرانا ہے لیکن اس کا فائدہ مسلمانوں نے تب سے زیادہ لینا شروع کیا جب انمیں پڑھائی کے تئیں حساسیت بڑھنی شروع ہوئی۔
ایسانہیں ہے کہ تعلیم کے بعد سرکاری نوکریوں کے تئیں ہی مسلمانوں کا رجحان بڑھا ہے۔ اب ایسی مثال بھی دیکھنے کو ملنے لگی ہیں کہ لوگ پرائیویٹ شعبے کے مہنگے پروفیشنل کورسیز کی طرف بھی دھیان دینے لگے ہیں۔ ایسے خاندانوں کی تعداد کافی بڑھی ہے جو اپنے بچوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے میڈیکل اور انجینرئنگ کالجوں میں بھی داخلے کروانے کا جوکھم اٹھانے لگے ہیں۔
مشرقی چمپارن کے پیپرا گائوں کے نورالاعظم 1980 کی دہائی کے گریجویٹ ہیں۔ انہیں کوئی سرکاری نوکری نہیں مل سکی تو مجبوراً انہیں خاندان کے روایتی پیشے کھیتی کو اپنانا پڑا۔لیکن جب ان کے بچوں کی باری آئی اور وہ مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب نہیں ہوئے تو انہوں نے اپنی زمین بیچ کر ایک بیٹے کو میڈیکل کالج تو دوسرے کو انجینئرنگ کالج میں داخل کروایا۔ نور الاعظم بتاتے ہیں کہ کھیتی سے انہوں نے بس اتنا کیا کہ وہ اپنے بچوں کے پیٹ پالنے میں کامیاب رہے لیکن نئی نسل آگے بڑھے، اس کے لئے انہوں نے زمین بیچ کر اپنے بچوں کو پروفیشنل کورس میں داخل کروایا۔ نور الاعظم کئی مثالیں انگلیوں پر گناتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان کے کئی رشتہ داروں نے اپنی زمینیں بیچ کر اپنے بچوں کو پڑھا یا ہے ۔ اعظم مانتے ہیں کہ ریزرویشن سے ہی بڑا بدلائو ممکن ہے۔
مسلمانوں کا سیاسی امپاورمنٹ
گزشتہ ایک دہائی میں بہار کے مسلمانوں کا سیاسی امپاورمنٹ بھی آسانی سے دیکھنے کو ملنے لگا ہے۔ 2006کے بعد سے لوکل باڈیز میں مسلمانوں کی نمائندگی لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔یہی حال میونسپل یونٹوں میں دیکھنے کو ملا ہے۔مکھیا، سرپنچ، وارڈ پارشد وغیرہ سیٹوں پر بھی مسلمانوں کی نمائندگی کافی بڑھی ہے۔ حالانکہ اس کی سب سے بڑی وجہ انتہائی پسماندہ ذاتوں کے لئے ریزرویشن کا الگ سے کوٹے کی تعین کا نظام ہے ۔بہار سرکار نے کوئی 11برس پہلے لوکل باڈیز میں ریزرویشن کا نظام لاگو کیا جس کا فائدہ مسلمانوں نے خوب اٹھایا ۔جہاں پہلے طاقتور اور دبنگ طبقہ کے لوگ ہی مکھیا یا سرپنچ بننے کا خواب دیکھ سکتے تھے، وہیں اب پسماندہ طبقہ کے لئے ریزرویشن نے کمزور طبقوں کوبھی موقع دیا ہے۔ نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ انتہائی پسماندہ اور پسماندہ کوٹے سے مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد جیت کر مکھیا اور سرپنچ بننے لگے ہیں۔ اس معاملے میں سب سے بڑی مثال خود پٹنہ کے میئر کا ہے۔ پٹنہ کے میئر فضل امام لگاتار دو ٹرم سے اس عہدہ پر بنے ہوئے ہیں۔ وہ انتہائی پسماندہ طبقہ سے آتے ہیں اور یہ عہدہ انتہائی پسماندہ کے لئے ریزرو ہے ۔مانا جاتاہے کہ پٹنہ کے میئر کا عہدہ اگر انتہائی پسماندہ کے لئے ریزرو نہیں ہوتا تو اس عہدہ پر کسی مسلمان کا منتخب ہونا تقریباً ناممکن تھا۔ بہار کے مسلمانوں میں معاشی ، تعلیمی اور سیاسی امپاورمنٹ کا یہ تشکیلی دور ہے۔یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کے بدلتے حالات کے لئے ریزرویشن بھی ایک وجہ ہے لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ ان کے اندر دھیرے دھیرے آرہی بیداری ہے۔ اسی معاملے میں اس مثبت خبر کو بھی جوڑ لیا جائے کہ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں بہار اسمبلی میں اب تک سب سے زیادہ مسلم ایم ایل اے منتخب ہوکر آئے ہیں۔ موجودہ اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی 17 فیصد کے قریب ہے جو ان کی آبادی کے مطابق ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *