الگزینڈر کداکن ہندو روس دوستی کا ایک اہم باب بند ہوگیا

au-asif-for-webگزشتہ 26 جنوری کو 68 سالہ روسی سفیر الیگزینڈر کداکن کے نئی دہلی میں حرکت قبل بند ہوجانے کے سبب اچانک انتقال سے ہندوستان اور روس کے درمیان ایک ایسی کڑی ٹوٹ گئی ہے جو دونوں ملکوں کی دوستی کی لگاتار 45 سال سے گواہ ہی نہیں تھے بلکہ مختلف حیثیتوں میں اس کے لئے اہم کردار بھی ادا کر رہے تھے۔ 9اگست 1971 کو نئی دہلی میں سوویت یونین کے وزیر خارجہ اے اے گرومیکو اور ہندوستان کے وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ کے دستخط سے ہوئے 20سالہ ہندو سوویت یونین معاہدہ برائے دوستی و تعاون کے وقت سوویت یونین کے سفارت خانہ میں ایک نوجوان ڈپلومیٹ کے طور آئے کداکن نے بر صغیر میں پاکستان سے الگ ہوکر نئے ملک بنگلہ دیش کو وجود میں آتے دیکھا، تقریباً 4 برس بعد ہندوستان میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ذریعے نافذ ایمرجینسی کے دوران یہیں رہے، پھر مارچ 1977 میں عام انتخابات میں اندارا گاندھی اور کانگریس کے زوال کے بعد وزیر خارجہ گرومیکو کو پانچ ہفتے کے اندرہندوستان آکر مرارجی دیسائی کی نئی حکومت سے تال میل بناتے دیکھا۔
وہ لمحہ بڑا ہی غیر یقینی تھاکیونکہ مرکز میں کانگریس کے جانے اور جنتا پارٹی کے آنے سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں یو ٹرن کی توقع کی جارہی تھی۔ نئے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپئی نے عام انتخابات سے قبل انتخابی تقریر میں صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ جنتا پارٹی کی حکومت بنتے ہی ہندو سوویت روس معاہدہ پر نظر ثانی ہوگی۔ مگر 27 اپریل 1977 کو گرومیکو کے رخصت ہونے سے قبل دن کے کھانے پر ملاقات کے دوران واجپئی نے ان سے صاف طور پر کہہ دیا کہ خطہ کے مفاد میں ہے کہ یہ معاہدہ برقرار رہے۔
کداکن نے یہ سب کچھ دیکھا۔ سوویت یونین سفارت خانہ کے انفارمیشن سینٹر میں اردو سیکشن کے انچارج مرحوم محفو ظ الرحمن سے ان کے گہرے روابط ہو گئے تھے۔ مرحوم محفوظ الرحمن بتایا کرتے تھے کہ کداکن ہندوستان میں لمبے عرصہ تک رہنے کے سبب ہندوستان اوراس کے کلچر و زبان بشمول اردو اور ہندی سے واقف ہوگئے تھے اور مختلف ایشوز پر اپنی رائے رکھتے تھے۔ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کے بعد ہندوستان میں سرکاری اور غیر سرکاری طورپر جو رد عمل ہوا، یہ اس کے بھی گواہ رہے۔ ان کے انتقال کے ایک روز قبل سی آئی اے کی ڈی کلاسیفائڈ رپورٹ کے حوالے سے اندرا گاندھی کے 1980 میں ایک بار پھر برسراقتدارہونے کے بعد سوویت یونین کے افغانستان پر حملہ کی مخالفت کا جو انکشاف ہوا ہے، یہ یقینااس کے بھی شاہد رہے ہوںگے۔ 1991 میں سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد یہ روس کے سفارت کار بن گئے اور 1999 سے دو مدت تک 12 سال سفیر کے طورپر بھی خدمت انجام دی۔
45برس تک مختلف حیثیتوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے کداکن نے ہندو سویت یونین معاہدہ کو پورے 20 برس تک عمل میں آتے ہی نہیں دیکھا بلکہ اس میں رنگ بھرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں 1999 میںیہ روسی فیڈریشن کے سفیر بن کر ہندو روس دوستی کو مستحکم و مضبوط بناتے رہے۔ پھر جب ہندوستان اور روس کے درمیان دوستی کی گرمی میں کمی آئی ،تب بھی یہ پورے خلوص کے ساتھ دوستی کو نبھاتے رہے۔ کداکن کے انتقال سے ہندوستان کا ایک دیرینہ دوست رخصت ہوگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر کانگریس سونیا گاندھی نے بھی ان کے انتقال کو ایک بڑی کمی بتایا ہے۔
سچ بھی یہی ہے کہ ان کے سینے میں بنگلہ دیش کے قیام سے لے کر ایمرجینسی کے ایام، اندرا گاندھی کے 1977 میں جانے اور پھر 1980 میں دوبارہ آنے، 1979 میں سوویت افواج کے افغانستان پر حملے اور اس تعلق سے ہندوستان کے رد عمل، 1991 میں سوویت یونین کے بکھرنے اور روسی فیڈریشن کے وجود میں آنے کے بعد ہندو روس تعلقات میں نشیب و فراز نیز ہندو سوویت معاہدہ برائے دوستی و تعاون سے متعلق سب کچھ محفوظ تھا۔ لہٰذا ان کے رخصت ہونے سے ہندو سوویت یونین اور ہندو روس دوستی کاایک اہم باب بند ہوگیا ہے۔انہوں نے ہندوستان میں 45 برس سے زائد رہ کر اردو اور ہندی دونوں سیکھ لی تھی۔یہی وجہ ہے کہ یہ اردو اور ہندی میں کتابوں کا مطالعہ ہندوستان اور اس کی ثقافت کو سمجھنے کے لئے خوب کیا کرتے تھے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *