آج کی سیاست موقع پرستی کی سیاست

damiجن دنوںکانگریس ملک میں برسراقتدار پارٹی ہوا کرتی تھی اور دہلی و ملک کی کئی ریاستوں میں اس کا راج تھا، اس وقت ایک نئے اصول کی شروعات ہوئی۔ اس اصول کا نام تھا غیر کانگریسواد۔ وہ سبھی سیاسی پارٹیاں ، جو اقتدار میں نہیں تھیں، وہ گٹھ بندھن بناکر کانگریس کے خلاف انتخاب لڑنے کی تکنیک پیدا کرچکی تھیں۔ اس کے اہم سدھانت شاستری ڈاکٹر رام منوہر لوہیا تھے۔ اترپردیش میںپہلی مخلوط حکومت اسی اصول کی بنیاد پر بنی تھی۔ جو پارٹیاں غیر کانگریسوادکی حامی تھیں،ان کے اصولوں میں کچھ مماثلت اور عدم مماثلت بھی تھیں۔ اس غیر کانگریسواد کا پہلا بڑا تجربہ سن 1977میں ہوا، جب شریمتی اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے خلاف بائیں بازو اور دائیںبازو کے سبھی لوگ ساتھ آئے۔ عوام نے ان کی حمایت کی اور شری مرارجی دیسائی کی قیادت میںدہلی میںپہلی غیر کانگریسی سرکار بنی۔ دوسرا غیر کانگریسواد کا تجربہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے دور میںہوا، جس میںصرف کانگریس کی مخالفت کو بنیاد بناکر بایاں بازو، دایاںبازو، مرکزی، متوسط طبقہ ساتھ آئے اور 1989میں وی پی سنگھ کی سرکاربنی۔
یہاںسے ایک چلن شروع ہوا۔ ملک میں مذہبی بنیاد پر سیاست کا چہرہ بدلنے لگا اور بھارتیہ جنتا پارٹی مضبوط ہونے لگی۔ شری اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میںپہلی بار مرکز میں سرکار بنی۔ اس سرکار میںبہت سارے وہ لوگ شامل ہوئے، جو غیر کانگریسواد کے کٹر حامی تھے اور فرقہ پرستی کے سخت مخالف تھے۔ اٹل جی کی سرکار تین بار بنی۔ اس کے بعد پھر کانگریس کی سرکار آئی اور 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار مکمل اکثریت کے ساتھ دہلی میں آئی، جس کے لیڈر نریندر مودی تھے۔ یہیںسے غیر بھاجپاواد کا ایک نیا اصول شروع ہوا۔ اس اصول کی جڑ میںصرف اور صرف ایک خیال تھا کہ چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے لیڈر نریندر مودی مستقبل قریب میںکمزور ہوتے نہیں دکھائی دے رہے تھے، اس لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف سارے لوگ اکٹھا ہوں۔ اس اصول کو ٹھوس شکل دینے کی بات سیاسی جماعتوں میں تیزی سے چلنے لگی۔ بہار میںنتیش کمار، لالو یادو کے ساتھ کانگریس بھی گٹھ بندھن میں آئی۔ وہاںانھوںنے بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک ہوکر مقابلہ کیا اور اسے ہرادیا۔
غیر بھاجپا واد کے نام پر دہلی میںملائم سنگھ یادو کے گھر پر سبھی اہم اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ ہوئی۔ اس میںایک نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن وہ فیصلہ اس لیے سر نہیں چڑھ پایا کیونکہ ہوا میںیہ بات پھیلی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر امت شاہ نے سماجوادی پارٹی کے ہی ایک اہم لیڈر کے ذریعہ اس گٹھ بندھن کو بننے سے روک دیا۔ اترپردیش کے انتخابات میںغیر بھاجپاواد کا تجربہ پوری طرح نہیںہوپایا کیونکہ سماجوادی پارٹی نے اس تجربہ کو کرنے سے انکار دیا۔ اسے یہ لگا کہ اگر وہ سبھی پارٹیوںکو اکٹھا کرلیںگے تو سبھی کو کچھ نہ کچھ سیٹیںدینی پڑیںگی،اس لیے صرف کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پہلی بار تاریخ میں سماجوادی پارٹی کی پچھلی تیس سال پرانی سیاست ختم ہوگئی۔ ملائم سنگھ اکیلے ہوگئے اور ان کے بیٹے اکھلیش یادو نے ان ہی کی پالیسیوںکی دھجیاں اڑا دیں۔ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر انتخابی تشہیر کررہے ہیں، سیٹوںکا بٹوارہ کررہے ہیں۔ وہ صرف اتر پردیش کے انتخابات میں ہی مل کر سرکار بنانے کا اعلان نہیںکررہے ہیں، بلکہ یہ گٹھ بندھن آگے دہلی کے انتخابات میںبھی چلے گا، اس کا اعلان کررہے ہیں۔ شاید ملائم سنگھ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی سیاست کی جلتی چِتا دیکھ رہے ہیں۔
دراصل اس پورے اصول پر ایک بار نئے سرے سے سوچنا چاہیے۔ کانگریس، آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے اصولوں میںکتنی مماثلت اور عدم مماثلت ہے، اس پر غور بہار میںنہیںہوا۔اتر پردیش میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی میں کیا مماثلت اور عدم مماثلت ہے، اس پر بھی کوئی غور نہیں ہوا۔ صرف ایک خیال ہوا کہ ہمیں بنیادی نکات، اقتدار اور اقتدار میں حصہ داری کی بات کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی اصول نہیںبچا۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی گٹھ بندھن بنائے۔ ان کے گٹھ بندھن کانام این ڈی اے ہے۔ اس میں ایسی پارٹیاں شامل ہیں، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادی پالیسی مذہبی سیاست کے علاوہ یونیفارم سول کوڈ اور کشمیر سے دفعہ 370کو ختم کرنا ہے۔ یہ تضاد کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے حریف نظریات کی بنیاد پر کچھ کررہے ہیں، یہ غیر متعلق ہوگیا ہے۔ اب صرف اور صرف ایک اصول بچا ہے اور وہ ہے اقتدار۔
یہی ملک کی ترقی کے انتشار کے بیج دکھائی دیتے ہیں۔ وہ انتشار میں ہیںکہ ہندوستان کے 70 فیصد لوگ جو گانووں میں رہتے ہیں، جو غریب او رمحروم ہیں، انھیں ان کے حصہ کی ترقی شاید اب کبھی نہیں مل پائے گی۔ پہلے سماجوادی پارٹی کے اصول کی بنیاد یہ تھی کہ سب سے پہلے محروموں، دلتوں، پچھڑوں، عورتوں اور غریبوں کو حصہ ملے، اس کے بعد جو ملک کی پراپرٹی بچ جاتی ہے، دوسرے طبقوںکو دی جائے۔ بائیں بازو بھی اسی رائے کے تھے،لیکن اب ایسا نہیںہے۔ جس طرح سے پارٹیوں کے گٹھ بندھن ہورہے ہیں، ان میںنظریاتی اصول کی جگہ کامن منیمم پروگرام نام کا لفظ زیادہ بولا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ملک میںغریبی، عدم مساوات بڑھ رہی ہے، گاؤں میں غذائی قلت بڑھ رہی ہے، تعلیم ختم ہورہی ہے یا کہیں کہ کارپوریٹ کے ہاتھ میں جارہی ہے۔ زراعت غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھ میں جارہی ہے۔ صحت بھی کارپوریٹ کے ہاتھ میںجارہی ہے۔ غریب کے لیے کم سے کم تعلیم اور صحت جیسی چیزیں ہیں نہیں۔ پہلے ہی اس کے مرنے کے کم ذرائع نہیں تھے، اب وہ اور زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
اب یہ مان لینا چاہیے کہ اصول، نظریہ، غریب، نوجوان، پچھڑااور دلت ان کے تئیں لگن یا ان کے مفادات کے تئیں ترجیح، اب یہ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اب معنی رکھتا ہے صرف اور صرف اقتدار۔ اس اقتدار کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ جو لوگ گٹھ بندھن میںہیں، ان میںسے زیادہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادی پالیسیاں نہیں مانتے اور کانگریس کے ساتھ جو گٹھ بندھن بنا رہے ہیں، ان میںاور کانگریس کی بنیادی پالیسیوں میںبہت فرق ہے۔
ان دونوں طرح کی سیاست کو میںموقع پرستی کی سیاست مانتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ایک نئی طرح کی سیاست ہونی چاہیے، جن میںاگر گٹھ بندھن بنانا ہے تو پارٹیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ انضمام کردینا چاہیے۔ گٹھ بندھن کا مطلب میںمانتا ہوں نظریاتی مماثلت۔ ہر پارٹی ریاست یا ملک کے عوام کے سامنے اپنی پالیسیوں کو رکھے اور یہ کہے کہ اسی کو سب سے زیادہ حمایت کیوں ملنی چاہیے کیونکہ وہ سب میںاچھی ہے۔ لیکن جہاں پر گٹھ بندھن آتا ہے وہاںعوام کے مفاد کی بات ختم ہوجاتی ہے اور عوام کے مفاد کے لیے جدوجہد کرنی والی طاقتوں کی چمک کمزور ہوجاتی ہے، ان کی طاقت ختم ہوجاتی ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اس پالیسی کے برعکس کوئی سیاست ہونی چاہیے۔ وہ سیاست حال فی الحال میں ہوگی، پتہ نہیں، پھر بھی ہم لوگوں کے سامنے ا پنی رائے تو رکھنا ہی چاہتے ہیں۔ جب تک اصول اور نظریہ، غریبوں کے تئیںلگن کی سیاست شروع نہیںہوگی، تب تک اس ملک میںاس نظریہ کا مضبوطی کے ساتھ بڑھنے کا امکان دکھائی دے گا، جو نظریہ گٹھ بندھن یا جمہوریت کے خلاف ہے۔ اب اسے روکنا ہے یا نہیں روکنا ہے، کیسے آگے بڑھنا ہے، اس کا فیصلہ تو جو سیاست میںہیں، وہ کریں۔ لیکن آج کی سیاست اور گٹھ بندھن کم سے کم جمہوریت یا اس ملک کے غریبوںکے حق میںتو نہیںہیں اور نہ ہی غریبوں کے حق میںآواز اٹھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *