بنتے بگڑتے حالات میں بنتے بگڑتے چہرے اترپردیش کا آئندہ وزیر اعلیٰ کون؟

damiجیسے جیسے انتخاب آگے بڑھ رہا ہے ،یہ سوال ابھرتا جارہا ہے کہ اترپردیش کا وزیر اعلیٰ کون بنے گا؟ اس سوال میں یہ تجسس بھی پوشیدہ ہے کہ کس پارٹی کی سرکار بنے گی یا کون کون پارٹیاں مل کر سرکار بنائیں گی اور ایسی صورت میں تمام پارٹیوں کا متفقہ وزیر اعلیٰ چہرہ کس کا ہوگا؟
الگ الگ پارٹیوں کے نظریئے سے دیکھیں تو وزیر اعلیٰ کے لئے سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کا فیصلہ طے ہے۔ کانگریس کا بھی طے ہے کہ اس کا کچھ بھی طے نہیں ہے۔سب سے زیادہ شک ، بے یقینی یا موقع پرستی اور خاموشی کی صورت حال بی جے پی کی ہے۔ مارچ میں انتخابی نتائج آنے کے بعد تو یہ طے ہو ہی جائے گا کہ کس پارٹی کی سرکار بنے گی اور وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟ لیکن نتائج آنے کے قبل کا تجسس زیادہ دلچسپ اور مزیدار ہوتا ہے ۔ وزراء اعلیٰ کے طے شدہ اور ممکنہ چہروں پر ہم بعد میں بات کریں گے۔ پہلے مستقبل کے بننے بگڑنے والے تجزیوں کا لائن سے ہٹ کر جائزہ لیتے ہیں۔
اگر ہم یہجائزہ لیں کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد سیٹوں کی پوزیشن دیکھ کر راہل گاندھی، بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ سرکار بنانے کے لئے حامی بھر دیں گے تو یہ کوئی ہوا میں پتنگ اڑانے جیسا تجزیہ نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد پہلی بار مشترکہ پریس کانفرنس میں جب راہل کھلے طور پر مایاوتی کے تئیں اپنے احترام اور حمایت کا اظہار کرسکتے ہیں تو انتخاب کے بعد کیوں نہیں؟ یہ سوال خود کانگریسی ہی اٹھاتے ہیں۔
ادھر ایک لمبے عرصے سے مایاوتی اور کانگریس کے درمیان اچھے رشتے کی آہٹ محسوس ہورہی ہے۔ مایاوتی نے اتر پردیش ، مدھیہ پردیش اور اترا کھنڈ کے راجیہ سبھا انتخاب میں کانگریس امیدواروں کو انتخاب جتا کر اس کا واضح پیغام بھی دیاہے ۔ انتخاب کے پہلے کانگریس نے اتحاد کے لئے بہو جن سماج پارٹی کو زیادہ ترجیح دی تھی، لیکن مایاوتی کو کم سیٹوں پر انتخاب لڑنا منظور نہیں تھا۔ اس معاملے میں وہ اکھلیش سے زیادہ خود اعتمادی سے بھری دکھائی دیں۔ بہو جن سماج پارٹی سے بات نہیں بننے کے بعد ہی کانگریس نے سماج وادی پارٹی کا ہاتھ تھاما۔ اب یہ ساتھ کہاں تک جائے گا،یہ کہنافی الوقت مشکل ہے۔
مایاوتی بی جے پی پر جس قدر تلخ دکھائی دیتی ہے، اتنا تو کانگریس پر قطعی نہیں دکھائی دیتی ہیں۔ایسا ہی کانگریس کے ساتھ بھی ہے۔ کانگریس بھی مایا وتی کے خلاف سخت نہیں ہے ، بھلے ہی وہ ابھی سماج وادی پارٹی کے ساتھ کھڑی ہو، لیکن وہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ کھڑی ہوکر بھی مایاوتی کے خلاف تنقید کرنے والی سیاست سے خود کو بچا رہی ہے۔ مایاوتی کی وجہ سے اتر اکھنڈ میں کانگریس کی سرکار بچی رہی اور مایاوتی کی مدد سے ہی مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور اترا کھنڈ میں کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر چنے گئے۔ اس میں کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر کپل سبل بھی مایاوتی سے فیضیاب ہونے والے لیڈروں میں شامل ہیں۔ مایاوتی کے اس احسان کو کانگریس بھول نہیں سکتی۔اسے بھولنا بھی نہیں چاہئے۔ راہل نے اکھلیش کے سامنے مایاوتی کی تعریف کر کے ایسا ہی ظاہر کیا۔لہٰذا سیاسی تجزیہ کا ایک مضبوط پہلو یہ بھی ہے کہ بھلے ہی اسمبلی انتخابات کے پہلے بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ کانگریس کا اتحاد نہیں ہو پایا، لیکن انتخابی نتائج کے بعد نیا سیاسی اتحاد بنانے کا کام اندر اندر چل رہا ہے۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ کانگریس کو اگر اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ کے بطور منظور ہو سکتے ہیں تو مایاوتی کیوں نہیں ؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحاد کے بعد سماج وادی پارٹی چیف اکھلیش یادو کے انتخابی اجلاس میں موجود رہنے کے لئے کانگریس کے مقامی لیڈروں کو ’پاس ‘ دیاجاتاہے، لیکن کانگریس کے لیڈر سماج وادی پارٹی کے انتخابی اجلاس میں شریک رہنے سے بالکل پرہیز کررہے ہیں۔اس پر ان کے خلاف پارٹی کوئی ناراضگی بھی نہیں دکھا رہی ہے۔ آپ غور کریں تو اکھلیش کے اجلاس میں کانگریس کے لیڈر دکھائی نہیں دیتے، بھلے ہی ان کے حلقے کی سیٹ اتحاد کی وجہ سے سماج وادی پارٹی کے کھاتے میں چلی گئی ہو۔ جبکہ اتحاد کا معاہدہ یہی ہے کہ دونوں پارٹی ایک دوسرے کے حلقے میں ایک دوسرے امیدواروں کو جتائیں ،لیکن ایسی کوئی مشترکہ قواعد زمینی سطح پر دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ لہٰذا اس امکان پر زیادہ حیران نہ ہوں کہ کانگریس اور بہو جن سماج پارٹی میں انتخاب کے بعد کا اتحاد ہو جائے اور سرکار بنانے میں کانگریس بہو جن سماج پارٹی کی مدد کر دے۔
سیاسی تجزیہ کاروں سے لے کر عام شہری تک اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ بہو جن سماج پارٹی ،بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکار بنا سکتی ہے۔ اس تجزیہ کے پیچھے بہو جن سماج پارٹی کا پس منظر ہے۔ مسلم طبقے کے ایک دانشور نے بے ساختہ کہا کہ’’ اس سے مسلمانوں پر کیا فرق پڑتا ہے کہ مایاوتی،بی جے پی کے ساتھ مل کر پھر سے سرکار بنا لیں‘‘۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ بی جے پی کا ساتھ لے کر سرکار بنانے کے باوجود مایاوتی کم سے کم مشترکہ پروگرام کی شرط کی بنیاد پر مسلمانوں کا حق بھی دیکھیں گی،کیونکہ انہوں نے سب سے زیادہ مسلمانوں کو اپنا ا میدوار بنایا ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مسلمانوں نے بی جے پی کے امکانات کو روکنے کے لئے ہی مایاوتی کو حمایت دینے کا من بنایا ہے، لہٰذا اب بی جے پی کے ساتھ جانے میں مایاوتی کو کچھ عملی دشواریاں آسکتی ہیں لیکن ایک اور صورت حال کے بارے میں آپ اندازہ کریں کہ انتخاب کے بعد کیا بی جے پی اکھلیش کا ساتھ دے کر سماج وادی پارٹی قیادت کی سرکار بنوا سکتی ہے؟
سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے، یہ کہنا بہت آسان ہے لیکن بہار میں مہاگٹھ بندھن سے الگ ہونے سے لے کر سماج وادی پارٹی کے خاندانی تنازع کے پس منظر میں جو طاقتیں سرگرم دکھائی دے رہی ہیں،وہ اب غیر فعال تھورے ہی ہو گئی ہیں۔ مہاگٹھ بندھن سے سماج وادی پارٹی کو الگ کرانے والے پروفیسر رام گوپال یادو سماج وادی پارٹی کے خاص علمبردار اب بھی ہیں۔ سماج وادی پارٹی خاندان کے جو ممبر بی جے پی کے بالکلیہ مخالف اور سماج وادی پارٹی -جنتا وادی گٹھ بندھن کے حامی تھے، وہ سب اب پارٹی سے باہر ہیں۔ ملائم کو اکھلیش نے غیر متعلقہ بنا ہی دیا ہے ۔ایسے میں انتخاب کے بعد بی جے پی کے ساتھ سماج وادی پارٹی اقتدارمیں شراکت داری کر سکتی ہے۔جب سماج وادی پارٹی کا خاندانی تنازع عروج پر تھا اور ایسی صورت حال بن گئی تھی کہ اکھلیش اور رام گوپال پارٹی سے بے دخل کر دیئے جائیںگے، تب اکھلیش کے ذریعہ ایک نئی پارٹی بنا کر بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں جانے کی پہل اور چرچائیں شروع ہو گئی تھیں۔ رام گوپال عرصہ پہلے سے الیکشن کمیشن کے دفتر آنے جانے لگے تھے اور بی جے پی لیڈروں ، خاص طور پر بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سے ان کی ملاقاتیں کوئی چھپی ہوئی بات نہیں رہ گئی تھی۔
اکھلیش اتحاد کا غیر متنازعہ چہرہ
خیر سماج وادی پارٹی کے وزیر اعلیٰ چہرہ کو لے کر کوئی تذبذب یا کشمکش نہیں ہے۔ا سی طرح بہو جن سماج پارٹی میں وزیر اعلیٰ کا چہرہ مایاوتی کے علاوہ کوئی دوسرا ہوگا،اس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ یعنی اکھلیش اور مایاوتی کا چہرہ اپنی اپنی پارٹی کے نقطہ نظر سے صاف ہے۔کانگریس کا کوئی چہرہ نہیں ہے۔ ایک چہرہ تھا تو اسے بھی میدان چھوڑ کر پیچھے ہٹنا پڑا۔اب کانگریس کلیجے پر اکھلیش اور پشت پر مایاوتی کا چہرہ لئے پھر رہی ہے۔ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ چہرے سے کئی معروف چہرے جڑے ہوئے ہیں جن پر ہم بحث تھوڑی دیر میں کرتے ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے وزیر اعلیٰ امیدوار اکھلیش یادو محض 44 سال کی عمر کے سب سے کم عمر کے لیڈر ہیں۔ 2012 سے وہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں، جب وہ 39 سال کے تھے، اس سے پہلے وہ لگاتار تین بار ممبر پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو 2012 میں ریاست کے اقتدار پر قبضہ دے دیا لیکن انہیں یہ گمان نہیں تھا کہ پانچ سال آتے آتے اکھلیش انہیں ہی قومی صدر کے عہدہ سے الگ کردیںگے۔ اکھلیش یادو کی ماں مالتی دیوی ملائم سنگھ یادو کی پہلی بیوی تھیں۔ اکھلیش تین بچوں کے باپ ہیں۔ ان کی بیوی ڈمپل یادو کنوج سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ترقی کی طرفداری کرنے والے اکھلیش یادو نے میٹرو ریل کا کام ، ہائی وے اور گومتی ندی کا لکھنوی چہرہ حسین بنانے کا کام کیا لیکن دیگر ترجیحات حاشئے پر چلی گئیں۔ گائتری پرجا پتی جیسے بدعنوان وزیروں اور یادو سنگھ جیسے بد عنوان نوکر شاہوں کو تحفظ دینے کی وجہ سے اکھلیش کی شفاف شبیہ کے دعوئوں پر چھینٹیں پڑتے رہے۔ 2013 کے مظفر نگر فسادات میں تقریباً 50 لوگوں کے مارے جانے اور تقریباً 100 لوگوں کے زخمی ہونے کا داغ تمام ’ہائی پاور سرف‘ لگانے کے باوجود نہیںدھلا۔
مایاوتی ہیں خاص چہرہ
2012 کے اسمبلی انتخابات میں بری طرح شکست کھائی مایاوتی 2017 کے سمبلی انتخابات میں طاقتور طریقے سے ابھرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ مایاوتی کا چہرہ ممکنہ وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں مضبوط دعویدار ہے۔ دلت ، مسلم اور برہمن کمبی نیشن بنانے میں انتہائی سرگرم مایاوتی کانگریس، سماج وادی پارٹی اتحاد سے پریشان ضروری ہوئی ہیںلیکن انہوں نے اپنی دعویداری کمزور نہیں ہونے دی۔ سماج وادی پارٹی- کانگریس اتحاد کے پہلے تو وہ یہ کہتی رہیں کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کا اتحاد بی جے پی کی ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی ہوگا۔ مایاوتی کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے اشارے پر ہی اکھلیش یادو دھندلی ہوچکی کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر راضی ہوئے۔
مایاوتی نے ایسا کہہ کر مسلمانوں کی نبض پر ہاتھ رکھا کہ بی جے پی کے ایجنڈے کی تقویت کی وجہ سے ہی سماج وادی پارٹی نے بہار میں مہا گٹھ بندھن توڑا، گٹھ بندھن ہو جانے کے بعد مایاوتی بی جے پی پر زیادہ حملہ آور تیور کیساتھ سامنے آئیں۔ سماج وادی پارٹی و کانگریس اتحاد کے بعد تین طرفہ مقابلے میں بہو جن سماج پارٹی سپریمومایاوتی کے لئے یو پی انتخاب ویسی ہی وقار کی لڑائی ہے جیسی نتیش کے لئے بہار میں تھی۔ اسی لئے مایاوتی اکثریت کے لئے کئی زاویوں سے اپنے امکانات تلاش سکتی ہیں۔ حالانکہ یہ بحث تو پہلے سے گردش کر رہی ہے کہ مایاوتی پھر سے بی جے پی کی حمایت لے کر کہیں سرکار نہ بنا لیں۔
یہ انتخاب کے بعد ہی طے ہوگا کہ مایاوتی بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ مل کر سرکار بنواتی ہیں یا کہ باہری حمایت سے۔ سیاسی ماہرین بھی اکھلیش و راہل اتحاد کو موثر تو بتاتے ہیں لیکن اکثریت حاصل ہونے کی بات پر واضح موقف پر نہیں آتے جیساکہ اوپر کہا گیا کہ کانگریس مایاوتی پر تلخ نہیں ہے۔ اسی طرح بی جے پی بھی مایاوتی پر اتنی تلخ نہیں ہے، جتنا کانگریس یا سماج وادی پارٹی پر۔ مایاوتی بھی یہ مانتی ہیں کہ دلت و مسلم اتحاد کے عمل میں آنے کے باوجود انہیں سرکار بنانے کے لئے کسی پارٹی کا ساتھ لینا پڑ سکتا ہے۔ مایاوتی یہ بھی مانتی ہیں کہ اکھلیش کے سماج وادی پارٹی پر قبضہ کرلینے کے باوجود شیو پال فیکٹر دفن نہیں ہوا ہے۔
انتخابات کے بعد اگر شیو پال حامیوں کی تعداد اور طاقت ٹھیک رہی تو ان کا ساتھ مایاوتی لے سکتی ہیں۔ شیو پال کے کئی خاص لوگ مایاوتی کے ساتھ جا چکے ہیں اور شیو پال کے لئے مایاوتی خیر مقدمی کی زبان کا استعمال کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ مایاوتی نے ریاست کے لوگوں سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اس بار وہ اقتدار میں آئیں تو پتھر کی مورتیاں نہیں لگوائیں گی۔
مایاوتی کا پورا نام مایاوتی پربھو داس ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ان کا ایک اور نام مایاوتی نینا کماری بھی ہے۔ 2007 میں بہوجن سماج پارٹی نے مکمل اکثریت کے بل پر ریاست کے اقتدار کو سنبھالا تھا اور مایاوتی پوری مدت کے لئے وزیر اعلیٰ بنی تھیں۔ مایاوتی اس سے پہلے بھی تین بار کم عرصہ کے لئے 1995 اور 1997 میں وہ بی جے پی کی حمایت سے 2002 سے 2003 تک اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ رہیں۔ ہندوستان کی ریاستوں میں پہلی دلت خاتون وزیر اعلیٰ بننے کا سہرا مایاوتی کے سر جاتاہے۔سماج وادی پارٹی نے 2012 کے انتخاب میں مایاوتی کو شکست دی۔ سیاست میں آنے سے پہلے مایاوتی دہلی کے ایک اسکول میں استانی تھیں ۔1977 میں کانشی رام کے رابطہ میں آنے کے بعد انہوں نے مکمل سیاسی کیریئر اپنایا۔ مایاوتی کی مسلم پرستی پر سماج وادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ مسلمان اس بات کو نہیں بھول پائیں گے کہ مایاوتی کے ہی وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے سب سے زیادہ 43 مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد ی کے مڈبھیڑ کے الزماات میں پھنسایاگیا تھا۔ ان کا کہنا تھاکہ مسلم طبقہ ’ٹیرر پالٹکس‘کھیلنے کے لئے مایاوتی کو معاف نہیں کرسکتا ہے۔
سی ایم چہرے پر بی جے پی تذبذب میں
اب آتے ہیں بی جے پی کے ممکنہ چہروں پر۔ ان چہروں کو لے کر بی جے پی میں پیچیدگیاں بہت زیادہ ہیں۔ لہٰذا اسے آخر میں سلجھانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر بی جے پی اپنی طاقت سے سرکار بناتی ہے تو وزیر اعلیٰ کے طور پرکسے منتخب کرے گی؟اگر اسے لے کر بی جے پی لیڈروں میں ہی تذبذب کی صورت حال ہے تو عام شہریوں میں کشمکش رہنا لازمی ہے۔ کئی بی جے پی لیڈروں کو یہ بھی اندیشہ ہے کہ ہریانہ کی طرح اچانک کوئی کھٹّر یا جھارکھنڈ کی طرح اچانک کوئی داس نہ آجائے۔ ان قیاس آرائیوں اور امکانات کے مد نظر راجناتھ سنگھ کا نام ممکنہ وزیر اعلیٰ میں پہلا ہے۔ حالانکہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اسے سرے سے خارج کرتے ہیں لیکن سینئریٹی، پختگی اور مقبولیت کے نام پر بی جے پی اعلیٰ کمان راجناتھ سنگھ کو اتر پردیش کی سیاست میں واپس بھیج سکتا ہے۔
قومی سیاست میں سرگرم سینئر لیڈروں کو راجناتھ سنگھ کا قد چبھتا بھی ہے۔ لہٰذا ان کے وزیر اعلیٰ کی شکل میں واپس آنے سے قومی سیاست کا ایک بڑا روڑا بھی صاف ہو سکتاہے۔ راجناتھ کو ناپسند کرنے والے لیڈروں کو ایک ہی تیر سے دو شکار کا فائدہ مل جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے بھی راجناتھ سنگھ کے نام کا چرچا تیز ہوا تھا۔ تب یہ بھی امکان پیدا ہوا تھا کہ الٰہ آباد کی قومی ایگزیکٹیو میٹنگ میں راجناتھ سنگھ کو یو پی کی کمان سونپنے کا اعلان ہو لیکن اندرونی وجوہات سے یہ معاملہ ٹل گیا۔ تب راجناتھ نے اس بارے میں پوچھے جانے پر کہا تھا کہ’ یوپی میں لیڈروں کی کمی نہیں ہے‘۔ راجناتھ سنگھ یو پی کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ان کے نام پر پارٹی میں یہ عام رجحان ہے کہ راجناتھ سنگھ ایسے لیڈر ہیں جن کا اثر پوری ریاست پر ہے۔
پیشے سے پروفیسر رہ چکے راجناتھ سنگھ، اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی کے بعد بی جے پی کے تیسرے ایسے لیڈر ہیں جن کو دو بار پارٹی کے قومی صدر بننے کا موقع ملا۔ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ سے راجناتھ کی قربت ظاہر ہے، پھر بھی ان کی شبیہ سیکولرلیڈر کے طور پر بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ جناح معاملے سے تنازع میں آئے اڈوانی کے بعد سنگھ نے راجناتھ کو ہی پارٹی کے صدر عہدہ کی شکل میں موزوں مانا تھا ۔راجناتھ سنگھ 1975 میں جن سنگھ کے مرزا پور ضلع کے صدر بھی تھے۔ مرکز میں واجپئی کے وزیر اعظم رہتے ہوئے راجناتھ سنگھ وزیر زراعت تھے۔
بی جے پی کے ممکنہ وزیر اعلیٰ چہروں میں دوسرا نام یوگی آدتیہ ناتھ کا ہے۔ فائر برانڈ لیڈر کی شکل میں زیر بحث یوگی آدتیہ ناتھ اپنی بیباک ، سخت اور کٹر پن کے لئے مشہور ہیں۔ ابتدا میں جب ’بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کا چہرہ کون ‘ کے سوال پر راجناتھ سنگھ کا نام چلا اور پھر پس منظر میں چلا گیا تب یوگی آدتیہ ناتھ کا نام زبردست طریقے سے اچھلا ۔یہاں تک کہ یوگی کے نام پر قیادت کی تمام ہورڈنگ پوری ریاست میں لگ گئی اور اندرون خانہ سے لے کر اجلاس عام تک’ مودی مودی‘ کی طرح ’یوگی یوگی‘ ہونے لگا۔ اس پر بی جے پی اعلیٰ کمان میں شخصی بحران کی بات سامنے آگئی اور یوگی کے نام کا چرچا بند کر دیا گیا۔
سیاسی ماہرین کو یہ لگا کہ بی جے پی نے سخت گیر لائن کو چھوڑ کر نرم رخ اپنالیا ہے، لیکن سچائی یہی تھی کہ یوگی کے نام سے کئی سینئر لیڈروں کا شخصی بحران ابھرنے لگا تھا۔ یہ بحران اتنا گہرا ہو گیاکہ یوگی کو اتر پردیش کے انتخابی انتظامیہ کمیٹی میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔ یوگی نے جن لوگوں کے لئے ٹکٹ کی سفارش کی تھی، ان میں سے زیادہ تر کا ٹکٹ کاٹ دیا گیا۔ پارٹی میں بغاوت کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ ’پریورتن یاترائوں‘ کے درمیان پارٹی قیادت کو اس مخالفت کی حرارت محسوس ہوتی رہی لیکن یوگی کی تنظیم ’ہندو یوا واہنی‘ نے بی جے پی کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کردیااور واہنی کے ریاستی صدر سنیل سنگھ نے مد مقابل امیدواروں کو میدان میں اتارے جانے کا اعلان کر دیا۔ بی جے پی قیادت بھونچکا رہ گئی۔ قومی صدر امیت شاہ نے یوگی کو فوراً لکھنو بلایا اور بات چیت کی۔ یوگی نے ’ہندو یوا واہنی ‘کے اعلان کی عوامی طور پر مذمت کی اور سنیل سنگھ اور کچھ دیگر عہدیداروں کی برخاستگی کا اعلان کیا لیکن اس کے باوجود معاملہ تھما نہیں ۔ ہر انتخابی اجلاس میں یوگی کے لئے نعرے لگنے لگے اور سوال اٹھنے لگے۔ تب بی جے پی اعلیٰ کمان نے یوگی کو اپنے اسٹار کمپینر کی لسٹ میں شامل کیا۔ بلند شہر کے انتخابی اجلاس میں یوگی کی تقریر کے بعد بدلے ماحول پر انٹلی جینس بیورو نے مرکز کو جو رپورٹ بھیجی، اس نے بی جے پی لیڈروں کی آنکھیں کھول دیں۔ آئی بی کی رپورٹ سے یہ خلاصہ ہوا کہ یوگی کی تقریر کے بعد بلند شہر کے ساتھ ساتھ مغربی اتر پردیش کے کئی دیگر ضلعوں میں بڑا اثر پڑا ہے۔ اس کے بعد بی جے پی بیدار ہوئی۔ آناً فاناً یوگی کو ہیلی کاپٹر مہیا کرایا گیا اور ان کا نام ایک بارپھر ممکنہ وزیر اعلیٰ کے بطور چرچا میں آ گیا۔ حالانکہ اس بارے میں یوگی کہتے ہیں کہ میں وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں قطعی شامل نہیں ہوں۔ میں یوگی ہوں اور یوگی ہی رہوں گا۔ اس پر ایک بی جے پی لیڈر کہتے ہیں کہ یہ سب تو کہنے سننے کی باتیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یوگی کون سے گرہستھ بن جائیں گے۔ اعلیٰ اقتدار پر بیٹھا آدمی یوگی رہے تو اس سے ملک اور سماج کو فائدہ ہی ہوگا۔ یوگی سے اعلیٰ کمان کی کھسیاہٹ اس لئے بھی رہی ہے کہ وہ قیادت کے غلط فیصلوں پر بولنے سے نہیں ہچکتے۔ مایاوتی پر متنازع ریمارکس کرنے کے معاملے میں بی جے پی کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ پر ہوئی برخاستگی کی کارروائی پر اکیلے یوگی نے ہی سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ دیا شنکر سنگھ پر کارروائی کرنے والے لیڈروں کو تحمل سے کام لینا چاہئے تھا۔ مشہور گورکھ دھام پیٹھ کے مہنت یوگی آدتیہ 1988 سے گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ ہیں جب وہ محض 23سال کے تھے۔ یوگی کے پہلے ان کے گرو اور گورکھ ناتھ پیٹھ کے سابق مہنت اویدھ ناتھ بھی 1991 اور 1996 میں گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ تھے۔
تنازع میں رہے یوگی
یوگی آدتیہ ناتھ ہمیشہ موضوع بحث اور تنازع میں رہے ہیں۔ ایسے ہی کچھ تنازعات کو پیش کیا جاتا ہے۔ دادری قتل معاملہ پر یوگی نے کہا تھا کہ ’اتر پردیش سرکار کے وزیر، اعظم خاں نے جس طرح یو این جانے کی بات کہی ہے، انہیں فوری طور پر برخاست کیا جانا چاہئے۔ آج ہی میں نے پڑھا ہے کہ اخلاق پاکستان گیا تھا اور اس کے بعد سے اس کی سرگرمیاں بدل گئی تھیں۔ کیا سرکا رنے یہ جاننے کی کبھی کوشش کی کہ یہ آدمی پاکستان کیوں گیا تھا۔ آج اسے عظیم بنایا جارہا ہے؟، 2014 میں لو جہاد کو لے کر بھی یوگی کا ایک ویڈیو سامنے آیا تھا ۔اسے لے کر کافی واہ ویلا مچا تھا۔ ویڈیو میں یوگی آدتیہ ناتھ اپنے حامیوں سے کہتے سنائی دے رہے تھے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر وہ ایک ہندو لڑکی کا مذہب تبدیل کرواتے ہیں تو ہم 100 مسلم لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروائیں گے۔بعد میں یوگی نے ویڈیو کے بارے میں کہا کہ’ میں اس ایشو پر کوئی صفائی نہیں دینا چاہتا۔یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ویڈیو دکھانے سے پہلے اس کی جانچ کر لے‘۔
اسی طرح فروری 2015 میں یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ اگر انہیں اجازت ملے تو وہ ملک کے سبھی مسجدوں کے اندر گوری ،گنیش کی مرتی قائم کروا دیں گے۔ یوگی نے کہا تھا کہ آریا ورت نے آریہ بنائے، ہندوستان میں ہندو بنا دیں گے۔پوری دنیا میں بھگوا جھنڈا لہرا دیں گے۔ مکہ میں غیر مسلم نہیں جاسکتے ہیں۔ ویٹکن سٹی میں غیر عیسائی نہیں جاسکتے ہیں،لیکن ہمارے یہاں ہر کوئی کیوں آسکتا ہے؟یوگی نے یوگ پر اٹھے تنازع پر بھی کہا تھا کہ جو لوگ یوگ کی مخالفت کررہے ہیں ، انہیں ہندوستان چھوڑ دینا چاہئے اور جو لوگ سوریہ نمسکار کو نہیں مانتے ،انہیں سمندر میں ڈوب جانا چاہئے۔ آبادی کے عدم توازن پر یوگی نے 2015 میں کہا تھا کہ مسلمانوں میں زیادہ بچے کی پیدائش سے آبادی توازن بگڑ رہا ہے۔ اسی سال یوگی نے ہری دوار میں عالمی شہر ت یافتہ تیرتھ استھل ’ہر کی پوڑی ‘ پر غیر ہندوئوں کے داخلے پر پابندی لگانے کی مانگ کی تھی۔
بی جے پی کے ممکنہ وزیر اعلیٰ کے چہروں میں تیسرا نام مرکزی وزیر منوج سنہا کا بھی ہے۔ منوج سنہا وزیر اعظم نریندر مودی کے بھروسہ مند لوگوں میں سے ہیں۔ اس بھروسے کی وجہ سے ہی انہیں دو دو وزارتوں کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسٹوڈنٹس پالٹکس کا ان کا پرانا تجربہ بھی ان کے سیاسی کیریئر کا ایک اچھا پہلو ہے۔ وزیر مملکت برائے ریلوے کی شکل میں بھی منوج سنہا نے اتر پردیش کے لئے کئی ریل اسکیموں کو عمل میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کیشو موریہ کے ریاستی صدر بننے کے پہلے منوج سنہا کا ہی نام ریاستی بی جے پی صدر کے لئے چل رہا تھا لیکن ذات برادری اتحاد دھیان رکھتے ہوئے موریہ کو موقع دیا گیا۔ تبھی سے منوج سنہا کا نام بھی ممکنہ وزیر اعلیٰ کے طورپر لیا جانے لگا۔ منوج سنہا بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کے بھی چہیتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس یونین کا پس منظر ہونے کی وجہ سے سنگھ کی بھی ان پر نظر کرم بنی رہتی ہے۔ منوج سنہا آئی آئی ٹی( بی ایچ یو) بی ٹیک اور ایم ٹیک دونوں ہیں۔ 1996 ، 1999 اور 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں منوج سنہا نے لگاتار اپنی جیت درج کی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ منوج سنہا کی صاف شبیہ اوربہتر سیاسی حصہ داری ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے امکانات کو کافی قوت فراہم کر رہی ہے۔
اتر پردیش کے ممکنہ وزیر اعلیٰ چہروں کی لسٹ میں مرکزی وزیر ڈاکٹر مہیش شرما کا نام بھی ہے۔ نوئیڈا سے ڈاکٹر مہیش شرما کے ایم پی نمائندہ سنجے بالی کو ٹکٹ نہ دے کر راجناتھ سنگھ کے بیٹے پنکج سنگھ کو ٹکٹ دیئے جانے سے شرما کی ناراضگی بی جے پی قیادت تک پہنچی۔ یہاں تک کہ شرما کے نمائندے نے بی جے پی کے مہا منتری اور نمائندگی کے عہدے سے استعفیٰ تک دے دیا۔ بی جے پی نے راجناتھ کے بیٹے کو ٹکٹ دینے میں نوئیڈا کی موجودہ ایم ایل اے ویملا باتھم کا بھی خیال نہیں رکھا۔ اس مسئلے پر ڈاکٹر مہیش شرما نے ڈسپلن سے کام لیا اور پارٹی قیادت کا بھروسہ حاصل کیا۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ گزشتہ کافی عرصے سے مہیش شرما کی ذمہ داریاں بڑھانے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔ یہ ذمہ داری اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے۔ مہیش شرما کے نام پر سنگھ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اتر پردیش کے گوتم بودھ نگر سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر مہیش شرما پیشے سے ڈاکٹر رہے ہیں۔کیلاش ہاسپیٹل چین ڈاکٹر مہیش شرما کا ہی ہے۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی پر تیکھے حملہ اور سخت بیان کے سبب بھی ڈاکٹر مہیش شرما بی جے پی قیادت سے سراہے جاتے رہے ہیں۔نوٹ بندی اور سماج وادی پارٹی – کانگریس اتحاد پر ان کا رد عمل بی جے پی گلیارے میں کافی بحث میں رہا تھا۔
اکھلیش، راہل اور مایاوتی اتحاد
اتحاد کے بعد سے لے کر آج تک کانگریس -سماج وادی پارٹی کی جتنی بھی مشترکہ ریلیاں ہوئیں، کسی میں بھی اکھلیش یا راہل نے مایاوتی پر حملہ نہیں کیا۔ ایسی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کئی سیاسی ماہرین دور کی کوڑی بھی پھینکتے ہیں کہ کیا کبھی اکھلیش و راہل اور مایاوتی بھی ساتھ آسکتے ہیں؟ بالکل ہی تذبذب میں پڑے منڈیٹ کے آنے پر ایسا ہوسکتا ہے۔ معلق اسمبلی کی صورت میں اکھلیش کی بوا اور راہل کی قابل احترام مایاوتی جی کام آسکتی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار یہ مانتے ہیں کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان ہوا اتحاد ابھی اور آگے بڑھنے والاہے اور 2019 کے پہلے اس میں اور پارٹیاں شامل ہوںگی۔
یہ اتحاد صرف یو پی انتخابات تک ہی محدود نہیں رہنے والا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی اور بہار کے وزیر اعلیٰ اور جنتا دل (یو ) لیڈر نتیش کمار نے یو پی میں اپنے امیدوار نہیں دے کر مستقبل میں شکل لینے والے ایسے ہی سیاسی اتحاد کا اشارہ دیا ہے۔ سب مل کر کانگریس – سماج وادی پارٹی اتحاد کو مدد پہنچا رہے ہیں۔ مایاوتی الگ انتخاب ضرور لڑ رہی ہیں، لیکن مستقبل میں انہیں مہا گٹھ بندھن میں شریک ہونے کا متبادل ضرور نظر آئے گا۔ 2019 کے لوک سبھاانتخابات میں بی جے پی کے خلاف مشترکہ طاقت کے ساتھ اترنے کی ابھی سے تیاری ہو رہی ہے۔ اتر پردیش کے نظریئے سے دیکھیں تو اگر سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس مل کر مستقبل میں لوک سبھا کے انتخابات لڑتے ہیں تو بی جے پی کے لئے انتہائی مشکل ہوگا۔
اترپردیش کی 80لوک سبھاسیٹوں میں سے جو پارٹی سب سے زیادہ سیٹیں جیت لیتی ہے ، مرکز میں اس کی سرکار بننا طے ہو جاتاہے۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کا اکیلا اتحاد بی جے پی کو روک پانے میں اتنا کا میاب نہیں ہوگا جتنا مایاوتی کو ساتھ لے کر ۔ آپ یاد کریں، کچھ عرصہ پہلے ملائم سنگھ یادو نے بہو جن سماج پارٹی کو ساتھ لینے کے امکانات ظاہر کئے تھے، حالانکہ مایاوتی نے ایسے کسی امکان کو اس وقت سرے سے مسترد کردیا تھا۔ مایاوتی کے دل میں گیسٹ ہائوس کانڈ لگاتار چبھتا رہتا ہے۔ ان کا سارا غصہ ملائم کے تئیں ہے، اکھلیش کے تئیں نہیں ۔
اب ملائم معاملہ تاریخ کی بات ہو رہ گئی ہے۔ معلق اسمبلی کی صورت میں مایاوتی اکھلیش کو حمایت دے کر یو پی میں سرکار بنوا سکتی ہیں اور اس شرط پر اپنے لئے مرکز میں جگہ ریزرو کروا سکتی ہیں تاکہ مرکز میں کانگریس کی سرکار بنے تو مایاوتی اس میں خاص کردار میں رہیں۔ سیاسی تجزیہ کار خود کہتے بھی ہیں کہ ابھی یہ ناممکن جیسا نظریہ ہے لیکن نظریہ کا یہ بھی ایک پہلو ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *